صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1349. باب صلاة الاستسقاء - ذكر ما يستحب للإمام إذا استسقى أن يحول رداءه في خطبته
بارش کے لیے طلب بارش کی نماز کا بیان - اس بات کا ذکر جو امام کے لیے مستحب ہے کہ جب وہ استسقاء کرے تو اپنے خطبہ میں اپنا رداء الٹ دے
حدیث نمبر: 2866
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ الْمَازِنِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمَّهُ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمًا يَسْتَسْقِي، فَحَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ" .
عباد بن تمیم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے چچا رضی اللہ عنہ سے سنا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ استسقاء ادا کرنے کے لیے تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف پشت کر لی اور قبلہ کی طرف رخ کیا، اور پھر چادر کو الٹایا اور دو رکعات ادا کیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2866]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1005، 1011، 1012، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 894، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1406، 1407، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2864، 2865، 2866، 2867، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1225، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1504، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1161، 1162، والترمذي فى (جامعه) برقم: 556، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1267، 1267 م، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1799، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16695» «رقم طبعة با وزير 2855»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
1350. باب صلاة الاستسقاء - ذكر البيان بأن قلب الرداء دون تحويله مباح للمستسقي للناس
بارش کے لیے طلب بارش کی نماز کا بیان - اس بات کا بیان کہ رداء کو الٹنے کے بغیر تبدیل کرنا استسقاء کرنے والے کے لیے جائز ہے
حدیث نمبر: 2867
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: " اسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَأْخُذَ بِأَسْفَلِهَا فَيَجْعَلُهُ أَعْلاهَا، فَلَمَّا ثَقُلَتْ عَلَيْهِ قَلْبِهَا عَلَى عَاتِقِهِ" .
عباد بن تمیم رحمہ اللہ اپنے چچا رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کی دعا مانگتے ہوئے سیاہ چادر اوڑھی ہوئی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے نیچے والے حصے کو اوپر کرنا چاہا جب ایسا کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دشوار ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کندھے پر ہی اسے الٹ دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2867]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1005، 1011، 1012، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 894، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1406، 1407، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2864، 2865، 2866، 2867، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1225، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1504، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1161، 1162، والترمذي فى (جامعه) برقم: 556، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1267، 1267 م، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1799، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16695» «رقم طبعة با وزير 2856»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1055). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
1351. باب صلاة الخوف - ذكر وصف الخوف عند التقاء المسلمين وأعداء الله الكفرة
خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - اس خوف کی کیفیت کا ذکر جب مسلمانوں اور اللہ کے دشمن کافروں کا آمنا سامنا ہو
حدیث نمبر: 2868
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَخْنَسِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " فَرَضَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا الصَّلاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی نماز کا حکم فرض قرار دیا ہے، جو حضر میں چار رکعات ہوں گی، سفر میں دو رکعات ہوں گی اور خوف کے عالم میں ایک رکعت ہو گی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2868]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 687، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 304، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2755، 2868، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1247، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1068، 1072، 1194، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2508، 2511، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2021، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5466» «رقم طبعة با وزير 2857»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1134): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
1352. باب صلاة الخوف - ذكر وصف صلاة المرء في الخوف إذا أراد أن يصليها جماعة ركعة واحدة
خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - اس بات کی کیفیت کا ذکر کہ آدمی خوف کے وقت اگر جماعت سے ایک رکعت پڑھنا چاہے
حدیث نمبر: 2869
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ صَلاةَ الْخَوْفِ، فَقَامَ صَفٌّ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَصَفٌّ خَلْفَهُ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، وَجَاءَ أُولَئِكَ حَتَّى قَامُوا، فَقَامَ هَؤُلاءِ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ، وَلَهُمْ رَكْعَةٌ وَاحِدَةٌ" .
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نمازِ خوف پڑھائی، ایک صف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑی ہو گئی اور ایک صف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑی ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایک رکعت اور دو سجدے پڑھائے، پھر وہ لوگ آئے اور آ کر کھڑے ہو گئے اور یہ لوگ کھڑے رہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکوع اور دو سجدے یعنی ایک رکعت پڑھائی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعات ہوئیں اور ان میں سے ہر ایک کی ایک رکعت ہوئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2869]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4125، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 840، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1347، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2869، 2874، 2877، 2882، 2883، 2884، 2888، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1253، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1260، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2504، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1779، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14400» «رقم طبعة با وزير 2858»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1133). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناد صحيح على شرط الشيخين
1353. باب صلاة الخوف - ذكر ذهاب الطائفة الأولى إلى مصاف إخوانهم ويجيء أولئك إلى الإمام عند إرادتهم الصلاة التي وصفناها
خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - اس بات کا ذکر کہ پہلی جماعت اپنے بھائیوں کے مصاف کی طرف جاتی ہے اور دوسرے لوگ امام کے پاس آتے ہیں جب وہ ہمارے بیان کردہ نماز پڑھنا چاہتے ہیں
حدیث نمبر: 2870
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ ، قَالَ: أَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ صَلاةِ الْخَوْفِ، فَقَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفٌّ خَلْفَهُ، وَصَفٌّ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ ذَهَبُوا إِلَى مَصَافِّ إِخْوَانِهِمْ، وَجَاءَ الآخَرُونَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ، فَكَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ، وَلِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةٌ" .
قاسم بن حسان بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ان سے نمازِ خوف کے بارے میں دریافت کیا، انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، ایک صف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑی ہو گئی اور ایک صف دشمن کے مقابلے میں کھڑی ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ اپنے بھائیوں کی جگہ پر جا کر کھڑے ہو گئے اور دوسرے لوگ آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئیں اور ہر ایک گروہ کی ایک رکعت ہوئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2870]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1345، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2870، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6130، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21994، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 8358» «رقم طبعة با وزير 2859»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «صحيح أبي داود» (1134). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
1354. باب صلاة الخوف - ذكر البيان بأن القوم الذين وصفناهم لم يقضوا الركعة التي ركع صلى الله عليه وسلم بإخوانهم بل اقتصروا على ركعة واحدة لهم
خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - اس بات کا بیان کہ ہمارے بیان کردہ لوگوں نے اپنے بھائیوں کے ساتھ وہ رکعت قضاء نہیں کی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی، بلکہ وہ ایک رکعت پر اکتفا کرتے تھے
حدیث نمبر: 2871
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى بِذِي قَرَدٍ، فَصَفَّ النَّاسُ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ، صَفٌّ خَلْفَهُ، وَصَفٌّ مُوَازِي الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ رَكْعَةً، ثُمَّ رَجَعَ هَؤُلاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلاءِ، وَجَاءَ هَؤُلاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلاءِ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، وَلَمْ يَقْضُوا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «ذِی قَرَد» کے مقام پر نماز پڑھائی، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنا لیں، ایک صف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے رہی اور دوسری صف دشمن کے مدمقابل رہی، جو صف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ اپنے ساتھیوں کی جگہ پر چلے گئے، وہ لوگ ان لوگوں کی جگہ پر آ گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی اور ان لوگوں نے نماز کی قضا نہیں کی (یعنی دوسری رکعت ادا نہیں کی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2871]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1344، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2871، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1250، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6112، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1774، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2092» «رقم طبعة با وزير 2860»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1133). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
1355. باب صلاة الخوف - ذكر إباحة أخذ القوم السلاح عند صلاتهم الخوف التي ذكرناها
خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ ہمارے بیان کردہ صلاة الخوف میں لوگ ہتھیار لے سکتے ہیں
حدیث نمبر: 2872
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْهُنَائِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَزَلَ بَيْنَ ضُجْنَانَ وَعُسْفَانَ، فَحَاصَرَ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ: فَقَالُوا: إِنَّ لِهَؤُلاءِ صَلاةً هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَبْنَائِهِمْ وَأَبْكَارِهِمْ يَعْنُونَ: الْعَصْرَ، فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ، ثُمَّ مِيلُوا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً وَاحِدَةً، قَالَ: فَجَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ أَصْحَابَهُ شَطْرَيْنِ، وَيُصَلِّيَ بِالطَّائِفَةِ الأُولَى رَكْعَةً، وَيَأْخُذُ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى حِذْرَهُمْ، وَأَسْلِحَتَهُمْ، فَإِذَا صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً تَأَخَّرُوا وَتَقَدَّمَ الآخَرُونَ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، وَأَخَذَ هَؤُلاءِ الآخَرُونَ حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ، فَكَانَتْ لِكُلِّ طَائِفَةٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَكْعَةٌ رَكْعَةٌ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ضجنان اور عسفان کے درمیان پڑاؤ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کا محاصرہ کیا ہوا تھا، راوی کہتے ہیں: ان مشرکین نے یہ کہا: ”ان لوگوں کے نزدیک یہ نماز ان کے بیٹوں اور کنواریوں سے زیادہ محبوب ہے“ ان کی مراد عصر کی نماز تھی، ”تو تم لوگ تیاری رکھو اور ان پر ایک ہی مرتبہ حملہ کر دینا۔“ راوی کہتے ہیں: سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے گروہ کو ایک رکعت پڑھائیں اور دوسرا گروہ اپنے ہتھیار تیار رکھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ایک رکعت پڑھا دیں، تو وہ لوگ پیچھے ہٹ جائیں اور دوسرا گروہ آگے آ جائے، تو انہیں بھی ایک رکعت پڑھائیں، یہ لوگ اپنے ہتھیار اور ساز و سامان تیار رکھیں“ تو اس طرح ہر ایک گروہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ایک ایک رکعت ادا کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2872]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1361، 1362، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2872، 2878، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1257، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1542، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1240، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3035، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6136، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8376» «رقم طبعة با وزير 2861»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «المشكاة» (1425). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
1356. باب صلاة الخوف - ذكر النوع الثاني من صلاة الخوف على حسب الحاجة إليها
خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - صلاة الخوف کے دوسرے نوع کا ذکر حسب ضرورت
حدیث نمبر: 2873
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلاةَ الْخَوْفِ بِذَاتِ الرِّقَاعِ" قَالَتْ:" فَصَدَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ صَدْعَيْنِ، فَصَفَّتْ طَائِفَةٌ وَرَاءَهُ، وَقَامَتْ طَائِفَةٌ، وِجَاهَ الْعَدُوِّ"، قَالَتْ:" فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَبَّرَتِ الطَّائِفَةُ الَّذِينَ صَفُّوا خَلْفَهُ، ثُمَّ رَكَعُوا وَرَكَعُوا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدُوا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعُوا، ثُمَّ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا، وَسَجَدُوا لأَنْفُسِهِمِ السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ قَامُوا فَنَكَصُوا عَلَى أَعْقَابِهِمْ يَمْشُونَ الْقَهْقَرَى، حَتَّى قَامُوا مِنْ وَرَائِهِمْ، وَأَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَبِّرُوا، ثُمَّ رَكَعُوا لأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ فَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ رَكْعَتِهِ وَسَجَدُوا لأَنْفُسِهِمِ السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ قَامَتِ الطَّائِفَتَانِ جَمِيعًا، فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً وَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعُوا مَعَهُ، كُلُّ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَرِيعًا جِدًّا، لا يَأْلُو أَنْ يُخَفِّفَ مَا اسْتَطَاعَ، ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمُوا، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ شَرَكَهُ النَّاسُ فِي صَلاتِهِ كُلِّهَا" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذاتِ رقاع کے مقام پر نمازِ خوف ادا کی تھی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیا، ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابلے میں کھڑا ہو گیا؛ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو جس گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنائی ہوئی تھی ان لوگوں نے بھی تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے تو وہ لوگ بھی رکوع میں گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو وہ لوگ بھی سجدے میں گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا تو وہ لوگ بھی اٹھ گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ بیٹھے رہے اور ان لوگوں نے خود ہی دوسری مرتبہ سجدہ کیا اور پھر وہ لوگ کھڑے ہو گئے، اپنی ایڑیوں کے بل چلتے ہوئے پیچھے چلے گئے یہاں تک کہ وہ پیچھے جا کر کھڑے ہو گئے اور دوسرا گروہ آگے آ گیا، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنا لی، ان لوگوں نے تکبیر کہی پھر ان لوگوں نے بذاتِ خود ایک رکعت ادا کی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا سجدہ کیا تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سجدہ کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس رکعت سے کھڑے ہو گئے، ان لوگوں نے دوسرا سجدہ بذاتِ خود کیا، پھر دونوں گروہ کھڑے ہو گئے، ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنا لی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے تو وہ سب بھی رکوع میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو وہ سب بھی سجدے میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا تو ان لوگوں نے بھی سر اٹھا لیا، ان میں سے ہر ایک عمل کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی تیزی سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں کی، جہاں تک ہو سکے مختصر طور پر (رکوع اور سجدہ کیا)، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو ان لوگوں نے بھی سلام پھیر دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو تمام لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شرکت کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2873]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1363، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2873، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1254، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1242، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6139، وأحمد فى (مسنده) برقم: 26996» «رقم طبعة با وزير 2862»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «صحيح أبي داود» (1131). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
1357. باب صلاة الخوف - ذكر النوع الثالث من صلاة الخوف
خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - صلاة الخوف کے تیسرے نوع کا ذکر
حدیث نمبر: 2874
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلاةَ الْخَوْفِ، فَرَكَعَ بِهِمَا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالصَّفُّ الَّذِي يَلُونَهُ وَالآخَرُونَ قِيَامٌ حَتَّى نَهَضَ، ثُمَّ سَجَدَ أُولَئِكَ بِأَنْفُسِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُتَقَدِّمُ فَرَكَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالصَّفُّ الَّذِينَ يَلُونَهُ، فَلَمَّا رَفَعُوا رُؤُوسَهُمْ، سَجَدَ أُولَئِكَ سَجْدَتَيْنِ كُلُّهُمْ قَدْ رَكَعَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَجَدَتْ لأَنْفُسِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، وَكَانَ الْعَدُوُّ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو نمازِ خوف پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے ساتھ رکوع کیا، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو وہ سب بھی سجدے میں گئے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب موجود تھے جبکہ دوسرے لوگ کھڑے رہے، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو ان لوگوں نے بذاتِ خود دو مرتبہ سجدہ کیا، پھر آگے والی صف پیچھے ہٹ گئی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے تو وہ صف بھی رکوع میں گئی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کھڑی ہوئی تھی، ان لوگوں نے اپنا سر اٹھایا اور ان لوگوں نے دو سجدے کیے، تو ان سب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رکوع کیا، ان سب لوگوں نے بذاتِ خود دو سجدے کیے، اس وقت دشمن قبلہ کی سمت میں موجود تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2874]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4125، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 840، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1347، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2869، 2874، 2877، 2882، 2883، 2884، 2888، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1253، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1260، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2504، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1779، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14400» «رقم طبعة با وزير 2863»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «التعليق على ابن خزيمة» (1350). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
1358. باب صلاة الخوف - ذكر الموضع الذي صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فيه صلاة الخوف التي ذكرناها
خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - اس مقام کا ذکر جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے بیان کردہ صلاة الخوف ادا کی
حدیث نمبر: 2875
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ، وَالْمُشْرِكُونَ بِضُجْنَانَ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ رَآهُ الْمُشْرِكُونَ يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ، فَأْتَمَرُوا عَلَى أَنْ يُغِيرُوا عَلَيْهِ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ صَفَّ النَّاسُ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ، فَكَبَّرَ وَكَبَّرُوا جَمِيعًا، وَرَكَعَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا، وَسَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِينَ يَلُونَهُ، وَقَامَ الصَّفُّ الثَّانِي بِسِلاحِهِمْ مُقْبِلِينَ عَلَى الْعَدُوِّ بِوُجُوهِهِمْ، فَلَمَّا رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ، سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي فَلَمَّا رَفَعُوا رُؤوسَهُمْ رَكَعَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا، وَسَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِينَ يَلُونَهُ، وَقَامَ الصَّفُّ الثَّانِي بِسِلاحِهِمْ مُقْبِلِينَ عَلَى الْعَدُوِّ بِوُجُوهِهِمْ، فَلَمَّا رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَأْسَهُ سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَبُو عَيَّاشٍ الزُّرَقِيُّ اخْتُلِفَ فِي اسْمِهِ، مِنْهُمْ مَنْ قَالَ: إِنَّهُ زَيْدُ بْنُ النُّعْمَانِ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: إِنَّهُ زَيْدُ بْنُ الصَّامِتِ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَالَ: عُبَيْدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عُبَيْدُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ الصَّامِتِ.
سیدنا ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عسفان کے مقام پر موجود تھے، جبکہ مشرکین ضجنان کے مقام پر موجود تھے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی تو مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رکوع اور سجدہ کرتے دیکھا تو انہوں نے آپس میں یہ مشورہ کیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کر دیں گے۔ جب عصر کی نماز کا وقت ہوا، تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں بنا لیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو سب لوگوں نے بھی تکبیر کہی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، تو سب لوگوں نے رکوع کیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے، تو وہ صف سجدے میں گئی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کھڑی ہوئی تھی اور دوسری صف اپنے ہتھیار لے کر دشمن کی طرف رخ کر کے کھڑی رہی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا، تو دوسری صف نے بھی سجدہ کر لیا۔ جب ان لوگوں نے اپنا سر اٹھا لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، تو ان سب لوگوں نے رکوع کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، تو اس صف نے سجدہ کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کھڑی ہوئی تھی اور دوسری صف اپنے ہتھیار لے کر دشمن کی طرف رخ کر کے کھڑی رہی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا، تو دوسری صف نے بھی سجدہ کیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوعیاش زرقی نامی راوی کے نام کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ ان کا نام زید بن نعمان ہے اور بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ زید بن صامت ہے۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ عبید بن معاویہ بن صامت ہے جبکہ بعض نے یہ کہا ہے کہ عبید بن معاذ بن صامت ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2875]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 257، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2875، 2876، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1256، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1548، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1236، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 686، 2503، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6098، 6106، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1777، 1778، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16847» «رقم طبعة با وزير 2864»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1121). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما