الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. الْفَضْلُ الاَوَّلُ: فِي حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ السلمى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَا الْجَامِعِ لِقَبَائِلَ مُتَعَدِّدَةٍ
بعض دیگر عرب قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان فصل اول: سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث، جس میں متعدد عرب قبائل کا تذکرہ ہے
حدیث نمبر: 12557
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ خَيْلًا وَعِنْدَهُ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ فَقَالَ لِعُيَيْنَةَ ”أَنَا أَبْصَرُ بِالْخَيْلِ مِنْكَ“ فَقَالَ عُيَيْنَةُ وَأَنَا أَبْصَرُ بِالرِّجَالِ مِنْكَ قَالَ ”فَكَيْفَ ذَاكَ“ قَالَ خِيَارُ الرِّجَالِ الَّذِينَ يَضَعُونَ أَسْيَافَهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ وَيَعْرِضُونَ رِمَاحَهُمْ عَلَى مَنَاسِجِ خُيُولِهِمْ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ قَالَ ”كَذَبْتَ خِيَارُ الرِّجَالِ رِجَالُ أَهْلِ الْيَمَنِ وَالْإِيمَانُ يَمَانٍ وَأَنَا يَمَانٍ وَأَكْثَرُ الْقَبَائِلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الْجَنَّةِ مَذْحِجٌ وَحَضْرَمَوْتُ خَيْرٌ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ وَمَا أُبَالِي أَنْ يَهْلِكَ الْحَيَّانِ كِلَاهُمَا فَلَا قِيلَ وَلَا مُلْكَ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَعَنَ اللَّهُ الْمُلُوكَ الْأَرْبَعَةَ جَمَدَاءَ وَمِشْرَخَاءَ وَمِخْوَسَاءَ وَأَبْضَعَةَ وَأُخْتَهُمْ الْعَمَرَّدَةَ“
۔ (دوسری سند) سیدناعمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھوڑوں کا معائنہ فرما رہے تھے اور عیینہ بن حصن بن حذیفہ بن بد رفزاری بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عیینہ سے فرمایا: میں گھوڑوں ے بارے میں تم سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہوں۔ آگے سے عیینہ نے کہا: اور میں لوگوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ کیسے؟ اس نے کہا: بہترین لوگ وہ اہل نجد ہیں، جو اپنی تلواریں اپنے کاندھوں پر رکھتے ہیں اور اپنے نیزے گھوڑوں کی گردنوں پر رکھتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: تم نے غلط کہا، بہترین لوگ یمن کے ہیں اور بہترین ایما ن بھی اہل یمن کا ایمان ہے، میں بھی اصلاً یمنی ہی ہوں اور قیامت والے دن جنت میں تمام قبائل کی نسبت بنو مذ حج کے افراد زیادہ ہوں گے اور قبیلہ حضر موت، قبیلہ بنو حارث سے بہتر ہے اور مجھے ایک بات کی قطعاً پرواہ نہیں ہے کہ دونوں قبیلے ہلاک ہوجائیں، حکمرانی اور بادشاہت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ جمدائ، شرحائ، مخوساء اور ابضعہ چاروں بادشاہوں اور ان کی بہن عمردۃ پر لعنت کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12557]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19450 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19679»
الحكم على الحديث: صحیح
16. الْفَضْلُ الثَّانِي فِيْمَا وَرَدَ فِي الْأَزْدِ وَحِمْيَر
فصل دوم: قبیلہ ازد اور حمیر کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 12558
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”نِعْمَ الْقَوْمُ الْأَزْدُ طَيِّبَةٌ أَفْوَاهُهُمْ بَرَّةٌ أَيْمَانُهُمْ نَقِيَّةٌ قُلُوبُهُمْ“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قبیلہ ازد کے لوگ بہترین لوگ ہیں، ان کے منہ یعنی گفتگو انتہائی شان دار ہوتی ہے، یہ اپنی قسم کو پورا کرتے ہیں اوردلوں کے صاف ہوتے ہیں، یعنی یہ کسی کے خلاف بغض یا حسد نہیں رکھتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12558]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8600»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد ازد شنوء ۃ تھی، یہ ایک یمنی قبیلہ تھا اور ازد بن غوث بن لیث کی اولاد تھے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12559
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْعَنْ حِمْيَرَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ جَاءَهُ مِنْ نَاحِيَةٍ أُخْرَى فَأَعْرَضَ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ الْعَنْ حِمْيَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”رَحِمَ اللَّهُ حِمْيَرَ أَفْوَاهُهُمْ سَلَامٌ وَأَيْدِيهِمْ طَعَامٌ أَهْلُ أَمْنٍ وَإِيمَانٍ“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، ایک آدمی نے آکر کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبیلہ حمیر پر لعنت کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اعراض فرمایا، وہ دوسری طرف سے آگیا اور اس بار بھی یہی بات کہی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبیلہ حمیر پر لعنت فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا اور فرمایا: اللہ قبیلہ حمیر پر رحم فرمائے، ان کے منہ یعنی گفتگو سلامتی والی ہے، ان کے ہاتھ کھانا کھلانے والے ہیں اور یہ لوگ امن و ایمان والے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12559]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، ميناء القرشي الزھري ليس بثقة، وقال الدارقطني: منكر الحديث، اخرجه الترمذي: 3939، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7745 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7731»
وضاحت: فوائد: … قرآن مجید میں جس تبع کا ذکر ہے اس سے مراد قوم سبا ہے، سبا میں حمیر قبیلہ تھا۔
الحكم على الحديث: ضعیف
17. الْفَضْلُ الثَّالِثُ فِيمَا وَرَدَ فِي بَنِي نَاجِيَةَ وَالنَّخَعِ وَغَزَّةَ
فصل سوم: قبیلہ بنی ناجیہ، نخع اور غزہ کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 12560
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِبَنِي نَاجِيَةَ ”أَنَا مِنْهُمْ وَهُمْ مِنِّي“
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبیلہ بنی ناجیہ کے بارے میں فرمایا: میں ان سے اور وہ مجھ سے ہیں، (یعنی وہ میرے اور میں ان کا ہوں)۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12560]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابن اخي سعد ولاضطراب سنده، اخرجه الطيالسي: 222، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1447 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1447»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 12561
وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ ابْنِ أَخِي سَعْدٍ قَالَ ذَكَرُوا بَنِي نَاجِيَةَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”هُمْ حَيٌّ مِنِّي“ وَلَمْ يُذْكَرْ فِيهِ سَعْدٌ
ایک دوسری روایت جو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے بھتیجے سے مروی ہے، اس میں ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں بنو ناجیہ کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ قبیلہ مجھ سے ہے۔ اس روایت کی سند میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا جاتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12561]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1448»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 12562
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو لِهَذَا الْحَيِّ مِنَ النَّخَعِ أَوْ قَالَ يُثْنِي عَلَيْهِمْ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي رَجُلٌ مِنْهُمْ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو نخع کے اس قبیلہ کے حق میں اس قدر دعا کی یا یوں کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی اس قدر مدح کی کہ میں نے تمنا کی کہ میں بھی ان میں سے ایک فرد ہوتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12562]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه البزار: 2830، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3826 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3826»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12563
وَعَنِ الْغَضْبَانِ بْنِ حَنْظَلَةَ أَنَّ أَبَاهُ حَنْظَلَةَ بْنَ نُعَيْمٍ وَفَدَ إِلَى عُمَرَ فَكَانَ عُمَرُ إِذَا مَرَّ بِهِ إِنْسَانٌ مِنَ الْوَفْدِ سَأَلَهُ مِمَّنْ هُوَ حَتَّى مَرَّ بِهِ أَبِي فَسَأَلَهُ مِمَّنْ أَنْتَ فَقَالَ مِنْ عَنَزَةَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”حَيٌّ مِنْ هَاهُنَا مَبْغِيٌّ عَلَيْهِمْ مَنْصُورُونَ“
حنظلہ بن نعیم سے مروی ہے کہ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے، یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ جب وفد کا کوئی آدمی ان کے پاس سے گزرتا تو وہ اس سے دریافت کرتے کہ وہ کس قبیلہ سے ہے؟ یہاں تک کہ میرے والد سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کا ان کے پاس سے گزر ہوا، انہوں نے ان سے پوچھا کہ وہ کس قبیلہ سے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں عنزہ قبیلے سے ہوں، یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: یہاں ایک قبیلہ ایسا بھی ہے کہ ان پر ظلم کیا جائے گا، لیکن ان کی تائید و نصرت کی جائے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12563]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الغضبان بن حنظلة وابيه، اخرجه البزار: 337، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 141 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 141»
الحكم على الحديث: ضعیف
18. البَابُ الْخَامِسُ فِيمَا وَرَدَ فِي بَعْضٍ قَبَائِلِ الْعَرَبِ مَدْحًا وَذَمَّا
باب پنجم: عرب کے بعض قبائل کی مدح اور مذمت میں وارد احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 12564
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”قُرَيْشٌ وَالْأَنْصَارُ وَجُهَيْنَةُ وَمُزَيْنَةُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارٌ وَأَشْجَعُ مَوَالِيَّ لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریش، انصار، جہینہ، مزینہ، بنو اسلم، بنو غفار اور بنواشجع یہ سب میرے حلیف ہیں، ان کا اللہ اور اس کے رسول کے سوا کوئی دوسرا حلیف نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12564]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7904 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7891»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12565
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَأَسْلَمُ وَغِفَارٌ وَشَيْءٌ مِنْ مُزَيْنَةَ وَجُهَيْنَةَ أَوْ شَيْءٌ مِنْ جُهَيْنَةَ وَمُزَيْنَةَ خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ“ قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ ”يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ وَهَوَازِنَ وَتَمِيمٍ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو اسلم اوربنو غفار اور مزینہ اور جہینہ قبیلے کے کچھ لوگ اللہ کے ہاں بہترین لوگ ہیں، راوی کہتا ہے: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ یہ قبائل اللہ تعالیٰ کے ہاں قیامت کے دن بنو اسد بنو غطفان، بنو ہوازن اور بنو تمیم سے افضل اور بہتر ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12565]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3523، ومسلم: 2521، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7150 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7150»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12566
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَعُصَيَّةُ الَّذِينَ عَصَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ.“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بنو اسلم کو سلامت رکھے اور بنو غفار کی مغفرت فرمائے اور عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی معصیت کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12566]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2518، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5969 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5969»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں سالم اور غفار دونوں قبائل کے حق میں دعا کر کے ان کی منقبت کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ دونوں قبیلے بغیر کسی لڑائی کے مشرف باسلام ہوئے، چونکہ غفار قبیلے پر حاجیوں کی چوری کرنے کی تہمت تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے بخشش کی دعا کی۔
الحكم على الحديث: صحیح