الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. البَابُ الْخَامِسُ فِيمَا وَرَدَ فِي بَعْضٍ قَبَائِلِ الْعَرَبِ مَدْحًا وَذَمَّا
باب پنجم: عرب کے بعض قبائل کی مدح اور مذمت میں وارد احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 12567
حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، أَمَا وَاللَّهِ! مَا أَنَا قُلْتُهُ وَلَكِنَّ اللَّهَ قَالَهُ.“
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بنو سالم کو سلامت رکھے اور بنو غفارکی مغفرت فرمائے، خبردار! اللہ کی قسم! یہ بات میں نے نہیں کہی، اللہ تعالیٰ نے خود فرمائی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12567]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، اخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 197، والطبراني في الكبير: 6255، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16517 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16632»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12568
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”أَسْلَمَ سَالَمَهَا اللَّهُ وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، مَا أَنَا قُلْتُهُ وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَهُ.“
سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سالم قبیلہ کو سلامت رکھے اور غفار قبیلہ کی مغفرت فرمائے، یہ بات میں نہیں کہہ رہا، اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12568]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله: ما انا قلته ولكن الله قاله وھي زياده منكرة تفرد بھا علي بن زيد بن جدعان، وھو ضعيف، وأما المغيرة بن أبي برزة فمجھول، اخرجه البزار: 2818، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19774 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20012»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12569
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الضَّبِّيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّمَا بَايَعَكَ سُرَّاقُ الْحَجِيجِ مِنْ أَسْلَمَ وَغِفَارٍ وَمُزَيْنَةَ، وَأَحْسَبُ جُهَيْنَةَ، مُحَمَّدٌ الَّذِي يَشُكُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ أَسْلَمُ وَغِفَارٌ وَمُزَيْنَةَ، وَأَحْسَبُ جُهَيْنَةَ خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ وَبَنِي عَامِرٍ وَأَسَدٍ وَغَطَفَانَ أَخَابُوا وَخَسِرُوا.“ فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: ”وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُمْ لَأَخْيَرُ مِنْهُمْ إِنَّهُمْ لَأَخْيَرُ مِنْهُمْ.“
سیدنا اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اسلم، غفار، مزینہ او رمیرا خیال ہے کہ راوی نے جہینہ کا نام بھی لیا تھا، یہ قبائل حاجیوں کی چوریاں کیاکرتے تھے، ان سب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اسلم، غفار، مزینہ، جہینہ کے قبائل تمیم، عامر، اسد اور غطفان سے بہتر ہوں توکیا وہ قبائل خسارے میں نہ ہو ں گے؟ اس نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ ا ن سے کہیں بہتر ہیں وہ ان سے بدر جہا بہتر ہیں۔ جہینہ قبیلے کے بارے میں محمد بن ابی یعقوب راوی کو شک ہواہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12569]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3516، ومسلم: 2522، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20423 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20694»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12570
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ أَسْلَمَ وَغِفَارًا وَمُزَيْنَةَ وَأَشْجَعَ وَجُهَيْنَةَ، وَمَنْ كَانَ مِنْ بَنِي كَعْبٍ مَوَالِيَّ دُونَ النَّاسِ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَاهُمْ.“
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ؒ نے فرمایا: اسلم، غفار، مزینہ، اشجع، جہینہ اور بنو کعب کے قبائل میرے حلیف، معاون اور مدد گار ہیں اوراللہ اور اس کے رسول ان کے مددگار ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12570]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2519، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23543 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23939»
الحكم على الحديث: صحیح
19. مَا جَاءَ فِي بَجِيْلَةَ وَأَحْمَسَ وَقَيْسٍ وَبَنِى نَاجِيَةً
بجیلہ، احمس، قیس اورناجیہ کے قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 12571
عَنْ مُخَارِقٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ بَجِيلَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”اكْتُبُوا الْبَجَلِيِّينَ وَابْدَءُوا بِالْأَحْمَسِيِّينَ.“ قَالَ: فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ، قَالَ: حَتَّى أَنْظُرَ مَا يَقُولُ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَدَعَا لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسَ مَرَّاتٍ: ”اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ، أَوِ اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِمْ.“ مُخَارِقٌ الَّذِي يَشُكُّ.
سیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بجیلہ کا ایک وفد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: تم بنو بجیلہ کے افراد کے نام درج کر لو اور بنو احمس کے نام پہلے لکھنا۔ یہ سن کر بنو قیس کا ایک آدمی پیچھے ہٹ گیا، تاکہ وہ یہ دیکھے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے بارے میں کیا فرماتے ہیں، وہ بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں پانچ مرتبہ فرمایا: اے اللہ! تو ان پر رحمت فرما۔ یا اے اللہ! تو ان پر برکت نازل فرما۔ ان الفاظ میں مخارق راوی کو شک ہوا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12571]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه مختصرا لطيالسي: 1281، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18833 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19039»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12572
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) عَنْ مُخَارِقٍ، عَنْ طَارِقٍ قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ أَحْمَسَ وَوَفْدُ قَيْسٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”ابْدَءُوا بِالْأَحْمَسِيِّينَ قَبْلَ الْقَيْسِيِّينَ.“ وَدَعَا لِأَحْمَسَ، فَقَالَ: ”اللَّهُمَّ بَارِكْ فِي أَحْمَسَ وَخَيْلِهَا وَرِجَالِهَا.“ سَبْعَ مَرَّاتٍ.
۔ (دوسری سند) طارق بن شہاب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بنو احمس اور بنو قیس کے افراد کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بنو قیس سے پہلے بنو احمس سے ابتدا کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو احمس کے حق میں سات مرتبہ یہ دعا فرمائی، اَللّٰہُمَّ بَارِکْ فِی أَحْمَسَ وَخَیْلِہَا وَرِجَالِہا (یااللہ! تو بنو احمس، ان کے سواروں اور پیادوں میں برکت فرما۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12572]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مختصرا لطيالسي: 1281، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18833 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19039»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12573
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”إِنَّ أَسْرَعَ أُمَّتِي بِي لُحُوقًا فِي الْجَنَّةِ امْرَأَةٌ مِنْ أَحْمَسَ.“
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں سب سے پہلے بنو احمس کی ایک عورت مجھے آکر ملے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12573]
تخریج الحدیث: «سناده ضعيف، كريم بن ابي حازم لم يوثقه غير ابن حبان، أخرجه أبويعلي: 5328، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3822 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3822»
الحكم على الحديث: ضعیف
20. مَا جَاءَ فِي تَقِيفٍ وَدَوْسِ
بنو ثقیف اور دوس کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 12574
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”اللَّهُمَّ اهْدِ ثَقِيفًا.“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! بنو ثقیف کو ہدایت دے دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12574]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه الترمذي: 3942، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14702 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14758»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12575
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ الطُّفَيْلُ وَأَصْحَابُهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ دَوْسًا قَدِ اسْتَعْصَتْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهِمْ.“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا طفیل رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے تو طفیل رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک بنو دوس نے سرکشی کی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! بنودوس کو ہدایت دے اور ان کومیرے پاس لے آ۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12575]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4392، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9784 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9783»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 12576
(وَعَنْهُ أَيْضًا) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرَةً، فَعَوَّضَهُ سِتَّ بَكَرَاتٍ فَتَسَخَّطَهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: ”إِنَّ فُلَانًا أَهْدَى إِلَيَّ نَاقَةً، وَهِيَ نَاقَتِي أَعْرِفُهَا كَمَا أَعْرِفُ بَعْضَ أَهْلِي، ذَهَبَتْ مِنِّي يَوْمَ زَغَابَاتِ فَعَوَّضْتُهُ سِتَّ بَكَرَاتٍ فَظَلَّ سَاخِطًا، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَقْبَلَ هَدِيَّةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ أَوْ دَوْسِيٍّ.“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بدو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک اونٹنی بطور ہدیہ پیش کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بدلے میں چھ اونٹنیاں عنایت فرمائیں، وہ تب بھی ناراض ہی رہا، جب یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: فلاں آدمی نے مجھے ایک اونٹنی بطور ہدیہ پیش کی تھی، حالانکہ وہ میری ہی اونٹنی تھی، میں اسے اسی طرح پہچانتا ہوں، جیسے میں اپنے اہل خانہ کو پہنچانتا ہوں، وہ زغابہ کے د ن لڑائی میں میرے ہاتھو ں سے نکل گئی تھی، تاہم میں نے اسے بدلے میں چھ اونٹنیاں دے دیں تھیں، مگر وہ پھر بھی ناراض رہا، اب میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں قریشی، انصاری، ثقفی یا دوسی کے علاوہ کسی سے کوئی ہدیہ قبول نہ کروں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12576]
تخریج الحدیث: «حسن، اخرجه الترمذي: 3945، والنسائي: 6/ 279، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7918 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7905»
الحكم على الحديث: صحیح