الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. بَابُ مَا جَاءَ فِي زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11706
عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ أَبَاهُ زَيْدًا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ قَالَ زَيْدٌ ذُهِبَ بِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَعْجَبَ بِي فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا غُلَامٌ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ مَعَهُ مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ بِضْعَ عَشْرَةَ سُورَةً فَأَعْجَبَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ ”يَا زَيْدُ تَعَلَّمْ لِي كِتَابَ يَهُودَ فَإِنِّي وَاللَّهِ مَا آمَنُ يَهُودَ عَلَى كِتَابِي“ قَالَ زَيْدٌ فَتَعَلَّمْتُ كِتَابَهُمْ مَا مَرَّتْ بِي خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حَتَّى حَذَقْتُهُ وَكُنْتُ أَقْرَأُ لَهُ كُتُبَهُمْ إِذَا كَتَبُوا إِلَيْهِ وَأُجِيبُ عَنْهُ إِذَا كَتَبَ
خارجہ بن زید سے روایت ہے،ان کے والد سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے ان کو بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے دیکھ کر خوش ہوئے،گھر والوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بنو نجار کے اس لڑکے کوآپ پر نازل کی گئی سورتوں میں سے دس سے زیادہ سورتیں یاد ہیں،یہ بات بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت اچھی لگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زید! تم یہودیوں کی زبان اورلکھنا پڑھنا سیکھ لو، اللہ کی قسم میں اپنی تحریروں کے بارے میں یہودیوں پر اعتماد نہیں کر سکتا۔ زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ان کی زبان لکھنا پڑھنا اور سیکھنا شروع کی اور میں پندرہ دنوں میں اس کا ماہر ہو گیا، اس کے بعد جب یہودی لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام خطوط لکھتے تو میں ہی وہ پڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سناتا اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے خطوط کا جواب لکھواتے تو میں ہی لکھا کرتا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11706]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، اخرجه ابوداود: 3645،والترمذي: 2715، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21618 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21954»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11707
عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تُحْسِنُ السُّرْيَانِيَّةَ إِنَّهَا تَأْتِينِي كُتُبٌ“ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ ”فَتَعَلَّمْهَا“ فَتَعَلَّمْتُهَا فِي سَبْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تم سریانی زبان اچھی طرح جانتے ہو؟ میر ے پاس اس زبان میں خطوط آتے ہیں۔ میں نے عرض کیا: جی نہیں، آپ نے فرمایا: تو پھر تم اس زبان کو اچھی طرح سیکھ لو۔ پس میں نے سترہ دنوں میں یہ زبان اچھی طرح سیکھ لی۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11707]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه الطبراني: 4927، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21587 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21920»
وضاحت: فوائد: … مدینہ میں سریانی زبان جاننے والے یہودی تھے، جب اس زبان میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی خط موصول ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہودیوں سے مدد لینا پڑھتی کہ اس میں کیا لکھا ہے اور اس کا کیا جواب دینا ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس قوم پر اعتماد بھی نہیں تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کیذمہ داری لگائی کہ وہ اس زبان کی تعلیم حاصل کریں، انھوں نے پندرہ سولہ دنوں میں یہ ذمہ داری پوری کر دی۔
الحكم على الحديث: صحیح
31. بَابُ مَا جَاءَ فِي زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَالِدِ أَسَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کے والد سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11708
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اجْتَمَعَ جَعْفَرٌ وَعَلِيٌّ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَقَالَ جَعْفَرٌ أَنَا أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلِيٌّ أَنَا أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ زَيْدٌ أَنَا أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَسْأَلَهُ فَقَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَجَاءُوا يَسْتَأْذِنُونَهُ فَقَالَ ”اخْرُجْ فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلَاءِ“ فَقُلْتُ هَذَا جَعْفَرٌ وَعَلِيٌّ وَزَيْدٌ مَا أَقُولُ أَبِي قَالَ ”ائْذَنْ لَهُمْ“ وَدَخَلُوا فَقَالُوا مَنْ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ ”فَاطِمَةُ“ قَالُوا نَسْأَلُكَ عَنِ الرِّجَالِ قَالَ ”أَمَّا أَنْتَ يَا جَعْفَرُ فَأَشْبَهَ خَلْقُكَ خَلْقِي وَأَشْبَهَ خُلُقِي خُلُقَكَ وَأَنْتَ مِنِّي وَشَجَرَتِي وَأَمَّا أَنْتَ يَا عَلِيُّ فَخَتَنِي وَأَبُو وَلَدِي وَأَنَا مِنْكَ وَأَنْتَ مِنِّي وَأَمَّا أَنْتَ يَا زَيْدُ فَمَوْلَايَ وَمِنِّي وَإِلَيَّ وَأَحَبُّ الْقَوْمِ إِلَيَّ“
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا جعفر، سیدنا علی اور سیدنا زید بن حارثہ اکٹھے ہوگئے۔ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول کو تم میں سب سے زیادہ محبت مجھ سے ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول کو تم میں سب سے زیادہ مجھ سے محبت ہے۔ اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے بھی کہا کہ تم سب کی بہ نسبت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مجھ سے زیادہ محبت ہے۔ پھر وہ سب بولے کہ چلو اللہ کے رسول کے پاس چلتے ہیں، پس ان سب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسامہ باہر جا کر دیکھو کون لوگ ہیں؟ انھوں نے بتلایا کہ سیدنا جعفر، سیدنا علی اور سیدنا زید ہیں، میں نے یہ نہیں کہا کہ میرے والد ہیں (یاد رہے کہ سیدنا زید، سیدنا اسامہ کے والد تھے)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کو آنے کی اجازت دے دو۔ سو وہ لوگ آئے اور انہوں نے دریافت کیا کہ آپ کو ہم میں سے زیادہ محبت کس کے ساتھ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ کے ساتھ۔ ‘ انھوں نے کہا: ہم تو آپ سے مردوں کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اے جعفر! تمہاری شکل و صورت میری شکل و صورت سے اور میری شکل و صورت تمہاری شکل و صورت کے مشابہ ہے، آپ مجھ سے اور میرے خاندان میں سے ہیں، اے علی! آپ میرے داماد اور میری اولاد کے باپ ہیں، میں تمہارا ہوں اور تم میرے ہو اور اے زید! آپ میرے آزاد کردہ غلام ہو اور مجھ سے ہیں، آپ کا مجھ سے گہرا تعلق ہے اور تم مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11708]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، اخرجه البخاري في التاريخ الكبير: 1/ 20، والنسائي في خصائص علي: 138، والحاكم: 3/ 217، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21777 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22120»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر ایک کو اس کا مخصوص مقام عطا کر دیا، جس کی روشنی میں ہر کوئی دوسرے سے بالاتر نظر آ رہا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11709
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ فِي جَيْشٍ قَطُّ إِلَّا أَمَّرَهُ عَلَيْهِ وَلَوْ بَقِيَ بَعْدَهُ اسْتَخْلَفَهُ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو جس لشکر میں بھی روانہ کیا، ان کو اس کا امیر ہی مقررکیا، اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد زندہ رہتے تو آپ انہیں کو لشکروں کا امیر بنا دیتے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11709]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن ان صح سماع عبد الله البھي من عائشة، فقد ثبته البخاري، ودفعه احمد، اخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 140، والنسائي في الكبري: 8182، والحاكم: 3/ 215، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25898 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26423»
وضاحت: فوائد: … سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت و منقبت بھی عیاں ہوتی ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنا لے پالک بیٹا بنا رکھا تھا۔
الحكم على الحديث: صحیح
32. مَا جَاءَ فِي السَّائِبِ بْن عَبْدِ اللَّهِ وَيُقَالُ لَهُ: السَّائِبُ بنُ أَبِي السَّائِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا سائب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ، ان کو سائب بن ابو سائب بھی کہتے ہیں
حدیث نمبر: 11710
عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ السَّائِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جِيءَ بِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ جَاءَ بِي عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَزُهَيْرٌ فَجَعَلُوا يُثْنُونَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تُعْلِمُونِي بِهِ قَدْ كَانَ صَاحِبِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ“ قَالَ قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَنِعْمَ الصَّاحِبُ كُنْتَ قَالَ فَقَالَ ”يَا سَائِبُ انْظُرْ أَخْلَاقَكَ الَّتِي كُنْتَ تَصْنَعُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَاجْعَلْهَا فِي الْإِسْلَامِ أَقْرِ الضَّيْفَ وَأَكْرِمِ الْيَتِيمَ وَأَحْسِنْ إِلَى جَارِكَ“
سیدنا سائب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: فتح مکہ والے روز مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، سیدنا عثمان بن عفان اور سیدنا زہیر مجھے لے کر آئے تھے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے میری تعریف و توصیف کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اس کے بارے میں مجھے بتلانے کی ضروت نہیں،یہ قبل از اسلام میرے ساتھی تھے۔ سیدنا سائب رضی اللہ عنہ نے بھی کہا: آپ کے رسول نے بالکل درست فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہترین رفیق تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سائب! تم اپنے اسلام سے پہلے والے اخلاق پر نظر رکھنا اور اسلام میں بھی وہی اخلاق اپنائے رکھنا، مہمانوں کی مہمان نوازی کیا کرو، یتیموں کا اکرام کیا کرو اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے رہو۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11710]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابراهيم بن مهاجر البجلي ضعيف، ومجاھد بن جبر المكي لم يرو عن السائب، بل بينھما قائد السائب، وھو لم نقع علي اسمه وترجمته فيما بين ايدينا من المصادر اخرجه مختصرا ابوداود: 4836، وابن ماجه: 2287، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15500 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15585»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 11711
عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي السَّائِبِ أَنَّهُ كَانَ يُشَارِكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الْإِسْلَامِ فِي التِّجَارَةِ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ جَاءَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَرْحَبًا بِأَخِي وَشَرِيكِي“ (وَفِي رِوَايَةٍ ”كُنْتَ شَرِيكِي وَكُنْتَ خَيْرَ شَرِيكٍ“) ”كَانَ لَا يُدَارِي وَلَا يُمَارِي يَا سَائِبُ قَدْ كُنْتَ تَعْمَلُ أَعْمَالًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَا تُقْبَلُ مِنْكَ وَهِيَ الْيَوْمَ تُقْبَلُ مِنْكَ“ وَكَانَ ذَا سَلَفٍ وَصِلَةٍ
سیدنا سائب بن ابی سائب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اسلام سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر تجارت کیا کرتے تھے، مکہ فتح ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھ کر فرمایا: میں اپنے بھائی اور شریک کار کو مرحبا کہتا ہوں۔ دوسری روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میرے شریک کار تھے اور بہترین شریک کار تھے، وہ کسی بھی معاملے میں اختلاف اور جھگڑانہیں کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے سائب! تم جاہلیت میں بہت اچھے عمل کرتے رہے، مگر وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول نہیں ہوتے تھے،، اب تمہاری طرف سے ایسے اعمال اللہ کے ہاں قبول ہوں گے۔ سیدنا سائب رضی اللہ عنہ لوگوں کو ادھار اور ادائیگی میں مہلت دیا کرتے اور صلہ رحمی کیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11711]
تخریج الحدیث: «مجاھد بن جبر المكي لم يرو عن السائب، بل بينھما قائد السائب، وھو لم نقع علي اسمه وترجمته فيما بين ايدينا من المصادر اخرجه ابن ابي شيبة: 14/ 505، والحاكم: 2/ 61، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15505 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15590»
وضاحت: فوائد: … سیدنا سائب بن ابی سائب رضی اللہ عنہ وہ صحابی ہیں، جن کی تالیف قلبی کی گئی تھی، پھر یہ بہترین مسلمان بن گئے تھے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
33. بَاب مَا جَاءَ فِي السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11712
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ حَجَّ بِي أَبِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:حجۃ الوداع میں، جبکہ میری عمر سات برس تھی، میرے والد نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں مجھے حج کرایا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11712]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1858، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15718 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15809»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 11713
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ الصِّبْيَانِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ نَتَلَقَّى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أَذْكُرُ مَقْدَمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَبُوكَ
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ تبوک سے واپس تشریف لائے تو میں دوسرے بچوں کے ساتھ آپ کے استقبال کے لیے ثنیۃ الوداع کی طرف گیا تھا۔سفیان راوی نے ایک مرتبہ یوں بیان کیا: سائب رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کا واقعہ یاد ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تبوک سے واپس آئے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11713]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3083، 4426، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15721 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15812»
وضاحت: فوائد: … جب لوگ جہاد اور حج جیسے امورِ خیر سے واپس آ رہے ہوں تو ان کا استقبال کرنے کے لیے اور ان سے ملاقات کرنے کے لیے جانا معروف اور محبت بھرا عمل ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
34. بَاب مَا جَاءَ فِي سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11714
عَنِ ابْنِ سَابِطٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَبْطَأْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”مَا حَبَسَكِ يَا عَائِشَةُ“ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلًا مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ قِرَاءَةً مِنْهُ قَالَ فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مِثْلَكَ“
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضری دینے میں تاخیر ہوگئی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: عائشہ! تم کیوں لیٹ ہو گئی ہو؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مسجد میں ایک آدمی تھا، میں نے اس سے زیادہ حسین قرأت کرتے کسی کو نہیں سنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جا کر دیکھا تو وہ سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام سیدنا سالم رضی اللہ عنہ تھے، ان کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا شکر ہے، جس نے میری امت میں تم جیسے لوگ بھی پیدا کیے ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11714]
تخریج الحدیث: «، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25320 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25834»
وضاحت: فوائد: … قابل غور بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کون سی صفت کی بنا پر ایک غلام پر تعجب کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہے ہیں کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں ایسے باعث ناز لوگ پیدا کیے ہیں، وہ صفت صرف اور صرف یہ تھی کہ وہ خوبصورت آواز کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے ہیں، کاش ہمارے رجحانات اور میلانات بھی اسی مزاج کے مطابق بن جاتے۔
الحكم على الحديث: صحیح
35. باب مَا جَاءَ فِي سَعْدِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا سعد بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11715
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمْتُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اجْعَلْ لِقَوْمِي مَا أَسْلَمُوا عَلَيْهِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَعْمَلَنِي عَلَيْهِمْ ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ مِنْ بَعْدِهِ
سیدنا سعد بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور اسلام قبول کیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! قبول اسلام کے وقت میری قوم کے لوگوں کے پاس جو اموال ہیں، آپ وہ اموال انہی کی ملکیت میں رہنے دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے ہی کیا اور مجھے میری قوم پر امیر مقرر کر دیا، بعد میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اور ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی مجھے میری قوم پر امیر مقرر کیے رکھا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11715]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال منير بن عبد الله ووالده، اخرجه الطبراني في الكبير: 5458، والبزار: 878، وابن ابي شيبة: 12/466، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16728 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16848»
الحكم على الحديث: ضعیف