🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
61. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسِ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11796
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ أَبِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ فَكَانَ كَالْمُعْرِضِ عَنْ أَبِي فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ فَقَالَ لِي أَبِي أَيْ بُنَيَّ أَلَمْ تَرَ إِلَى ابْنِ عَمِّكَ كَالْمُعْرِضِ عَنِّي فَقُلْتُ يَا أَبَتِ إِنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ قَالَ فَرَجَعْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ كَذَا وَكَذَا فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ كَانَ عِنْدَكَ رَجُلٌ يُنَاجِيكَ فَهَلْ كَانَ عِنْدَكَ أَحَدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وَهَلْ رَأَيْتَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ“ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ”فَإِنَّ ذَاكَ جِبْرِيلُ وَهُوَ الَّذِي شَغَلَنِي عَنْكَ“
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اور آپ کے پاس ایک اور آدمی بھی بیٹھا تھا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سرگوشی کر رہا تھا،یوں لگتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے والد کی طرف توجہ نہیں فرما رہے، ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں سے اٹھ آئے،میرے والدنے مجھ سے کہا: بیٹا! دیکھا کہ تمہارے چچا زاد (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری طرف توجہ ہی نہیں کی۔ میں نے عرض کیا: ابا جان، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک اور آدمی بیٹھا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ محو کلام تھے۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں واپس آگئے، اب کی بار میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: میں نے عبداللہ سے اس طرح بات کی اوراس نے بتلایا کہ آپ کے پاس کوئی آدمی بیٹھا آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہم کلام تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ! کیا تم نے اس آدمی کو دیکھا تھا؟ میں نے عرض کیا:جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جبریل علیہ السلام تھے،میں ان کیوجہ سے آپ لوگوں کی طرف تو جہ نہ کر سکا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11796]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم اخرجه الطيالسي: 2708، والطبراني: 10584، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:)2679 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2679»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11797
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَمَلَهُ وَحَمَلَ أَخَاهُ هَذَا قُدَّامَهُ وَهَذَا خَلْفَهُ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اور ان کے بھائی کو اپنی سواری پر اٹھا لیا، ایک کو اپنے آگے اور ایک کو اپنے پیچھے بٹھا لیا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11797]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3217 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3217»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11798
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت ان کی عمر پندرہ برس تھی۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11798]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه الحاكم: 3/ 534، والطبراني: 10578، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3543 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3543»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11799
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَمَعْتُ الْمُحْكَمَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ حِجَجٍ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ وَمَا الْمُحْكَمُ قَالَ الْمُفَصَّلُ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں محکم سورتیں یاد کر لی تھیں، جبکہ میری عمر دس برس تھی۔ میں (سعید بن جبیر) نے ان سے کہا: محکم سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: مفصل سورتیں۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11799]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5036، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3125 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3125»
وضاحت: فوائد: … سورۂ حجرات سے قرآن کریم کے آخر تک کے حصے کو مفصل کہتے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11800
قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَهُ الْمُفَصَّلَ هُوَ الْمُحْكَمُ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عَشَرِ سِنِينَ وَقَدْ قَرَأْتُ الْمُحْكَمَ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: تم جن سورتوں کو مفصل کہتے ہو، ان کو محکم بھی کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت میری عمر دس سال تھی، لیکن میں یہ محکم سورتیں یاد کر چکا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11800]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5035، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2283»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11801
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رِبَاحٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا خَتِينٌ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی اس وقت میرا ختنہ ہو چکا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11801]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6299، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2379 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2379»
وضاحت: فوائد: … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی عمر کے بارے میں چار اقوال ملتے ہیں۔ دس برس، تیرہ برس، چودہ برس، پندرہ برس، حافظ ابن حجر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تمام اقوال کو اور ان کے دلائل کو ذکر کرنے کے بعد اس بات کو ترجیح دی ہے کہ اس وقت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی عمر تیرہ سال پوری ہو چکی تھی اور وہ چودھویں سال میں جا رہے تھے۔ واللہ اعلم۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11802
عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ الْحَرُورِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ الصِّبْيَانِ وَعَنِ الْخُمُسِ لِمَنْ هُوَ وَعَنِ الصَّبِيِّ مَتَى يَنْقَطِعُ عَنْهُ الْيُتْمُ وَعَنِ النِّسَاءِ هَلْ كَانَ يُخْرَجُ بِهِنَّ أَوْ يَحْضُرْنَ الْقِتَالَ وَعَنِ الْعَبْدِ هَلْ لَهُ فِي الْمَغْنَمِ نَصِيبٌ قَالَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَّا الصِّبْيَانُ فَإِنْ كُنْتَ الْخَضِرَ تَعْرِفُ الْكَافِرَ مِنَ الْمُؤْمِنِ فَاقْتُلْهُمْ وَأَمَّا الْخُمُسُ فَكُنَّا نَقُولُ إِنَّهُ لَنَا فَزَعَمَ قَوْمُنَا أَنَّهُ لَيْسَ لَنَا وَأَمَّا النِّسَاءُ فَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ مَعَهُ بِالنِّسَاءِ فَيُدَاوِينَ الْمَرْضَى وَيَقُمْنَ عَلَى الْجَرْحَى وَلَا يَحْضُرْنَ الْقِتَالَ وَأَمَّا الصَّبِيُّ فَيَنْقَطِعُ عَنْهُ الْيُتْمُ إِذَا احْتَلَمَ وَأَمَّا الْعَبْدُ فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الْمَغْنَمِ نَصِيبٌ وَلَكِنَّهُ قَدْ كَانَ يُرْضَخُ لَهُمْ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نجدہ حروری نے ان کے نام ایک خط لکھ کر ان سے یہ مسائل دریافت کئے: بچوں کو قتل کرنا کیسا ہے؟ خمس کے اہل کون لوگ ہیں؟بچے پر سے یتیمی کا اطلاق کب ختم ہوتا ہے؟ کیا عورتیں جہاد میں جا سکتی ہیں یا نہیں؟ کیا مال غنیمت میں غلام کا بھی حصہ ہے یا نہیں؟ انھوں نے جواباً تحریر کیا: اگر تم خضر ہو اور جانتے ہو کہ بچہ بڑا ہو کر کافر بنے گا تو تم اسے قتل کر سکتے ہو، رہا مسئلہ خمس کا تو ہم تو اب تک یہی کہتے آئے ہیں کہ یہ ہمارا یعنی بنو ہاشم اور بنو مطلب کا حق ہے، اب ہم میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ یہ ہمارا حق نہیں۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواتین کو اپنے ساتھ جہاد میں لے جایا کرتے تھے، وہ مریضوں کا علاج معالجہ کرتیں، مریضوںکی تیمارداری کرتیں، البتہ جنگ میں شامل نہیں ہوتی تھیں۔بچہ جب بالغ ہو جائے تو اس سے یتیمی کا اطلاق ختم ہو جاتا ہے۔غلام کا مال غنیمت میں کچھ حصہ نہیں، البتہ ان کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں کچھ نہ کچھ بطور عطیہ دیا جاتا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11802]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه بنحوه مسلم: 2471، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1967 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1967»
وضاحت: فوائد: … اگر تم خضر ہو۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر تم وہ خضر ہو کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اس بچے کے انجام سے مطلع کر دیا تھاتو تم ان بچوں کو قتل کر دو۔ یعنی تم ان کو قتل نہیں کر سکتے، کیونکہ تم کو ان کے انجام کا علم نہیں ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
62. فضل فِي فَتَاوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے فتاوی کی فصل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11803
عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ بْنُ عَامِرٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ فَشَهِدْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ حِينَ قَرَأَ كِتَابَهُ وَحِينَ كَتَبَ جَوَابَهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَاللَّهِ لَوْلَا أَنْ أَرُدَّهُ عَنْ شَرٍّ يَقَعُ فِيهِ مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ وَلَا نَعْمَةَ عَيْنٍ قَالَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ إِنَّكَ سَأَلْتَنِي عَنْ سَهْمِ ذَوِي الْقُرْبَى الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ هُمْ وَإِنَّا كُنَّا نُرَى قَرَابَةَ رَسُولِ اللَّهِ هُمْ فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا وَسَأَلَهُ عَنِ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُهُ وَإِنَّهُ إِذَا بَلَغَ النِّكَاحَ وَأُونِسَ مِنْهُ رُشْدٌ دُفِعَ إِلَيْهِ مَالُهُ وَقَدِ انْقَضَى يُتْمُهُ وَسَأَلَهُ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْتُلُ مِنْ صِبْيَانِ الْمُشْرِكِينَ أَحَدًا فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلْ مِنْهُمْ أَحَدًا وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تَعْلَمَ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الْغُلَامِ الَّذِي قَتَلَهُ وَسَأَلَهُ عَنِ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ هَلْ كَانَ لَهُمَا سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ وَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ لَهُمَا سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا مِنْ غَنَائِمِ الْمُسْلِمِينَ
یزید بن ہرمز سے مروی ہے کہ نجدہ بن عامر حروری نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر ان سے چند مسائل دریافت کئے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جب اس کا خط پڑھ کر اس کے سوالات کے جوابات لکھوائے تو میں بھی وہاں موجود تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ جس شر یعنی برائی اور فتنے میں گرر ہا ہے، اگر میں اس کو اس سے بچانا نہ چاہ رہا ہوتا تو میں اس کے خط کا جواب نہ دیتا اور نہ اس طرح اسے خوش کرتا، چنانچہ انہوں نے اسے لکھا کہ تم نے مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان قرابت داروں کے حصوں کے متعلق دریافت کیاہے، جن کا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر کیاہے، کہ اس سے کون لوگ مراد ہیں، ہم تو اب تک یہی سمجھتے آئے ہیں کہ ان قرابت داروں سے ہم ہی یعنی بنو ہاشم اور بنو مطلب مراد ہیں۔ لیکن اب ہماری قوم اس بارے میں اس بات کو تسلیم نہیں کرتی،نجدہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ یتیم سے یتیمی کا اطلاق کب زائل ہوتا ہے؟انہوں نے لکھا کہ جب بچہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائے اور سمجھدار ہوجائے، تب اس کا مال اس کے حوالے کر دیا جائے، اس سے یتیمی کا اطلاق ختم ہو جاتا ہے۔ نجدہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ آیا مشرکین کے بچوں میں سے کسی کو قتل کیا جا سکتا ہے؟ انھوں نے جواباً لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین کے کسی بچے کو قتل نہیں کیا، تم بھی ان میں سے کسی کو قتل نہ کرو، الایہ کہ تم خضر کی طرح علم رکھتے ہو(کہ فلاں بچہ کافر ہی ہو گا تو تم اسے قتل کر سکتے ہو)، اسی طرح نجدہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ آیا مال غنیمت میں عورتوں اور غلاموں کا بھی حصہ مقرر ہے؟ جبکہ وہ میدان جنگ میں حاضر ہوں؟ انھوں نے لکھا کہ عورتوں اور غلاموں کا حصہ مال غنیمت میں سے مقرر نہیں ہے، البتہ ان کو مسلمانوں کے اموال غنیمت میں سے (حوصلہ افزائی کے طور پر) کچھ حصہ بطور ہدیہ دیا جا سکتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11803]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1812، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2235 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2235»
وضاحت: فوائد: … ان فقہی مسائل کی تفصیل متعلقہ ابواب میں گزر چکے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
63. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الخطاب رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا
سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11804
عَنْ نَافِعٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ بِيَدِي قِطْعَةَ إِسْتَبْرَقٍ وَلَا أُشِيرُ بِهَا إِلَى مَكَانٍ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا طَارَتْ بِي إِلَيْهِ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”إِنَّ أَخَاكَ رَجُلٌ صَالِحٌ أَوْ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ“
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ایک خواب دیکھا کہ گویا میرے ہاتھ میں ریشم کا ایک قیمتی ٹکڑا ہے اور میں جنت میں جس طرف بھی اس سے اشار ہ کرتا ہوں وہ مجھے اپنے ساتھ اڑا کر ادھر ہی لے جاتا ہے۔ میری بہن ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان کا یہ خواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیان کیا تو آپ نے فرمایا: تمہارا بھائی عبد اللہ نیک اور صالح آدمی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11804]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1156، 7015،ومسلم: 2478، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4494 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4494»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور ماں سیدہ زینب بنت مظعون رضی اللہ عنہا کے ساتھ ہجرت کی، غزوۂ بدر اور غزوۂ احد کے بعد تمام غزوات میں شریک ہوئے، غزوۂ احد میں ان کو چھوٹا سمجھ کر شرکت کی اجازت نہیں ملی تھی، جب یہ غزوۂ خندق میں شریک ہوئے اس وقت ان کی عمر پندرہ برس تھی،یہ ایک مجتہد عالم دین تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کے انتہائی پابند، امت کے خیرخواہ اور بدعت سے بہت دور رہنے والے تھے، اسلام میں ساٹھ برس تک انھوں نے دینی خدمات سر انجام دیں۔ امام نافع نے ان کا بہت علم نشر کیا، (۷۳) سن ہجری کے آخریا (۷۴) سن ہجری کے شروع میں انتقال کر گئے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11805
عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَى رُؤْيَا فَأَقُصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَكُنْتُ غُلَامًا شَابًّا عَزَبًا فَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَرَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي فَذَهَبَا بِي إِلَى النَّارِ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ وَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ فَجَعَلْتُ أَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ آخَرُ فَقَالَ لِي لَنْ تُرَاعَ فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ“ قَالَ سَالِمٌ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلَّا قَلِيلًا
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں جو بھی آدمی کوئی خواب دیکھتا، وہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیان کرتا۔ میری بھی خواہش تھی کہ میں بھی کوئی خواب دیکھوں اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیان کروں، میں کنوارا نوجوان تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں مسجد میں سویا کرتا تھا، میں نے خواب دیکھا گویا کہ دو فرشتوں نے مجھے پکڑا اور مجھے جہنم کی طرف لے گئے، وہ اس طرح چنی گئی تھی جیسے کنواں چنا جاتا ہے اور اس کے اوپر (کنویں کی طرح کے) دو ستون تھے، جب میں نے اس میں دیکھا تومجھے اس میں ایسے لوگ دکھائی دیئے جن کو میں پہنچانتا تھا۔ میں ڈر کر کہنے لگا: اُعوذُ باللّٰہِ مِنَ النَّار،اُعوذُ باللّٰہِ مِنَ النَّار (میں جہنم سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، میں جہنم سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔) ایک فرشتہ ان دونوں فرشتوں سے آ ملا، اس نے مجھ سے کہا: تم مت گھبراؤ۔ میں نے یہ خواب اپنی ہمشیرہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو بیان کیا، جب انہوں نے یہ خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ اچھا آدمی ہے، کاش کہ وہ رات کو نمازپڑھا کرے۔ سالم کہتے ہیں: اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ رات کو کم ہی سویا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام/حدیث: 11805]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1121، 1122، 3738،ومسلم: 2479، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6330 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6330»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں