الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. الْفَضْلُ الأَوَّلُ: فِي وُجُوبِ طَاعَةِ أُولِي الْأَمْرِ، وَعَدْمِ الْخُرُوجِ عَلَيْهِمْ
فصل اول: حکمرانوں کی اطاعت کے وجوب اور ان کی بغاوت نہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12108
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ تَطْمَئِنُّ إِلَيْهِمُ الْقُلُوبُ وَتَلِينُ لَهُمُ الْجُلُودُ ثُمَّ يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ تَشْمَئِزُّ مِنْهُمُ الْقُلُوبُ وَتَقْشَعِرُّ مِنْهُمُ الْجُلُودُ“ فَقَالَ رَجُلٌ أَنُقَاتِلُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”لَا مَا أَقَامُوا الصَّلَاةَ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے او پر ایسے حکمران آئیں گے، جن کی حکمرانی پر تمہارے دل مطمئن ہوں گے اور تمہاری جلد ان کی اطاعت کے لیے نرم ہوگی، لیکن ان کے بعد ایسے حکمران بھی آئیں گے، جن سے تمہارے دل نفرت کریں گے اور ان کے خوف سے تمہارے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ایسے حکمرانوں سے لڑائی کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک وہ نماز قائم رکھیں گے، اس وقت تک ان سے لڑنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12108]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه ابويعلي: 1300، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11224 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11242»
وضاحت: فوائد: … خیر و بھلائی والے خلفاء اور حکمرانوں کے بعد شرّ والوں نے حکمرانی کے ایسے انداز اختیار کیے کہ ان کی تاریخ پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 12109
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهُ سَتَكُونُ أُمَرَاءُ تَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ فَمَنْ أَنْكَرَ فَقَدْ بَرِئَ وَمَنْ كَرِهَ فَقَدْ سَلِمَ وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ قَالَ ”لَا مَا صَلَّوْا لَكُمُ الْخَمْسَ“
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسے حکمران ہوں گے کہ تم ان کے بعض امور کو پسند کرو گے اور بعض کو ناپسند، جس نے ان کے غلط کام پر انکار کیا، وہ بری ہو گیا، (یعنی اس نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی)،جس نے ان کے غلط کام کو ناپسند کیا، وہ بھی (اللہ کی ناراضگی سے) بچ گیا، لیکن جو آدمی ان کے غلط کاموں پر راضی ہو گیا اور ان کی پیروی کرتا رہا، (وہ اللہ کی ناراضگی سے نہیں بچ سکے گا۔) صحابہ کرام نے کہا:اللہ کے رسول! کیا ہم ایسے حکمرانوں سے لڑائی نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، وہ جب تک تمہارے لیے (یعنی تمہارے سامنے) پانچ نماز ادا کرتے رہیں گے، اس وقت تک نہیں لڑنا۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12109]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1854، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26528 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27063»
وضاحت: فوائد: … جس نے ایسے حکمرانوں کی اداؤں کو تسلیم کرنے سے انکار کیا، وہ منافقت، حق پوشی اور چاپلوسی کرنے سے بچ جائے گا، جو حسبِ استطاعت خاموش ہو گیا، موافقت کی نہ مخالفت، تووہ کم از کم ان کے وبال میں شریک نہیں ہوگا، لیکن جو ان کے ساتھ راضی ہو گیا تو وہ تو ان کی سرکشی، بغاوت اور نافرمانی میں برابر کا شریک ہو گا۔ شاید یہ بات درست ہو کہ موجودہ دور کے تمام حکمران اور ان کے درباری اس قسم کی تمام احادیث کے مصداق ہیں۔
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1854
حدیث نمبر: 12110
عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَإِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ حَبَشِيٌّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم حکمران کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو، خواہ تمہارے اوپر کوئی ایسا حبشی حکمران بنا دیا جائے، جس کا سر منقّی جیسا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12110]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 693، 7142، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12126 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12150»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 693
حدیث نمبر: 12111
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”يُهْلِكُ أُمَّتِي هَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ“ قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”لَوْ أَنَّ النَّاسَ اعْتَزَلُوهُمْ“ وَقَالَ أَبِي فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ اضْرِبْ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ فَإِنَّهُ خِلَافُ الْأَحَادِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي قَوْلَهُ ”اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَاصْبِرُوا“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریش کا قبیلہ میری امت کو ہلاک کرے گا۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے حالات میں آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ ان سے الگ تھلک رہیں گے(تو وہ ان کے شرّ سے بچے رہیں گے۔ امام احمد نے مرض الموت کے دنوں میں کہا: اس حدیث کو مٹا دو، کیونکہ یہ حدیث ان احادیث کے خلاف ہے، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم حکمرانوں کی بات سنو، ان کی اطاعت کرو اور صبر کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12111]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 3604، ومسلم: 2917، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8005 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7992»
وضاحت: فوائد: … یہ دو الگ الگ احادیث ہیں اور دونوں کے مصداق الگ الگ حکمران ہیں، ایسے حکمران بھی گزر چکے ہیں کہ ہر حال میں جن کی بات سننا اور ان کی اطاعت کرنا ضروری تھا، لیکن ایسے حکمران بھی ہو گزرے ہیں کہ جن سے اجتناب کرنا بہتر تھا۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 3604
حدیث نمبر: 12112
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَمَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي فَقَدْ أَطَاعَنِي وَمَنْ عَصَى أَمِيرِي فَقَدْ عَصَانِي“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیرکی اطاعت کی، اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیرکی نافرمانی کی، اس نے میری نافرمانی کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12112]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 7137، ومسلم: 1835، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7656 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7643»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 7137
حدیث نمبر: 12113
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ سَمِعْتُ أَبَا الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُ سُفْيَانَ يَقُولُ ”مَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي فَقَدْ أَطَاعَنِي وَمَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی، اس نے میری اطاعت کی۔ اور جس نے میری اطاعت کی، اس نے دراصل اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12113]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1443، ومسلم: 1021، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7335 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7331»
وضاحت: فوائد: … ایسے امیر کی اطاعت کب تک ضروری ہے؟ اگلا باب ملاحظہ ہو۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1443
حدیث نمبر: 12114
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَنْ عَبَدَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَسَمِعَ وَأَطَاعَ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُدْخِلُهُ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ وَلَهَا ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ وَمَنْ عَبَدَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَسَمِعَ وَعَصَى فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى مِنْ أَمْرِهِ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ رَحِمَهُ وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ“
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ کی عبادت کرے، ا س کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے، نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے، حاکم کی بات سنے اور اس کی اطاعت کرے، جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس دروازے سے چاہے گا، اللہ اسے اسی دروازے سے جنت میں داخل کرے گااو ر جو آدمی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرے، نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے، حاکم کی بات سنے اور اس کی اطاعت نہ کرے، تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے، اگر وہ چاہے تو اسے معاف کر دے اور اگر چاہے تو اسے عذاب سے دوچار کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12114]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن اخرجه البزار: 2704، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22768 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23148»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن اخرجه البزار: 2704
14. )
فصل دوم: اللہ کی نافرمانی کی صورت میں کسی انسان کی اطاعت نہیں ہے
حدیث نمبر: 12115
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا طَاعَةَ لِبَشَرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی معصیت ہوتو کسی بھی انسان کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12115]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه ابويعلي: 279، 377، والبزار: 586، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1065 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1065»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 12116
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ“
۔ (دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی معصیت ہوتی ہو تو مخلوق کی اطاعت نہیں کی جاسکتی۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12116]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه بنحوه مع القصة البخاري 7257، ومسلم: 1840، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1095 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1095»
وضاحت: فوائد: … اصل کلیہ اور ضابطہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کی جائے اور ان دونوں کی نافرمانی سے بچا جائے، کوئی تیسری ہستی ایسی نہیں ہے کہ فرمانبرداری و نافرمانی کے سلسلے میں جس کی حیثیت مستقل بالذات ہے۔
دیکھیں: حدیث نمبر (۳۲۹)
دیکھیں: حدیث نمبر (۳۲۹)
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 12117
وَعَنْهُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ فَلَمَّا خَرَجُوا قَالَ وَجَدَ عَلَيْهِمْ فِي شَيْءٍ فَقَالَ لَهُمْ أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُطِيعُونِي قَالَ قَالُوا بَلَى قَالَ فَقَالَ اجْمَعُوا حَطَبًا ثُمَّ دَعَا بِنَارٍ فَأَضْرَمَهَا فِيهِ ثُمَّ قَالَ عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ لَتَدْخُلُنَّهَا قَالَ فَهَمَّ الْقَوْمُ أَنْ يَدْخُلُوهَا قَالَ فَقَالَ لَهُمْ شَابٌّ مِنْهُمْ إِنَّمَا فَرَرْتُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّارِ فَلَا تَعْجَلُوا حَتَّى تَلْقَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ أَمَرَكُمْ أَنْ تَدْخُلُوهَا فَادْخُلُوا قَالَ فَرَجَعُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ لَهُمْ ”لَوْ دَخَلْتُمُوهَا مَا خَرَجْتُمْ مِنْهَا أَبَدًا إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک جہادی لشکر روانہ کیااور ایک نصاری کو ان پر امیر مقر ر فرمایا، وہ کسی بات پر اپنے لشکر سے ناراض ہوگیا، اس نے ان سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں میری اطاعت کرنے کا حکم نہیں دیا ہے؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں،دیا ہے، پس اس نے کہا: لکڑیاں جمع کرو، پھر اس نے آگ منگوا کر ان کو آگ لگا دی اور کہا:میں تم لوگوں کو تاکیدی حکم دیتا ہو ں کہ تم اس آگ میں کود جاؤ، بعض لوگوں نے تو واقعی آگ میں گھس جانے کا ارادہ کر لیا، اتنے میں ان میں سے ایک نوجوان نے کہا: تم آگ سے بچنے کے لیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آئے ہو، لہٰذا جلدبازی نہ کرو، پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تو مل لو، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگ میں داخل ہونے کا حکم ہی دیا تو داخل ہوجانا، پس جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سارا ماجرہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اگر تم آگ میں داخل ہوجاتے تو کبھی بھی اس سے نہ نکل سکتے، اطاعت صرف جائز کا م میں ہوتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الخلافة والإمارة/حدیث: 12117]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 4340، ومسلم: 1840، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 622 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 724»
وضاحت: فوائد: … کوئی اعلی ہو یا ادنی، حاکم ہو یا محکوم، جس کی بات بھی قرآن و حدیث کے مخالف ہو گی، اس کی کوئی اطاعت نہیں کی جائے گی۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: یہ حدیث ِ مبارکہ کئی فوائد پر مشتمل ہے، ایک فائدہ یہ ہے: اللہ تعالیٰ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیںکی جا سکتی، وہ امراء و حکام ہوں یا علماء و مشائخ۔ معلوم ہوا کہ درج ذیل تین گروہ گمراہ ہیں:
(پہلا گروہ) … بعض صوفی منش لوگ اپنے پیروں اور شیخوں کی تقلید کرتے ہیں، اگرچہ وہ ان کو واضح نافرمانی کا حکم دیں، ان کی دلیل یہ ہے کہ وہ درحقیقت نافرمانی نہیں ہوتی، کیونکہ شیخ کی علم و معرفت کی سطح مرید سے کہیں زیادہ ہوتی ہے اور جو کچھ شیخ دیکھتا ہے، وہ مرید کو نظر نہیں آ رہا ہوتا۔
میں ایک ایسے ہی شیخ کو جانتا ہوں، وہ اپنے آپ کو مرشد سمجھتا ہے، وہ ایک دن مسجد میں اپنے مریدوں کے سامنے ایک قصہ بیان کر رہا تھا، جس کا خلاصہ یہ ہے:
ایک صوفی شیخ نے ایک رات اپنے مرید کو حکم دیا کہ وہ اپنے باپ کو قتل کر کے آئے، جو اِس وقت بستر پر اپنی بیوی کے ساتھ لیٹا ہوا تھا، سو اس نے اپنے باپ کو قتل کر دیا اور اس بات پر خوش تھا کہ اس نے اپنے شیخ کے حکم کی تعمیل کی ہے۔ جب شیخ نے اس کی طرف دیکھا تو پوچھا: کیا تو اس گمان میں ہے کہ تو نے اپنے حقیقی باپ کو قتل کر دیا؟ نہیں،نہیں۔ وہ تو تیری ماں کا یار تھا، تیرا باپ تو گھر پر موجود ہی نہ تھا۔
اس نے قصہ بیان کر کے اس سے بزعم خودایک شرعی حکم کا استدلال کرتے ہوئے کہا: جب کوئی شیخ اپنے مرید کو ایسا حکم دے،جو شریعت کے مخالف ہو، تو مرید کو چاہیے کہ وہ اس کی پاسداری کرے۔ تم لوگ دیکھتے نہیں کہ اس شیخ نے اپنے مرید سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اپنے باپ کو قتل کر کے آئے۔ دراصل وہ اسے اس کی ماں کے ساتھ زناکرنے والے کو قتل کرنے کا حکم دے رہا تھا اور وہ شرعاً قتل کا ہی مستحق تھا۔
قارئین کرام! غور فرمائیں کہ اس قصہ کے باطل ہونے کی کئی وجوہات ہیں، مثال کے طور پر:
(اول) … حدّ نافذ کرنا شیخ کا حق نہیں ہے، وہ کتنا عظیم ہی کیوں نہ ہو، یہ امیر یا والی کا حق ہے۔
(دوم) … اگر اس شیخ کو نفاذِ حدّ کا حق تھا تو اس نے عورت پر حدّ کیوں نہ لگائی؟ کیونکہ وہ دونوں اس برائی میں برابر کے مجرم اور برابر کے سزا کے حقدار تھے۔
(سوم) … شادی شدہ زانی کی حد رجم یعنی پتھروں سے سنگسار کرنا ہے، نہ کہ صرف قتل۔
واضح ہوا کہ شیخ نے کئی طرح سے شریعت کی مخالفت کی، یہی معاملہ اِ س مرشد کا ہے، جو اس قصے کو بنیاد بنا کر شیخ کی تقلید کو واجب قرار دے رہا ہے، اگرچہ یہ قصہ شریعت کے مخالف ہے۔
اِس مرشد نے اپنے باطل بیان کے دوران مریدوں سے یہ بات بھی کہی تھی کہ اگر تم اپنے شیخ کی گردن میں صلیب دیکھو تو تم اس پر اعتراض کرنے کا کوئی جواز نہیں رکھتے۔
اگرچہ یہ کلام واضح طور پر باطل ہے اور شرع اور عقل کے مخالف ہے، لیکن اس کے باوجود بااعتماد نوجوانوں سمیت بعض لوگوں پر اس کا جادو چل جاتا ہے۔
اسی قسم کے ایک مرید کے ساتھ اس قصہ کے موضوع پر میرا مباحثہ ہونے لگا، اس نے یہ سارا واقعہ اور اس سے کیا جانے والا استدلال اپنے مرشد سے سنا ہوا تھا۔ اس کے خیال کے مطابق یہ اس شیخ کی کرامت تھی اور اس کا اس قصے کے صحیح ہونے پر مکمل اعتماد تھا۔ اس نے مجھے کہا: تم لوگ کرامتوں کا انکار کرتے ہو۔ لیکن جب میں نے اسے کہا: اگر تیرا شیخ تجھے یہ حکم دے کہ تو اپنے والدین کو قتل کر دے تو کیا اس کی اطاعت کرے گا؟ اس نے کہا: میں ابھی تک اس مقام تک نہیں پہنچا۔
ستیاناس ہو اس قیادت کا، کہ جس سے لوگوں کے عقل ماؤف ہو جاتے ہیں اور وہ ضلالت و گمراہی میں پھنسے ہوئے شیخوں کے اس قدر تابع نظر آتے ہیں۔
(دوسرا گروہ) … مقلدین کا گروہ، جو اپنے امام کے قول کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث پر ترجیح دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب کسی مقلِّد سے کہا جاتا ہے کہ اقامت ہو جانے کے بعد فجر کی سنتیں نہ پڑھا کرو، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، تو وہ اس حدیث کی اطاعت نہیںکرے گا، بلکہ یوں لب کشائی کرے گا: ہمارے مذہب میں جائز ہے۔ اسی طرح جب (حنفی) مقلدوں سے کہا جاتا ہے کہ حلالہ والا نکاح باطل ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے کرنے والے پر لعنت کی ہے، تو وہ جواب دے گا: نہیں، نہیں۔ بلکہ فلاں فلاں مذہب کے مطابق جائز ہے۔ اسی طرح کے سینکڑوں مسائل ہیں۔
اکثر محقق علماء و فقہاء کا یہ خیال ہے کہ اس قسم کے مقلد اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مصداق ہیں: {اِتَّخَذُوْا أَحْبَارَھُمْ وَ رُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ} (سورۂ توبہ: ۳۱) … ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو ربّ بنایا ہے۔ فخر الرازی نے اپنے تفسیر میں اس کی خوب وضاحت کی ہے۔
(تیسرا گروہ) … وہ لوگ، جو اپنے حکمرانوں کے وضع کردہ ان قوانین و ضوابط کی پیروی کرتے ہیں، جو شریعت کے مخالف ہوتے ہیں، جیسے کیمونزم اور اس کے ملتے جلنے نظام۔ اور ان سے بدتر وہ لوگ ہیں، جو شریعت کے ان مخالف امور کو شریعت سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ ایسی مصیبت ہے جس نے عصرِ حاضر کے علم و اصلاح کے دعویداروں کا گھیراؤ کر لیا ہے اور عوام کو ان سے بڑا دھوکہ ہوا ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ یہ پیروکار اپنے قائدین سمیت اس آیت کا مصداق بنتے ہیں: {اِتَّخَذُوْا أَحْبَارَھُمْ وَ رُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ} (سورۂ توبہ: ۳۱) … ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو ربّ بنایا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے حمایت و حفاظت اور سلامتی کا سوال کرتے ہیں۔ (صحیحہ: ۱۸۱)
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: یہ حدیث ِ مبارکہ کئی فوائد پر مشتمل ہے، ایک فائدہ یہ ہے: اللہ تعالیٰ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیںکی جا سکتی، وہ امراء و حکام ہوں یا علماء و مشائخ۔ معلوم ہوا کہ درج ذیل تین گروہ گمراہ ہیں:
(پہلا گروہ) … بعض صوفی منش لوگ اپنے پیروں اور شیخوں کی تقلید کرتے ہیں، اگرچہ وہ ان کو واضح نافرمانی کا حکم دیں، ان کی دلیل یہ ہے کہ وہ درحقیقت نافرمانی نہیں ہوتی، کیونکہ شیخ کی علم و معرفت کی سطح مرید سے کہیں زیادہ ہوتی ہے اور جو کچھ شیخ دیکھتا ہے، وہ مرید کو نظر نہیں آ رہا ہوتا۔
میں ایک ایسے ہی شیخ کو جانتا ہوں، وہ اپنے آپ کو مرشد سمجھتا ہے، وہ ایک دن مسجد میں اپنے مریدوں کے سامنے ایک قصہ بیان کر رہا تھا، جس کا خلاصہ یہ ہے:
ایک صوفی شیخ نے ایک رات اپنے مرید کو حکم دیا کہ وہ اپنے باپ کو قتل کر کے آئے، جو اِس وقت بستر پر اپنی بیوی کے ساتھ لیٹا ہوا تھا، سو اس نے اپنے باپ کو قتل کر دیا اور اس بات پر خوش تھا کہ اس نے اپنے شیخ کے حکم کی تعمیل کی ہے۔ جب شیخ نے اس کی طرف دیکھا تو پوچھا: کیا تو اس گمان میں ہے کہ تو نے اپنے حقیقی باپ کو قتل کر دیا؟ نہیں،نہیں۔ وہ تو تیری ماں کا یار تھا، تیرا باپ تو گھر پر موجود ہی نہ تھا۔
اس نے قصہ بیان کر کے اس سے بزعم خودایک شرعی حکم کا استدلال کرتے ہوئے کہا: جب کوئی شیخ اپنے مرید کو ایسا حکم دے،جو شریعت کے مخالف ہو، تو مرید کو چاہیے کہ وہ اس کی پاسداری کرے۔ تم لوگ دیکھتے نہیں کہ اس شیخ نے اپنے مرید سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اپنے باپ کو قتل کر کے آئے۔ دراصل وہ اسے اس کی ماں کے ساتھ زناکرنے والے کو قتل کرنے کا حکم دے رہا تھا اور وہ شرعاً قتل کا ہی مستحق تھا۔
قارئین کرام! غور فرمائیں کہ اس قصہ کے باطل ہونے کی کئی وجوہات ہیں، مثال کے طور پر:
(اول) … حدّ نافذ کرنا شیخ کا حق نہیں ہے، وہ کتنا عظیم ہی کیوں نہ ہو، یہ امیر یا والی کا حق ہے۔
(دوم) … اگر اس شیخ کو نفاذِ حدّ کا حق تھا تو اس نے عورت پر حدّ کیوں نہ لگائی؟ کیونکہ وہ دونوں اس برائی میں برابر کے مجرم اور برابر کے سزا کے حقدار تھے۔
(سوم) … شادی شدہ زانی کی حد رجم یعنی پتھروں سے سنگسار کرنا ہے، نہ کہ صرف قتل۔
واضح ہوا کہ شیخ نے کئی طرح سے شریعت کی مخالفت کی، یہی معاملہ اِ س مرشد کا ہے، جو اس قصے کو بنیاد بنا کر شیخ کی تقلید کو واجب قرار دے رہا ہے، اگرچہ یہ قصہ شریعت کے مخالف ہے۔
اِس مرشد نے اپنے باطل بیان کے دوران مریدوں سے یہ بات بھی کہی تھی کہ اگر تم اپنے شیخ کی گردن میں صلیب دیکھو تو تم اس پر اعتراض کرنے کا کوئی جواز نہیں رکھتے۔
اگرچہ یہ کلام واضح طور پر باطل ہے اور شرع اور عقل کے مخالف ہے، لیکن اس کے باوجود بااعتماد نوجوانوں سمیت بعض لوگوں پر اس کا جادو چل جاتا ہے۔
اسی قسم کے ایک مرید کے ساتھ اس قصہ کے موضوع پر میرا مباحثہ ہونے لگا، اس نے یہ سارا واقعہ اور اس سے کیا جانے والا استدلال اپنے مرشد سے سنا ہوا تھا۔ اس کے خیال کے مطابق یہ اس شیخ کی کرامت تھی اور اس کا اس قصے کے صحیح ہونے پر مکمل اعتماد تھا۔ اس نے مجھے کہا: تم لوگ کرامتوں کا انکار کرتے ہو۔ لیکن جب میں نے اسے کہا: اگر تیرا شیخ تجھے یہ حکم دے کہ تو اپنے والدین کو قتل کر دے تو کیا اس کی اطاعت کرے گا؟ اس نے کہا: میں ابھی تک اس مقام تک نہیں پہنچا۔
ستیاناس ہو اس قیادت کا، کہ جس سے لوگوں کے عقل ماؤف ہو جاتے ہیں اور وہ ضلالت و گمراہی میں پھنسے ہوئے شیخوں کے اس قدر تابع نظر آتے ہیں۔
(دوسرا گروہ) … مقلدین کا گروہ، جو اپنے امام کے قول کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث پر ترجیح دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب کسی مقلِّد سے کہا جاتا ہے کہ اقامت ہو جانے کے بعد فجر کی سنتیں نہ پڑھا کرو، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، تو وہ اس حدیث کی اطاعت نہیںکرے گا، بلکہ یوں لب کشائی کرے گا: ہمارے مذہب میں جائز ہے۔ اسی طرح جب (حنفی) مقلدوں سے کہا جاتا ہے کہ حلالہ والا نکاح باطل ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے کرنے والے پر لعنت کی ہے، تو وہ جواب دے گا: نہیں، نہیں۔ بلکہ فلاں فلاں مذہب کے مطابق جائز ہے۔ اسی طرح کے سینکڑوں مسائل ہیں۔
اکثر محقق علماء و فقہاء کا یہ خیال ہے کہ اس قسم کے مقلد اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مصداق ہیں: {اِتَّخَذُوْا أَحْبَارَھُمْ وَ رُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ} (سورۂ توبہ: ۳۱) … ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو ربّ بنایا ہے۔ فخر الرازی نے اپنے تفسیر میں اس کی خوب وضاحت کی ہے۔
(تیسرا گروہ) … وہ لوگ، جو اپنے حکمرانوں کے وضع کردہ ان قوانین و ضوابط کی پیروی کرتے ہیں، جو شریعت کے مخالف ہوتے ہیں، جیسے کیمونزم اور اس کے ملتے جلنے نظام۔ اور ان سے بدتر وہ لوگ ہیں، جو شریعت کے ان مخالف امور کو شریعت سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ ایسی مصیبت ہے جس نے عصرِ حاضر کے علم و اصلاح کے دعویداروں کا گھیراؤ کر لیا ہے اور عوام کو ان سے بڑا دھوکہ ہوا ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ یہ پیروکار اپنے قائدین سمیت اس آیت کا مصداق بنتے ہیں: {اِتَّخَذُوْا أَحْبَارَھُمْ وَ رُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ} (سورۂ توبہ: ۳۱) … ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو ربّ بنایا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے حمایت و حفاظت اور سلامتی کا سوال کرتے ہیں۔ (صحیحہ: ۱۸۱)
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 4340