سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
1. فَضَائِلُ الْقُرْآنِ
قرآن کے فضائل
ترقیم دار السلفیہ: 131 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 131
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةَ أَبِي مُوسَى، فَقَالَ:" لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی قراءت سنی تو فرمایا: بے شک، انہیں آلِ داؤد کے سازوں میں سے ایک ساز عطا کیا گیا ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 131]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7195، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1019، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1094، 1095، 7997، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1530، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 131، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24731، 25980، والحميدي فى (مسنده) برقم: 284، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 30560، 32925»
الحكم على الحديث: سنده صحيح.
ترقیم دار السلفیہ: 132 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 132
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَسَمِعْتُ قِرَاءَةً، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟، فَقَالُوا: حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، كَذَلِكُمُ الْبِرُّ، كَذَلِكُمُ الْبِرُّ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا تو ایک قراءت سنی، میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ تو کہا گیا: حارثہ بن نعمان۔ (پھر فرمایا:) نیکی کا یہی مقام ہے، نیکی کا یہی مقام ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 132]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7014، 7015، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4958، 7340، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8176، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 132، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24714، والحميدي فى (مسنده) برقم: 287، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 4425، والبزار فى (مسنده) برقم:، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 20119»
الحكم على الحديث: سنده ظاهر الصحّة
ترقیم دار السلفیہ: 133 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 133
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، أَنَّ عَلِيًّا " فَرَضَ أَوْ أَعْطَا لِمَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ أَلْفَيْنِ أَلْفَيْنِ، وَكَانَ أَبِي مِمَّنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَلَمْ يَأْخُذْ" .
سالم بن ابی الجعد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قرآن پڑھنے والے کے لیے دو دو ہزار (درہم) مقرر کیے، اور میرے والد بھی قرآن پڑھنے والوں میں سے تھے مگر انہوں نے نہیں لیے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 133]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
الحكم على الحديث: سنده رجاله ثقات
ترقیم دار السلفیہ: 134 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 134
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ، وَأَنَا لا أَدْرِي أَنَّ أَحَدًا يُرِيدُ بِقِرَاءَتِهِ غَيْرَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، حَتَّى خُيِّلَ إِلَيَّ بِآخِرَةٍ أَنَّ أَقْوَامَا يُرِيدُونَ بِقِرَاءَتِهِمْ غَيْرَ اللَّهِ، فَأَرِيدُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِقِرَاءَتِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ" .
ابو فراس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے لوگو! ایک زمانہ ایسا تھا کہ میں یہ نہیں جانتا تھا کہ کوئی قرآن کی تلاوت سے اللہ عزوجل کے سوا کسی اور کی رضا چاہ سکتا ہے، یہاں تک کہ بعد میں مجھے خیال ہونے لگا کہ کچھ لوگ اپنی تلاوت سے غیر اللہ کو راضی کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا اپنی قراءت اور اعمال میں اللہ عزوجل کی رضا ہی کو مقصود بناؤ۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 134]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 911، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 116، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8450، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4791، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6953، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4537، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 134، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16116، وأحمد فى (مسنده) برقم: 292، وأخرجه ابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 33592»
الحكم على الحديث: سنده ضعيف لجهالة أبي فراس النهدي
ترقیم دار السلفیہ: 135 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 135
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ بَهْرَامَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ:" إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ قَرَأَهُ عَبِيدٌ وَصِبْيَانٌ لَمْ يَأْخُذُوهُ مِنْ أَوَّلِهِ، وَلا عِلْمَ لَهُمْ بِتَأْوِيلِهِ، إِنَّ أَحَقَّ النَّاسِ بِهَذَا الْقُرْآنِ مَنْ رُئِيَ فِي عَمَلِهِ،" قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الأَلْبَابِ سورة ص آية 29، وُإِنَّمَا تَدَبُّرُ آيَاتِهِ اتِّبَاعُهُ بِعَمَلِهِ، يَقُولُ أَحَدُهُمْ لِصَاحِبِهِ: تَعَالَ أُقَارِئْكَ، وَاللَّهِ مَا كَانَتِ الْقُرَّاءُ تَفْعَلُ هَذَا، وَاللَّهِ مَا هُمْ بِالْقُرَّاءِ، وَلا الْوَرَعَةِ، لا كَثَّرَ اللَّهُ فِي النَّاسِ أَمْثَالَهُمْ، لا كَثَّرَ اللَّهُ فِي النَّاسِ أَمْثَالَهُمْ" .
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ قرآن ایسے غلاموں اور بچوں نے پڑھا ہے جو نہ اسے اس کے آغاز سے سیکھ سکے اور نہ ہی ان کو اس کی تفسیر و تعبیر کا علم ہے۔ بلاشبہ قرآن کے سب سے زیادہ حقدار وہ لوگ ہیں جن کے عمل میں اس کی جھلک نظر آتی ہے، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ﴾ [سورہ ص: 29] ”یہ ایک بابرکت کتاب ہے، جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیات پر غور و تدبر کریں اور عقل والے نصیحت حاصل کریں“ اور اس کی آیات پر غور و تدبر کا حقیقی مطلب اس کی پیروی اور عمل کرنا ہے۔ (آج) ایک شخص دوسرے سے کہتا ہے: ”آؤ، میں تمہیں قرآن پڑھاؤں!“ اللہ کی قسم! پہلے کے قراء (تلاوت کرنے والے) ایسا نہیں کرتے تھے، اللہ کی قسم! یہ نہ تو قراء میں سے ہیں اور نہ ہی اہلِ تقویٰ میں سے، اللہ ایسے لوگوں کو زیادہ نہ کرے، اللہ ایسے لوگوں کو زیادہ نہ کرے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 135]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى سننه برقم: 135 وعبد الرزاق فى مصنفه برقم: 5984»
الحكم على الحديث: سنده حسن
ترقیم دار السلفیہ: 136 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 136
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ مِائَةَ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِينَ، وَمَنْ حَافَظَ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ" .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ یا سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رات کے وقت سو (100) آیات کی تلاوت کرے، وہ قانتین (فرمانبردار بندوں) میں لکھا جاتا ہے، اور جو پانچوں نمازوں کی پابندی کرے، وہ غافلوں میں شمار نہیں ہوگا۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 136]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1142، 1143، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1164، 1165، والدارمي فى (مسنده) برقم: 3501، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 136، والبزار فى (مسنده) برقم: 8284، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 30708، 30710، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 7678»
الحكم على الحديث: سنده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 137 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 137
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ، قَالَ:" كَانُوا يَكْرَهُونَ أَنْ يَقْرَءُوا بَعْضَ الآيَةِ وَيَتْرُكُوا بَعْضًا" .
ابن ابی الہذیل رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام بعض آیات کو جزوی طور پر پڑھنے اور کچھ چھوڑ دینے کو ناپسند کرتے تھے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 137]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 137، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 30893»
الحكم على الحديث: سنده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 138 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 138
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سُبَيْعٍ ، قَالَ: " مَنْ قَرَأَ عِنْدَ مَنَامِهِ آيَاتٍ مِنَ الْبَقَرَةِ لَمْ يَنْسَ الْقُرْآنَ: أَرْبَعَ آيَاتٍ مِنْ: وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ سورة البقرة آية 163، وَآيَةَ الْكُرْسِيِّ، وَالثَّلاثَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِهَا" .
مغیرہ بن سبیع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جو شخص سونے سے پہلے سورہ البقرہ کی چند آیات پڑھے، وہ قرآن کو نہیں بھولے گا؛ یعنی چار آیات: ﴿وَإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَٰنُ الرَّحِيمُ﴾، آیت الکرسی، اور اس کے آخری تین آیات۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 138]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارمي فى مسنده برقم: 3428 وسعيد بن منصور فى سننه برقم: 138»
الحكم على الحديث: سنده صحيح.
ترقیم دار السلفیہ: 139 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 139
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " لَيْسَ الْخَطَأُ أَنْ تَجْعَلَ خَاتِمَةَ آيَةٍ خَاتِمَةَ آيَةٍ أُخْرَى" .
ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: غلطی یہ نہیں کہ ایک آیت کے خاتمے کو دوسری آیت کے خاتمے سے ملا دیا جائے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 139]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 139، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 5985، والطبراني فى(الكبير) برقم: 8683»
الحكم على الحديث: سنده رجاله ثقات، إلا أن مغيرة يدلِّس
ترقیم دار السلفیہ: 140 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 140
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" لا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: أَخَذْتُ الْقُرْآنَ كُلَّهُ، وَمَا يُدْرِيهِ مَا كُلُّهُ، قَدْ ذَهَبَ مِنْهُ قُرْآنٌ كَثِيرٌ، وَلَكِنْ يَقُولُ: أَخَذْنَا مَا ظَهَرَ مِنْهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میں نے پورا قرآن لے لیا، اسے کیا معلوم کہ پورا قرآن کیا ہے! اس میں سے بہت سا قرآن جا چکا ہے، بلکہ یوں کہے: ہم نے اس میں سے وہی لیا جو ظاہر ہوا۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 140]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
الحكم على الحديث: سنده صحيح.