🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. مَا جَاءَ فِي الْأَزْدِ وَ بَنِي تَمِيمٍ
بنوازد اور بنو تمیم کے بارے میں وراد احادیث کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12577
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”نِعْمَ الْقَوْمُ الْأَزْدُ طَيِّبَةٌ أَفْوَاهُهُمْ بَرَّةٌ أَيْمَانُهُمْ نَقِيَّةٌ قُلُوبُهُمْ“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو ازد بہترین قوم ہیں، ان کے منہ یعنی ان کی گفتگو نہایت عمدہ ہے، یہ اپنی نذروں کو پورا کرتے ہیں اور ان کے دل (بغض، حسد اور کینہ وغیرہ سے)صاف اور پاک ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12577]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8600»

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12578
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”هَذِهِ صَدَقَةُ قَوْمِي وَهُمْ أَشَدُّ النَّاسِ عَلَى الدَّجَّالِ“ يَعْنِي بَنِي تَمِيمٍ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا كَانَ قَوْمٌ مِنَ الْأَحْيَاءِ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْهُمْ فَأَحْبَبْتُهُمْ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو تمیم کے بارے میں فرمایا: یہ صدقہ میری قوم کی طرف سے ہے اور یہ دجال کے مقابلہ میں سب سے زیادہ سخت ہوں گے۔ سیدنا ابو ہریرہ کہتے ہیں: ا س سے پہلے بنو تمیم کے لوگ مجھے سب سے زیادہ ناپسند تھے، لیکن میں نے جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے بارے میں یہ فرماتے سنا، تب سے میں ان سے محبت کرتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12578]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2543، 4366، ومسلم: 2525، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9068 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9056»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2543
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12579
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ وَنَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عِنْدَهُ فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى لِيَحْصِبَهُ ثُمَّ قَالَ عِكْرِمَةُ حَدَّثَنِي فُلَانٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ تَمِيمًا ذُكِرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ أَبْطَأَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ تَمِيمٍ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى مُزَيْنَةَ فَقَالَ ”مَا أَبْطَأَ قَوْمٌ هَؤُلَاءِ مِنْهُمْ“ وَقَالَ رَجُلٌ يَوْمًا أَبْطَأَ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ مِنْ تَمِيمٍ بِصَدَقَاتِهِمْ قَالَ فَأَقْبَلَتْ نَعَمٌ حُمْرٌ وَسُودٌ لِبَنِي تَمِيمٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”هَذِهِ نَعَمُ قَوْمِي“ وَنَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ ”لَا تَقُلْ لِبَنِي تَمِيمٍ إِلَّا خَيْرًا فَإِنَّهُمْ أَطْوَلُ النَّاسِ رِمَاحًا عَلَى الدَّجَّالِ“
عکرمہ بن خالد سے مروی ہے کہ اس کے سامنے ایک آدمی نے بنو تمیم کے بارے میں نازیبا الفاظ کہے، تو انہوں نے اسے مارنے کے لیے کنکروں سے بھری ہوئی مٹھی اٹھالی، پھر عکرمہ نے کہا: مجھے فلاں صحابی نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بنو تمیم کا ذکر کیا گیا تو کسی نے کہا: انہوں نے اسلام قبول کرنے میں کافی تاخیر کر دی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو مزینہ کی طرف دیکھ کر فرمایا: ان لوگوں نے کوئی دیر نہیں کی، بنو مزینہ بھی انہی میں سے ہیں۔ پھر ایک دن ایک آدمی نے یوں کہہ دیا کہ بنو تمیم نے اپنے صدقات کی ادائیگی اور ترسیل میں دیر کر دی ہے اور پھر بنو تمیم کی طرف سے سر خ اور سیاہ اونٹ آن پہنچے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان اونٹوں کو دیکھ کر فرمایا: یہ میری قوم کی زکوۃ ہے۔ پھر ایک آدمی نے بنو تمیم کے بارے میں ناقدانہ تبصرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بنو تمیم کے بارے میں اچھی باتوں کے سوا کچھ نہ کہا کرو، دجال کے مقابلے میں ان کے نیزے سب سے بلند ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12579]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17533 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17674»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. مَا جَاءَ فِي رَبِيعَةَ وَمُضَرَ
ربیعہ اور مضر ے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12580
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ أَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَنِ فَقَالَ ”الْإِيمَانُ هَاهُنَا الْإِيمَانُ هَاهُنَا وَإِنَّ الْقَسْوَةَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الْإِبِلِ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ فِي رَبِيعَةَ وَمُضَرَ“
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک سے یمن کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ایمان یہاں ہے، ایمان یہاں ہے، اور شدت اور دلوں کی سختی اونٹوں کے مالکوں میں ہے، جہاں سے ربیعہ اور مضر میں سے شیطان کے سینگ طلوع ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12580]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3302، 5303، ومسلم: 51، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22343 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22699»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3302
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12581
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَتَضْرِبَنَّ مُضَرُ عِبَادَ اللَّهِ حَتَّى لَا يُعْبَدَ لِلَّهِ اسْمٌ وَلَيَضْرِبَنَّهُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَتَّى لَا يَمْنَعُوا ذَنَبَ تَلْعَةٍ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو مضر اللہ کے بندوں کو اس حدتک ماریں گے کہ اللہ کی عبادت کرنے والا کوئی نام نہیں رہے گا، پھر اہل ایمان ان کو ضرور ضرور اس طرح ماریں گے اور وہ ذلیل و رسوا ہو کر رہ جائیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12581]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11821 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11843»
وضاحت: فوائد: … ذَنَب کا معنی نچلی جگہ اور تَلْعَۃ سے مراد پانی کے بہاؤ کی وہ جگہ ہے، جہاں پانی اوپر سے نیچے کو بہہ رہا ہوتا ہے،
حَتّٰی لَا یَمْنَعُوا ذَنَبَ تَلْعَۃٍ کا مفہوم یہ ہے کہ وہ قبیلہ ذلیل و خوار ہو جائے گا اور اس کا کوئی غمخوار نہ ہو گا۔ بعض کے نزدیک تَلْعَۃ لفظ کا اطلاق بلند اور پست زمین دونوں پر ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12582
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ قَالَ ”اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْجِ الْوَلِيدَ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ كَسِنِي يُوسُفَ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز فجر کی آخری رکعت سے سر اٹھایا تو یوں دعا کی: اے اللہ! توں ہمارا رب ہے اور تیری ہی تعریف ہے، تو ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور بے کس مسلمانوں کو نجات دلا، اے اللہ! تو مضر پر اپنی گرفت سخت کر اور ان پر یوسف علیہ السلام کے دور جیسا قحط مسلط فرما۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12582]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6200، ومسلم: 675، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7260 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7259»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6200
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12583
عَنْ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُضَرَ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ نَصَرَكَ وَأَعْطَاكَ وَاسْتَجَابَ لَكَ وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ فَأَعْرَضَ عَنْهُ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ نَصَرَكَ وَأَعْطَاكَ وَاسْتَجَابَ لَكَ وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ قَالَ ”اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيعًا طَبَقًا غَدَقًا غَيْرَ رَائِثٍ نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ“ فَمَا كَانَتْ إِلَّا جُمُعَةً أَوْ نَحْوَهَا حَتَّى مُطِرُوا قَالَ شُعْبَةُ فِي الدُّعَاءِ كَلِمَةٌ سَمِعْتُهَا مِنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَالِمٍ فِي الِاسْتِسْقَاءِ وَفِي حَدِيثِ حَبِيبٍ أَوْ عَمْرٍو عَنْ سَالِمٍ قَالَ جِئْتُكَ مِنْ عِنْدِ قَوْمٍ مَا يَخْطِرُ لَهُمْ فَحْلٌ وَلَا يُتَزَوَّدُ لَهُمْ رَاعٍ
سیدنا کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مضر پر بددعا کی، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول!بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد فرمائی اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاقبول فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوم ہلاک ہورہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ سے ان کے حق میں دعا فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رخ پھیرلیا، میں نے دوبارہ کہا: اللہ کے رسول! بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا قبول فرمائی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوم ہلاک ہو رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ سے ان کے حق میں دعا فرمائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ! ایسی بارش نازل فرما، جو ہمیں سیراب کر دے، بہت زیادہ ہو، نفع والی ہو، نقصان والی نہ ہو۔ ایک ہفتہ کے لگ بھگ گزرا ہوگا کہ وہاں خوب بارش برسی۔ شعبہ راوی نے اس دعا میں ایسا لفظ بھی بیان کیا ہے جو میں نے حبیب بن ابی ثابت عن سالم سے الا ستسقاء میں بھی سنا ہے اور سالم سے حبیب یا عمرو کی روایت میں ہے: میں آپ کے پاس ایسی قوم کے پاس سے آرہا ہوں کہ شدت بھوک کی وجہ سے ان کے اونٹ اپنی دموں کو حرکت تک نہیں دیتے اور ان کے چرواہوں کے پاس زادِ راہ تک نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12583]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، سالم بن ابي الجعد لم يسمع من شرحبيل بن السمط، اخرجه ابن ماجه: 1269، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18062 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18229»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. مَا جَاءَ فِي نَجْرَانَ وَبَنِي تَغْلَبَ وَثَقِيفِ وَبَنيْ حنیفة
بنو نجران، بنو تغلب، بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12584
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”شَرُّ قَبِيلَتَيْنِ فِي الْعَرَبِ نَجْرَانُ وَبَنُو تَغْلِبَ وَأَكْثَرُ الْقَبَائِلِ فِي الْجَنَّةِ مَذْحِجٌ وَمَاكُولٌ“
سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نجران اور بنو تغلب، یہ دو قبیلے عرب میں بہت برے ہیں اور جنت میں بنو مذحج اور بنو ماکول کے لوگ سب سے زیادہ ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12584]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19445 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19675»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12585
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ كَانَ أَبْغَضَ النَّاسِ أَوْ أَبْغَضَ الْأَحْيَاءِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَقِيفٌ وَبَنُو حَنِيفَةَ
سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بنو ثقیف اور بنو حنیفہ سے سب سے زیادہ نفر ت تھی [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12585]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال ابي حمزة، اخرجه الحاكم: 4/ 480، وابويعلي: 7421، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19775 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20013»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة حال ابي حمزة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. مَا جَاءَ فِي دَم مُضَرَ
مضر قبیلے کی مذمت میں وارد شدہ احادیث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12586
عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنْ مُضَرَ لَا تَدَعُ لِلَّهِ فِي الْأَرْضِ عَبْدًا صَالِحًا إِلَّا فَتَنَتْهُ وَأَهْلَكَتْهُ حَتَّى يُدْرِكَهَا اللَّهُ بِجُنُودٍ مِنْ عِبَادِهِ فَيُذِلَّهَا حَتَّى لَا تَمْنَعَ ذَنَبَ تَلْعَةٍ“
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مضر کا یہ قبیلہ زمین پر موجود صالح لوگوں کو فتنوں میں ڈالے گا اور انہیں ہلاک کرے گا، یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں کے لشکروں کے ذریعے ان کی گرفت کرے گا اور ان کو ذلت و رسوائی میں مبتلا کر دے گا اور وہ ذلیل و رسوا ہو کر رہ جائیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الفضائل/حدیث: 12586]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه البزار في مسنده: 2797، وابن ابي شيبة: 15/ 111، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23316 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23705»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں