الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. الْبَابُ الْأَوَّلُ فِي فَضْلٍ مَكَّةَ
مختلف مقامات کے فضائل کے ابواب باب اول: مکہ مکرمہ کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 12597
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: وَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْحَزْوَرَةِ، فَقَالَ: ”عَلِمْتُ أَنَّكِ خَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ، وَأَحَبُّ الْأَرْضِ إِلَى اللَّهِ، وَلَوْلَا أَنَّ أَهْلَكِ أَخْرَجُونِي مِنْكِ، مَا خَرَجْتُ.“ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَالْحَزْوَرَةُ عِنْدَ بَابِ الْحَنَّاطِينَ.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حزورہ کے مقام پر رکے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: میں جانتا ہوں کہ تو اللہ کی سب سے بہتر اور اس کی محبوب ترین زمین ہے، اگر تیرے رہنے والے لو گ مجھے یہاں سے نہ نکالتے تو میں از خود کبھی نہ جاتا۔ عبدالرزاق راوی حدیث کہتے ہیں: حزورہ مقام باب الحناطین کے قریب ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12597]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح علي وھم في اسناده، اخرجه ابويعلي: 5954، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18717 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18924»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح علي وھم في اسناده
حدیث نمبر: 12598
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْحَمْرَاءِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِالْحَزْوَرَةِ مِنْ مَكَّةَ يَقُولُ لِمَكَّةَ: ”وَاللَّهِ! إِنَّكِ لَأَخْيَرُ أَرْضِ اللَّهِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ.“ فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ کے حزورہ مقام پر کھڑے ہو کر مکہ سے مخاطب ہو کر فرمایا: اللہ کی قسم! بیشک تو اللہ کی زمین میں سب سے بہتر اور محبوب ترین جگہ ہے، …۔ آگے سابق روایت کی طرح کے الفاظ ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12598]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه الترمذي: 3925، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18716 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18923»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 12599
عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”سَيَخْرُجُ أَهْلُ مَكَّةَ، ثُمَّ لَا يَعْمُرُونَهَا أَوْ لَا تُعْمَرُ إِلَّا قَلِيلًا، ثُمَّ تَمْتَلِئُ وَتُبْنَى، ثُمَّ يَخْرُجُونَ مِنْهَا فَلَا يَعُودُونَ فِيهَا أَبَدًا.“
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب اہل مکہ یہاں سے نکل جائیں گے، پھر اس کے بعد وہ اسے آباد نہیں کرسکیں گے یا یوں فرمایا کہ اس کے بعد وہ آباد نہیں کیا جائے گا، مگر تھوڑا، پھر یہ آباد ہونا شروع ہو گا اور بھر جائے گا اور اس کو تعمیر کیا جائے گا، لیکن اس کے بعد جب لوگ نکل جائیں گے تو وہ کبھی بھی اس کی طرف واپس نہیں آئیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12599]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لھيعة، اخرجه ابن ابي شيبة في تاريخ المدينة: 1/ 283، والبزار في مسنده: 233، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14735 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14794»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لھيعة
26. الْبَابُ الثَّانِي مَا جَاءَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَهُوَ مسجد مَكَّةَ
باب دوم: مسجد حرام یعنی مکہ کی مسجد کا تذکرہ
حدیث نمبر: 12600
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”خَيْرُ مَا رُكِبَتْ إِلَيْهِ الرَّوَاحِلُ مَسْجِدُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَمَسْجِدِي.“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جن مقامات کی طرف اونٹوں پر سفر کیا جاتا ہے، ان میں سے سب سے افضل اور بہترین مقامات ابراہیم علیہ السلام کی مسجد اور میری مسجد ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12600]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه البزار: 1075، وابويعلي: 2266، والنسائي في الكبري: 11347، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14612 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14667»
وضاحت: فوائد: … ابراہیم علیہ السلام کی مسجد سے مراد مسجد ِ حرام ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد سے مراد مسجد ِ نبوی ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 12601
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، وَصَلَاةٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَفْضَلُ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ صَلَاةٍ.“ قَالَ حُسَيْنٌ: فِيمَا سِوَاهُ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اس مسجد میں ادا کی گئی ایک نماز مسجد حرام کے علاوہ باقی مساجد کی ایک ہزار نماز وں سے افضل ہے اور مسجد حرام میں ادا کی گئی ایک نماز باقی مساجد کی ایک لاکھ نماز سے افضل ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12601]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن ماجه: 1406، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14694 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14750»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 12602
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، وَصَلَاةٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَفْضَلُ مِنْ مِائَةِ صَلَاةٍ فِي هَذَا.“
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اس مسجد میں ایک نماز باقی مساجد کی ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے، سوائے مسجد ِ حرام کے اورمسجد حرام کی ایک نماز اس مسجد کی سو نمازوں سے افضل ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12602]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه البزار: 425، وابن حبان: 1620، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16117 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16216»
وضاحت: فوائد: … مسجد نبوی میں ادا کی گئی نماز ایک ہزار نماز سے افضل ہے، اس لیے اس کی سو نمازوں سے مراد ایک لاکھ نماز ہے، اس طرح یہ روایت پچھلی حدیث کے ہم معنی ہی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
27. الْبَابُ الثَّالِثُ فِيْمَا جَاءَ فِي فَضْلِ زَمْزَمَ
باب سوم: آب زمزم کی فضیلت
حدیث نمبر: 12603
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ جِبْرِيلَ لَمَّا رَكَضَ زَمْزَمَ بِعَقِبِهِ جَعَلَتْ أُمُّ إِسْمَاعِيلَ تَجْمَعُ الْبَطْحَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”رَحِمَ اللَّهُ هَاجَرَ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ، لَوْ تَرَكَتْهَا لَكَانَتْ مَاءً مَعِينًا.“
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب جبریل علیہ السلام نے زمزم کا پانی نکالنے کے لیے اپنی ایڑی پر زور دیا تو اسماعیل علیہ السلام کی ماں کشادہ وادی (پر بنیری بنا کر) اس کو جمع کرنے لگ گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ امِّ اسماعیل ہاجرہ پر رحم فرمائے، اگر وہ اس پانی کو چھوڑ دیتی تو یہ جاری چشمہ ہوتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12603]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه ابن حبان: 3713، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21125 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21443»
وضاحت: فوائد: … مائے زمزم انتہائی بابرکت پانی ہے اور حدیث ِ نبوی کی رو سے کھانے سے بھی کفایت کرجاتا ہے، اس پانی کی ابتدا کیسے اور کب ہوئی؟ اس حدیث میں اس سوال کا جواب دیا جارہا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 12604
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ.“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زمزم کا پانی جس مقصد کے لیے پیا جائے، وہی مقصد پورا ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12604]
تخریج الحدیث: «حديث محتمل للتحسين، اخرجه ابن ماجه: 3062، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14849 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14910»
وضاحت: فوائد: … زمزم کے پانی کو اللہ تعالیٰ نے انتہائی بابرکت بنایا ہے، یہ ایسا مبارک پانی ہے کہ کھانے سے بھی کفایت کرتا ہے، نیز اس سے ہر قسم کی روحانی اور جسمانی بیماریاں دو ر ہو جاتی ہیں۔
الحكم على الحديث:
حديث محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 12605
عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ إِنَّهَا طَعَامُ طَاعِمٍ.“ (يَعْنِي زَمْزَمَ)
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آب زمزم بابرکت ہے اور کھانے والے کا کھاناہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12605]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 2473، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21525 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21858»
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 2473
28. البابُ الرَّابِعُ فِيْمَا جَاءَ فِي وَادِي السَّرَرِ بِطَرِيْقِ مَكَّةَ
باب چہارم: مکہ مکرمہ کے راستے میں واقع وادی سرر کا تذکرہ
حدیث نمبر: 12606
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: عَدَلَ إِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَأَنَا نَازِلٌ تَحْتَ سَرْحَةٍ بِطَرِيقِ مَكَّةَ، فَقَالَ: مَا أَنْزَلَكَ تَحْتَ هَذِهِ السَّرْحَةِ؟ قُلْتُ: أَرَدْتُ ظِلَّهَا، قَالَ: هَلْ غَيْرَ ذَلِكَ؟ قُلْتُ: لَا، مَا أَنْزَلَنِي إِلَّا ذَلِكَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِذَا كُنْتَ بَيْنَ الْأَخْشَبَيْنِ مِنْ مِنًى، وَنَفَحَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، فَإِنَّ هُنَالِكَ وَادِيًا، يُقَالُ لَهُ: السُّرَرُ، بِهِ سَرْحَةٌ سُرَّ تَحْتَهَا سَبْعُونَ نَبِيًّا.“
سیدنا عمران انصاری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مکہ کے راستے میں ایک بڑے درخت کے نیچے ٹھہراہوا تھا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ میری طرف آئے اور انہوں نے پوچھا: آپ اس درخت کے نیچے کس لیے ٹھہرے ہیں؟ میں نے کہا: میں تو محض اس کے سائے میں آرام کی غرض سے رکا ہوں، انہوں نے کہا: کیا اس کے علاوہ بھی کوئی مقصد ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، میں تو صرف سایہ میں آرام کی غرض سے یہاں ٹھہرا ہوں، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب تم منی میں دو پہاڑوں کے درمیان پہنچ جاؤ اور پھر مشرق کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ وہاں ایک وادی ہے، جسے وادی سرر کہتے ہیں، اس میں ایک بڑا درخت ہے، جس کے نیچے سترانبیاء کی ولادت ہوئی اور ان کی ناف یہیں کاٹی گئی۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12606]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن عمران الانصاري و ابوه، قال الذھبي: لا يدري من ھو ولا ابوه، اخرجه النسائي: 5/ 248، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6233 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6233»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف