🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
60. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بن سَلَام رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11786
عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا فَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يَجِيءُ رَجُلٌ مِنْ هَذَا الْفَجِّ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَأْكُلُ هَذِهِ الْفَضْلَةَ“، قَالَ سَعْدٌ: وَكُنْتُ تَرَكْتُ أَخِي عُمَيْرًا يَتَوَضَّأُ، قَالَ: فَقُلْتُ: هُوَ عُمَيْرٌ، قَالَ: فَجَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فَأَكَلَهَا
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کھانے کا ایک پیالہ پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں سے کھانا تناول فرمایا اور اس میں کھانا بچ بھی گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس پہاڑی راستے سے ایک جنتی آدمی آئے گا اور یہ بچا ہوا کھانا تناول کرے گا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنے بھائی عمیر کو وضو کرتے چھوڑ کر آیا تھا، میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ عمیر ہی آجائے، لیکن اتنے میں سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور انہوں نے وہ بچا ہوا کھانا کھایا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11786]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه البزار: 1156، وابن حبان: 7164،والحاكم: 3/ 416، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1458 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1458»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11787
عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَجَاءَ رَجُلٌ فِي وَجْهِهِ أَثَرٌ مِنْ خُشُوعٍ فَدَخَلَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَأَوْجَزَ فِيهَا، فَقَالَ الْقَوْمُ: هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَلَمَّا خَرَجَ اتَّبَعْتُهُ حَتَّى دَخَلَ مَنْزِلَهُ، فَدَخَلْتُ مَعَهُ فَحَدَّثْتُهُ، فَلَمَّا اسْتَأْنَسَ، قُلْتُ لَهُ: إِنَّ الْقَوْمَ لَمَّا دَخَلْتَ قَبْلُ الْمَسْجِدَ، قَالُوا: كَذَا وَكَذَا، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ مَا لَا يَعْلَمُ، وَسَأُحَدِّثُكَ لِمَ، إِنِّي رَأَيْتُ رُؤْيَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ، رَأَيْتُ كَأَنِّي فِي رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَذَكَرَ مِنْ خُضْرَتِهَا وَسَعَتِهَا وَسَطُوهَا، عَمُودُ حَدِيدٍ أَسْفَلُهُ فِي الْأَرْضِ وَأَعْلَاهُ فِي السَّمَاءِ، فِي أَعْلَاهُ عُرْوَةٌ، فَقِيلَ لِي: اصْعَدْ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: لَا أَسْتَطِيعُ، فَجَاءَنِي مِنْصَفٌ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: هُوَ الْوَصِيفُ، فَرَفَعَ ثِيَابِي مِنْ خَلْفِي، فَقَالَ: اصْعَدْ عَلَيْهِ، فَصَعِدْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ، فَقَالَ: اسْتَمْسِكْ بِالْعُرْوَةِ، فَاسْتَيْقَظْتُ وَإِنَّهَا لَفِي يَدِي، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ فَقَالَ: ”أَمَّا الرَّوْضَةُ فَرَوْضَةُ الْإِسْلَامِ، وَأَمَّا الْعَمُودُ فَعَمُودُ الْإِسْلَامِ، وَأَمَّا الْعُرْوَةُ فَهِيَ الْعُرْوَةُ الْوُثْقَى، أَنْتَ عَلَى الْإِسْلَامِ حَتَّى تَمُوتَ“، قَالَ: وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا قیس بن عباد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مسجد میں موجود تھا کہ ایک شخص آیا، اس کے چہرے پر خشوع و خضوع کے آثار نمایاں تھے، اس نے اندر آکر دو مختصر رکعتیں ادا کیں، لوگ کہنے لگے کہ یہ جنتی آدمی ہے، جب وہ باہر گیا تو میں بھی ان کے پیچھے پیچھے چلا گیا۔ وہ گھر میں داخل ہوا تو میں بھی ان کے پیچھے اندر چلا گیا اور اس سے باتیں کیں۔ جب میں اس سے اور وہ مجھ سے مانوس ہوگیا تو میں نے اس سے کہا: تم جب مسجد میں داخل ہوئے تو لوگوں نے تمہارے متعلق اس قسم کی باتیں کی تھیں۔ انھوں نے کہا: سبحان اللہ! کسی بھی آدمی کو کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جسے وہ اچھی طرح جانتا نہ ہو، میں تمہیں ان کی اس بات کی وجہ بتلاتا ہوں، میں نے ایک خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیان کیا تھا، میں نے دیکھا گویا کہ میں ایک پررونق سرسبز باغ میں ہوں۔ حدیث کے ایک راوی ابن عون نے کہا کہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس باغ کی سرسبزی، رونق اور اس کی وسعت کا بھی ذکر کیا کہ وہ باغ انتہائی خوبصورت با رونق اور بہت زیادہ وسیع و عریض تھا۔ اس کے درمیان میں لوہے کا ایک ستون تھا۔ جس کا نیچے والا حصہ زمین میں اور اوپر والا حصہ آسمان تک تھا، اس کے سرے پر ایک کڑا تھا، مجھ سے کہا گیا کہ اس پر چڑھ جاؤ۔ میں نے کہا کہ میں تو اس پر نہیں چڑھ سکتا، اتنے میں ایک خادم نے آکر میرے پیچھے سے میرے کپڑے کو اٹھا کر کہا: اوپر چڑھ جاؤ، چنانچہ میں اس پر چڑھ گیا،یہاں تک کہ میں نے اس کڑے کو پکڑ لیا، اس نے مجھ سے کہا اس کڑے کو مضبوطی سے پکڑ لو، اتنے میں میں بیدار ہوگیا، جب میں بیدار ہوا تو اس وقت وہ میرے ہاتھ میں تھا، میں نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس خواب کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: باغ سے اسلام کا باغ مراد ہے، ستون سے اسلام کا ستون مراد ہے اور کڑا سے مراد مضبوط کڑا (یعنی ایمان) ہے، اس خواب کا مفہوم یہ ہے کہ تم مرتے دم تک اسلام پر قائم رہو گے۔ سیدنا قیس بن عباد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہتے ہیں کہ وہ شخص سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11787]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3813، 7014،ومسلم: 2484، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23787 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24196»
وضاحت: فوائد: … یہ بہت خوبصورت خواب ہے اور اس کی تعبیر تو سونے پہ سہاگہ ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11788
عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَجَلَسْتُ إِلَى شَيْخَةٍ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ شَيْخٌ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَصًا لَهُ، فَقَالَ الْقَوْمُ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا، فَقَامَ خَلْفَ سَارِيَةٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ: قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: الْجَنَّةُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُهَا مَنْ يَشَاءُ، وَإِنِّي رَأَيْتُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رُؤْيَا، رَأَيْتُ كَأَنَّ رَجُلًا أَتَانِي فَقَالَ: انْطَلِقْ، فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَسَلَكَ بِي مَنْهَجًا عَظِيمًا، فَعَرَضَتْ لِي طَرِيقٌ عَنْ يَسَارِي، فَأَرَدْتُ أَنْ أَسْلُكَهَا، فَقَالَ: إِنَّكَ لَسْتَ مِنْ أَهْلِهَا، ثُمَّ عَرَضَتْ لِي طَرِيقٌ عَنْ يَمِينِي فَسَلَكْتُهَا حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى جَبَلٍ زَلِقٍ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَزَجَلَ بِي، فَإِذَا أَنَا عَلَى ذُرْوَتِهِ، فَلَمْ أَتَقَارَّ وَلَا أَتَمَاسَكْ، فَإِذَا عَمُودٌ مِنْ حَدِيدٍ فِي ذُرْوَتِهِ حَلْقَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَزَجَلَ بِي حَتَّى أَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ، فَقَالَ: اسْتَمْسِكْ، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَضَرَبَ الْعَمُودَ بِرِجْلِهِ فَاسْتَمْسَكْتُ بِالْعُرْوَةِ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ”رَأَيْتَ خَيْرًا، أَمَّا الْمَنْهَجُ الْعَظِيمُ فَالْمَحْشَرُ، وَأَمَّا الطَّرِيقُ الَّذِي عَرَضَ عَنْ يَسَارِكَ فَطَرِيقُ أَهْلِ النَّارِ وَلَسْتَ مِنْ أَهْلِهَا، وَأَمَّا الطَّرِيقُ الَّذِي عَرَضَ عَنْ يَمِينِكَ فَطَرِيقُ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَمَّا الْجَبَلُ الزَّلِقُ فَمَنْزِلُ الشُّهَدَاءِ، وَأَمَّا الْعُرْوَةُ الَّتِي اسْتَمْسَكْتَ بِهَا فَعُرْوَةُ الْإِسْلَامِ، فَاسْتَمْسِكْ بِهَا حَتَّى تَمُوتَ“، قَالَ: فَأَنَا أَرْجُو أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، قَالَ: وَإِذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حرشہ بن حرسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ گیا، مسجد نبوی میں متعدد بزرگ موجود تھے، میں بھی ان کی خدمت میں بیٹھا، اتنے میں ایک بزرگ لاٹھی کی ٹیک لگاتے ہوئے آئے،لوگ کہنے لگے کہ جو کوئی کسی جنتی آدمی کو دیکھنا چاہتا ہو، وہ اسے دیکھ لے۔ وہ آکر ایک ستون کے پیچھے کھڑے ہوئے اور انہوں نے دو رکعت نماز ادا کی، میں اٹھ کر ان کی طرف گیا اور ان سے عرض کیا کہ کچھ لوگوں نے آپ کے بارے میں اس قسم کی باتیں کی ہیں، انہوں نے کہا: جنت اللہ کی ہے،وہ جسے چاہے گا جنت میں داخل کرے گا۔ اس بات کی تفصیل یہ ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک خواب دیکھا تھا، میں نے دیکھا کہ گویا ایک آدمی میرے پاس آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ چلو،میں اس کے ساتھ چل دیا، وہ مجھے ساتھ لیے ایک بڑے اور واضح راستے پر چلتا گیا، میری جانب ایک راستہ آیا، میں نے اس پر جانے کا ارادہ کیا تو اس نے مجھ سے کہا کہ یہ تمہارا راستہ نہیں ہے، آگے جا کر میری داہنی جانب ایک راستہ آیا، میں اس پر چل دیا،یہاں تک کہ میں ایک چٹیل پہاڑ تک جا پہنچا جس پر کوئی درخت وغیرہ نہ تھا، اس نے میرا ہاتھ تھام کر مجھے اوپر کو اچھال دیا اور میں اس کی چوٹی پر جا پہنچا، وہاں میں نے لوہے کا ایک ستون دیکھا، اس کی چوٹی پر ایک سنہری کڑا تھا۔ اس آدمی نے میرا ہاتھ پکڑ کر اوپر کو اچھال دیا اور میں نے جا کر اس کڑے کو پکڑ لیا۔ پھر اس نے کہا: اسے مضبوطی سے پکڑ لو۔ میں نے کہا:میں نے اسے پکڑ لیا ہے، اس نے لوہے کے اس ستون کو پاؤں سے ٹھوکر لگائی اور میں کڑے سے چمٹا رہا۔ جب میں نے یہ خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے بہت اچھا خواب دیکھا ہے، بڑے اور واضح راستے سے مراد میدان حشرہے اور راستے میں تمہارے بائیں طرف آنے والا راستہ اہل جہنم کا تھا، تم اس راستے والے نہیں ہو اور تمہاری داہنی جانب والا راستہ اہل جنت کا راستہ تھا۔ چٹیل پہاڑ شہداء کی منز ل ہے اور تم نے جو کڑا مضبوطی سے پکڑا وہ اسلام کا کڑا ہے۔ تم مرتے دم تک اسے مضبوطی سے پکڑے رہنا۔ اس نے اس کے بعد کہا:مجھے امید ہے کہ میں اہل جنت میں سے ہوں گا۔ یہ بزرگ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11788]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24200»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
61. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسِ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11789
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ، فَوَضَعْتُ لَهُ وُضُوءً مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَضَعَ لَكَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: ”اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ“
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر تھے،میں نے آپ کے لیے رات کو وضو کرنے کے لیے پانی رکھا۔ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو بتلایا کہ اے اللہ کے رسول! آپ کے لیےیہ پانی عبداللہ بن عباس نے رکھا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں یوں دعا فرمائی: یا اللہ! اسے دین میں گہری سمجھ اور قرآن کی تفسیر کا علم عطا فرما۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11789]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 75، 143، 3756، ومسلم: 2477، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3032 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3032»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے ایک طریق کے الفاظ میں درج ذیل تفصیل ہے:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّہٗسَکَبَلِلنَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَضُوْئً عِنْدَ خَالَتِہٖمَیْمُوْنَۃَ، فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ: ((مَنْ وَضَعَ لِیْ وَضُوْئِیْ؟)) قَالَتْ: اِبْنُ أُخْتِیْیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ! فَقِّھْہُ فِیْ الدِّیْنِ وَعَلِّمْہُ التَّاوِیْلَ۔))
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے (ایک برتن میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے وضو کا پانی بھر کر رکھا، جبکہ آپ میری خالہ میمونہ کے گھر تھے۔ جب آپ (بیت الخلاء سے) باہر تشریف لائے تو پوچھا: وضو کے لیے پانی کس نے رکھا ہے؟ خالہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے بھانجے نے رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کو دین میں فقاہت عطا فرما اور تفسیرِ(قرآن) سکھا دے۔
جب سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ خدمت کرنا چاہی تو ان کے سامنے تین امور تھے: (۱)وہ بیت الخلا میں پانی پہنچائیںیا (۲) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب دروازے پر رکھ دیں، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے آسانی کے ساتھ لے لیںیا (۳) کچھ بھی نہ کریں۔
غور و فکر کیا جائے تو دوسرا فیصلہ زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے، جسے سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے عملاً اپنایا،یہ ان کی ذہانت و ذکاوت پر دلالت کرتا ہے۔ اسی مناسبت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے بیش قیمت دعا کی ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس بن عبد المطلب بن ہاشم رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچازاد تھے، ہجرت سے تین برس پہلے پیدا ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے فہم قرآن اور فقہ کی دعا کی اور یہ اس دعا کے مطابق علم، فقہ، فہم اور دین میں حبر الامہ کہلوائے، یہ زیادہ احادیث بیان کرنے والے صحابۂ کرام میں سے ہیں، عبادلہ اور فقہائے صحابہ میں سے ایک ہیں،یہ طائف میں (۶۸) سن ہجری میں فوت ہوئے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11790
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى كَتِفِي أَوْ عَلَى مَنْكَبِي، شَكَّ سَعِيدٌ، ثُمَّ قَالَ: ”اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ“
۔ (دوسری سند) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر یہ دعا کی: یا اللہ! اسے دین میں فقاہت اور تفسیر کا علم عطا فرما۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11790]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2397»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11791
وَعَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”اللَّهُمَّ أَعْطِ ابْنَ عَبَّاسٍ الْحِكْمَةَ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ“
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں یوں دعا فرمائی: یا اللہ ابن عباس کو حکمت اور تفسیر کا علم عطا فرما۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11791]
تخریج الحدیث: «انظر الحديثين السابق، اخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2422»
وضاحت: فوائد: … حکمت سے مراد کیا ہے؟ اس کے بارے میں درج ذیل مختلف اقوال ہیں:
قرآن پر عمل، سنت، درست بات، خشیت، اللہ تعالیٰ کی طرف سے فہم، عقل، الہام اور وسوسے میں فرق کرنے والا نور۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11792
وَعَنْهُ بِلَفْظٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: مَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسِي وَدَعَا لِي بِالْحِكْمَةِ
۔ (دوسری سند) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے حق میں حکمت کی دعا فرمائی۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11792]
تخریج الحدیث: «انظر الاحاديث السابقة ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1840»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11793
وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ضَمَّنِي إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: ”اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ“
۔ (تیسری سند) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنے ساتھ لگایا اور یہ دعا کی: یا اللہ! اسے قرآن مجید کا علم عطا فرما۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11793]
تخریج الحدیث: «انظر الاحاديث السابقة ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3379»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11794
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ كُرَيْبًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَصَلَّيْتُ خَلْفَهُ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَرَّنِي فَجَعَلَنِي حِذَاءَهُ، فَلَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَلَاتِهِ خَنَسْتُ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ لِي: ”مَا شَأْنِي أَجْعَلُكَ حِذَاءِي فَتَخْنِسُ?“، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَوَيَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُصَلِّيَ حِذَاءَكَ وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ؟ قَالَ: فَأَعْجَبْتُهُ فَدَعَا اللَّهَ لِي أَنْ يَزِيدَنِي عِلْمًا وَفَهْمًا، قَالَ: ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُهُ يَنْفُخُ، ثُمَّ أَتَاهُ بِلَالٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلَاةَ، فَقَامَ فَصَلَّى مَا أَعَادَ وُضُوءً
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رات کے آخری حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ کے پیچھے نماز پڑھنا شروع کی،لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے آگے کی طرف کھینچ کر اپنے پہلو میں اپنے برابر کھڑا کر لیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کی طرف متوجہ ہوئے تو میں کھسک کر کچھ پیچھے کو ہو گیا، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز مکمل کی تو مجھ سے فرمایا: تمہیں کیا ہوا تھا، میں نے تمہیں اپنے برابر کھڑا کیا اور تم کھسک گئے؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ نے آپ کو عظیم منصب و مرتبہ سے نوازا ہے۔ کیا (مجھ جیسے) کسی فرد کے لیے مناسب ہے کہ وہ آپ کے برابر کھڑا ہو کر نماز ادا کرے؟ میری یہ بات آپ کو بہت پسندآئی، آپ نے اللہ سے میرے حق میں دعا فرمائی کہ اللہ میرے علم اور فہم میں اضافہ فرمائے۔ میں نے اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس قدر گہری نیند سو گئے کہ خراٹے لینے لگے۔ اس کے بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آواز دی: اے اللہ کے رسول! نماز کا وقت ہو گیا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اٹھ کر نماز ادا کی اور دوبارہ وضونہیں کیا (کیونکہ نیند میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل بیدار ہی رہتا تھا)۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11794]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين اخرجه البخاري: 138، 726، 859،ومسلم: 763، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3060 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3060»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11795
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَاخْتَبَأْتُ مِنْهُ خَلْفَ بَابٍ فَدَعَانِي فَحَطَّأَنِي حَطْأَةً ثُمَّ بَعَثَ بِي إِلَى مُعَاوِيَةَ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا میرے پاس سے گز ر ہوا تو میں ایک دروازے کے پیچھے چھپ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلوا کر ہلکا سا جھنجھوڑا دیا اور مجھے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بلانے کے لیے بھیجا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11795]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2604، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2150 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2150»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں