🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. بَابُ مَا جَاءَ فِي سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَاصِ وَيُقَالُ لَهُ أَيْضًا: سَعْدُ بْنُ مَالِكِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا تذکرہ، ان کو سعد بن مالک رضی اللہ عنہ بھی کہا جاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11716
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ لِأَحَدٍ غَيْرِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ ”ارْمِ يَا سَعْدُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي“
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی نہیں سنا کہ آپ نے کسی کے لیےیوں فرمایا ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ماں باب اس پر فدا ہوں، ما سوائے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے، میں نے خود سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احد والے دن فرمایا: اے سعد! تم دشمن پر تیر برساؤ، میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11716]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2905، 6184،ومسلم: 2411، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1017 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1017»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر(۱۱۷۰۳)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11717
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ قَالَ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ
سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے حق میں فدائیہ جملہ کہتے ہوئے اپنے والدا ور والدہ دونوں کا ذکر کیا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11717]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3725، 4057،ومسلم: 2412، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1495 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1495»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11718
حَدَّثَنَا قَيْسٌ قَالَ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ إِنِّي لَأَوَّلُ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَقَدْ أَتَيْنَا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا لَنَا طَعَامٌ نَأْكُلُهُ إِلَّا وَرَقَ الْحُبْلَةِ وَهَذَا السَّمُرُ حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةُ مَا لَهُ خِلْطٌ ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ يُعَزِّرُونِي عَلَى الدِّينِ لَقَدْ خِبْتُ إِذَنْ وَضَلَّ عَمَلِي
سیدنا سعد بن مالک یعنی سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سب سے پہلا عرب ہوں، جس کو اللہ کی راہ میں سب سے پہلے تیر برسانے کی سعادت نصیب ہوئی، میں نے صحابہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اس حال میں بھی دیکھا ہے کہ ہمارے پاس کھانے کے لیے خاردار درختوں کے پتوں اور ببول کے درخت کے سوا کچھ نہ تھا، ہم قضائے حاجت کو جاتے تو بکریوں کی طرح مینگنیاں کرتے، فضلہ کے ساتھ کسی قسم کی آلائش نہ ہوتی (یعنی بالکل خشک فضلہ ہوتا! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ۱ھ میں ایک سریہ روانہ کیا۔ مقصد قریشی تجارتی قافلہ پر حملہ تھا۔ اس میں دونوں طرف سے تیروں کا تبادلہ ہوا۔ سعد اس سریہ میں شامل تھے اور سب سے پہلے انہوں نے تیر چلایا تھا، جس کا وہ اس حدیث میں تذکرہ کر رہے ہیں۔ فتح الباری: ص ۸۲۔ (عبداللہ رفیق) تھا)۔ اب بنو اسد کے لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ دین کے بارے میں مجھ پر طنز کرتے ہیں، اگر ان کا طنز حقیقت پر مبنی ہوتو میں تو خسارے میں رہا اور میرے اعمال برباد ہوگئے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11718]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5412،ومسلم: 2966، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1618 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1618»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11719
(وَعَنْهُ بِلَفْظٍ آخَرَ) قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَابِعَ سَبْعَةٍ وَمَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقَ الْحُبْلَةِ حَتَّى أَنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةُ مَا يُخَالِطُهُ شَيْءٌ ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ يُعَزِّرُونِّي عَلَى الْإِسْلَامِ لَقَدْ خَسِرْتُ إِذًا وَضَلَّ سَعْيِي
۔ (دوسری روایت) سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے خود کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دیکھا، میں مسلمان ہونے والے گروہ میں ساتواں1 فرد تھا، ہمارے پاس خوراک کے طور پر صرف خاردار درختوں کے پتے تھے ا ور ہم قضائے حاجت کرتے تو بکریوں کی طرح مینگنیاں کرتے تھے اور یہ فضلہ لیس دار نہیں ہوتا تھا،لیکن اب بنو اسد اسلام کے بارے میں مجھ پر طنز کرتے ہیں، اگر ان کی بات درست ہو تو میں تو خسارے میں رہا اور میرے سارے اعمال اکارت گئے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11719]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1498»
وضاحت: فوائد: … سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کوفہ کے والی تھے، لیکن کوفہ والوں نے یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ شکایت کی تھی کہ ان کا والی اچھے انداز میں نماز نہیں پڑھاتا، سیدنا سعد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِن حجتی لوگوں کی اس شکایت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11720
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ مِنْ هَذَا الْبَابِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ“ فَدَخَلَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس دروازے سے سب سے پہلے داخل ہونے والا آدمی اہل جنت میں سے ہے۔ پس سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اس دروازے سے داخل ہوئے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11720]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف رشدين، والحجاجُ بن شداد الصنعاني، قال ابن القطان: لا يعرف حاله، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7069 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7069»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11721
عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ أُنْزِلَتْ فِي أَبِي أَرْبَعُ آيَاتٍ قَالَ: قَالَ أَبِي أَصَبْتُ سَيْفًا قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! نَفِّلْنِيهِ، قَالَ: ( (ضَعْهُ۔) ) قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! نَفِّلْنِيهِ، أُجْعَلْ كَمَنْ لَا غَنَاءَ لَهُ، قَالَ: ( (ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ۔) ) فَنَزَلَتْ: {يَسْأَلُونَكَ الْأَنْفَالَ} قَالَ: وَهِيَ فِي قِرَاءَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ كَذَٰلِكَ {قُلِ الْأَنْفَالُ} وَقَالَتْ أُمِّي: أَلَيْسَ اللّٰهُ يَأْمُرُكَ بِصِلَةِ الرَّحِمِ وَبِرِّ الْوَالِدَيْنِ، وَاللّٰهِ! لَا آكُلُ طَعَامًا وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ، فَكَانَتْ لَا تَأْكُلُ حَتَّى يَشْجُرُوا فَمَهَا بِعَصًا فَيَصُبُّوا فِيهِ الشَّرَابَ، قَالَ شُعْبَةُ: وَأُرَاهُ قَالَ: وَالطَّعَامَ، فَأُنْزِلَتْ: {وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ} وَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ {بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ} وَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم وَأَنَا مَرِيضٌ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ فَنَهَانِي، قُلْتُ: النِّصْفُ، قَالَ: ( (لَا۔) ) قُلْتُ: الثُّلُثُ، فَسَكَتَ فَأَخَذَ النَّاسُ بِهِ وَصَنَعَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ طَعَامًا فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا وَانْتَشَوْا مِنَ الْخَمْرِ، وَذَاكَ قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ، فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَهُ فَتَفَاخَرُوا وَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: الْأَنْصَارُ خَيْرٌ، وَقَالَتِ الْمُهَاجِرُونَ: الْمُهَاجِرُونَ خَيْرٌ، فَأَهْوَى لَهُ رَجُلٌ بِلَحْيَيْ جَزُورٍ فَفَزَرَ أَنْفَهُ، فَكَانَ أَنْفُ سَعْدٍ مَفْزُورًا فَنَزَلَتْ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ} إِلَى قَوْلِهِ {فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ} [المائدة: 90-91] ۔
سیدنا مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کے بارے میں چار آیات نازل ہوئی ہیں،میرے والد نے کہا: (غزوہ بدر کے! اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سعد بن ابی وقاص بالکل ابتدائی مسلمان ہونے والوں میں سے ہیں۔ (بخاری: ۳۷۲۷) کی ایک روایت کے مطابق انہوں نے اپنے آپ کو ثلث الاسلام بھی قرار دیا ہے۔ دوران) مجھے ایک تلوار ملی، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ یہ تلوار مجھے زائد حصہ کے طور پر دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے رکھ دو۔ میں نے عرض کیا:اللہ کے رسول! آپ یہ تلوار تو مجھے میرے حصہ سے زائد کے طور پر عنایت فرما دیں، بس آپ مجھے یوں سمجھیں کہ میرا اس کے بغیر گزارہ نہیں ہو سکتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے یہ جہاں سے اٹھائی ہے، وہیں رکھ دو۔ اس موقع پر آیت نازل ہوئی: {یَسْأَلُونَکَ الْأَنْفَالَ قُلِ الْأَنْفَالُ} یہ قراء ت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی ہے، (جبکہ قرآن کریم کی متواتر قرأت میں یَسْأَلُوْنَکَ عَنِ الْأَنْفَالِ ہے)۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میری والدہ نے کہا: کیا اللہ آپ کو صلہ رحمی اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم نہیں دیتا؟ اللہ کی قسم! میں اس وقت تک نہ کچھ کھاؤں گی اور نہ پیوں گی جب تک تم محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کفر نہیں کرو گے، پس وہ کچھ نہیں کھاتی تھی،یہاں تک کہ گھر والے لکڑی کے ذریعے اس کے منہ کو کھول کر رکھتے اور وہ اس میں پینے کی کوئی چیز ڈالتے تھے۔ شعبہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ میر ے شیخ سماک بن حرب نے کھانے کا بھی ذکر کیا تھا، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی: {وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حَمَلَتْہُ اُمُّہ وَہْنًا عَلٰی وَہْنٍ وَّفِصٰلُہ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْکُرْ لِیْ وَلِوَالِدَیْکَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۔ وَاِنْ جَاہَدٰکَ عَلٰٓی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖعِلْمٌفَلَاتُطِعْہُمَاوَصَاحِبْہُمَافِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا ْ وَّاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔} … اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انسان کو اپنے والدین کا حق پہچاننے کی خود تاکید کی ہے۔ اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال اس کا دودھ چھوٹنے میں لگے۔ (اسی لیے ہم نے اس کو نصیحت کی کہ) میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجا لا، میری ہی طرف تجھے پلٹنا ہے۔لیکن وہ اگر دباؤ ڈالیں کہ میرے ساتھ تو کسی ایسے کو شریک کرے جسے تو نہیں جانتا تو ان کی بات ہرگز نہ مان۔ دنیا میں ان کے ساتھ نیک برتاؤ کرتا رہ مگر پیروی اس شخص کے راستے کی کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔ پھر تم سب کو پلٹنا میری ہی طرف ہے،اس وقت میں تمہیں بتا دوں گا کہ تم کیسے عمل کرتے رہے تھے۔ (سورۂ لقمان: ۱۴،۱۵) سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں بیمار تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنے سارے مال کی (اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی) وصیت کر سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: آدھے مال کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے پوچھا: ایک تہائی کی۔ آپ یہ بات سن کر خاموش ہو گئے اور لوگوں نے اسی پر عمل شروع کر دیا، ایک انصاری نے کھانے کی دعو ت کی، لوگوں نے وہاں کھانا کھایا اور شراب پی کر نشے میں مست ہوگئے، یہ حرمت ِ شراب سے پہلے کی بات ہے، ہم اس کے ہاں جمع ہوئے، لوگ ایک دوسرے پر تفاخر کا اظہار کرنے لگے، انصار نے کہا کہ ہم افضل ہیں اور مہاجرین کہنے لگے کہ ہم افضل ہیں، ایک آدمی نے اونٹ کا جبڑا اٹھا کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو دے مارا اور ان کی ناک کو چیر ڈالا، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی ناک چیری ہوئی تھی۔ اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ۔ اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطَانُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَاءَ فِیْ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَعَنِ الصَّلٰوۃِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَھُوْنَ} … اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور شرک کے لیے نصب کردہ چیزیں اور فال کے تیر سراسر گند ہیں، شیطان کے کام سے ہیں، سو اس سے بچو، تاکہ تم فلاح پاؤ،شراب اور جوئے کے ذریعے شیطان تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈالنا اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے غافل کرنا چاہتا ہے۔ تو کیا تم ان دونوں کاموں سے باز نہیں آؤ گے؟ (سورۂ مائدہ: ۹۰، ۹۱) [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11721]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1748، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1567 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1567»
وضاحت: فوائد: … حافظ ابن کثیر نے (کتاب العشرۃ للطبرانی) کا حوالہ دے کر یہ روایت ذکر کی ہے: سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے، میں اپنی ماں کی بہت خدمت کیا کرتا تھا اور ان کا پورا اطاعت گزار تھا۔ جب مجھے اللہ نے اسلام کی طرف ہدایت کی تو میری والدہ مجھ پر بہت بگڑیں اور کہنے لگی: بچے یہ نیا دین تو نے کہاں سے نکال لایا۔ سنو میں تمہیں حکم دیتی ہوں کہ اس دین سے دستبردار ہو جاؤ،ورنہ میں نہ کھاؤں گی، نہ پیوںگی اور یونہی بھوکی مرجاؤں گی۔ میں نے تو اسلام کو چھوڑا نہیں، لیکن میری ماں نے واقعی کھانا پینا ترک کردیا اور لوگ ہر طرف سے مجھ پر آوازے کسنے لگے کہ یہ اپنی ماں کا قاتل ہے۔ میں دل میں بہت ہی تنگ ہوا اور اپنی والدہ کی خدمت میں باربار عرض کیا، خوشامدیں کیں، سمجھایا کہ اللہ کے لئے اپنی ضد سے باز آجاؤ، یہ تو ناممکن ہے کہ میں اس سچے دین کو چھوڑ دوں۔ اسی ضد میں میری والدہ پر تین دن کا فاقہ گذرگیا اور اس کی حالت بہت ہی خراب ہوگئی، میں پھر اس کے پاس گیا اور میں نے کہا: میری اچھی اماں جان! سنو تم مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہو، لیکن میرے دین سے زیادہ عزیز نہیں ہو۔ اللہ کی قسم! ایک نہیں، تمہاری ایک سوجانیں بھی ہوں اور اسی بھوک پیاس میں ایک ایک کرکے سب نکل جائیں، تو بھی میں آخری لمحہ تک اپنے سچے دین اسلام کو نہ چھوڑوں گا۔ اب میری ماں مایوس ہو چکی تھی اور کھانا پینا شروع کردیا تھا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11722
عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ يُحَدِّثُ: أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تُحَدِّثُ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم سَهِرَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهِيَ إِلَى جَنْبِهِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَا شَأْنُكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَتْ: فَقَالَ: ( (لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا مِنْ أَصْحَابِي يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ۔) ) قَالَ: ( (فَبَيْنَمَا أَنَا عَلَى ذَٰلِكَ إِذْ سَمِعْتُ صَوْتَ السِّلَاحِ۔) ) فَقَالَ: ( (مَنْ هٰذَا؟) ) قَالَ: أَنَا سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ، فَقَالَ: ( (مَا جَاءَ بِكَ۔) ) قَالَ: جِئْتُ لِأَحْرُسَكَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ!، قَالَتْ: فَسَمِعْتُ غَطِيطَ رَسُولِ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم فِي نَوْمِهِ۔
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کیا کرتی تھیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نیند نہیں آرہی تھی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں تھیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! کیا بات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کاش میرے صحابہ میں سے کوئی نیک آدمی آج رات میرا پہرہ دیتا۔ میں ابھی انہی خیالات میں ہی تھی کہ میں نے اسلحہ کی آوازیں سنیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کون ہے؟ آنے والے نے کہا: اے ا للہ کے رسول! میں سعد بن مالک ہوں، آپ کا پہرہ دینے کی سعادت حاصل کرنے آیا ہوں۔ (اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر سکون سے ہوئے کہ) سیدہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: اس کے بعد میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سوتے ہوئے خراٹے لیتے سنا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11722]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2885، 7231،ومسلم: 2410، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25093 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25606»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11723
عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، قَالَ: بَلَغَ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ أَنَّ سَعْدًا لَمَّا بَنَى الْقَصْرَ قَالَ: انْقَطَعَ الصُّوَيْتُ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ فَلَمَّا قَدِمَ أَخْرَجَ زَنْدَهُ وَأَوْرَى نَارَهُ وَابْتَاعَ حَطَبًا بِدِرْهَمٍ، وَقِيلَ لِسَعْدٍ: إِنَّ رَجُلًا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: ذَٰكَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَحَلَفَ بِاللّٰهِ مَا قَالَهُ، فَقَالَ: نُؤَدِّيْ عَنْكَ الَّذِي تَقُولُهُ، وَنَفْعَلُ مَا أُمِرْنَا بِهِ، فَأَحْرَقَ الْبَابَ ثُمَّ أَقْبَلَ يَعْرِضُ عَلَيْهِ أَنْ يُزَوِّدَهُ فَأَبَى، فَخَرَجَ فَقَدِمَ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ فَهَجَّرَ إِلَيْهِ فَسَارَ ذَهَابَهُ وَرُجُوعَهُ تِسْعَ عَشْرَةَ، فَقَالَ: لَوْلَا حُسْنُ الظَّنِّ بِكَ لَرَأَيْنَا أَنَّكَ لَمْ تُؤَدِّ عَنَّا، قَالَ: بَلَى أَرْسَلَ يَقْرَأُ السَّلَامَ وَيَعْتَذِرُ وَيَحْلِفُ بِاللّٰهِ مَا قَالَهُ، قَالَ: فَهَلْ زَوَّدَكَ شَيْئًا؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تُزَوِّدَنِي أَنْتَ، قَالَ: إِنِّي كَرِهْتُ: أَنْ آمُرَ لَكَ، فَيَكُونُ لَكَ الْبَارِدُ وَيَكُونُ لِي الْحَارُّ، وَحَوْلِي أَهْلُ الْمَدِينَةِ قَدْ قَتَلَهُمْ الْجُوعُ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم يَقُولُ: ( (لَا يَشْبَعُ الرَّجُلُ دُونَ جَارِهِ۔) )
عبایہ بن رفاعہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کواطلاع پہنچی کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے جب محل تعمیر کیا تو کہا: اب لوگوں کی آوازیں (شور آنا) بند ہوگئی ہیں۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو ادھر بھیجا، وہ آئے تو انہوں نے آتے ہی تیاری کی، ایک درہم کی لکڑی خریدی اور اس دروازے کو آگ لگا دی۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو بتلایا گیا کہ ایک آدمی نے یہ کام کیا ہے، انھوں نے کہا: جی ہاں، وہ محمد بن مسلمہ بن رضی اللہ عنہ ہیں۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ ان کی خدمت میں گئے اور جا کر کہا:اللہ کی قسم! میں نے ایسا کوئی لفظ نہیں کہا۔ محمد بن مسلمہ نے کہا: آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں، ہم آپ کی اس بات کو امیر المومنین تک پہنچا دیں گے اور ہمیں جو حکم ہوا ہے، ہم اس کی تعمیل کریں گے، چنانچہ انہوں نے دروازے کو آگ لگا دی۔ پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے محمد بن مسلمہ کو مال کی پیش کش کی تو انہوں نے کچھ لینے سے انکار کر دیا۔ وہاں سے روانہ ہو کر محمد بن مسلمہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے، وہ بہت جلد واپس آئے تھے، ان کے جانے اور واپسی میں صرف انیس دن لگے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر مجھے آپ کے بارے میں حسن ظن نہ ہوتا تو ہم سمجھتے کہ آپ نے ہماری طرف سے مفوضہ ذمہ داری کو پورے طور پر سر انجام نہیں دیا۔محمد بن مسلمہ نے کہا: کیوں نہیں، میں اپنی ذمہ داری کو بجا طور پر کیوں نہ ادا کرتا۔ انھوں نے کہا: سیدنا سعد رضی اللہ عنہ آ پ کو سلام کہتے ہیں اور معذرت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے تو ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: آیا انہوں نے آپ کو زادِ راہ دیا ہے یا نہیں دیا؟ محمد بن مسلمہ نے کہا: جی نہیں دیا۔ آپ نے خود مجھے زاد راہ کیوں نہ دیا؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تمہارے لیے زادراہ دیئے جانے کا حکم اس لیے نہیں دیا تھا کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ تم تو فائدہ اٹھاؤ اور اہل مدینہ کی حاجت کی وجہ سے ذمہ داری مجھ پر رہے، میرے ارد گرد یہ اہل مدینہ موجود ہیں، جنہیں بھوک کی شدت نے قتل کر رکھا ہے۔ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث سن چکا ہوں کہ کوئی آدمی اکیلا سیر ہو کر نہ کھائے کہ اس کا ہم سایہ بھوکا ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11723]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، لكن رواية عباية بن رفاعة عن عمر مرسلة، اخرجه الحاكم: 4/ 167، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 390 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 390»
وضاحت: فوائد: … سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے مدائن سے منتقل ہو کر کوفہ میں یہ محل بنایا تھا

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. بَابُ مَا جَاءَ فِي سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِي سَيْدِ الخزرج رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
خزرج کے سردار سیدنا سعد بن عبادۃ انصاری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11724
عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: زَارَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم فِي مَنْزِلِنَا، فَقَالَ: ( (السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ۔) ) قَالَ: فَرَدَّ سَعْدٌ رَدًّا خَفِيًّا، فَرَجَعَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم وَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ قَدْ كُنْتُ أَسْمَعُ تَسْلِيمَكَ وَأَرُدُّ عَلَيْكَ رَدًّا خَفِيًّا لِتُكْثِرَ عَلَيْنَا مِنَ السَّلَامِ، قَالَ: فَانْصَرَفَ مَعَهُ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم فَأَمَرَ لَهُ سَعْدٌ بِغُسْلٍ فَوُضِعَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ نَاوَلَهُ أَوْ قَالَ: نَاوَلُوهُ مِلْحَفَةً مَصْبُوغَةً بِزَعْفَرَانٍ وَوَرْسٍ فَاشْتَمَلَ بِهَا، ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم يَدَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ: ( (اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ عَلَى آلِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ۔) ) قَالَ: ثُمَّ أَصَابَ مِنَ الطَّعَامِ فَلَمَّا أَرَادَ الِانْصِرَافَ قَرَّبَ إِلَيْهِ سَعْدٌ حِمَارًا قَدْ وَطَّأَ عَلَيْهِ بِقَطِيفَةٍ، فَرَكِبَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم فَقَالَ سَعْدٌ: يَا قَيْسُ! اصْحَبْ رَسُولَ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ قَيْسٌ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم ( (ارْكَبْ۔) ) فَأَبَيْتُ ثُمَّ قَالَ: ( (إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ وَإِمَّا أَنْ تَنْصَرِفَ۔) ) قَالَ: فَانْصَرَفْتُ۔
سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ کہا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے پست آواز سے سلام کا جواب دیا، (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سلام تین بار کہا تھا اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے تین بار ہی اتنی پست آواز میں جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں سنا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس چل دیئے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چلے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کے سلام کی آواز سن رہا تھا اور آہستہ آواز سے جواب دے رہا تھا تا کہ آپ ہم پر زیادہ سے زیادہ سلام کہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ واپس تشریف لے آئے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے آپ کے غسل کے لیے پانی رکھوایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل کیا، اس کے بعد انہوں نے زعفران یا ورس سے رنگا ہوا ایک خوشبودار کپڑا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کپڑا اپنے اوپر لے لیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی: یا اللہ! سعد بن عبادہ کی آل کو اپنی رحمتوں اور برکتوں سے مالا مال فرما۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا تناول فرمایا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واپسی کا ارادہ کیا تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری کے لیے گدھا پیش کیا، جس کے اوپر ایک موٹی چادر رکھ دی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گدھے پر سوار ہوگئے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے سیدنا قیس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جائے، سو سیدنا قیس رضی اللہ عنہ ساتھ چل دیئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بھی سوار ہو جاؤ۔ انہوں نے تو (احتراماً) سوار ہونے سے انکار کر دیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یا تو سوار ہو جاؤ یا پھر واپس چلے جاؤ۔ چنانچہ میں واپس چلا آیا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11724]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، محمد بن عبد الرحمن لم يثبت له سماع من قيس بن عبادة، اخرجه ابوداود: 5185، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15476 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15555»
وضاحت: فوائد: … صحابۂ کرام اس بات کے حریص اور خواہشمند ہوتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے لیے دعا کریں۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. بَابُ مَا جَاءَ فِي سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ سَيْدِ الْأَوْسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
اوس کے رئیس سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11725
حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: أَخْبَرَنِي وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَكَانَ وَاقِدٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَأَعْظَمِهِمْ وَأَطْوَلِهِمْ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقَالَ لِي: مَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: أَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: إِنَّكَ بِسَعْدٍ أَشْبَهُ ثُمَّ بَكَى وَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ، فَقَالَ: رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَى سَعْدٍ، كَانَ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ وَأَطْوَلِهِمْ، ثُمَّ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم جَيْشًا إِلَى أُكَيْدِرَ دُومَةَ، فَأَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم بِجُبَّةٍ مِنْ دِيبَاجٍ مَنْسُوجٍ فِيهَا الذَّهَبُ، فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم فَقَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ أَوْ جَلَسَ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ، ثُمَّ نَزَلَ فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْمِسُونَ الْجُبَّةَ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم ( (أَتَعْجَبُونَ مِنْهَا۔) ) قَالُوا: مَا رَأَيْنَا ثَوْبًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم ( (لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِمَّا تَرَوْنَ۔) )
محمد بن عمرو سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ نے مجھے بیان کیا، جبکہ وہ انتہائی حسین و جمیل، عظیم الجثہ اور دراز قامت آدمی تھے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ میں کون ہوں۔ میں نے عرض کیا:میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ ہوں۔ انھوں نے کہا: تم تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے مشابہ ہو، اس کے بعد وہ رونے لگے اور بہت زیادہ روئے اور کہا: سعد رضی اللہ عنہ پر اللہ کی رحمت ہو، وہ سب سے بڑھ کر جسیم اور طویل قامت تھے۔ پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دومہ کے والی اکیدر کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جبہ ارسال کیا، جس پر سونے کی کڑھائی کی گئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے زیب تن فرمایا اور منبر پر کھڑے ہوئے یا بیٹھے، آپ نے کچھ گفتگو نہ کی اور ویسے ہی نیچے اتر آئے۔ لوگ اس جبہ کو ہاتھ لگا لگا کر دیکھنے لگے (اور اس کی عمدگی پرتعجب کرنے لگے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس جبہ پر تعجب کرتے ہو؟ صحابۂ کرام نے عرض کیا: جی کیوں نہیں، ہم نے اس سے اچھا کپڑا کبھی نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جو کپڑا دیکھ رہے ہو، جنت میں سعد رضی اللہ عنہ کے رومال اس سے بھی زیادہ قیمتی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11725]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه مختصرا البخاري: 2616 معلقا،ومسلم: 2469، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12223 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12248»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں