سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
206. قَوْلُهُ تَعَالَى: {فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ} .
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ» کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 801 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 801
نا خَالِدٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , مِثْلَهُ.
سعید بن المسیب رحمہ اللہ سے اسی کے مثل ایک اور سند سے مروی ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 801]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 800، 801»
الحكم على الحديث:
و ٨٠١] سنداهما صحيحان.
ترقیم دار السلفیہ: 802 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 802
نا هُشَيْمٌ , قَالَ: نا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: " ثَوْبًا ثَوْبًا، لِكُلِّ مِسْكِينٍ ثَوْبٌ جَامِعٌ" .
ابراہیم رحمہ اللہ نے آیتِ کریمہ ﴿أَوْ كِسْوَتُهُمْ﴾ کے بارے میں فرمایا: ہر مسکین کو ایک مکمل کپڑا دیا جائے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 802]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 802، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 16097»
الحكم على الحديث:
سنده صحيح، ولا يضرّه عدم تصريح مغيرة بالسماع كما سبق، ومع ذلك فإن مغيرة قد توبع كما سيأتي.
ترقیم دار السلفیہ: 803 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 803
نا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ , قَالَ: نا خُصَيْفٌ، عَنْ عَطَاءٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَعِكْرِمَةَ , قالُوا: " لِكُلِّ مِسْكِينٍ ثَوْبُ قَمِيصٍ، أَوْ إِزَارٍ، أَوْ رِدَاءٍ" , فَقُلْتُ لِخُصَيْفٍ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ مُوسِرًا؟ , قَالَ:" أَيَّ ذَلِكَ فَعَلَ فَحَسَنٌ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ مِنْ هَذِهِ الْخِصَالِ، فَصِيَامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ , وَذَكَرَ أَنَّهَا فِي قِرَاءَةِ أُبَيٍّ: مُتَتَابِعَةً" .
عطاء رحمہ اللہ، مجاہد رحمہ اللہ، اور عکرمہ رحمہ اللہ نے آیتِ کریمہ ﴿أَوْ كِسْوَتُهُمْ﴾ کے بارے میں فرمایا: ہر مسکین کو ایک کپڑا دیا جائے، چاہے وہ قمیص ہو، یا ازار، یا رداء۔ میں نے خصیف رحمہ اللہ سے پوچھا: اگر دینے والا مال دار ہو؟ کہا: ان میں سے جو بھی دے، وہ بہتر ہے۔ اور جسے ان چیزوں میں سے کچھ نہ ملے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، اور بیان کیا کہ اُبیّ کی قراءت میں «مُتَتَابِعَةٌ» کا لفظ موجود ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 803]
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 1079، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 803، 805، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20039، 20066، 20067، 20068، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 16102»
الحكم على الحديث:
سنده ضعيف لما تقدم عن حال خصيف ورواية عتّاب عنه، وقد صحّ معناه عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ومجاهد فقط.
ترقیم دار السلفیہ: 804 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 804
نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: " فِي قِرَاءَتِنَا فِي كَفَّارَةِ الْيَمِينِ: ثَلاثَةِ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ" .
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ہماری قراءت میں کفارۂ قسم کے بارے میں ﴿ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ﴾ ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 804]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 804، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20069، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 12501»
الحكم على الحديث:
سنده صحيح، ومراسيل إبراهيم النخعي عن ابن مسعود تقدم في الحديث [٣] أنها صحيحة.
ترقیم دار السلفیہ: 805 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 805
نا هُشَيْمٌ , قَالَ: أَخْبَرَنِي حَجَّاجٌ , قَالَ: سَأَلْتُ عَطَاءً عَنِ الصِّيَامِ فِي كَفَّارَةِ الْيَمِينِ , قَالَ: " إِنْ شَاءَ فَرَّقَ"، قُلْتُ:" فَإِنَّهَا فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ: مُتَتَابِعَةً" , قَالَ:" إِذًا نَنْقَادُ لِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
حجاج رحمہ اللہ نے کہا: میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کفارۂ قسم کے روزوں کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: اگر چاہے تو الگ الگ کر لے۔ میں نے کہا: لیکن عبد اللہ یعنی سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت میں یہ «مُتَتَابِعَةٌ» یعنی پے در پے ہے۔ تو انہوں نے کہا: پھر تو ہم اللہ عزوجل کی کتاب کے سامنے جھکیں گے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 805]
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 1079، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 803، 805، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20039، 20066، 20067، 20068، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 16102»
الحكم على الحديث:
سنده ضعيف لضعف حجاج من قبل حفظه، وما ذكره حجاج عن ابن مسعود منقطع إن لم يكن معضلاً؛ فإنه لم يَرْو عن أحد من الصحابة، وسيأتي بإسناد صحيح عن عطاء بلفظ آخر.
ترقیم دار السلفیہ: 806 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 806
نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ طَاوُسٍ , قَالَ: " إِنْ شَاءَ فَرَّقَ"، فَقَالَ لَهُ مُجَاهِدٌ: فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ: مُتَتَابِعَةً قَالَ:" فَهِيَ مُتَتَابِعَةٌ" .
طاؤس رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر چاہے تو روزے الگ الگ رکھ سکتا ہے، مجاہد رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت میں «مُتَتَابِعَةٌ» ہے، تو انہوں نے کہا: پھر وہ پے در پے ہی ہوں گے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 806]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 806، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20067، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 16102، 16103، 16104، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 12504»
الحكم على الحديث:
سنده صحيح عن مجاهد وطاوس، وهو ضعيف من هذا الطريق عن ابن مسعود؛ للانقطاع بينه وبين مجاهد
ترقیم دار السلفیہ: 807 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 807
نا نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِلالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ رَجُلا أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ أَهْلِ الْمَغْرِبِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَتَحْمِلَنِّي، فَنَظَرَ عُمَرُ , إِلَى أَدْنَاهُمْ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" وَاللَّهِ إِنْ كَانَ بِكَ مَا إِنْ تُنَبِّئَنِي حَاجَتَكَ دُونَ أَنْ تُقْسِمَ عَلَيَّ، وَأَنَا أَحْلِفُ بِاللَّهِ لا أَحْمِلُكَ" , فَأَظُنُّهُ قَدْ رَدَّدَهَا ثَلاثِينَ، أَوْ قَرِيبًا مِنْ ثَلاثِينَ مَرَّةً، فَقَالَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ عَتِيكُ بْنُ بِلالٍ الأَنْصَارِيُّ: أَيَّ شَيْءٍ تُرِيدُ؟ أَلا تَرَى أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ حَلَفَ أَيْمَانًا لا أُحْصِيهَا أَنْ لا يَحْمِلَكَ، وَاللَّهِ إِنْ تُرِيدُ إِلا الشَّرَّ، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَاللَّهِ إِنَّهُ لَمَالُ اللَّهِ، وَاللَّهِ إِنِّي لَمِنْ عِيَالِ اللَّهِ، وَاللَّهِ إِنَّكَ لأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، وَلَقَدْ أَدَّتْ بِي رَاحِلَتِي، وَاللَّهِ إِنِّي لابْنُ السَّبِيلِ أُقْطِعَ بِي، وَاللَّهِ لَتَحْمِلَنِّي، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ:" كَيْفَ قُلْتَ؟"، فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ عُمَرُ:" وَاللَّهِ إِنَّ الْمَالَ لَمَالُ اللَّهِ، وَإِنَّكَ لَمِنْ عِيَالِ اللَّهِ، وَإِنِّي لأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، وَإِنْ كَانَتْ رَاحِلَتُكَ أَدَّتْ بِكَ لا أَتْرُكُكَ لِلتَّهْلُكَةِ، وَاللَّهِ لأَحْمِلَنَّكَ"، فَأَعَادَهَا حَتَّى حَلَفَ ثَلاثِينَ يَمِينًا، أَوْ يَمِينَيْنِ، ثُمَّ قَالَ:" لا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ أَبَدًا، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلا اتَّبَعْتُ خَيْرَ الْيَمِينَيْنِ".
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس مغرب کے ایک شخص نے آ کر کہا: اللہ کی قسم اے امیر المؤمنین! آپ مجھے سواری ضرور دیں گے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا: اللہ کی قسم! اگر تو مجھے قسم دیے بغیر اپنی ضرورت بتا دیتا تو بہتر ہوتا، اور اب میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں تجھے سواری نہیں دوں گا۔ راوی کہتا ہے: میں گمان کرتا ہوں کہ آپ نے اسے تیس مرتبہ یا قریباً تیس مرتبہ اس طرح جواب دیا۔
پھر ایک انصاری شخص جس کا نام عتیک بن بلال تھا، اس نے اس سے کہا: تم کیا چاہتے ہو؟ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ امیر المؤمنین کتنی قسمیں کھا چکے ہیں کہ تمہیں سواری نہیں دیں گے؟ اللہ کی قسم! تم صرف فساد چاہتے ہو۔
اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم! یہ مال اللہ کا ہے، اللہ کی قسم! میں بھی اللہ کے بندوں میں سے ہوں، اللہ کی قسم! آپ امیر المؤمنین ہیں، میری سواری مجھے منزل تک چھوڑ گئی ہے، اللہ کی قسم! میں مسافر ہوں، راستے میں کٹ گیا ہوں، اللہ کی قسم! آپ مجھے سواری ضرور دیں گے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے کیا کہا؟ اس نے وہی بات دہرائی، تو آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ مال اللہ ہی کا ہے، اور تم اللہ ہی کے بندے ہو، اور میں امیر المؤمنین ہوں، اور اگر تمہاری سواری تمہیں منزل تک چھوڑ گئی ہے تو میں تمہیں ہلاکت میں نہیں چھوڑ سکتا، اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری دوں گا۔
پھر وہ شخص بھی اپنی بات دہراتا رہا یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بھی قسم اٹھائی یا دو بار قسم کھائی، پھر فرمایا: آئندہ میں کسی ایسی قسم پر قائم نہیں رہوں گا، جس کے خلاف کوئی بہتر صورت موجود ہو، بلکہ بہتر صورت کو اختیار کروں گا۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 807]
پھر ایک انصاری شخص جس کا نام عتیک بن بلال تھا، اس نے اس سے کہا: تم کیا چاہتے ہو؟ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ امیر المؤمنین کتنی قسمیں کھا چکے ہیں کہ تمہیں سواری نہیں دیں گے؟ اللہ کی قسم! تم صرف فساد چاہتے ہو۔
اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم! یہ مال اللہ کا ہے، اللہ کی قسم! میں بھی اللہ کے بندوں میں سے ہوں، اللہ کی قسم! آپ امیر المؤمنین ہیں، میری سواری مجھے منزل تک چھوڑ گئی ہے، اللہ کی قسم! میں مسافر ہوں، راستے میں کٹ گیا ہوں، اللہ کی قسم! آپ مجھے سواری ضرور دیں گے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے کیا کہا؟ اس نے وہی بات دہرائی، تو آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ مال اللہ ہی کا ہے، اور تم اللہ ہی کے بندے ہو، اور میں امیر المؤمنین ہوں، اور اگر تمہاری سواری تمہیں منزل تک چھوڑ گئی ہے تو میں تمہیں ہلاکت میں نہیں چھوڑ سکتا، اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری دوں گا۔
پھر وہ شخص بھی اپنی بات دہراتا رہا یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بھی قسم اٹھائی یا دو بار قسم کھائی، پھر فرمایا: آئندہ میں کسی ایسی قسم پر قائم نہیں رہوں گا، جس کے خلاف کوئی بہتر صورت موجود ہو، بلکہ بہتر صورت کو اختیار کروں گا۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 807]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
الحكم على الحديث:
سنده ضعيف للانقطاع بين أبي ليلى وعمر
207. قَوْلُهُ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ * إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللهِ وَعَنِ الصَّلاةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ} إِلَى قَوْلِهِ {وَاللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ} .
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلامُ رِجْسٌ» کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 808 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 808
نا حَزْمُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ الْقُطَعِيُّ , قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ , يَقُولُ: إِنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، وَكَانَ عَامَّةُ عَيْشِهِمْ مِنْهَا، فَلَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُهَا، قَالَ نَاسٌ: " حُرِّمَتْ عَلَيْنَا الْخَمْرُ، وَقَدْ كَانَ فُلانٌ وَفُلانٌ وَفُلانٌ يَشْرَبُونَهَا وَهُمْ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ، فَمَاتُوا، فَقَدْ كَانُوا يَشْرَبُونَهَا إِنَّمَا أُنْزِلَ تَحْرِيمُهَا، وَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ سورة المائدة آية 90 إِلَى قَوْلِهِ: فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ سورة المائدة آية 91، فَقَالَ الْقَوْمُ: فَقَدِ انْتَهَيْنَا يَا رَبَّنَا، فَقَالَ: لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا سورة المائدة آية 93، الْقَوْمُ الَّذِينَ كَانُوا يَشْرَبُونَهَا، ثُمَّ مَاتُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ يَنْزِلَ تَحْرِيمُهَا، إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوْا وَأَحْسَنُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ سورة المائدة آية 93" .
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ شراب پیا کرتے تھے، اور ان کی عام زندگی اسی پر چلتی تھی۔ جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو کچھ لوگوں نے کہا: ہم پر تو شراب حرام ہوگئی، مگر فلاں، فلاں، اور فلاں تو شراب پیا کرتے تھے اور وہ سب جنتی ہیں، حالانکہ وہ شراب پیتے ہوئے ہی فوت ہوگئے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب شراب حرام نہیں ہوئی تھی۔ پھر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ﴾، پھر فرمایا: ﴿فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ﴾، تو صحابہ نے کہا: اے ہمارے رب! ہم باز آ گئے۔ پھر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا﴾، یعنی ان لوگوں پر کوئی گناہ نہیں جنہوں نے ایمان لانے اور نیک عمل کرنے کے بعد تحریم سے پہلے شراب پی تھی، پھر وہ متقی بنے، ایمان لائے، نیک عمل کیے، پھر دوبارہ تقویٰ اختیار کیا، ایمان پر جمے رہے، احسان پر عمل کیا، اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 808]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
الحكم على الحديث:
سنده ضعيف لأن الحسن البصري أرسله، والإسناد صحيح إلى الحسن، وقد صح الحديث من طرق أخرى كما سيأتي.
ترقیم دار السلفیہ: 809 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 809
نا نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " اصْطَبَحَ نَاسٌ مِنَ الْخَمْرِ يَوْمَ أُحُدٍ، ثُمَّ قُتِلُوا" .
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: احد کے دن کچھ لوگ صبح کو شراب پی کر نکلے، پھر وہ جنگ میں قتل ہو گئے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 809]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2815، 4044، 4618، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4939، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 809، 2881»
الحكم على الحديث:
سنده صحيح على شرط الشيخين، وقد أخرجه البخاري كما سيأتي.
ترقیم دار السلفیہ: 810 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 810
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ , فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا سورة البقرة آية 219 , قَالَ: " ذَمَّهَا اللَّهُ فِي هَذِهِ الآيَةِ، وَلَمْ يُحَرِّمْهَا، وَهِيَ يَوْمَئِذٍ حَلالٌ، ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ بَعْدَ ذَلِكَ آيَةً فِي شَأْنِ الْخَمْرِ هِيَ أَشَدُّ مِنْ هَذِهِ الآيَةِ"، فَقَالَ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ سورة النساء آية 43، فَكَانَ السَّكْرُ فِيهَا حَرَامًا، ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى الآيَةَ الَّتِي فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ سورة المائدة آية 90 إِلَى قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ سورة المائدة آية 91، قَالَ قَتَادَةُ:" فَجَاءَ تَحْرِيمُهَا فِي هَذِهِ الآيَةِ، قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا، مَا أَسْكَرَ مِنْهَا وَمَا لَمْ يُسْكِرْ" .
قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ عزوجل نے آیت ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا﴾ میں شراب اور جوئے کو برا کہا، مگر اس وقت ان کو حرام نہیں کیا، اس وقت یہ دونوں حلال تھے۔ پھر اس کے بعد اللہ عزوجل نے ایک اور آیت نازل فرمائی جو پہلی سے زیادہ سخت تھی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى﴾ یعنی نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ، اس آیت کے ذریعے نشے کی حالت میں نماز پڑھنا حرام کیا گیا۔ پھر سورۂ مائدہ کی یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ﴾ تا ﴿فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ﴾ ۔ قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا: اس آیت کے ذریعے شراب کی حرمت مکمل ہو گئی، اس کا تھوڑا ہو یا زیادہ، نشہ آور ہو یا نہ ہو، سب حرام قرار دے دیا گیا۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 810]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
الحكم على الحديث:
سنده ضعيف لإرساله، وهو صحيح إلى مرسِلِه قتادة، وقد صحّ معناه من حديث عمر بن الخطاب، وسبق تخريجه في الحديث رقم [٨٠٨].