🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
63. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الخطاب رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا
سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11806
وَعَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ شَهِدَ ابْنُ عُمَرَ الْفَتْحَ وَهُوَ ابْنُ عِشْرِينَ سَنَةً وَمَعَهُ فَرَسٌ حَرُونٌ وَرُمْحٌ ثَقِيلٌ فَذَهَبَ ابْنُ عُمَرَ يَخْتَلِي لِفَرَسِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ“
مجاہد سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر ابن عمر رضی اللہ عنہ موجود تھے اور ان کی عمر بیس سال تھی، ان کے پاس ایک شاندار گھوڑا اور ایک خاصا وزنی نیزہ تھا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ اپنے گھوڑے کے لیے گھاس کاٹنے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک عبداللہ (صالح آدمی ہے)، بے شک عبداللہ (صالح آدمی ہے)۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11806]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4600 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4600»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11807
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَرَضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ فَلَمْ يُجِزْهُ ثُمَّ عَرَضَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ فَأَجَازَهُ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے غزوۂ احد کے موقع پیش ہوئے، اس وقت ان کی عمر چودہ برس تھی، آپ نے ان کو جنگ میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں دی، پھر وہ خندق کے موقع پر پیش ہوئے،تب ان کی عمر پندرہ برس تھی، تونبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو جنگ میں شرکت کی اجازت دے دی۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11807]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4097، ومسلم: 1868، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4661 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4661»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
64. بَابٌ: فَصْل فِي فَتَاوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے فتاوی کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11808
عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ قَالَ تُجْزِئُكَ قِرَاءَةُ الْإِمَامِ قُلْتُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ أُطِيلُ فِيهِمَا الْقِرَاءَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى قَالَ قُلْتُ إِنَّمَا سَأَلْتُكَ عَنْ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ قَالَ إِنَّكَ لَضَخْمٌ أَلَسْتَ تَرَانِي أَبْتَدِئُ الْحَدِيثَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيَ الصُّبْحَ أَوْتَرَ بِرَكْعَةٍ ثُمَّ يَضَعُ رَأْسَهُ فَإِنْ شِئْتَ قُلْتَ نَامَ وَإِنْ شِئْتَ قُلْتَ لَمْ يَنَمْ ثُمَّ يَقُومُ إِلَيْهِمَا وَالْأَذَانُ فِي أُذُنَيْهِ فَأَيُّ طُولٍ يَكُونُ ثُمَّ قُلْتُ رَجُلٌ أَوْصَى بِمَالٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَيُنْفَقُ مِنْهُ فِي الْحَجِّ قَالَ أَمَا إِنَّكُمْ لَوْ فَعَلْتُمْ كَانَ مِنْ سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ قُلْتُ رَجُلٌ تَفُوتُهُ رَكْعَةٌ مَعَ الْإِمَامِ فَسَلَّمَ الْإِمَامُ أَيَقُومُ إِلَى قَضَائِهَا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ الْإِمَامُ قَالَ كَانَ الْإِمَامُ إِذَا سَلَّمَ قَامَ قُلْتُ الرَّجُلُ يَأْخُذُ بِالدَّيْنِ أَكْثَرَ مِنْ مَالِهِ قَالَ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اسْتِهِ عَلَى قَدْرِ غَدْرَتِهِ
انس بن سیرین سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: میں امام کے پیچھے قرأت کر لیا کروں؟ انہوں نے کہا: امام کی قرأت تمہارے لیے کافی ہے۔ میں نے کہا: میں فجر کی دو سنتوں میں قرأت طویل کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو دو دو رکعت ادا کیا کرتے تھے۔ میں نے کہا: میں نے تو آپ سے فجر کی دو رکعتوں کے متعلق دریافت کیا ہے؟ انہوں نے کہا: تم تو موٹی عقل کے آدمی ہو، تم دیکھتے نہیں کہ میں نے بات شروع ہی کی ہے، یعنی پوری بات تو سنو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو دو دو رکعت ادا کیا کرتے تھے، جب صبح ہونے کا اندیشہ ہوتا تو ایک و تر ادا کر لیتے، اس کے بعد لیٹ جاتے۔ تم یوں بھی کہہ سکتے ہو کہ سو جاتے اور اگر چاہو تو کہہ سکتے ہو کہ سوتے نہیں تھے۔ پھر اذان ہوتے ہی اٹھ کر یہ دو رکعت ادا کرتے، تو ان میں طوالت کہاں سے آگئی؟ اس کے بعد میں نے پوچھا: کوئی شخص اللہ کی راہ میں اپنے مال کی وصیت کرے تو کیا وہ اس مال میں سے حج کے اخراجات بھی ادا کر سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: اگر تم ایسا کرو تو یہ بھی اللہ کی راہ میں ہی شمار ہوگا۔ میں نے پوچھا: ایک شخص کی امام کے ساتھ ایک رکعت رہ جائے، امام کے سلام پھیرنے کے بعد آیا وہ امام کے اٹھنے سے پہلے فوت شدہ رکعت کو قضا کرنے کے لیے کھڑا ہو سکتا ہے؟ انھوں نے کہا: جب امام سلام پھیر لے تو تب مقتدی کھڑا ہو گا۔ میں نے پوچھا: کوئی شخص قرض کے عوض میں اپنے اصل مال سے زائد وصول کرے تو اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟ انھوں نے کہا: قیامت کے دن ہر دھوکہ باز کے لیے اس کی سرین کے قریب اس کے دھوکے کے بقدر جھنڈا نصب کیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11808]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5096 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5096»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11809
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ مِنْ أَصْحَابِكَ مَنْ يَصْنَعُهَا قَالَ مَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ رَأَيْتُكَ لَا تَمَسُّ مِنَ الْأَرْكَانِ إِلَّا الْيَمَانِيَّيْنِ وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْهِلَالَ وَلَمْ تُهِلَّ أَنْتَ حَتَّى يَكُونَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَمَّا الْأَرْكَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلَّا الْيَمَانِيَّيْنِ وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا وَأَمَّا الْإِهْلَالُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ نَاقَتُهُ
عبید بن جریج سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اے ابو عبدالرحمن! آپ چار ایسے کام کرتے ہیں کہ آپ کے ساتھیوں میں سے کو ئی بھی وہ کام نہیں کرتا،انہوں نے کہا: ابن جریج! وہ کون سے؟ ابن جریج نے کہا: میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے صرف اس کے دو یمنی کونوں کو مس کرتے ہیں،میں نے آپ نے کو دیکھا ہے کہ آپ رنگے ہوئے بغیر بالوں والے چمڑے کے جوتے استعمال کرتے ہیں،میں نے دیکھا ہے کہ آپ اپنے بالوں یا کپڑوں کو زرد رنگ سے رنگتے ہیں اور جب لوگ مکہ میں ہوں تو ذوالحجہ کا چاند دیکھتے ہی تلبیہ پڑھنا شروع کر دیتے ہیں، لیکن آپ یوم الترویہ یعنی آٹھ ذوالحجہ تک تلبیہ نہیں پڑھتے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے جواب میں فرمایا: جہاں تک آپ کے پہلے سوال کا تعلق ہے کہ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے میں اس کے صرف دو یمنی کونوں کو چھوتا ہوں اور باقی دو عراقی کونوں کو نہیں چھوتا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت اللہ کے ان دو یمنی کونوں کو ہی چھوتے دیکھا ہے۔آپ کا دوسرا سوال رنگے ہوئے چمڑے کے بالوں کے بغیر جوتے کے متعلق ہے، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ رنگے ہوئے چمڑے کے ایسے جوتے پہنتے تھے، جن پر بال نہیں ہوتے تھے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہی میں وضو کر لیاکرتے تھے، اس لیے میں بھی اسی قسم کے جوتے پہنا کرتا ہوں۔ باقی رہا بالوں یا کپڑوں کو زرد رنگ سے رنگنا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس رنگ سے رنگتے دیکھا ہے، اس لیے میں بھی اسی رنگ سے رنگنے کو پسند کرتا ہوں اور آپ کا تلبیہ کے متعلق سوال تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ اس وقت تک تلبیہ نہیں پڑھتے تھے۔ جب تک کہ آپ کی اونٹنی سفر حج پر روانہ ہونے کے لیے اٹھ کھڑی نہ ہوتی تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11809]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 166، 5851،ومسلم: 1187، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5338 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5338»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11810
حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ نَجْرَانَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ قُلْتُ إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَنْ شَيْئَيْنِ عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ وَعَنِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ فَقَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ نَشْوَانَ (وَفِي لَفْظٍ سَكْرَانَ) قَدْ شَرِبَ زَبِيبًا وَتَمْرًا قَالَ فَجَلَدَهُ الْحَدَّ وَنَهَى أَنْ يُخْلَطَا قَالَ وَأَسْلَمَ رَجُلٌ فِي نَخْلِ رَجُلٍ فَلَمْ يَحْمِلْ نَخْلُهُ قَالَ فَأَتَاهُ يَطْلُبُهُ (فِي لَفْظٍ فَأَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ دَرَاهِمَهُ) قَالَ فَأَبَى أَنْ يُعْطِيَهُ قَالَ فَأَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”أَحَمَلَتْ نَخْلُكَ“ قَالَ لَا قَالَ ”فَبِمَ تَأْكُلُ مَالَهُ“ قَالَ فَأَمَرَهُ فَرَدَّ عَلَيْهِ وَنَهَى عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ
ابو اسحاق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اہل نجرا ن کے ایک آدمی سے سنا اس نے کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ میں آپ سے دو مسائل کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہوں، ایک تو کھجوروں کی بیع سلم کے بارے میں (کہ کوئی شخص فصل تیار ہونے سے پہلے کھجور کے مالک سے بھاؤ وغیرہ طے کرکے کھجوروں کی بیع کر لے، کیایہ جائز ہے؟) اور دوسرا سوال منقّی اور کھجور کے متعلق ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی کو پیش کیا گیا جو نشہ کی حالت میں تھا، اس نے منقّی اور کھجور کا تیار شدہ نبیذپیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر حد جاری کر دی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرما دیا، (کیونکہ ان دونوں کے اختلاط سے تیار کر دہ نبیذ بہت جلد نشہ آور ہو جاتا ہے) اور ایک آدمی نے دوسرے سے کھجوروں کی بیع سلم کی تھی، اتفاق سے کھجوروں کے درخت ثمر آور نہ ہوئے، ان کا مالک اس شخص سے اپنی طے شدہ رقم لینے آیا تو دوسرے نے ادائیگی سے انکار کیا۔ وہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مالک سے دریافت فرمایا: کیا تمہارے کھجوروں کے درخت ثمر آور ہوئے؟ اس نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم کس بنیاد پر اس کامال کھاتے ہو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیع سلم سے اس وقت تک منع فرما دیا، جب تک پھل کی صلاحیت نمایاں نہ ہو جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11810]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة النجراني الذي روي عنه ابوا سحاق السبيعي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5129 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5129»
وضاحت: فوائد: … یہ تمام فقہی احکام و مسائل ہیں اور متعلقہ ابواب میں گزر چکے ہیں۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
65. بَابُ مَا جَاءَ فِى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العاص رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11811
عَنْ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ قَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”نِعْمَ أَهْلُ الْبَيْتِ عَبْدُ اللَّهِ وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَأُمُّ عَبْدِ اللَّهِ“
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے گھر کے افراد عبداللہ، ابو عبداللہ اور ام عبداللہ سب ہی اچھے لوگ ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11811]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابن ابي مليكة لم يدرك طلحة بن عبيد الله، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1381 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1381»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص قریشی سہمی رضی اللہ عنہ ایک زاہد اور عبات گزار صحابی تھے، ان کے باپ بھی صحابی ہیں، ان کی اور ان کے باپ کی عمر میں صرف گیارہیا بارہ برسوںکا فاصلہ تھا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کے باپ نے بہت جلد شادی کر لی تھی، ان کی ماں سیدہ ریطہ رضی اللہ عنہا بھی مسلمان ہوگئی تھیں۔
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے پہلے مشرف باسلام ہوئے، وہ ایک وسیع العلم، بڑے عبادت گزار، کثرت سے قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب سے زیادہ حدیث اور علم حاصل کرنے والے تھے۔
یہ اپنے باپ کے ساتھ شام کی فتح میں موجود تھے، بلکہ جنگ یرموک میں ان کے باپ کا جھنڈا ان کے پاس تھا، یہ مصر میں (۷۲) برس کی عمر میں (۶۵) سن ہجری میں فوت ہوئے اور ان کو وہاں ہی دفن کیا گیا تھا۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11812
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُغِيرَةَ الضَّبِّيِّ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ زَوَّجَنِي أَبِي امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيَّ جَعَلْتُ لَا أَنْحَاشُ لَهَا عَمَّا بِي مِنَ الْقُوَّةِ عَلَى الْعِبَادَةِ مِنَ الصَّوْمِ وَالصَّلَاةِ فَجَاءَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِلَى كَنَّتِهِ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ لَهَا كَيْفَ وَجَدْتِ بَعْلَكِ قَالَتْ خَيْرُ الرِّجَالِ أَوْ كَخَيْرِ الْبُعُولَةِ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يُفَتِّشْ لَنَا كَنَفًا وَلَمْ يَعْرِفْ لَنَا فِرَاشًا فَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَعَذَمَنِي وَعَضَّنِي بِلِسَانِهِ فَقَالَ أَنْكَحْتُكَ امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ ذَاتَ حَسَبٍ فَعَضَلْتَهَا وَفَعَلْتَ وَفَعَلْتَ ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَشَكَانِي فَأَرْسَلَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ لِي ”أَتَصُومُ النَّهَارَ“ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ”وَتَقُومُ اللَّيْلَ“ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ”لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَمَسُّ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي“ قَالَ ”اقْرَأِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ“ قُلْتُ إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ قَالَ ”فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ عَشَرَةِ أَيَّامٍ“ قُلْتُ إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ قَالَ أَحَدُهُمَا أَمَّا حُصَيْنٌ وَأَمَّا مُغِيرَةُ قَالَ ”فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ ثَلَاثٍ“ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ ”فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ لَا تَزِيدَنَّ عَلَى ذَلِكَ“ قَالَ ثُمَّ قَالَ ”صُمْ فِي كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ“ قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ قَالَ فَلَمْ يَزَلْ يَرْفَعُنِي حَتَّى قَالَ ”صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا فَإِنَّهُ أَفْضَلُ الصَّيَامِ وَهُوَ صِيَامُ أَخِي دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ قَالَ حُصَيْنٌ فِي حَدِيثِهِ ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”فَإِنَّ لِكُلِّ عَابِدٍ شِرَّةً وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةً فَإِمَّا إِلَى سُنَّةٍ وَإِمَّا إِلَى بِدْعَةٍ فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى سُنَّةٍ فَقَدِ اهْتَدَى وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَقَدْ هَلَكَ“ قَالَ مُجَاهِدٌ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو حَيْثُ قَدْ ضَعُفَ وَكَبِرَ يَصُومُ الْأَيَّامَ كَذَلِكَ يَصِلُ بَعْضَهَا إِلَى بَعْضٍ لِيَتَقَوَّى بِذَلِكَ ثُمَّ يُفْطِرُ بَعْدَ تِلْكَ الْأَيَّامِ قَالَ وَكَانَ يَقْرَأُ فِي كُلِّ حِزْبٍ كَذَلِكَ يَزِيدُ أَحْيَانًا وَيَنْقُصُ أَحْيَانًا غَيْرَ أَنَّهُ يُوفِي الْعَدَدَ إِمَّا فِي سَبْعٍ وَإِمَّا فِي ثَلَاثٍ قَالَ ثُمَّ كَانَ يَقُولُ بَعْدَ ذَلِكَ لَأَنْ أَكُونَ قَبِلْتُ رُخْصَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا عُدِلَ بِهِ لَكِنِّي فَارَقْتُهُ عَلَى أَمْرٍ أَكْرَهُ أَنْ أُخَالِفَهُ إِلَى غَيْرِهِ
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ نے ایک قریشی عورت سے میری شادی کر دی، جب میں اس پر داخل ہوا تو میں نے اس کا کوئی اہتمام نہ کیا اور نہ اس کو وقت دیا، کیونکہ مجھے روزے اور نماز کی صورت میں عبادت کرنے کی بڑی قوت دی گئی تھی، جب سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اپنی بہو کے پاس آئے اور اس سے پوچھا: تو نے اپنے خاوند کو کیسا پایا ہے؟ اس نے کہا: وہ بہترین آدمی ہے، یا وہ بہترین خاوند ہے، اس نے نہ میرا پہلو تلاش کیا اور نہ میرے بچھونے کو پہچانا (یعنی وہ عبادت میں مصروف رہنے کی وجہ سے اپنی بیوی کے قریب تک نہیں گیا)۔ یہ کچھ سن کر میرا باپ میری طرف متوجہ ہوا اور مجھے بہت ملامت کی اور برا بھلا کہا اور کہا: میں نے حسب و نسب والی قریشی خاتون سے تیری شادی کی ہے اور تو اس سے الگ تھلگ ہو گیا اور تو نے ایسے ایسے کیا ہے، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میرا شکوہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلایا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو دن کو روزہ رکھتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور رات کو قیام کرتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لیکن میں تو روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور حق زوجیت بھی ادا کرتا ہوں، جس نے میری سنت سے بے رغبتی اختیار کی، وہ مجھ سے نہیں ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ایک ماہ میں قرآن مجید کی تلاوت مکمل کیا کر۔ میں نے کہا: میں اپنے آپ کو اس سے زیادہ قوی پاتاہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر دس دنوں میں مکمل کر لیا کرو۔ میں نے کہا: جی میں اپنے آپ کو اس سے زیادہ قوت والا سمجھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تین دنوں میں ختم کر لیا کرو۔ ایک روایت میں ہے: تو سات دنوں میں تلاوت مکمل کر لیا کر اور ہر گز اس سے زیادہ تلاوت نہ کر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر ماہ میں تین روزے رکھا کر۔ میں نے کہا: جی میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے آگے بڑھاتے گئے، یہاں تک کہ فرمایا: ایک دن روزہ رکھ لیا کر اور ایک دن افطار کر لیا کر، یہ افضل روزے ہیں اور یہ میرے بھائی داود علیہ السلام کے روزے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر عبادت گزار میں حرص اور رغبت پیدا ہوتی ہے، پھر ہر رغبت کے بعد آخر سستی اور کمی ہو تی ہے، اس کا انجام سنت کی طرف ہوتا ہے یا بدعت کی طرف، پس جس کا انجام سنت کی طرف ہوتا ہے، وہ ہدایت پا جائے گا، اور جس کا انجام کسی اور شکل میں ہو گا، وہ ہلاک ہو جائے گا۔ امام مجاہد کہتے ہیں: جب سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کمزور اور بوڑھے ہو گئے تو وہ اسی مقدار کے مطابق روزے رکھتے تھے، بسا اوقات چند روزے لگاتار رکھ لیتے، پھر اتنے ہی دن لگاتار افطار کر لیتے، اس سے ان کا مقصد قوت حاصل کرنا ہوتا تھا، اسی طرح کا معاملہ اپنے قرآنی حزب میں کرتے تھے، کسی رات کو زیادہ حصہ تلاوت کر لیتے اور کسی رات کو کم کر لیتے، البتہ ان کی مقدار وہی ہوتی تھی،یا تو سات دنوں میں قرآن مجید مکمل کر لیتے،یا تین دنوں میں۔ اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بعد میں کہا کرتے تھے: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رخصت قبول کر لی ہوتی تو وہ مجھے دنیا کی ہر اس چیز سے محبوب ہوتی، جس کا بھی اس سے موازنہ کیا جاتا، لیکن میں عمل کی جس روٹین پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدا ہوا تھا، اب میں ناپسند کرتا ہوں کہ اس کی مخالفت کروں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11812]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه نحوه دون ذكر القراء ة والشرة، وقوله واصوم و افطر البخاري: 1980، ومسلم: 1159، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6477 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6477»
وضاحت: فوائد: … تلاوت کی وہ مقدارجس کو ہر رات کو پڑھنے کا معمول بنایا جائے، اس کو حزب کہتے ہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تین سے کم دنوں میں قرآن مجید کا ختم نہیں کیا جا سکتا ہے اور افضل روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں،یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن افطار کرنا، باقی مسائل پہلے بیان ہو چکے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کے ساتھ نرمی کی ہے، ان کی مصلحتوں کی طرف ان کی رہنمائی کی ہے، ان کو کم مقدار لیکن ہمیشگی والے عمل کی ترغیب دلائی ہے اور ان کو تکلف اور اکتاہٹ کا سبب بننے والی کثرت ِ عبادت سے منع کر دیا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11813
عَنْ أَبِي سَلْمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ“ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَعَمْ قَالَ ”فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَنَمْ فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ بِحَسْبِكَ أَنْ تَصُومَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ“ قَالَ فَشَدَّدْتُ فَشَدَّدَ عَلَيَّ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ ”فَصُمْ مِنْ كُلِّ جُمُعَةٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ“ قَالَ فَشَدَّدْتُ فَشَدَّدَ عَلَيَّ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ ”صُمْ صَوْمَ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ وَلَا تَزِدْ عَلَيْهِ“ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا كَانَ صِيَامُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ ”كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا“
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ تم ساری رات قیام کرتے ہو اور ہر روز روزہ رکھتے ہو۔ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزہ رکھا کروا ور ناغہ بھی کیا کرو اوررات کو قیام بھی کیا کر اور سویا بھی کر، کیونکہ تیرے جسم کا تجھ پر حق ہے، تیری اہلیہ کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے مہمان کا تجھ پر حق ہے، مہینہ میں تین روزے رکھ لیا کر،اتنے ہی تیرے لیے کافی ہیں۔ لیکن ہوا یوں کہ میں نے سختی کی،اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مجھ پر سختی فرمائی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اندر اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو ہر ہفتہ میں تین دن روزے رکھ لیا کر۔ لیکن میں نے سختی کی اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مجھ پر سختی کی اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اندر اس سے زیادہ روزے رکھنے کی قوت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کی طرح روزے رکھ لیا کر اور ان پر اضافہ نہ کر۔ میں نے کہا:اے اللہ کے رسول! داؤد علیہ السلام کیسے روزے رکھتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11813]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1975، 5199، ومسلم: 1159، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6867 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6867»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11814
عَنْ يَحْيَى بْنِ حَكِيمِ بْنِ صَفْوَانَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَمَعْتُ الْقُرْآنَ فَقَرَأْتُهُ فِي لَيْلَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي أَخْشَى أَنْ يَطُولَ عَلَيْكَ الزَّمَانُ وَأَنْ تَمَلَّ اقْرَأْ بِهِ فِي كُلِّ شَهْرٍ“ قُلْتُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَسْتَمْتِعُ مِنْ قُوَّتِي وَمِنْ شَبَابِي قَالَ ”اقْرَأْ بِهِ فِي عِشْرِينَ“ قُلْتُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَسْتَمْتِعُ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي قَالَ ”اقْرَأْ بِهِ فِي عَشَرٍ“ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَسْتَمْتِعُ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي قَالَ ”اقْرَأْ بِهِ فِي كُلِّ سَبْعٍ“ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَسْتَمْتِعُ مِنْ قُوَّتِي وَمِنْ شَبَابِي فَأَبَى
یحییٰ بن حکیم بن صفوان بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمرو بن عاص نے فرمایا کہ میں نے پورا قرآن مجید حفظ کیا اور پھر ایک ہی رات میں اسے پڑھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے خطرہ ہے کہ زمانہ تجھ پر لمبا ہو جائے گا اور تو اکتاہٹ کا شکار ہو جائے گا، اس لیے ایک ماہ میں قرآن مجید مکمل کر۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں، میں اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیس دن میں قرآن مکمل پڑھ لو، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں، میں اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھاؤں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دس دن میں پڑھ لو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں میں اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھاؤں۔ آپ نے فرمایا: سات دن میں قرآن مکمل کرلو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں کہ میں اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھاؤں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کم مدت میں قرآنِ مجید ختم کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11814]

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11815
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُرِيدُ حِفْظَهُ فَنَهَتْنِي قُرَيْشٌ فَقَالُوا إِنَّكَ تَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ تَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَشَرٌ يَتَكَلَّمُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا فَأَمْسَكْتُ عَنِ الْكِتَابِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”اكْتُبْ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا خَرَجَ مِنِّي إِلَّا حَقٌّ“
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اللہ کے رسول سے جو کچھ سنتا،اسے حفظ کرنے کی غرض سے لکھ لیتا تھا،لیکن قریش نے مجھے اس سے منع کیا اور کہا: تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو کچھ سنتے ہو لکھ لیتے ہو، حالانکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بشر ہیں، آپ کبھی غصے کی حالت میں بات کر رہے ہوتے ہیں اور کبھی معمول کی حالت میں۔ چنانچہ میں نے آپ کی باتیں لکھنا چھوڑ دیں، لیکن جب میں نے اس بات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لکھ لیا کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میرے منہ سے حق کے سوا کوئی بات ادا نہیں ہوتی۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11815]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه ابوداود: 3646، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6510 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6510»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں