سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
162. بَابُ الْمَرْأَةِ تَلِدُ لِسِتَّةِ أَشْهُرٍ
باب: اُس عورت کا بیان جس کے ہاں چھے مہینے میں بچہ پیدا ہو۔
ترقیم دار السلفیہ: 2085 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3262
نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، وَمَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ لا يَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا.
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ بھی غلام کے لیے باندی سے تعلق جائز سمجھتے تھے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3262]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2085، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12837، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16537»
ترقیم دار السلفیہ: 2086 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3263
نا نا هُشَيْمٌ، أنا الْحَجَّاجُ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَمِّهِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّهُ أَذِنَ لِغُلامٍ لَهُ أَنْ يَتَسَرَّى، فَاشْتَرَى ثَلاثَ جِوَارٍ ثَمَنُ أَلْفَيْنِ أَلْفَيْنِ" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کو تین بانڈیاں خرید کر دیں کہ وہ ان سے تعلق قائم کرے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3263]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2086، 2087، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12844، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16543، 16544»
وضاحت: حجاج بن أرطاة کی وجہ سے سند ضعیف ہے،، لیکن مضمون سابقہ اثر (2084) سے موافق ہے،، لہٰذا یہ اثر "قابلِ تقویت ضعیف" ہے، اور فقہی استدلال میں شاہد کا درجہ رکھتا ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم دار السلفیہ: 2087 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3264
نا نا هُشَيْمٌ، أنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِغُلامٍ لَهُ: " لَكَ فُلانَةُ، لأَمَةٍ لَهُ، فَاتَّخِذْهَا" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام سے کہا: ”یہ باندی تمہارے لیے ہے، اسے اپنی زوجہ بنا لو۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3264]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2086، 2087، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12844، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16543، 16544»
وضاحت: ابو الزبیر مدلس ہے، اور یہاں "عن" کے ساتھ روایت کر رہا ہے اس لیے یہ اثر سنداً ضعیف ہے (بسبب احتمال تدلیس) مگر چونکہ یہ مضمون سابقہ دو آثار (2084، 2086) کے مطابق ہے، اس لیے اس کو مؤید کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
ترقیم دار السلفیہ: 2088 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3265
نا هُشَيْمٌ، أنا زَكَرِيَّا بْنُ يُونُسَ، شَكَّ الصَّائِغُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ" أَنَّهُ كَانَ لا يَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا أَنْ يَتَسَرَّى الْعَبْدُ بِإِذْنِ مَوْلاهُ" .
حضرت شعبی رحمہ اللہ غلام کے باندی سے تعلق کو مالک کی اجازت سے جائز سمجھتے تھے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3265]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2088، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12837، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16540، 16541»
ترقیم دار السلفیہ: 2089 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3266
نا نا هُشَيْمٌ، أنا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ غُلامًا لَهُ اشْتَرَى جَارِيَتَيْنِ، فَكَانَ يُصِيبُ مِنْهُمَا، وَعَلِمَ بِذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ فَأَقَرَّهُ" .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نے دو بانڈیاں خریدیں اور ان سے تعلق قائم کیا، جب ابن عمر رضی اللہ عنہما کو علم ہوا تو اسے برقرار رکھا۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3266]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، و «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
وضاحت: وضاحت: یہ اثر صحیح الاسناد ہے، اور تسری کے مسئلے میں عملی تعاملِ صحابی کا مضبوط ثبوت ہے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے: نہ غلام کے باندی خریدنے پر اعتراض کیا نہ ان سے ہمبستری پر کوئی حد یا ممانعت قائم کی → یہ جوازِ تسری بالغلام بالاذن کا معتبر اثر ہے
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 2090 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3267
نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّهُ" يُحِبُّ أَنْ يَكُونَ تَزْوِيجًا".
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ غلام کے لیے نکاح کو پسندیدہ سمجھتے تھے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3267]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2090، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16546»
ترقیم دار السلفیہ: 2091 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3268
نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ.
حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ بھی یہی کہتے تھے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3268]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم دار السلفیہ: 2092 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3269
نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الشَّقَرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: " يُكْرَهُ لِلْعَبْدِ أَنْ يَتَسَرَّى" .
حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”غلام کا باندی سے تعلق رکھنا مکروہ ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3269]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2092، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16549»
163. بَابُ مَنْ قَالَ: إِنَّ الْأَمَةَ تَبْرُزُ وَتُصَلِّي بِغَيْرِ قِنَاعٍ
باب: جس کا قول ہے کہ باندی بغیر دوپٹے کے باہر نکلتی ہے اور نماز پڑھتی ہے۔
ترقیم دار السلفیہ: 2093 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3270
نا نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ الْحَارِثَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، يُخْبِرُ أَبَا الشَّعْثَاءِ، قَالَ: سَأَلَ أَبِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ حَدِّ الأَمَةِ، فَقَالَ عُمَرُ:" إِنَّ الأَمَةَ نَبَذَتْ فَرْوَتَهَا مِنْ وَرَاءِ الدَّارِ" ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى:" مِنْ وَرَاءِ الْجِدَارِ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب باندی نے اپنی چادر پیچھے دیوار کے پیچھے پھینک دی تو اب وہ آزاد عورت کی طرح نہیں رہی۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3270]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2093، 2094، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 5052، 13612، 13614، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 6292، 6293»
قال ابن عبدالبر: هو أثبت من حديث أن عمر بن الخطاب جلد ولائد من الخمس أبكارا في الزنا، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (9 / 94)
قال ابن عبدالبر: هو أثبت من حديث أن عمر بن الخطاب جلد ولائد من الخمس أبكارا في الزنا، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (9 / 94)
وضاحت: فقہی نکات: ❓ کیا یہ حد ہے یا تعزیر؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا جواب اصطلاحی فتویٰ نہیں، بلکہ فقیہانہ تبصرہ ہے وہ اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ: لونڈی اگر بآسانی زنا کرتی ہے، اور وہ مقامی، محفوظ عورتوں کی طرح نہیں ہے، تو اس پر معمولی جرم کی رعایت نہیں دی جائے گی ? بعض فقہاء کے ہاں: لونڈی پر نصف حد لاگو ہوتی ہے (جیسا کہ قرآن میں ہے: ﴿فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ﴾) لیکن تعزیر کا دائرہ اس سے بھی وسیع ہو سکتا ہے — خاص طور پر اگر لونڈی حدود سے کھیلنے لگے ✅ نتیجہ: یہ اثر سنداً صحیح ہے، اور اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ایک حکیمانہ، سماجی تبصرہ موجود ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ: لونڈی اگر آسانی سے فحاشی میں پڑے، تو اس پر حد لاگو ہو سکتی ہے سیدنا عمر نے یہاں سزا کی شدت کو فطری مشاہدے سے جوڑا اور گناہ کی صورت کو جرم کی سطح پر پرکھا۔
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 2094 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3271
نا نا هُشَيْمٌ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ :" إِنَّ الأَمَةَ أَلْقَتْ فَرْوَةَ رَأْسِهَا وَرَاءِ الْجِدَارِ" .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”باندی نے اپنی چادر دیوار کے پیچھے پھینک دی۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3271]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2093، 2094، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 5052، 13612، 13614، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 6292، 6293»
حجاج بن أرطاة ضعيف، هُشَيم کی تدلیس اور عن سے روایت کا پہلو بھی موجود ہے
حجاج بن أرطاة ضعيف، هُشَيم کی تدلیس اور عن سے روایت کا پہلو بھی موجود ہے
وضاحت: وضاحت: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
"بیشک لونڈی نے اپنے سر کی کھال (یعنی حیا، عزت یا پردہ) دیوار کے پیچھے پھینک دی ہے"
? تعبیر کا مقصد:
→ وہ اپنے آپ کو فحاشی و بے حیائی میں ڈال چکی ہے
→ عصمت اور عزت کا لحاظ نہیں رکھا
? تحکیم و فقہی نکات:
یہ ایک عمومی اور تنبیہی قول ہے، نہ کہ باقاعدہ فتویٰ یا قضاء
→ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ عبرت کے انداز میں کہہ رہے ہیں کہ بعض امائیں فاحشہ ہو جاتی ہیں
فقہی پس منظر:
لونڈی پر حد نصف ہے (جیسا کہ قرآن میں ہے)، لیکن اگر اس کی حالت مستقل فسق و فجور پر ہو، تو تعزیر شدید ہو سکتی ہے
یہ اثر حدیث 2093 کا تکراری ہم معنی بیان ہے، یہ اثر سنداً ضعیف ہے (بسبب حجاج بن أرطاة)، مگر معنوی طور پر معروف اور سابقہ صحیح اثر (2093) کا تقویتی شاہد ہے، اور اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زبان سے تنبیہ، عبرت اور سماجی تبصرہ ظاہر ہوتا ہے۔
"بیشک لونڈی نے اپنے سر کی کھال (یعنی حیا، عزت یا پردہ) دیوار کے پیچھے پھینک دی ہے"
? تعبیر کا مقصد:
→ وہ اپنے آپ کو فحاشی و بے حیائی میں ڈال چکی ہے
→ عصمت اور عزت کا لحاظ نہیں رکھا
? تحکیم و فقہی نکات:
یہ ایک عمومی اور تنبیہی قول ہے، نہ کہ باقاعدہ فتویٰ یا قضاء
→ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ عبرت کے انداز میں کہہ رہے ہیں کہ بعض امائیں فاحشہ ہو جاتی ہیں
فقہی پس منظر:
لونڈی پر حد نصف ہے (جیسا کہ قرآن میں ہے)، لیکن اگر اس کی حالت مستقل فسق و فجور پر ہو، تو تعزیر شدید ہو سکتی ہے
یہ اثر حدیث 2093 کا تکراری ہم معنی بیان ہے، یہ اثر سنداً ضعیف ہے (بسبب حجاج بن أرطاة)، مگر معنوی طور پر معروف اور سابقہ صحیح اثر (2093) کا تقویتی شاہد ہے، اور اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زبان سے تنبیہ، عبرت اور سماجی تبصرہ ظاہر ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف