الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
52. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْن عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11766
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ قَالَ أَقْطَعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْضَ كَذَا وَكَذَا فَذَهَبَ الزُّبَيْرُ إِلَى آلِ عُمَرَ فَاشْتَرَى نَصِيبَهُ مِنْهُمْ فَأَتَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَقَالَ إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ زَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَهُ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْضَ كَذَا وَكَذَا وَإِنِّي اشْتَرَيْتُ نَصِيبَ آلِ عُمَرَ فَقَالَ عُثْمَانُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ جَائِزُ الشَّهَادَةِ لَهُ وَعَلَيْهِ
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فلاں فلاں اراضی الاٹ کر دیں، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے آل عمرکے ہاں جا کر ان سے ان کا حصہ خرید لیا اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ہاں جا کر کہا: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فلاں فلاں اراضی الاٹ کی تھیں، اب میں نے آل عمر رضی اللہ عنہ کا حصہ تو خرید لیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: عبدالرحمن بن عوف کی گواہی ہر حال میں مقبول ہے،وہ ان کے حق میں ہو یا ان کی مخالفت میں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11766]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين غير حماد بن سلمة، فمن رجال مسلم، الا ان في سماع عروة من عبد الرحمن بن عوف وقفة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1670 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1670»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہیں، جیسا کہ حدیث نمبر (۱۱۵۹۱)میں گزرا ہے۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ایک مخیر صحابی تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں مال و دولت عطا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق سے بھی نوازا تھا۔
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات رجال الشيخين غير حماد بن سلمة
53. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ارَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی ٰ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11767
عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَةٍ قَالَ ”اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ“ فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَةٍ فَقَالَ ”اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى“
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ، جو کہ اصحاب ِ شجرہ میں سے ہیں، سے مروی ہے کہ جب لوگ صدقہ کا مال لا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے تو آپ ان کے حق میں یوں دعا فرماتے: اے اللہ! ان پر رحمت فرما۔ جب میرے والد صدقہ کا مال لے کر حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا دی: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی آلِ اَبِیْ أَوْفٰی (اے اللہ! ابو اوفیٰ کی آل پر رحمتیں نازل فرما)۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11767]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1497، 4166،ومسلم: 1078، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19133 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19346»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1497
حدیث نمبر: 11768
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَتِهِمْ صَلَّى عَلَيْهِمْ فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ فَقَالَ ”اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى“
۔ (دوسری سند) سیدنا عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں صدقہ پیش کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے حق میں رحمت کی دعا فرماتے، جب میرے والد صدقہ کا مال لے کر حاضرخدمت ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا فرمائی: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی آلِ اَبِیْ أَوْفٰی (اے اللہ! ابو اوفیٰ کی آل پر رحمتیں نازل فرما)۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11768]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19625»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19625
حدیث نمبر: 11769
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ قَالَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ رَجُلٌ بِصَدَقَتِهِ قَالَ ”اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ فُلَانٍ“ قَالَ فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ فَقَالَ ”اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى“
۔ (تیسری سند) سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ،جو کہ اصحاب شجرہ میں سے تھے، سے مروی ہے کہ جب کوئی آدمی صدقہ کا مال لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تو آپ اسے یوں دعا دیتے: یا اللہ! فلاں کی آل پر رحمت فرما۔ جب میرے والد صدقہ لے کر حاضر خدمت ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا دی: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی آلِ اَبِیْ أَوْفٰی (اے اللہ! ابو اوفیٰ کی آل پر رحمتیں نازل فرما)۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11769]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19636»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو اوفی رضی اللہ عنہ اور ان کی آل کے لیے دعائے رحمت کی ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19636
54. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَيْسِ الْجُهَنِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عبداللہ بن انیس جہنی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11770
عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”إِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّ خَالِدَ بْنَ سُفْيَانَ بْنِ نُبَيْحٍ يَجْمَعُ لِي النَّاسَ لِيَغْزُوَنِي وَهُوَ بِعُرَنَةَ فَأْتِهِ فَاقْتُلْهُ“ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ انْعَتْهُ لِي حَتَّى أَعْرِفَهُ قَالَ ”إِذَا رَأَيْتَهُ وَجَدْتَ لَهُ أُقْشَعْرِيرَةً“ قَالَ فَخَرَجْتُ مُتَوَشِّحًا بِسَيْفِي حَتَّى وَقَعْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ بِعُرَنَةَ مَعَ ظُعُنٍ يَرْتَادُ لَهُنَّ مَنْزِلًا وَحِينَ كَانَ وَقْتُ الْعَصْرِ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ وَجَدْتُ مَا وَصَفَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأُقْشَعْرِيرَةِ فَأَقْبَلْتُ نَحْوَهُ وَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ مُحَاوَلَةٌ تَشْغَلُنِي عَنِ الصَّلَاةِ فَصَلَّيْتُ وَأَنَا أَمْشِي نَحْوَهُ أُومِئُ بِرَأْسِي الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَلَمَّا انْتَهَيْتُ إِلَيْهِ قَالَ مَنِ الرَّجُلُ قُلْتُ رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ سَمِعَ بِكَ وَبِجَمْعِكَ لِهَذَا الرَّجُلِ فَجَاءَكَ لِهَذَا قَالَ أَجَلْ أَنَا فِي ذَلِكَ قَالَ فَمَشَيْتُ مَعَهُ شَيْئًا حَتَّى إِذَا أَمْكَنَنِي حَمَلْتُ عَلَيْهِ السَّيْفَ حَتَّى قَتَلْتُهُ ثُمَّ خَرَجْتُ وَتَرَكْتُ ظَعَائِنَهُ مُكِبَّاتٍ عَلَيْهِ فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَآنِي فَقَالَ ”أَفْلَحَ الْوَجْهُ“ قَالَ قُلْتُ قَتَلْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”صَدَقْتَ“ قَالَ ثُمَّ قَامَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ فِي بَيْتِهِ فَأَعْطَانِي عَصًا فَقَالَ ”أَمْسِكْ هَذِهِ عِنْدَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُنَيْسٍ“ قَالَ فَخَرَجْتُ بِهَا عَلَى النَّاسِ فَقَالُوا مَا هَذِهِ الْعَصَا قَالَ قُلْتُ أَعْطَانِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَنِي أَنْ أُمْسِكَهَا قَالُوا أَوَلَا تَرْجِعُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ أَعْطَيْتَنِي هَذِهِ الْعَصَا قَالَ ”آيَةٌ بَيْنِي وَبَيْنَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّ أَقَلَّ النَّاسِ الْمُتَخَصِّرُونَ يَوْمَئِذٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“ فَقَرَنَهَا عَبْدُ اللَّهِ بِسَيْفِهِ فَلَمْ تَزَلْ مَعَهُ حَتَّى إِذَا مَاتَ أَمَرَ بِهَا فَصُبَّتْ مَعَهُ فِي كَفَنِهِ ثُمَّ دُفِنَا جَمِيعًا
سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلوا کر فرمایا: مجھے اطلاع ملی ہے کہ خالد بن سفیان بن نبیح مجھ پر حملہ کرنے کے لیے لوگوں کو جمع کر رہا ہے، وہ اس وقت عرنہ وادی میں ہے، تم جا کر اسے قتل کر دو۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھ سے اس کا حلیہ بیان فرمائیں تا کہ میں اسے پہچان سکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اسے دیکھو گے تو تم پر کپکپی طاری ہو جائے گی۔ پس میں نے اپنی تلوار لٹکائی اور چل پڑا، جب میں عرنہ میں اس کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ اس کے ساتھ عورتیں بھی تھیں اور وہ ان کے لیے جگہ تیار کر رہا تھا، یہ عصر کا وقت تھا۔ جب میں نے اسے دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیان کے مطابق مجھ پر کپکپی طاری ہو گئی، میں اس کی طرف بڑھا، مجھے اندیشہ ہوا کہ ممکن ہے کہ اس کے اور میرے درمیان لڑائی شروع ہو جائے اور میں نماز نہ پڑھ سکوں، اس لیے میں نے اس کی طرف چلتے چلتے نماز پڑھی لی اور اشارے سے رکوع و سجود کر لیے، جب میں اس کے پاس پہنچا تو اس نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں ایک عرب ہوں، سنا ہے کہ تم اس یعنی محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلے کے لیے لشکر جمع کر رہے ہو، میں بھی اسی مقصد کے لیے آیا ہوں۔ اس نے کہا: ہا ں ہاں اسی مشن پر ہوں۔ میں کچھ دور تک اس کے ساتھ ساتھ چلا، جب مجھے موقعہ ملا تو میں نے اس پر تلوار سے وار کر کے اسے قتل کر دیا اور وہاں سے نکل آیا، میں نے اس کی عورتوں کو اس حال میں وہاں چھوڑا کہ وہ اس پر جھکی ہوئی تھیں۔ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا: چہرہ کامیاب ہو گیا ہے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسے قتل کر دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بالکل تم ٹھیک کہتے ہو۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ساتھ اٹھ کر چلے اور اپنے گھر تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک لاٹھی عنایت کی اور فرمایا: عبدالرحمن بن انیس! اسے اپنے پاس محفوظ رکھنا۔ میں وہ لاٹھی لے کر باہر لوگوں میں آیا۔ انہوں نے پوچھا: یہ کیسی لاٹھی ہے؟ میں نے بتلایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ لاٹھی عنایت کی ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں اسے محفوظ رکھوں۔ انہوں نے کہا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس جا کر آپ سے اس کے بارے میں مزید وضاحت نہیں کرا لیتے؟ پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں دوبارہ گیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ نے یہ لاٹھی مجھے کس مقصد کے لیے دی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن یہ لاٹھی میرے اور تمہارے درمیان نشانی ہوگی، قیامت کے دن بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جن کے پاس ٹیک لگانے کے لیے عصا وغیر ہ ہوگا۔ پس سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس عصا کو اپنی تلوار کے ساتھ باندھ لیا اور وہ ہمیشہ ان کے پاس رہا، یہاں تک کہ جب ان کا انتقال ہوا تو اس عصا کو بھی ان کے کفن کے ساتھ رکھ کر دونوں کو دفن کر دیا گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11770]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، لكن عبد الله بن عبد الله بن انيس لم يذكروا فيه جرحا ولا تعديلا اخرجه ابويعلي: 905، وابن خزيمة: 983، وابن حبان: 7160، وابوداود:1249 مختصرا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16047 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16143»
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات
55. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرِ الْمُزَنِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عبداللہ بن بسر مازنی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11771
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَسَنُ بْنُ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ أَرَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ شَامَةً فِي قَرْنِهِ فَوَضَعْتُ أُصْبُعِي عَلَيْهَا فَقَالَ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُصْبُعَهُ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ ”لَتَبْلُغَنَّ قَرْنًا“ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَكَانَ ذَا جُمَّةٍ
ابو عبداللہ حسن بن ایوب حضرمی سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کی ایک جانب میں مجھے ایک تل کا نشان دکھایا، میں نے اپنی انگلی اس کے اوپر رکھی تو انہوں نے بتلایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلی مبارک اس پر رکھ کر فرمایا تھا کہ تم ایک سو سال کی عمر کو پہنچو گے۔ سیدنا عبداللہ بسر رضی اللہ عنہ کے بال کاندھوں تک آتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11771]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17689 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17841»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 11772
حَسَنُ بْنُ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَتْ أُخْتِي تَبْعَثُنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْهَدِيَّةِ فَيَقْبَلُهَا (وَفِي رِوَايَةٍ كَانَتْ أُخْتِي رُبَمَا بَعَثَتْنِي بِالشَّيْءِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَطْرُفُهُ إِيَّاهُ فَيَقْبَلُهُ مِنِّي)
حسن بن ایوب حضرمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: صحابیٔ رسول سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ ان کی ہمشیرہ ان کو ایک ہدیہ دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کرتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ہدیہ کو قبول فرما لیا کرتے تھے۔ دوسری روایت میں یوں ہے:بسا اوقات میری ہمشیرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کوئی تحفہ دے کر مجھے بھیجا کرتی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے وہ تحفہ قبول فرما لیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11772]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17687 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17839»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 11773
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ الْمَازِنِيَّ يَقُولُ تَرَوْنَ يَدِي هَذِهِ فَأَنَا بَايَعْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِيمَا افْتَرَضَ عَلَيْكُمْ“
یحییٰ بن حسان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن بسر مازنی رضی اللہ عنہ کو یوں کہتے سنا کہ تم میرایہ ہاتھ دیکھ رہے ہو، میں نے اس ہاتھ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تم فرض روزہ کے علاوہ ہفتہ کے دن کا روزہ نہ رکھا کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11773]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، اخرجه ابوداود: 2421،والترمذي: 744،وابن ماجه: 1726، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17686 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17838»
وضاحت: فوائد: … روزے کی بات کتاب الصیام میں گزر چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 11774
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ الْمَازِنِيُّ قَالَ بَعَثَنِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَدْعُوهُ إِلَى الطَّعَامِ فَجَاءَ مَعِي فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنَ الْمَنْزِلِ أَسْرَعْتُ فَأَعْلَمْتُ أَبَوَيَّ فَخَرَجَا فَتَلَقَّيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَحَّبَا بِهِ وَوَضَعْنَا لَهُ قَطِيفَةً كَانَتْ عِنْدَنَا زِئْبِرِيَّةً فَقَعَدَ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ أَبِي لِأُمِّي هَاتِي طَعَامَكِ فَجَاءَتْ بِقَصْعَةٍ فِيهَا دَقِيقٌ قَدْ عَصَدَتْهُ بِمَاءٍ وَمِلْحٍ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”خُذُوا بِسْمِ اللَّهِ مِنْ حَوَالَيْهَا وَذَرُوا ذُرْوَتَهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ فِيهَا“ فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْنَا مَعَهُ وَفَضَلَ مِنْهَا فَضْلَةٌ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ وَبَارِكْ عَلَيْهِمْ وَوَسِّعْ عَلَيْهِمْ فِي أَرْزَاقِهِمْ“
سیدنا عبد اللہ بن بسر مازنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے میرے ماں باپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانے کی دعوت دوں، میں گیا تو آپ میرے ساتھ تشریف لے آئے، جب میں گھر کے قریب ہوا تو میں نے جلدی سے اپنے والدین کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنے کی اطلاع دی، وہ دونوں باہر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استقبال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوش آمدید کہا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ایک چادر بچھا دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر بیٹھ گئے، پھر میرے باپ نے میری ماں سے کہا: کھانا لاؤ، وہ ایک پیالہ لائیں، اس میں آٹا تھا، جسے انہوں نے پانی اور نمک میں گوند رکھا تھا، میری والدہ نے وہ آپ کے سامنے رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ اور اس کے ارگرد سے کھاؤ، اوپر کی جانب سے نہیں کھانا، کیونکہ اوپر سے برکت نازل ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہم نے بھی کھایا، اس سے کچھ کھانا بچ گیا، کھانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کی: اللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَہُمْ، وَارْحَمْہُمْ، وَبَارِکْ عَلَیْہِمْ، وَوَسِّعْ عَلَیْہِمْ فِیْ اَرْزَاقِہِمْ۔ (اے اللہ! انہیں معاف کردے، ان پررحم فرما، ان کے لیے برکت کر اور ان کے رزق میں وسعت پیدا کر)۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11774]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2042، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17678 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17830»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2042
حدیث نمبر: 11775
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي فَنَزَلَ عَلَيْهِ أَوْ قَالَ لَهُ أَبِي انْزِلْ عَلَيَّ قَالَ فَأَتَاهُ بِطَعَامٍ وَحَيْسَةٍ وَسَوِيقٍ فَأَكَلَهُ وَكَانَ يَأْكُلُ التَّمْرَ وَيُلْقِي النَّوَى وَصَفَ بِأُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى بِظَهْرِهِمَا مِنْ فِيهِ (وَفِي رِوَايَةٍ فَكَانَ يَأْكُلُ التَّمْرَ وَيَضَعُ النَّوَى عَلَى ظَهْرِ إِصْبَعَيْهِ ثُمَّ يَرْمِي بِهِ) ثُمَّ أَتَاهُ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَهُ مَنْ عَنْ يَمِينِهِ فَقَامَ فَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ (وَفِي لَفْظٍ فَرَكِبَ بَغْلَةً لَهُ بَيْضَاءَ) فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لِي فَقَالَ ”اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ“
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ ہمارے گھر تشریف لائے یا میرے باپ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آنے کا مطالبہ کیا تھا، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بطور مہمان اترے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے میرے باپ نے کھانا پیش کیا اور ساتھ کھجوروں سے بنا ہوا کھانا یا ستو بھی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھایا اور آپ کھجوریں کھاتے تھے اور گٹھلیاں پھینک دیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انگشت ِ شہادت اور درمیان والی انگلی کو ملاتے تھے اور کھجور کھا کر ان انگلیوں کی پشت پر گٹھلی رکھ کر پھینک دیتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پانی لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیا، پھر جو دائیں جانب تھا، اسے پکڑا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور سفید خچر پر سوار ہو کر اپنی سواری کی لگام تھام لی، میرے باپ نے کہا: میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کی: اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَہُمْ فِیمَا رَزَقْتَہُمْ وَاغْفِرْ لَہُمْ وَارْحَمْہُمْ۔ (اے اللہ! جو تونے انہیں دیا ہے، اس میں برکت فرما اور انہیں بخش دے اور ان پررحم فرما۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11775]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17835»
وضاحت: فوائد: … عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ صغار صحابہ میں سے ہیں، ان کی وفات ۸۸ھ یا دوسرے قول کے مطابق ۹۶ھ میں سو سال کی عمر میں ہوئی،یہ سرزمین شام میں سب سے آخر میں فوت ہونے والے صحابی ہیں۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17835