🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَامِرِ بْنِ الْأَکْوَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11756
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ قَاتَلَ أَخِي قِتَالًا شَدِيدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَارْتَدَّ عَلَيْهِ سَيْفُهُ فَقَتَلَهُ فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ وَشَكُّوا فِيهِ رَجُلٌ مَاتَ بِسِلَاحِهِ شَكُّوا فِي بَعْضِ أَمْرِهِ قَالَ سَلَمَةُ فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَرْجُزَ بِكَ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اعْلَمْ مَا تَقُولُ قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”صَدَقْتَ“ فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَالْمُشْرِكُونَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا فَلَمَّا قَضَيْتُ رَجَزِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ قَالَ هَذَا“ قُلْتُ أَخِي قَالَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَرْحَمُهُ اللَّهُ“ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ إِنَّ نَاسًا لَيَهَابُونَ أَنْ يُصَلُّوا عَلَيْهِ وَيَقُولُونَ رَجُلٌ مَاتَ بِسِلَاحِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا“ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ثُمَّ سَأَلْتُ ابْنَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِيهِ مِثْلَ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ غَيْرَ أَنَّ ابْنَ سَلَمَةَ قَالَ قَالَ مَعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَهَابُونَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ كَذَبُوا مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ“ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِإِصْبَعَيْهِ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: خیبر کے دن میرے بھائی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں خوب زور دار جنگ لڑی، لیکن ہوا یوں کہ اس کی اپنی تلوار پلٹ کر اس کو آلگی اور وہ قتل ہو گیا،صحابۂ کرام نے اس بارے میں مختلف باتیں کیں اور اس کی شہادت کے بارے میں مختلف شبہات کا اظہار کیا، کسی نے کہا کہ اپنے اسلحہ سے مرا ہے اور بعض نے اس کے انجام کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر سے واپس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اجازت ہو تو میں آپ کی خدمت میں کچھ رجز پیش کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو کہا: ذرا دھیان سے بولنا۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے پڑھا:
وَاللّٰہِ لَوْلَا اللّٰہُ مَا اہْتَدَیْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّیْنَا
اللہ کی قسم اگر اللہ کی رحمت اور توفیق نہ ہوتی تو ہم ہدایت نہ
پا سکتے، نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ نمازیں پڑھتے۔
یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے بالکل درست کہا ہے۔
فَـأَنْزِلَنْ سَکِینَۃً عَلَیْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَیْنَا
وَالْمُشْرِکُونَ قَدْ بَغَوْا عَلَیْنَا
یا اللہ! تو ہم پر سکینت اوراطمینان نازل فرما اور اگر دشمن سے ہماری مڈ بھیڑ ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھ۔ اور مشرکوں نے ہم پر ظلم کیا ہے۔
جب میں نے اپنارجز پورا کر لیاتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کلام کس کا ہے؟ میں نے عرض کیا: یہ میرے بھائی کا کلام ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس پر اللہ کی رحمت ہو۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! بعض لوگ اس کے حق میں رحمت کی دعا کرتے ہوئے گھبراتے ہیں، ان کا خیال ہے کہ وہ تو اپنے ہی اسلحہ سے مرا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تو جہاد کرتے ہوئے فوت ہوا ہے۔ ابن شہاب سے مروی ہے کہ سلمہ بن اکوع کے بیٹے سے بھی اس حدیث کی بابت کا دریافت کیا تو اس نے بھی اپنے والد کی روایت سے اسی طرح بیان کیا جیسے عبدالرحمن نے بیان کیا تھا۔ البتہ سلمہ بن اکوع کے بیٹے نے یوں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ ساتھ یوں فرمایا تھا کہ وہ اس کے حق میں دعائے رحمت کرنے سے گھبراتے ہیں تو یہ جھوٹے ہیں،وہ تو جہاد کرتے ہوئے مرا ہے۔ اور آپ نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسے دوگنا اجر ملے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11756]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4196، 6148، ومسلم: 1802، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16503 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16617»
وضاحت: فوائد: … حدی دوران سفر قافلے میں سے کوئی آدمی بلند آواز سے کوئی باقاعدہ شعر پڑھتا یا بے قاعدہ اور بے وزن، غیر مرتب سا کلام پڑھتا۔ اس کی آواز کے زیر و بم پراونٹ اپنے قدم اٹھاتے اور پوری تندہی کے ساتھ چلتے، ایسے کلام کو حدی اور حدی پڑھنے والے کو عربی میں حادی اردو میں حادی کو حدی خواں کہتے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
کتاب میں حدیث موجود نہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: ]

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
51. بَابُ مَا جَاءَ فِي عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11758
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِيهِ الْوَلِيدِ عَنْ جَدِّهِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَكَانَ أَحَدَ النُّقَبَاءِ قَالَ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْعَةَ الْحَرْبِ وَكَانَ عُبَادَةُ مِنَ الِاثْنَيْ عَشَرَ الَّذِينَ بَايَعُوا فِي الْعَقَبَةِ الْأُولَى عَلَى بَيْعَةِ النِّسَاءِ فِي السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي عُسْرِنَا وَيُسْرِنَا وَمَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا وَلَا نُنَازِعُ فِي الْأَمْرِ أَهْلَهُ وَأَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ، یہ صحابی ان افراد میں سے تھے جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیعت عقبہ اولیٰ میں مدینہ منورہ میں لوگوں پر نقیب (اور نگران) مقرر فرمایا تھا، ان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے بیعت عقبہ اولیٰ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر لڑائی کی بیعت کی تھی کہ ہمیں اگر اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفاع کے لیے کسی سے جنگ بھی کرنا پڑی تو ہم اس سے دریغ نہیں کریں گے اور سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ ان بارہ نقباء میں سے تھے، جنہوں نے بیعت عقبہ اولیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر موافق اور ناموافق حالات میں پسندیدہ و ناپسندیدہ احوال میں یعنی ہر حال میں آپ کا حکم سننے اور ماننے کی بیعت کی اور اس امر کا اقرار کیا کہ ہم حکومت و اقتدار کے بارے میں اہل اقتدار سے مقابلہ نہیں کریں گے اور ہم جہاں بھی ہوں گے ہم کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا کئے بغیر حق کہیں گے۔ نیز ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر عورتوں والے امور کی طرح بیعت کی تھی۔ (ان امور کا ذکر سورۂ ممتحنہ میں ہے)۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11758]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7199، 7200،ومسلم: 3/ 1417، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22700 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23076»
وضاحت: فوائد: … عورتوں والے امور سے مراد وہ امور ہیں، جن کا ذکر درج ذیل آیت میں ہے:
{ ٰٓیاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا جَآئَ کَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰٓی اَنْ لَّا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَّلَا یَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِیْنَ وَلَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَھُنَّ وَلَا یَاْتِیْنَ بِبُھْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَہٗ بَیْنَ اَیْدِیْھِنَّ وَاَرْجُلِھِنَّ وَلَا یَعْصِیْنَکَ فِیْ
مَعْرُوْفٍ} (سورۂ ممتحنہ: ۱۲) یعنی: اے نبی! جب اہل ایمان خواتین آپ کے پاس آئیں تو وہ ان باتوں کی بیعت کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اپنی اولادوں کو قتل نہیں کریں گی اور کسی پر بہتان طرازی نہیں کریں گی اور کسی معروف کام میں آپ کی حکم عدولی نہیں کریں گی۔
اس آیت میں تو خواتین کا ذکر ہے، لیکن مرد بھی ان امور پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کرتے تھے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11759
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ أَصْرَمَ بْنِ فِهْرِ بْنِ ثَعْلَبَةَ فِي الِاثْنَيْ عَشَرَ الَّذِينَ بَايَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَقَبَةِ الْأُولَى
سیدنا عبادہ بن صامت بن قیس بن اصرم بن فہر بن ثعلبہ بن غنم بن عوف بن خزرج رضی اللہ عنہ ان بارہ افراد میں سے ہیں، جنہوں نے بیعت عقبہ اولیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11759]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23156»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی فضیلت معلوم ہوئی کہ انہیں ہجرت سے قبل مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ جا کر اسلام قبول کرنے اور بیعت عقبہ اولیٰ میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوا، اس موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے بارہ افراد کو نقیبیعنی ذمہ دار اور نگران مقرر کیا تھا، ان نقباء میں سے ایک سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ تھے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11760
قَالَ سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ يُسَمِّي النُّقَبَاءَ فَسَمَّى عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ مِنْهُمْ قَالَ سُفْيَانُ عُبَادَةُ عَقَبِيٌّ أُحُدِيٌّ بَدْرِيٌّ شَجَرِيٌّ وَهُوَ نَقِيبٌ
امام سفیان بن عیینہ نقباء کا نام لیتے تھے، اس ضمن میں انھوں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا نام بھی ان میں ذکر کیا اور انھوں نے کہا: عبادہ رضی اللہ عنہ عقبی، احدی، بدری، شجری اور نقیب ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11760]
تخریج الحدیث: «انظر الحديثين السابقين ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23154»
وضاحت: فوائد: … عقبی:بیعت عقبہ اولیٰ میں شرکت کرنے والے۔
احدی: غزوۂ احد میں شریک ہونے والے۔
بدری: غزوۂ بدر میں شرکت کا اعزاز پانے والے۔
شجری: صلح حدیبیہ کے موقع پر درخت کے نیچے بیعت رضوان میں شریک ہونے والے۔
نقیب:بیعت عقبہ اولیٰ میں مقرر کیے جانے والے نقیبوں میں سے ایک نقیب۔
یہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی صفات ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11761
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عُبَادَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ أَتَخَايَلُ فِيهِ الْمَوْتَ فَقُلْتُ يَا أَبَتَاهُ أَوْصِنِي وَاجْتَهِدْ لِي فَقَالَ أَجْلِسُونِي قَالَ يَا بُنَيَّ إِنَّكَ لَنْ تَطْعَمَ طَعْمَ الْإِيمَانِ وَلَنْ تَبْلُغَ حَقَّ حَقِيقَةِ الْعِلْمِ بِاللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَتَاهُ فَكَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ مَا خَيْرُ الْقَدَرِ وَشَرُّهُ قَالَ تَعْلَمُ أَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ وَمَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ يَا بُنَيَّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْقَلَمَ ثُمَّ قَالَ اكْتُبْ فَجَرَى فِي تِلْكَ السَّاعَةِ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ“ يَا بُنَيَّ إِنْ مِتَّ وَلَسْتَ عَلَى ذَلِكَ دَخَلْتَ النَّارَ وَفِي رِوَايَةٍ مَا أَكْتُبُ قَالَ فَاكْتُبْ مَا يَكُونُ وَمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ
ولید بن عبادہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ہاں گیا، جبکہ وہ مریض تھے اور موت کی کش مکش میں مبتلا تھے، میں نے ان سے گزارش کی کہ اے ابا جان! مجھے کوئی اچھی سی وصیت ہی کر دیں۔ انھوں نے کہا: مجھے بٹھاؤ۔ پھر کہا: بیٹا! تم اس وقت تک ایمان کا ذائقہ نہیں چکھ سکتے اور نہ اللہ تعالیٰ پر ایمان کی اصل حقیقت تک پہنچ سکتے ہو، جب تک کہ تم ہر اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہیں لاؤ گے۔ میں نے عرض کیا: ابا جان!اچھی اور بری تقدیر کا علم مجھے کیسے ہوگا؟ انھوں نے کہا: تم اس بات کا یقین رکھو کہ جو چیز تمہیں نہیں ملی، وہ تمہیں کسی بھی صورت مل نہیں سکتی تھی اور تمہیں جو کچھ مل گیا ہے وہ تم سے چھوٹ نہیں سکتا تھا، بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا، اس کے بعد اس سے فرمایا کہ لکھ، چنانچہ وہ قلم اسی وقت لکھنے لگا اور اس نے قیامت تک ہونے والے ہر امر کو لکھ دیا۔ بیٹے! اگر تمہیں اس حال میں موت آئی کہ تمہارا یہ ایمان نہ ہوا تو تم جہنم میں جاؤ گے۔ دوسری روایت کے الفاظ یوں ہیں: قلم نے عرض کیا: میں کیا لکھوں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: قیامت کے بپا ہونے تک جو کچھ بھی ہونے والا ہے ہر امر کو لکھ دے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11761]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابوداود: 4700،والترمذي: 2155، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22705 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23081»
وضاحت: فوائد: … کتاب کے شروع میں تقدیر کے احکام و مسائل بیان ہو چکے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11762
عَنِ الصُّنَابِحِيِّ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ فَبَكَيْتُ فَقَالَ مَهْلًا لِمَ تَبْكِي فَوَاللَّهِ لَئِنِ اسْتُشْهِدْتُ لَأَشْهَدَنَّ لَكَ وَلَئِنْ شُفِّعْتُ لَأَشْفَعَنَّ لَكَ وَلَئِنِ اسْتَطَعْتُ لَأَنْفَعَنَّكَ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ مَا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَكُمْ فِيهِ خَيْرٌ إِلَّا حَدَّثْتُكُمُوهُ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا سَوْفَ أُحَدِّثُكُمُوهُ الْيَوْمَ وَقَدْ أُحِيطَ بِنَفْسِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حُرِّمَ عَلَى النَّارِ“ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ مِثْلَهُ قَالَ حَرَّمَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِ النَّارَ
صنا بحی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ مرض الموت میں مبتلا تھے، ان کی حالت دیکھ کر میں رونے لگا، انہوں نے کہا: رک جاؤ، تم کیوں روتے ہو؟ اللہ کی قسم! اگر مجھ سے تمہارے بارے میں گواہی لی گئی تو میں تمہارے مومن ہونے کی گواہی دوں گا، اگر مجھے شفاعت کی اجازت دی گئی تو میں تمہارے حق میں شفاعت کروں گا اور اگر مجھ سے ہو سکا تو تمہیں نفع پہنچاؤں گا۔ ‘ پھر کہا: اللہ کی قسم میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو بھی کوئی ایسی حدیث سنی ہے جس میں تمہارے لیے بہتری ہے تو میں وہ حدیث تمہیں سنا چکا ہوں، البتہ ایک حدیث ہے، جو میں تمہیں نہیں سنا سکا، وہ تمہیں آج ابھی سناتا ہوں اور اب صورت حال یہ ہے کہ میری روح قبض کی جانے والی ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو آدمی یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے رسول ہیں، اس پر جہنم حرام کر دی جائے گی یایوں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کو حرا م کر دے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11762]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 29، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23087»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
52. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْن عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11763
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ وَالْخُزَاعِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَتْنَا أُمُّ بَكْرٍ بِنْتُ الْمِسْوَرِ قَالَ الْخُزَاعِيُّ عَنْ أُمِّ بَكْرٍ بِنْتِ الْمِسْوَرِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ بَاعَ أَرْضًا لَهُ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ فَقَسَمَهُ فِي فُقَرَاءِ بَنِي زُهْرَةَ وَفِي الْمُهَاجِرِينَ وَأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ الْمِسْوَرُ فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ بِنَصِيبِهَا فَقَالَتْ مَنْ أَرْسَلَ بِهَذَا فَقُلْتُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَتْ أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَقَالَ الْخُزَاعِيُّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا يَحْنُو عَلَيْكُنَّ بَعْدِي إِلَّا الصَّابِرُونَ“ سَقَى اللَّهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ
ام بکر بنت مسور سے مروی ہے کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک زمین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو چالیس ہزار دینار میں فروخت کی۔اور انہوں نے یہ ساری رقم بنو زہرہ کے فقراء، مہاجرین صحابہ اور امہات المومنین میں تقسیم کر دی۔ مسور کہتے ہیں: میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا حصہ لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے دریافت کیا کہ یہ رقم کس نے بھیجی ہے؟ میں نے عرض کیا: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے۔ سیدہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی بیویوں کے حق میں فرماتے سنا ہے کہ میرے بعد صبر کی صفت سے متصف لوگ ہی تم پر شفقت و مہربانی کریں۔ اللہ تعالیٰ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو جنت کی سلسبیل سے سیراب فرمائے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11763]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، اخرجه الطبراني في الاوسط: 9111، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24724 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25231»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11764
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِأَزْوَاجِهِ ”إِنَّ الَّذِي يَحْنُو عَلَيْكُنَّ بَعْدِي لَهُوَ الصَّادِقُ الْبَارُّ“ اللَّهُمَّ اسْقِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ازواج سے مخاطب ہو کر فرمایا: میرے بعد جو کوئی تمہارے اوپر شفقت کرے گا وہ انتہائی سچا اور صالح ہوگا۔ یا اللہ! تو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو جنت کے سلسبیل نامی چشمے سے سیراب کرنا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11764]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره، اخرجه الحاكم: 3/ 311، والحاكم: 3/ 311، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26559 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27094»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کا انتہائی درجے کا احترام و اکرام اور ان کے ساتھ شفقت و رافت والا معاملہ ہوناچاہئے۔ آج اگرچہ امہات المؤمنین موجود نہیں ہیں، لیکن ان کا تذکرۂ خیر کرنا اور ان کے بشری تقاضوں کو سامنے رکھ کر ان پر کیچڑ نہ اچھالنا ہمارے ایمان و ایقان کا تقاضا ہے۔
یہ حدیث سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11765
عَنْ أَنَسٍ قَالَ بَيْنَمَا عَائِشَةُ فِي بَيْتِهَا إِذْ سَمِعَتْ صَوْتًا فِي الْمَدِينَةِ فَقَالَتْ مَا هَذَا قَالُوا عِيرٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَدِمَتْ مِنَ الشَّامِ تَحْمِلُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ قَالَ فَكَانَتْ سَبْعَ مِائَةِ بَعِيرٍ قَالَ فَارْتَجَّتِ الْمَدِينَةُ مِنَ الصَّوْتِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”قَدْ رَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ حَبْوًا“ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَقَالَ إِنِ اسْتَطَعْتُ لَأَدْخُلَنَّهَا قَائِمًا فَجَعَلَهَا بِأَقْتَابِهَا وَأَحْمَالِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے گھر تشریف فرما تھیں کہ انہوں نے مدینہ منورہ میں زور زور کی آوازیں سنیں،انھوں نے پوچھا: یہ کیسی آواز ہے؟ بتانے والوں نے بتلایا کہ شام سے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ایک تجارتی قافلہ آیا ہے، جو ہر قسم کا سامان اٹھائے ہوئے ہے۔ و ہ سات سو اونٹ تھے، قافلے کی آوازوں سے مدینہ گونج اٹھا۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے جنت میں گئے۔ جب یہ بات سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انھوں نے کہا: اگر کوشش کروں تو سیدھا کھڑا ہو کر بھی جنت میں جا سکتا ہوں، چنانچہ انہوں نے وہ سارا قافلہ اس کے پالانوں اور اٹھائے ہوئے سامان سمیت اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11765]
تخریج الحدیث: «حديث منكر باطل، تفرد بھا عمارة، وھوممن لا يحتمل تفرده، اخرجه البزار: 2586، والطبراني في الكبير: 264، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24842 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25353»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں