الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. مَا جَاءَ فِي دَم مُضَرَ
مضر قبیلے کی مذمت میں وارد شدہ احادیث
حدیث نمبر: 12587
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ قَالَ حُذَيْفَةُ وَاللَّهِ لَا تَدَعُ مُضَرُ عَبْدًا لِلَّهِ مُؤْمِنًا إِلَّا فَتَنُوهُ أَوْ قَتَلُوهُ أَوْ يَضْرِبُهُمُ اللَّهُ وَالْمَلَائِكَةُ وَالْمُؤْمِنُونَ حَتَّى لَا يَمْنَعُوا ذَنَبَ تَلْعَةٍ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ أَتَقُولُ هَذَا يَا عَبْدَ اللَّهِ وَأَنْتَ رَجُلٌ مِنْ مُضَرَ قَالَ لَا أَقُولُ إِلَّا مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ (دوسری سند) سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مضر کے لوگ اللہ کے مومن بندوں کو فتنوں میں ڈالیں گے یا انہیں قتل کر دیں گے، پھر اللہ تعالی، فرشتے اور اہل ایمان ان کی ایسی مار کٹائی کریں گے کہ وہ ذلیل و رسوا ہوکر رہ جائیں گے۔ ایک آدمی نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے اللہ کے بندے! تم خود مضر سے ہو اور یہ کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے جواباً کہا: میں وہی کہتا ہوں، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12587]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23739»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں مضر قبیلے کی مذمت بیان کی گئی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
25. الْبَابُ الْأَوَّلُ فِي فَضْلٍ مَكَّةَ
مختلف مقامات کے فضائل کے ابواب باب اول: مکہ مکرمہ کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 12588
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا الْوَلِيدُ الْأَوْزَاعِيُّ ثَنَا يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَبِي وَأَبُو دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْبٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمَعْنَى قَالَ لَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ”إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ ثُمَّ هِيَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا تَحِلُّ لُقْطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا أَنْ يَفْدِيَ وَإِمَّا أَنْ يَقْتُلَ“ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شَاهٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اكْتُبُوا لِي فَقَالَ ”اكْتُبُوا لَهُ“ فَقَالَ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ لِقُبُورِنَا وَبُيُوتِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِلَّا الْإِذْخِرَ“ فَقُلْتُ لِلْأَوْزَاعِيِّ وَمَا قَوْلُهُ اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ وَمَا يَكْتُبُونَ لَهُ قَالَ يَقُولُ اكْتُبُوا لَهُ خُطْبَتَهُ الَّتِي سَمِعَهَا قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَيْسَ يُرْوَى فِي كِتَابَةِ الْحَدِيثِ شَيْءٌ أَصَحُّ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ قَالَ ”اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ“ مَا سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُطْبَتَهُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مکہ مکرمہ فتح کر ادیا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مکہ سے ہاتھیوں کو روک لیاتھا اور اللہ نے اپنے رسول اور اہل ایمان کو مکہ پر تسلط دیاہے، میرے لیے دن کے کچھ حصہ کے لیے اس شہر میں لڑائی کی اجازت دی گئی اب یہ قیامت تک کے لیے حرم ہے، اس کے درخت نہ کاٹے جائیں، اس کے شکار کو نہ دھمکایا جائے، یہاں پر گری ہوئی چیزوں کے ملنے پر اس کااٹھانا ناجائزہے، ہاں اگر کوئی اس کا اعلان کر سکتا ہو تو وہ اٹھا سکتا ہے اور جس کا کوئی آدمی قتل ہوجائے اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے، وہ یا تو فدیہ قبول کر لے یا قاتل کو قتل کرے۔ ایک یمنی آدمی، جس کا نام ابو شاہ تھا، نے کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! یہ احکامات میرے لیے لکھوادیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو شاہ کے لیے لکھو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے درخواست کی کہ حددو حرم میں سے اذخر گھا س کے کاٹنے کی اجازت دے دیں، کیونکہ یہ قبروں اور گھروں کے عام استعمال کی چیز ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اذخر کاٹنے کی اجازت ہے۔ ولید راوی کہتے ہیں: میں نے اوزاعی سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد ابو شاہ کے لیے لکھ دو کا کیا مطلب ہے؟ صحابہ نے اس کے لیے کیا لکھا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ کا مقصد تھا کہ جو خطبہ اس آدمی نے سنا ہے، وہ اس کے لیے لکھ دیا جائے، ابو عبدالرحمن نے کہا ہے کہ جواز کتابت حدیث کے بارے میں اس سے بڑھ کر کوئی حدیث صحیح نہیں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ ابو شاہ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطبہ لکھا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12588]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا ومختصرا البخاري: 2434، ومسلم: 1355، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7242 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7241»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12589
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ مَكَّةَ فَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُعَرِّفٍ“ فَقَالَ الْعَبَّاسُ إِلَّا الْإِذْخِرَ لِصَاغَتِنَا وَقُبُورِنَا قَالَ ”إِلَّا الْإِذْخِرَ“
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کوحرم ٹھہرایا ہے، مجھ سے پہلے اور میرے بعد کسی کے لیے بھی اس کی حدود میں لڑائی کی اجازت نہیں دی گئی، مجھے بھی دن کے کچھ حصہ میں لڑنے کی اجازت دی گئی تھی، یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، درخت نہ کاٹے جائیں، شکار کو دھمکا یا نہ جائے اور اعلان کرنے واے کے علاوہ کوئی دوسرا آدمی یہاں پر گری پڑی چیز کو نہ اٹھائے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اذخر گھاس کی اجازت دیں، کیونکہ سنار لوگ اس کو استعمال کرتے ہیں اور یہ قبروں میں بھی استعمال ہوتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اذخر کی اجازت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12589]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1349، 1833، ومسلم: 1353، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2279 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2279»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12590
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ”إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فَهُوَ حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللَّهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا أُحِلَّ لِأَحَدٍ فِيهِ الْقَتْلُ غَيْرِي وَلَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي فِيهِ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ وَمَا أُحِلَّ لِي فِيهِ إِلَّا سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ فَهُوَ حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ وَلَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهُ وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهُ إِلَّا لِمُعَرِّفٍ“ قَالَ فَقَالَ الْعَبَّاسُ وَكَانَ مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ قَدْ عَلِمَ الَّذِي لَا بُدَّ لَهُمْ مِنْهُ إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّهُ لَا بُدَّ لَهُمْ مِنْهُ فَإِنَّهُ لِلْقُبُورِ وَالْبُيُوتِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِلَّا الْإِذْخِرَ“ زَادَ فِي رِوَايَةٍ فَإِنَّهُ لِبُيُوتِهِمْ وَلِقَيْنِهِمْ فَقَالَ ”إِلَّا الْإِذْخِرَ وَلَا هِجْرَةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا“
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے دن فرمایا: یہ شہر حرمت والا ہے، اللہ تعالیٰ نے جس دن زمین و آسمان کی تخلیق کی، اسی دن سے اس نے اسے حرام قرارد یا، یہ قیامت تک حرم ہے، مجھ سے پہلے اور میرے بعد قیامت تک ہر ایک کے لیے اب یہ حرمت والا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت تک کے لیے حرم قرار دیا ہے، اس کے کانٹے نہ کاٹے جائیں، گھاس نہ اکھاڑی جائے، شکار کو نہ دھمکایا جائے اور یہاں پر گری ہوئی چیز کو کوئی نہ اٹھائے، ہاں اگر کوئی اس کا اعلان کرنا چاہتا ہو تو وہ اٹھا سکتاہے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ، جو مکہ کے باشندے تھے اور وہ اہل مکہ کی ضرور ت سے واقف تھے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول!اذخر گھاس کے کاٹنے کی تو اجازت دے دیں، یہ قبروں اور گھروں کی لازمی ضرورت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں اذخرگھاس کاٹنے کی اجازت ہے۔ ایک روایت میں ہے: سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ اذخر لوگوں کے گھروں کی ضرورت ہے اور لوہار اور سنار استعمال کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اذخر کوکاٹنے کی اجازت ہے۔ نیز فرمایا: اب مکہ سے ہجرت نہیں ہوسکتی، البتہ جہاد اور ہجرت کی نیت باقی ہے،جب بھی ضرورت پڑی تو ہجرت یا جہاد کے لیے نکلیں گے اور جب تم سے جہاد کے لیے نکلنے کا مطالبہ کیا جائے تو اٹھ کھڑے ہو جانا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12590]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالسند الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2898»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12591
عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ: ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ! أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ، سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي، وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حَيْثُ تَكَلَّمَ بِهِ، أَنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: ”إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ، وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ فِيهَا دَمًا، وَلَا يَعْضِدَ فِيهَا شَجَرَةً، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا، فَقُولُوا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَذِنَ لِرَسُولِهِ، وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ، فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ.“
سعید مقبری سے روایت ہے کہ جب عمرو بن سعید لڑائی کے لیے مکہ مکرمہ کی طرف اپنے لشکر بھیج رہا تھا تو ابو شریح عدوی نے اس سے کہا: اے امیر! میں تمہیں ایک ایسی بات بتلاتا ہوں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ سے اگلے دن ارشاد فرمائی تھی، اس بات کو میرے کانوں نے سنا، میرے دل نے یاد کیا اور میری آنکھوں نے دیکھا، جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کلام فرمائی، سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی اور پھر فرمایا: جو آدمی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اس کے لیے روا نہیں کہ وہ اس شہر میں قتل و غارت کرے اور اس کے درخت کاٹے، اگر کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لڑائی کو بنیاد بنا کر مکہ میں لڑائی کا جواز پیش کرے تو تم اسے بتلا دینا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مکہ میں لڑائی کی اجازت دی تھی اور تمہیں اس کی اجازت نہیں دی اورمیرے لیے بھی دن کے ایک حصہ میں یعنی تھوڑی دیر کے لیے اجازت دی گئی تھی، آج اس کی حرمت اسی طرح بحال ہے، جیسے کل تھی، جو لوگ موجود ہیں، وہ ان لوگوں تک یہ باتیں پہنچا دیں، جو یہاں موجود نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12591]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 104، 1832، ومسلم: 1354، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16373 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16486»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12592
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعِ بْنِ الْأَسْوَدِ، أَخِي بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ مُطِيعٍ، وَكَانَ اسْمُهُ الْعَاصِ فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُطِيعًا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَمَرَ بِقَتْلِ هَؤُلَاءِ الرَّهْطِ بِمَكَّةَ، يَقُولُ: ”لَا تُغْزَى مَكَّةُ بَعْدَ هَذَا الْعَامِ أَبَدًا، وَلَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ بَعْدَ هَذَا الْعَامِ صَبْرًا أَبَدًا.“
سیدنا مطیع سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مکہ میں ایک جماعت کے افراد کے قتل کا حکم دیا تو فرمایا: آج کے بعد مکہ پر لشکر کشی نہیں کی جائے گی اور آج کے بعد کسی قریشی کو باندھ کر قتل نہیں کیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12592]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 691، والطحاوي في شرح مشكل الآثار: 1508، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15408 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15484»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12593
عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: أَتَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ابْنَ الزُّبَيْرِ، وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْحِجْرِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ! إِيَّاكَ وَالْإِلْحَادَ فِي حَرَمِ اللَّهِ، فَإِنِّي أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”يُحِلُّهَا، وَيَحُلُّ بِهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ، لَوْ وُزِنَتْ ذُنُوبُهُ بِذُنُوبِ الثَّقَلَيْنِ لَوَزَنَتْهَا.“ قَالَ: فَانْظُرْ أَنْ لَا تَكُونَ هُوَ يَا ابْنَ عَمْرٍو، فَإِنَّكَ قَدْ قَرَأْتَ الْكُتُبَ وَصَحِبْتَ الرَّسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّ هَذَا وَجْهِي إِلَى الشَّامِ مُجَاهِدًا.
سعید بن عمرو سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، جبکہ وہ حطیم میں تشریف فرما تھے، انھوں نے کہا: اے ابن زبیر! اللہ کے حرم میں قتل و غارت سے بچو، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ایک قریشی آدمی مکہ کی حرمت کو پامال کرے گا، اس کے گناہ اس قدر ہوں گے کہ اگران کا تمام انسانوں اور جنات کے گناہوں سے موازنہ کیا جائے تو اس کے گناہ وزنی ہوں گے۔ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے آگے سے کہا: اے ابن عمرو! خیال کرنا کہ وہ آدمی تم ہی نہ ہو، تم تو کتابیں پڑھے ہوئے ہو اور تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کا شرف بھی حاصل ہے، انہوں نے کہا: میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں تو بغرض جہاد شام کی طرف جارہا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12593]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين، لكن رفعه كما قال ابن كثير في النھاية قد يكون غلطا، وانما ھو من كلام عبد الله بن عمرو، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7043 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7043»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12594
وَعَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ! إِيَّاكَ وَالْإِلْحَادَ فِي حَرَمِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”إِنَّهُ سَيُلْحِدُ فِيهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ، لَوْ وُزِنَتْ ذُنُوبُهُ بِذُنُوبِ الثَّقَلَيْنِ لَرَجَحَتْ.“ قَالَ: فَانْظُرْ لَا تَكُونُهُ.
سعید سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہا: اے ابن زبیر! اللہ تعالیٰ کے حرم کے اندر فساد اور قتل و غارت سے بچو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: عنقریب اس حرم میں ایک قریشی آدمی قتل و غارت کرے گا، وہ اس قدر گنہگارہو گا کہ اگر اس کے گناہوں کا تمام انسانوں اور جنوں کے گناہوں سے موازانہ کیا گیاتو اس کے گناہ بھاری ہوں گے۔ دیکھ لو، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تم ہی ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12594]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6200»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12595
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”لَا تَزَالُ هَذِهِ الْأُمَّةُ بِخَيْرٍ مَا عَظَّمُوا هَذِهِ الْحُرْمَةَ حَقَّ تَعْظِيمِهَا، فَإِذَا تَرَكُوهَا وَضَيَّعُوهَا هَلَكُوا.“
سیدنا عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ امت جب تک مکہ کی حرمت کا پاس و لحاظ رکھے گی، خیر و سلامتی کے ساتھ رہے گی اور جب وہ اس حرمت کو چھوڑدیں گے اور ضائع کریں گے تو وہ خود بھی تباہ ہو جائیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12595]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، شريك بن عبد الله النخعي، ويزيد بن عطائ، ويزيد بن ابي زياد ضعفائ، ثم ان عبد الرحمن بن سابط لم يدرك عياش بن ابي ربيعة، اخرجه ابن ماجه: 3110، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19049 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19259»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 12596
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”الْمَدِينَةُ وَمَكَّةُ مَحْفُوفَتَانِ بِالْمَلَائِكَةِ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكٌ، لَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ.“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی طرف سے مکہ اور مدینہ کو فرشتوں کے ذریعے گھیر دیا گیا ہے، ان کے ہر راستے پر فرشتہ مقرر ہے، دجال اور طاعون ان دونوں شہروں میں داخل نہیں ہو سکتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12596]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10265 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10270»
الحكم على الحديث: صحیح