الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. الْفَضْلُ الثَّانِي فِي إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْهُمْ
فصل دوم: بے وقوفوں، نا اہل لوگوں کی حکومت کا بیان، ہم ان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں
حدیث نمبر: 12088
عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ وَعَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ وَأَبِي أُمَامَةَ قَالَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ الْأَمِيرَ إِذَا ابْتَغَى الرِّيبَةَ فِي النَّاسِ أَفْسَدَهُمْ“
سیدنا مقداد بن اسود اور سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب حاکم لوگوں کے عیوب ڈھونڈنا شروع کر دیتا ہے تو وہ ان کو خراب کر دیتاہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12088]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، اخرجه ابوداود: 4889، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23815 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24316»
وضاحت: فوائد: … جو حاکم اپنی رعایا کے لیے خیر و بھلائی کا طالب ہو گا، وہ کسی بڑی ضرورت اور مصلحت کے بغیر ان کے معائب و نقائص تلاش نہیں کرے گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو عیوب پر پردہ ڈالنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 12089
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَنْ شَدَّدَ سُلْطَانَهُ بِمَعْصِيَةِ اللَّهِ أَوْهَنَ اللَّهُ كَيْدَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ کی معصیت کر کے اپنے بادشاہ کو تقویت پہنچاتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مکر کو کمزور اور ناکام کر دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12089]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن لھيعة، ولانقطاعه بين يزيد بن ابي حبيب وقيس بن سعد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23841 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24342»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن لھيعة
حدیث نمبر: 12090
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِذَا بَلَغَ بَنُو آلِ فُلَانٍ ثَلَاثِينَ رَجُلًا اتَّخَذُوا مَالَ اللَّهِ دُوَلًا وَدِينَ اللَّهِ دَخَلًا وَعِبَادَ اللَّهِ خَوَلًا“
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب فلاں آدمی کی اولاد کی تعداد تیس ہوجائے گی تو یہ لوگ اللہ کے مال کو آپس میں ہی ادل بدل کریں گے، اللہ تعالیٰ کے دین میں عیب و نقص نکالیں گے اور اللہ کے بندوں کو غلام بنا لیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12090]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، اخرجه البزار: 1620، والحاكم: 4/ 480، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11758 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11780»
وضاحت: فوائد: … ایک روایت میں فلاں آدمی کی بجائے ابو عاص کی اولاد کا ذکر ہے۔ بنو ابی العاص سے مراد بنو امیہ ہیں، جن کے دور حکومت میں اس باب میں مذکورہ احادیث کا مصداق بننے والے خلفاء موجود تھے۔
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 12091
عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي صَالِحٍ قَالَ أَقْبَلَ مَرْوَانُ يَوْمًا فَوَجَدَ رَجُلًا وَاضِعًا وَجْهَهُ عَلَى الْقَبْرِ فَقَالَ أَتَدْرِي مَا تَصْنَعُ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ فَإِذَا هُوَ أَبُو أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ نَعَمْ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ آتِ الْحَجَرَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا تَبْكُوا عَلَى الدِّينِ إِذَا وَلِيَهُ أَهْلُهُ وَلَكِنِ ابْكُوا عَلَيْهِ إِذَا وَلِيَهُ غَيْرُ أَهْلِهِ“
داود بن ابی صالح کہتے ہیں کہ ایک دن مروان آیا اور اس نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے اپنا چہرہ قبر کے اوپر رکھا ہوا تھا، مروان نے کہا: کیا تو جانتا ہے کہ تو کیا کر رہا ہے؟ جب وہ اس پر متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ وہ تو سیدنا ابو ایو ب تھے، پس انہوں نے کہا: ہاں، میں جانتا ہوں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ہوں، نہ کہ کسی پتھر کے پاس، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جب دین کے وارث اہل اور مستحق لوگ ہوں تو تم دین پر مت رونا، البتہ تم دین پر اس وقت رونا، جب نا اہل لوگ اس کے وارث اور مالک بن جائیں گئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12091]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة داود بن ابي صالح، وكثيرُ بن زيد مختلف فيه، اخرجه الحاكم: 4/515، و الطبراني في الكبير: 3999، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23585 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23983»
وضاحت: فوائد: … جب نا اہل لوگ دین کے ذمہ دار بن جاتے ہیں اور وہ دینی معاملات کو ہینڈل کرتے ہیں تو واقعی رونا آتا ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة داود بن ابي صالح
حدیث نمبر: 12092
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قَالَ دَخَلَ عَائِذُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ يَزِيدُ وَكَانَ مِنْ صَالِحِي أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”شَرُّ الرِّعَاءِ الْحُطَمَةُ“ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَأَظُنُّهُ قَالَ إِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ وَلَمْ يَشُكَّ يَزِيدُ فَقَالَ اجْلِسْ إِنَّمَا أَنْتَ مِنْ نُخَالَةِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهَلْ كَانَتْ لَهُمْ أَوْ فِيهِمْ نُخَالَةٌ إِنَّمَا كَانَتِ النُّخَالَةُ بَعْدَهُمْ وَفِي غَيْرِهِمْ
حسن کہتے ہیں کہ سیدنا عائذبن عمرو رضی اللہ عنہ، جو کہ نیکوکار صحابہ میں سے تھے، عبید اللہ بن زیاد کے ہاں گئے،اور انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بد ترین حکمران وہ ہوں گے جو لوگوں پر ظلم ڈھائیں گے، پس تو ان میں سے ہونے سے بچ جا۔ آگے سے ابن زیاد نے کہا: بیٹھ جا، تو تو آٹے کے چھانن کی طرح کم تر صحابہ میں سے ہے، انھوں نے کہا: صحابۂ کرام میں سے کم تر کوئی نہیں تھا، یہ کمتری تو بعد والوں میں اور غیر صحابہ میں پائی جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12092]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1830، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20637 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20913»
وضاحت: فوائد: … امام البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: الحُطَمَۃُ ایسے بے درد و ظالم چرواہے کو کہتے ہیں جو اونٹوں کو پانی پلانے کے لیے لے جانے اور واپس لے آنے اور ان کو ہانکنے میں ان سے سختی سے پیش آتا ہے اور ان پر ظلم کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے برے حکمران کے لیے یہ لفظ بطورِ ضرب المثل بیان کیا ہے، جیسا کہ النھایۃ میں ہے۔ (صحیحہ: ۲۸۸۵)
ظالم حاکم کے بہت زیادہ مفاسد ہیں، اس کی رعایا کا کوئی بندہ بھی اس سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور ظلم و بربریت کی وجہ سے ایسے حاکموں کے دماغ بھی ماؤف ہو چکے ہوتے ہیں اور کئی مظلوم انسانوں کا بارِ گراں ان کے سر پر ہوتا ہے۔ نیز معلوم ہوا کہ صحابہ کرا م کی جماعت کا ہر فرد اعلی اور بلند پایا ہے، ہم میں سے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ان میں سے کسی ہستی پر کوئی تنقید کرے یا ان کو برا بھلا کہے۔
ظالم حاکم کے بہت زیادہ مفاسد ہیں، اس کی رعایا کا کوئی بندہ بھی اس سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور ظلم و بربریت کی وجہ سے ایسے حاکموں کے دماغ بھی ماؤف ہو چکے ہوتے ہیں اور کئی مظلوم انسانوں کا بارِ گراں ان کے سر پر ہوتا ہے۔ نیز معلوم ہوا کہ صحابہ کرا م کی جماعت کا ہر فرد اعلی اور بلند پایا ہے، ہم میں سے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ان میں سے کسی ہستی پر کوئی تنقید کرے یا ان کو برا بھلا کہے۔
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1830
11. الْفَضْلُ الثَّالِثُ فِي إِمَارَةِ الصِّيِّبَانِ
فصل سوم: لڑکوں کی حکمرانی کا بیان
حدیث نمبر: 12093
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”هَلَاكُ أُمَّتِي عَلَى يَدِ غِلْمَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ“ قَالَ مَرْوَانُ وَهُوَ مَعَنَا فِي الْحَلْقَةِ قَبْلَ أَنْ يَلِيَ شَيْئًا فَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ غِلْمَةً قَالَ وَأَمَّا وَاللَّهِ لَوْ أَشَاءُ أَقُولُ بَنُو فُلَانٍ وَبَنُو فُلَانٍ لَفَعَلْتُ قَالَ فَقُمْتُ أَخْرُجُ أَنَا مَعَ أَبِي وَجَدِّي إِلَى مَرْوَانَ بَعْدَمَا مُلِّكُوا فَإِذَا هُمْ يُبَايِعُونَ الصِّبْيَانَ مِنْهُمْ وَمَنْ يُبَايِعُ لَهُ وَهُوَ فِي خِرْقَةٍ قَالَ لَنَا هَلْ عَسَى أَصْحَابُكُمْ هَؤُلَاءِ أَنْ يَكُونُوا الَّذِينَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَذْكُرُ أَنَّ هَذِهِ الْمُلُوكَ يُشْبِهُ بَعْضُهَا بَعْضًا
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کی ہلاکت قریش کے لڑکوں کے ہاتھوں سے ہوگی۔ اس وقت مروان بھی ہمارے ساتھ اس حلقہ درس میں موجود تھا اور ابھی اسے حکومت نہیں ملی تھی، یہ سن کر وہ کہنے لگا: ان نوجوانوں پر اللہ کی لعنت ہو۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر میں چاہوں تو بیان کرسکتا اور بتاسکتا ہوں کہ وہ بنو فلاں اور بنو فلاں ہوں گے۔ یعنی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ان کے قبائل اور خاندانوں کے ناموں سے بھی واقف تھے، بعد میں جب مروان کا خاندان بر سراقتدار آیا تو میں اپنے والد اور دادا کے ہمراہ مروان کے ہاں گیا،وہ اپنے لڑکوں کے حق میں بیعت لے رہے تھے اور بیعت کرنے والے بھی لڑکے ہی تھے، مروان شاہی لباس زیب تن کیے ہوئے تھے، اس نے ہم سے کہا: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا تھا کہ وہ ذکر کر رہے تھے کہ یہ بادشاہ ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12093]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3605، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8304 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8287»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 3605
حدیث نمبر: 12094
عَنْ مَالِكِ بْنِ ظَالِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبَا الْقَاسِمِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ يَقُولُ ”إِنَّ هَلَاكَ أُمَّتِي أَوْ فَسَادَ أُمَّتِي رُؤُوسٌ أُمَرَاءُ أُغَيْلِمَةٌ سُفَهَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابو القاسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سچے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کی گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کی ہلاکت اور فساد قریش کے ناسمجھ نوجوان حکمرانوں کے ہاتھوں سے ہوگا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12094]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وانظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7961»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 12095
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ رَأْسِ السَّبْعِينَ وَإِمَارَةِ الصِّبْيَانِ“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ستر سال کے بعد والے دور سے اور لڑکوں کی حکومت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12095]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، اخرجه البزار: 3358، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8654 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8639»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کی ہلاکت قریشی لڑکوں کے ہاتھوں پر ہو گی۔ (بخاری)
ابن ابی شیبہ کی روایت ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بازار میں چلتے اور کہتے تھے: اے اللہ! نہ مجھے ساٹھ سن ہجری والا سال پائے اور نہ لڑکوں کی امارت۔
اس میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ پہلے لڑکے کی امارت کا ظہور ۶۰ ھ میں ہو گا اور ایسے ہی ہوا، یزید بن معاویہ خلیفہ بنا اور چونسٹھ سن ہجری تک باقی رہا، اس کی یہ عادت بھی تھی کہ وہ مختلف علاقوں سے بزرگوں کو معزول کر کے اپنے چھوٹی عمر کے قرابتداروں کو والی بناتا تھا۔ اس کی وفات کے بعد اس کا بیٹا معاویہ والی بنا جو کچھ مہینوں کے بعد مر گیا۔
ہلاکت یہ ہے کہ وہ امارت و بادشاہت طلب کرنے کے لیے اور اس کی وجہ سے لوگوں سے لڑیں گے، اس طرح لوگوں کے احوال میں فساد آ جائے گا اور پے در پے فتنوں کا ظہور ہو گااور ایسے ہی ہوا اور دل خراش واقعات پیش آئے۔
اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ ظالم بادشاہوں کے خلاف بغاوت کرنے سے گریز کیا جائے، کیونکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان بادشاہوں کے نام بھی جانتے تھے اور یہ بھی بتلا یا تھا کہ امت کی ہلاکت ان کے ہاتھوں پر ہو گی، لیکن اس کے باوجود انھوں نے بغاوت کا حکم نہ دیا، کیونکہ بغاوت کی وجہ سے جہاں ہلاکتیں زیادہ ہونی تھیں، وہاں اطاعت کے امور سے دوری بھی ہونی تھی، اس لیے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے خفیف مفسدت اور آسان کام کو اختیار کیا۔
ابن ابی شیبہ کی روایت ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بازار میں چلتے اور کہتے تھے: اے اللہ! نہ مجھے ساٹھ سن ہجری والا سال پائے اور نہ لڑکوں کی امارت۔
اس میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ پہلے لڑکے کی امارت کا ظہور ۶۰ ھ میں ہو گا اور ایسے ہی ہوا، یزید بن معاویہ خلیفہ بنا اور چونسٹھ سن ہجری تک باقی رہا، اس کی یہ عادت بھی تھی کہ وہ مختلف علاقوں سے بزرگوں کو معزول کر کے اپنے چھوٹی عمر کے قرابتداروں کو والی بناتا تھا۔ اس کی وفات کے بعد اس کا بیٹا معاویہ والی بنا جو کچھ مہینوں کے بعد مر گیا۔
ہلاکت یہ ہے کہ وہ امارت و بادشاہت طلب کرنے کے لیے اور اس کی وجہ سے لوگوں سے لڑیں گے، اس طرح لوگوں کے احوال میں فساد آ جائے گا اور پے در پے فتنوں کا ظہور ہو گااور ایسے ہی ہوا اور دل خراش واقعات پیش آئے۔
اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ ظالم بادشاہوں کے خلاف بغاوت کرنے سے گریز کیا جائے، کیونکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان بادشاہوں کے نام بھی جانتے تھے اور یہ بھی بتلا یا تھا کہ امت کی ہلاکت ان کے ہاتھوں پر ہو گی، لیکن اس کے باوجود انھوں نے بغاوت کا حکم نہ دیا، کیونکہ بغاوت کی وجہ سے جہاں ہلاکتیں زیادہ ہونی تھیں، وہاں اطاعت کے امور سے دوری بھی ہونی تھی، اس لیے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے خفیف مفسدت اور آسان کام کو اختیار کیا۔
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 12096
عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَامِرِ بْنِ شَهْرٍ قَالَ سَمِعْتُ كَلِمَتَيْنِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةً وَمِنَ النَّجَاشِيِّ أُخْرَى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”انْظُرُوا قُرَيْشًا فَخُذُوا مِنْ قَوْلِهِمْ وَذَرُوا فِعْلَهُمْ“ وَكُنْتُ عِنْدَ النَّجَاشِيِّ جَالِسًا فَجَاءَ ابْنُهُ مِنَ الْكُتَّابِ فَقَرَأَ آيَةً مِنَ الْإِنْجِيلِ فَعَرَفْتُهَا أَوْ فَهِمْتُهَا فَضَحِكْتُ فَقَالَ مِمَّ تَضْحَكُ أَمِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى فَوَاللَّهِ إِنَّ مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ أَنَّ اللَّعْنَةَ تَكُونُ فِي الْأَرْضِ إِذَا كَانَ أُمَرَاؤُهَا الصِّبْيَانَ
سیدنا عامر بن شہر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دو خاص باتیں سنی ہیں، ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دوسری نجاشی سے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ تم قریش پر نظر رکھنا، تم نے ان کی باتیں قبول کر لینی ہیں اور ان کے کردار کو چھوڑ دینا ہے۔ اور میں نجاشی کے ہاں بیٹھا ہوا تھا کہ اس کا بیٹا ایک کتاب لے کرآیا، اس نے انجیل کی ایک آیت پڑھی، میں نے اسے سمجھ لیا تو میں ہنس پڑا، نجاشی نے کہا: تم کس بات پر ہنسے ہو؟ کیا تم اللہ تعالیٰ کی کتاب سن کر ہنسے ہو؟ اللہ کی قسم! عیسیٰ بن مریم پر جو باتیں نازل کی گئی تھیں، ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ جب دنیا میں نوجوان حکمران ہوں گے تو زمین پر لعنت اترے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12096]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه ابن حبان: 4585، وابن ابي شيبة: 15/ 231، وابويعلي: 6864، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15536 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15621»
وضاحت: فوائد: … اگر کوئی حکمران بن جائے تو جہاں تک ہو سکے، اس کے ساتھ گزارہ کرنے کی کوشش کی جائے اور اس پر کیچڑ نہ اچھالا جائے، وگرنہ بغاوت کے نتائج سنگین ہوتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
12. الْفَضْلُ الرَّابِعُ فِي إِمَارَةِ النِّسَاءِ
فصل چہارم: خواتین کی حکومت و سربراہی کا بیان
حدیث نمبر: 12097
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ بَشِيرٌ يُبَشِّرُهُ بِظَفَرِ جُنْدٍ لَهُ عَلَى عَدُوِّهِمْ وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَامَ فَخَرَّ سَاجِدًا ثُمَّ أَنْشَأَ يُسَائِلُ الْبَشِيرَ فَأَخْبَرَهُ فِيمَا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَلِيَ أَمْرَهُمُ امْرَأَةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الْآنَ هَلَكَتِ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتِ النِّسَاءَ هَلَكَتِ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتِ النِّسَاءَ“ ثَلَاثًا
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں موجود تھے، ایک خوشخبری دینے والے قاصد نے آ کر مسلمانوں کی دشمن پر فتح کی نوید سنائی، اس وقت آپ کا سر مبارک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی گود میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے اور سجدہ ریز ہو گئے، اس کے بعد آپ اس قاصد سے حالات دریافت کرنے لگے، اس نے آپ کو جو خبریں دیں ان میں سے ایک خبر یہ بھی تھی کہ ایک عورت دشمنوں پر حکمران بن چکی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مرد عورتوں کی اطاعت کرنے لگیں گے تو وہ ہلاک ہو جائیں گے، مرد جب عورتوں کی اطاعت کرنے لگے تو وہ ہلاک ہو جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12097]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف بكار بن عبد العزيز، وابوه عبد العزيز روي عنه جمع، وذكره ابن حبان و العجلي في الثقات، اخرج قصة سجود الشكر ابوداود: 2774، والترمذي: 1578، وابن ماجه: 1394، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20455 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20729»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف بكار بن عبد العزيز