🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. )
فصل دوم: اللہ کی نافرمانی کی صورت میں کسی انسان کی اطاعت نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12118
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ ”لَوْ دَخَلْتُمُوهَا لَمْ تَزَالُوا فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ“ وَقَالَ لِلْآخَرِينَ قَوْلًا حَسَنًا وَقَالَ ”لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَّةِ اللَّهِ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ“
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم لوگ آگ میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اسی میں رہتے۔ اور جن لوگوں نے آگ میں داخل ہونے سے انکار کیا تھا، آپ نے ان کے بارے میں اچھی بات ارشاد فرمائی اور فرمایا: اللہ کی معصیت ہو تو کسی کی اطاعت نہیں کی جاسکتی، اطاعت تو صرف جائز کام میں ہوتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12118]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 724»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 724
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12119
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ فِيمَا أَحَبَّ أَوْ كَرِهَ إِلَّا أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ“
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انسان پر لازم ہے کہ وہ حکمران کی بات سنے اور اس کی اطاعت کرے، وہ ان امور کو چاہتا ہو یا نہ چاہتا ہو، ما سوائے اس کے کہ جب اس کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دیا جائے تو اس حکم کو نہ سنے اور نہ اس کی اطاعت کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12119]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2955، 7144، ومسلم: 1839، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4668 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4668»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2955
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12120
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى“
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی کوئی فرمانبرداری نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12120]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه البزار: 3599، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19904 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20146»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12121
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا يُونُسُ وَحُمَيْدٌ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ زِيَادًا اسْتَعْمَلَ الْحَكَمَ الْغِفَارِيَّ عَلَى جَيْشٍ فَأَتَاهُ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَقِيَهُ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ أَتَدْرِي لِمَ جِئْتُكَ فَقَالَ لَهُ لِمَ قَالَ هَلْ تَذْكُرُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ الَّذِي قَالَ لَهُ أَمِيرُهُ اقْعَ فِي النَّارِ فَأَدْرَكَ فَاحْتَبَسَ فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”لَوْ وَقَعَ فِيهَا لَدَخَلَا النَّارَ جَمِيعًا لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى“ قَالَ نَعَمْ قَالَ إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أُذَكِّرَكَ هَذَا الْحَدِيثَ
حسن سے روایت ہے کہ زیاد نے حکم غفاری کو ایک لشکر پر امیر بنایا، سیدناعمران بن حصین رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور لوگوں کے ما بین اس سے ملے اور کہا: کیا تم جانتے ہو کہ میں تمہارے ہاں کس لیے آیا ہوں؟ ا س نے کہا: جی بتائیں، کس لیے آئے ہیں؟ انہو ں نے کہا، کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ بات یاد ہے جوآپ نے اس آدمی سے ارشاد فرمائی تھی، جسے اس کے امیر نے کہا تھا، آگ میں گھس جا، مگر اس آدمی نے یہ بات ماننے سے انکار کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: اگر وہ آگ میں داخل ہو جاتا تو وہ دونوں(حکم دینے والا اور اس کو ماننے والا) جہنم میں جاتے، اللہ تعالیٰ کی معصیت ہو رہی ہو تو کسی کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔ حکم غفاری نے کہا: جی ہاں، یاد ہے۔ پھر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں یہ حدیث یاد دلانا چاہتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12121]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه الطبراني في الكبير: 3159، والبزار: 3581، والحاكم: 3/ 443، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20659 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20935»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12122
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ أَرَادَ زِيَادٌ أَنْ يَبْعَثَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى خُرَاسَانَ فَأَبَى عَلَيْهِمْ فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ أَتَرَكْتَ خُرَاسَانَ أَنْ تَكُونَ عَلَيْهَا قَالَ فَقَالَ إِنِّي وَاللَّهِ مَا يَسُرُّنِي أَنْ أُصَلِّيَ بِحَرِّهَا وَتُصَلُّوا بِبَرْدِهَا إِنِّي أَخَافُ إِذَا كُنْتُ فِي نُحُورِ الْعَدُوِّ أَنْ يَأْتِيَنِي كِتَابٌ مِنْ زِيَادٍ فَإِنْ أَنَا مَضَيْتُ هَلَكْتُ وَإِنْ رَجَعْتُ ضُرِبَتْ عُنُقِي قَالَ فَأَرَادَ الْحَكَمُ بْنُ عَمْرٍو الْغِفَارِيُّ عَلَيْهَا قَالَ فَانْقَادَ لِأَمْرِهِ قَالَ فَقَالَ عِمْرَانُ أَلَا أَحَدٌ يَدْعُو لِي الْحَكَمَ قَالَ فَانْطَلَقَ الرَّسُولُ قَالَ فَأَقْبَلَ الْحَكَمُ إِلَيْهِ قَالَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ فَقَالَ عِمْرَانُ لِلْحَكَمِ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا طَاعَةَ لِأَحَدٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى“ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ عِمْرَانُ لِلَّهِ الْحَمْدُ أَوِ اللَّهُ أَكْبَرُ
سیدنا عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ زیاد نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو خراسان کی طرف بھیجنے کا اردہ کیا، لیکن انھوں نے یہ ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا، ان کے ساتھیوں نے ان سے کہا: آپ نے خراسان کی امارت کا انکار کر دیا؟ انہوں نے کہا: مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ امارت کی مشکلات تو میں برداشت کروں اور اس کے ثمرات سے تم فائدہ اٹھاؤ، دراصل میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ اگر میں دشمن کے مقابلے میں ہوں اور زیاد کا خط مجھے ملے، (اس خط کے مطابق) اگر میں آگے بڑھوں تو ہلاک ہوتا ہوں اور اگر پیچھے ہٹوں تومجھے قتل کر دیا جائے، پس زیاد نے سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کو اس لشکر پر امیر بنانے کا ارادہ کیا اور انھوں نے زیاد کے اس حکم کو تسلیم کر لیا، اُدھر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا:کوئی ہے جو حکم رضی اللہ عنہ کو میرے پاس بلا لائے؟ ایک آدمی گیا اور حکم رضی اللہ عنہ آ گئے،جب وہ ان کے ہا ں پہنچے تو سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ کی معصیت ہوتی ہو تو کسی کی اطاعت نہیں کی جا سکتی۔؟ انھوں نے کہا، جی ہاں، عمران رضی اللہ عنہ (نے شکر ادا کرتے ہوئے) لِلّٰہِ الْحَمْدُ یا اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12122]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20654 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20930»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12123
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّ مُعَاذًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ لَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِكَ وَلَا يَأْخُذُونَ بِأَمْرِكَ فَمَا تَأْمُرُ فِي أَمْرِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا طَاعَةَ لِمَنْ لَمْ يُطِعِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے راویت ہے، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر ہم پر ایسے حکمران مسلط ہو جائیں جو آپ کی سنت کی اقتدا نہ کریں اور آپ کے حکم پر عمل نہ کریں تو ان کے بارے میں ہمارے لیے کیا حکم ہو گا؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہیں کرتا، اس کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12123]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين، اخرجه ابويعلي: 4046، والبخاري في الكبير: 6/ 332، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13225 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13257»

الحكم على الحديث:
اسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12124
فَقَالَ عُبَادَةُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنَّكَ لَمْ تَكُنْ مَعَنَا إِذْ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّا بَايَعْنَاهُ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ وَعَلَى النَّفَقَةِ فِي الْيُسْرِ وَالْعُسْرِ وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ وَعَلَى أَنْ نَقُولَ فِي اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلَا نَخَافَ لَوْمَةَ لَائِمٍ فِيهِ وَعَلَى أَنْ نَنْصُرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ عَلَيْنَا يَثْرِبَ فَنَمْنَعَهُ مِمَّا نَمْنَعُ مِنْهُ أَنْفُسَنَا وَأَزْوَاجَنَا وَأَبْنَاءَنَا وَلَنَا الْجَنَّةُ فَهَذِهِ بَيْعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّتِي بَايَعْنَا عَلَيْهَا فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَى بِمَا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ وَفَّى اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِمَا بَايَعَ عَلَيْهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ قَدْ أَفْسَدَ عَلَيَّ الشَّامَ وَأَهْلَهُ فَإِمَّا تُكِنُّ إِلَيْكَ عُبَادَةَ وَإِمَّا أُخَلِّي بَيْنَهُ وَبَيْنَ الشَّامِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ رَحِّلْ عُبَادَةَ حَتَّى تُرْجِعَهُ إِلَى دَارِهِ مِنَ الْمَدِينَةِ فَبَعَثَ بِعُبَادَةَ حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَدَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ فِي الدَّارِ وَلَيْسَ فِي الدَّارِ غَيْرُ رَجُلٍ مِنَ السَّابِقِينَ أَوْ مِنَ التَّابِعِينَ قَدْ أَدْرَكَ الْقَوْمَ فَلَمْ يَفْجَأْ عُثْمَانَ إِلَّا وَهُوَ قَاعِدٌ فِي جَنْبِ الدَّارِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ مَا لَنَا وَلَكَ فَقَامَ عُبَادَةُ بَيْنَ ظَهْرَيِ النَّاسِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبَا الْقَاسِمِ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّهُ سَيَلِي أُمُورَكُمْ بَعْدِي رِجَالٌ يُعَرِّفُونَكُمْ مَا تُنْكِرُونَ وَيُنْكِرُونَ عَلَيْكُمْ مَا تَعْرِفُونَ فَلَا طَاعَةَ لِمَنْ عَصَى اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَلَا تَعْتَلُّوا بِرَبِّكُمْ“
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ابو ہریرہ! تم تو اس وقت موجود نہ تھے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کر کے ہمارے ہاں یثرب میں تشریف لائے، ہم نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی کہ ہم چستی اور سستی یعنی ہر حال میں آپ کی بات سن کر اس کی اطاعت کریں گے، اور خوش حالی ہو یا تنگ دستی، جب بھی ضرورت پڑی تو ہر حال میں خرچ کریں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے، اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی والی بات کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے سے خوف زدہ نہیں ہوں گے، ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دل وجان سے مدد کریں گے اورجن جن چیزوں سے ہم اپنی جانوں، بیویوں اور بیٹوں کو بچاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی ان سے بچائیں گے اور اس کے بدلے ہمیں جنت ملے گی۔ یہ وہ امورِ بیعت ہیں، جن پر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی ہے، جو اس کی خلاف ورزی کرے گا، اس کا وبال اسی پر ہوگا۔ اللہ کے بارے میں جو بیعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لی اور کی ہے، کون ہے جو اپنی بیعت کو ان سے بڑھ کر پورا کرنے والا ہو؟ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو لکھا کر سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے شام اور اہل شام کو میرے خلاف کر دیا ہے، آپ یا تو عبادہ رضی اللہ عنہ کو اپنے ہاں بلالیں، ورنہ میں انہیں شام سے باہر نکلوا دوں گا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا کہ آپ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ واپس بھیج دیں، پس سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کو واپس بھجوادیا، پس جب وہ مدینہ واپس آئے تو وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ گھرمیں ان کے ہاں گئے، گھر میں سابقین اولین میں سے صرف ایک آدمی تھا اور وہ بھی لوگوں کے پاس چلا گیا، عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کے ایک کونے میں تشریف فرما تھے، وہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: عبادہ!آپ کا اور ہمارا کیا معاملہ ہے؟ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور کہا: میں نے ابو القاسم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ عنقریب تمہارے معاملات پر اسے لوگ غالب آجائیں گے کہ تم جن کاموں کو غلط سمجھتے ہو گے، وہ انہیں صحیح سمجھیں گے اور تم جن کاموں کو اچھا سمجھتے ہو گے، وہ انہیں غلط سمجھیں گے، جو آدمی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے تو اس کی اطاعت نہیں کی جاسکتی، تم اپنے رب کے ہاں اس کی کوئی معذرت پیش نہیں کر سکو گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12124]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، اسماعيل بن عياش ضعيف في روايته عن غير اھل بلده، وھذا منھا، واسماعيل بن رفاعة الانصاري، روي عنه اثنان، واحدھما ضعيف، وذكره ابن حبان في الثقات، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22769 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23149»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو ہجرت سے قبل مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ جا کر اسلام قبول کرنے اور بیعت عقبہ اولیٰ میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوا، اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے بارہ افراد کو نقیب یعنی ذمہ دار اور نگران مقرر کیا تھا، ان نقباء میں سے ایک سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ تھے، حدیث کے شروع میں سیدنا عبادہ اس بیعت والے امور کا ذکر کر رہے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. الْفَضْلُ الثَّالِثُ فِي وُجُوبٍ مُنَاصَحَةِ أُولِي الأمْرِ، وَأمْرِهِمْ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهْيهِمْ عَنِ الْمُنْكَرِ
فصل سوم: حکمرانوں کی خیر خواہی کرنے کے وجوب اوران کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرتے رہنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12125
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي هَذِهِ فَحَمَلَهَا فَرُبَّ حَامِلِ الْفِقْهِ فِيهِ غَيْرُ فَقِيهٍ وَرُبَّ حَامِلِ الْفِقْهِ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ صَدْرُ مُسْلِمٍ إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمُنَاصَحَةُ أُولِي الْأَمْرِ وَلُزُومُ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس بندے کو ترو تازہ اور خوش و خرم رکھے، جس نے میری حدیث سن کر اسے دوسرے تک پہنچایا، فقہی اور علمی بات کو لے جانے والے بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں، جو خود فقیہ نہیں ہوتے اور کئی لوگ اپنے سے زیادہ فقیہ تک احادیث کو پہنچاتے ہیں، تین باتیں ایسی ہیں، جن پر مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا، خالص اللہ تعالیٰ کے لیے عمل کرنا، حکمرانوں کی خیر خواہی کرنا اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا، مسلمانوں کی دعا دوسرے مسلمانوں کو گھیر کر رکھتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12125]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه ابن ماجه: 236، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13350 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13383»
وضاحت: فوائد: … حکمرانوں کے لیے خیرخواہی یہ ہے کہ امورِ حق میں ان کی اطاعت کی جائے اور ان کی بغاوت نہ کی جائے۔
تین باتیں ایسی ہیں، جن پر مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا اس سے مراد یہ ہے کہ ان تین امور سے دلوں کی اصلاح ہوتی ہے، جس شخص نے ان تین امور کو اپنایا، اس کا دل خیانت اور شرّ سے پاک ہو گیا۔
خیانت نہ کرنے کامفہوم یہ ہے کہ مومن دیانتدار کے ساتھ حدیث میں مذکور امور سر انجام دیتا ہے اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتتا اگر یہ لفظ یَفِلُ پڑحا جائے جو کہ وغول سے ہے، جس کا معنی داخل ہونا ہے تو پھر اس کا معنی یہ ہے کہ ان مذکورہ امور سے دلوں کی اصلاح ہوتی ہے اور مومن ان کاموں کو سر انجام دے کر شرور سے بچ جاتا ہے جیسا کہ فوائد کے تحت بیان ہوا۔ (دیکھیں بلوغ الامانی اور نہایۃ ابن اثیر) (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12126
حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ قَالَا حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ قَالَ مُحَمَّدٌ عَنِ الْقَاسِمِ وَقَالَ يَزِيدُ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ رَجُلٍ قَالَ كُنَّا قَدْ حَمَلْنَا لِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ شَيْئًا نُرِيدُ أَنْ نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ فَأَتَيْنَا الرَّبَذَةَ فَسَأَلْنَا عَنْهُ فَلَمْ نَجِدْهُ قِيلَ اسْتَأْذَنَ فِي الْحَجِّ فَأُذِنَ لَهُ فَأَتَيْنَاهُ بِالْبَلْدَةِ وَهِيَ مِنًى فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ إِذْ قِيلَ لَهُ إِنَّ عُثْمَانَ صَلَّى أَرْبَعًا فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَبِي ذَرٍّ وَقَالَ قَوْلًا شَدِيدًا وَقَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ثُمَّ قَامَ أَبُو ذَرٍّ فَصَلَّى أَرْبَعًا فَقِيلَ لَهُ عِبْتَ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ شَيْئًا ثُمَّ صَنَعْتَ قَالَ الْخِلَافُ أَشَدُّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَقَالَ ”إِنَّهُ كَائِنٌ بَعْدِي سُلْطَانٌ فَلَا تُذِلُّوهُ فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُذِلَّهُ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ وَلَيْسَ بِمَقْبُولٍ مِنْهُ تَوْبَةٌ حَتَّى يَسُدَّ ثُلْمَتَهُ الَّتِي ثَلَمَ وَلَيْسَ بِفَاعِلٍ“ ثُمَّ يَعُودُ فَيَكُونُ فِيمَنْ يُعِزُّهُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَغْلِبُونَا عَلَى ثَلَاثٍ أَنْ نَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَنُعَلِّمَ النَّاسَ السُّنَنَ
قاسم بن عوف شیبانی، ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں، اس نے کہا:ہم ابوذر کو کوئی چیز بطور ہدیہ دینا چاہتے تھے، ہم وہ اٹھا کر لے گئے اور ربذہ مقام میں پہنچے، جب ہم نے ان کے متعلق دریافت کیا تو بتلایا گیا کہ انہوں نے حج کے لیے جانے کی اجازت مانگی تھی اور انہیں مل گئی تھی، پھر ہم منیٰ میں ان سے ملے، ہم ان کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ان کو بتایا گیا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مِنی میں چاررکعت پڑھی ہے، یہ بات ابوذر رضی اللہ عنہ پر بہت گراں گزری اور انہوں نے سخت باتیں کہہ دیں اور پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ یہاں نماز پڑھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھی تھیں، میں نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ یہاں مِنی میں نماز پڑھی ہے (انھوں نے بھی دو رکعتیں پڑھائی ہیں)، اس کے بعد سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے اٹھ کر چار رکعات پڑھیں۔ کسی نے ان سے کہا کہ تم نے جس با ت کو امیر المومنین کے لیے معیوب سمجھا ہے، اس پر خود عمل کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا: اختلاف کرنا بہت برا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ میرے بعد ایک بادشاہ آئے گا، تم اسے رسوا نہ کرنا، جس نے اسے رسواکرنے کا ارادہ کیا، اس نے اسلام کی رسی کو اپنی گردن سے اتار پھینکا، اور اس کی توبہ اس وقت تک قبول نہ ہوگی، جب تک اس کی ڈالی ہوئی دراڑ ختم نہ ہو گی، مگر وہ ایسا نہ کرسکے گا۔ یعنی اپنی ڈالی ہوئی دراڈ کو پر نہ کر سکے گا۔ اس کے بعد وہ اس بادشاہ کی عزت کرے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ یہ حکمران تین باتوں میں ہم پر غالب نہ آجائیں یعنی وہ ہمیں ان تین کاموں سے روک نہ سکیں، بلکہ ہم یہ کام برابر کرتے رہیں۔ امر بالمعروف، نہی عن المنکر او رلوگوں کو سنتوں کی تعلیم دینا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12126]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن ابي ذر، والقاسم بن عوف الشيباني ذكر ابن حبان في الثقات وضعفه النسائي، وقال ابو حاتم مضطرب الحديث ومحله عندي الصدق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21460 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21792»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا منی میں پوری نماز ادا کرنا، نماز کے ابواب میں اس کی وجوہات بیان کی جا چکی ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام الراوي عن ابي ذر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12127
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ قَالَ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مَحْجُوبُ الْبَصَرِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ قَالَ لِي مَنْ أَنْتَ فَقُلْتُ أَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ قَالَ فَمَا فَعَلَ وَالِدُكَ قَالَ قُلْتُ قَتَلَتْهُ الْأَزَارِقَةُ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْأَزَارِقَةَ لَعَنَ اللَّهُ الْأَزَارِقَةَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كِلَابُ النَّارِ قَالَ قُلْتُ الْأَزَارِقَةُ وَحْدَهُمْ أَمِ الْخَوَارِجُ كُلُّهَا قَالَ بَلَى الْخَوَارِجُ كُلُّهَا قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ السُّلْطَانَ يَظْلِمُ النَّاسَ وَيَفْعَلُ بِهِمْ قَالَ فَتَنَاوَلَ يَدِي فَغَمَزَهَا بِيَدِهِ غَمْزَةً شَدِيدَةً ثُمَّ قَالَ وَيْحَكَ يَا ابْنَ جُمْهَانَ عَلَيْكَ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ عَلَيْكَ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ إِنْ كَانَ السُّلْطَانُ يَسْمَعُ مِنْكَ فَأْتِهِ فِي بَيْتِهِ فَأَخْبِرْهُ بِمَا تَعْلَمُ فَإِنْ قَبِلَ مِنْكَ وَإِلَّا فَدَعْهُ فَإِنَّكَ لَسْتَ بِأَعْلَمَ مِنْهُ
سعید بن جمہان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ نابینا ہوچکے تھے، میں نے سلام کہا، انہوں نے مجھ سے پوچھا، تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں سعید بن جمہان ہوں، انہو ں نے کہا: تمہارے والد کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا؟ میں نے کہا: ازارقہ نے اسے قتل کر ڈالا۔ انھوں نے کہا: اللہ، ازارقہ پر لعنت کرے، اللہ ازارقہ پر لعنت کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے بیان فرمایا تھا کہ یہ لوگ جہنم کے کتے ہیں۔ میں نے پوچھا: صرف ازارقہ یا سارے خوارج؟ انہو ں نے کہا: سارے خوارج۔ میں نے کہا: بادشاہ لوگوں پر ظلم ڈھاتا ہے اور کچھ اچھے کام بھی کرتا ہے، (اس کے بارے میں کیا کہنا یا کرنا چاہیے)؟ انہو ں نے میرا ہاتھ پکڑ کر زور سے دبایا اور پھر کہا: اے ابن جمہان! تم پر افسوس، تم سوا داعظم یعنی بڑے لشکر کے ساتھ رہنا، اگر بادشاہ تمہاری بات سنتا ہو تو اس کے گھر میں اس کے پاس جا کر جو کچھ تم جانتے ہو، اس کو بتلا دینا، اگر وہ آپ کی بات مان لے تو بہتر، ورنہ رہنے دینا، کیونکہ تم اس سے زیادہ نہیں جانتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12127]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات غير حشرج بن نباتة، فقد وثقه احمد ويحيي بن معين، وابوداود، واختلف قول النسائي فيه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19415 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19635»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۱۲۸۲۲) والے باب میں خوارج کی تفصیل آ رہی ہے

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات غير حشرج بن نباتة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں