🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1359. باب صلاة الخوف - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن مجاهدا لم يسمع هذا الخبر من أبي عياش الزرقي ولا لأبي عياش الزرقي صحبة فيما زعم
خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ مجاہد نے یہ خبر ابو عیاش زرقی سے نہیں سنی اور نہ ہی ابو عیاش زرقی کی صحابیت ہے جیسا کہ دعویٰ کیا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2876
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَيَّاشٍ الزُّرَقِيُّ ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ وَعَلَى الْمُشْرِكِينَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: فَصَلَّيْنَا الظُّهْرَ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: لَقَدْ كَانُوا عَلَى حَالٍ لَوْ أَرَدْنَا لأَصَبْنَاهُمْ غُرَّةً، أَوْ لأَصَبْنَاهُمْ غَفْلَةً، قَالَ: فَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْقَصْرِ، بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَأَخَذَ النَّاسُ السِّلاحَ، وَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَفَّيْنِ مُسْتَقْبِلِي الْعَدُوِّ، وَالْمُشْرِكُونَ مُسْتَقْبِلَوهُمْ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَبَّرُوا جَمِيعًا، وَرَكَعَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَرَفَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الأَخَرُ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا فَرَغَ هَؤُلاءِ مِنْ سُجُودِهِمْ سَجَدَ هَؤُلاءِ، ثُمَّ نَكَصَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَتَقَدَّمَ الآخَرُونَ فَقَامُوا مَقَامَهُمْ، فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَفَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الآخَرُونَ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا فَرَغَ هَؤُلاءِ مِنْ سُجُودِهِمْ سَجَدَ الآخَرُونَ، ثُمَّ اسْتَوُوا مَعَهُ فَقَعَدُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا، صَلاهَا بِعُسْفَانَ وَصَلاهَا يَوْمَ بَنِي سُلَيْمٍ" .
سیدنا ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عسفان کے مقام پر موجود تھے، مشرکین کے سالار خالد بن ولید تھے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے ظہر کی نماز ادا کی، مشرکین نے یہ کہا کہ یہ لوگ ایسی حالت میں تھے اگر ہم چاہتے تو ان پر حملہ کر سکتے تھے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) ان کی غفلت میں ان پر حملہ کر سکتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: ظہر اور عصر کے درمیان قصر نماز کے حکم سے متعلق آیت نازل ہو گئی، لوگوں نے اپنے ہتھیار پکڑ لیے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنا لی، انہوں نے دو صفیں بنائیں، ان کا رُخ دشمن کی طرف تھا اور مشرکین کا رخ ان کی طرف تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی، ان سب لوگوں نے تکبیر کہی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، ان سب لوگوں نے رکوع کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا، تو ان سب نے سر اٹھایا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، تو اس صف نے سجدہ کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب موجود تھی اور دوسرے لوگ ان کی حفاظت کرتے رہے، جب یہ لوگ سجدہ کر کے فارغ ہوئے، تو ان لوگوں نے سجدہ کیا، پھر وہ والی صف پیچھے ہٹ گئی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب موجود تھی، دوسرے لوگ آگے آ گئے اور ان لوگوں کی جگہ پر کھڑے ہو گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، تو ان سب لوگوں نے رکوع کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا، تو ان سب نے سر اٹھایا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، تو اس صف نے سجدہ کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب موجود تھی اور دوسرے لوگ کھڑے ان کی حفاظت کرتے رہے، جب یہ لوگ سجدہ کر کے فارغ ہوئے، تو دوسرے لوگوں نے سجدہ کیا، پھر یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سیدھے ہوئے اور یہ سب لوگ بیٹھ گئے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب سمیت سلام پھیرا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عسفان کے مقام پر یہ نماز پڑھائی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو سلیم کے ساتھ مقابلے کے دن یہ نماز پڑھائی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2876]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 257، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2875، 2876، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1256، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1548، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1236، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 686، 2503، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6098، 6106، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1777، 1778، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16847» «رقم طبعة با وزير 2865»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناد صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1360. باب صلاة الخوف - ذكر البيان بأن هذه الصلاة التي ذكرناها كان العدو بين المسلمين وبين القبلة فيها
خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - اس بات کا بیان کہ ہمارے بیان کردہ اس نماز میں دشمن مسلمانوں اور قبلہ کے درمیان تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2877
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَوْمًا مِنْ جُهَيْنَةَ، فَقَاتَلُوا قِتَالا شَدِيدًا، فَلَمَّا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ، قَالُوا: لَوْ مِلْنَا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً قَطَعْنَاهُمْ، فَأَخْبَرَ جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِذَلِكَ فَذَكَرَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَلِكَ، فَقَالَ: قَالُوا: بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ صَلاةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنَ الأُولَى، فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلاةُ، صَفَفْنَا صَفَّيْنِ وَالْمُشْرِكُونَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرْنَا مَعَهُ، فَرَكَعَ وَرَكَعْنَا مَعَهُ، وَسَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الأَوْلُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَامَ سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي، ثُمَّ تَقَدَّمُوا فَقَامُوا مَقَامَ الصَّفِّ الأَوْلِ وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الأَوْلُ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرْنَا مَعَهُ، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعْنَا مَعَهُ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الأَوْلُ مَعَهُ، ثُمَّ قَعَدَ فَسَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي، ثُمَّ جَلَسُوا جَمِيعًا، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: عَنْ جَابِرٍ كَمَا يُصَلِّي أُمَرَاؤُكُمْ هَؤُلاءِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہینہ قبیلے کے گروہ کے خلاف جنگ میں حصہ لیا، انہوں نے انتہائی شدید لڑائی کی۔ جب ہم ظہر کی نماز ادا کرنے لگے، تو انہوں نے کہا: اگر ہم ایک ہی مرتبہ ان پر حملہ کر دیں، تو ہم انہیں ختم کر دیں گے۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتا دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا: ”وہ لوگ کہہ رہے ہیں، ہمارے اور ان کے درمیان یہ نماز ہے، جو ان کے نزدیک ہر چیز سے زیادہ محبوب ہے۔“ جب نماز کا وقت ہوا، تو ہم نے دو صفیں بنا لیں، مشرکین ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی، ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم بھی رکوع میں گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، تو پہلی صف نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سجدہ کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، تو دوسری صف نے سجدہ کیا، پھر وہ لوگ آگے بڑھ گئے اور پہلی صف والوں کی جگہ آ کر کھڑے ہو گئے، پہلی صف والے پیچھے ہٹ گئے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم نے بھی تکبیر کہی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم نے بھی رکوع کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ پہلی صف والوں نے سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے، پھر دوسری صف والوں نے سجدہ کیا، پھر یہ سب لوگ بیٹھ گئے اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب سمیت سلام پھیرا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوزبیر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جس طرح تمہارے یہ امراء نماز ادا کرتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2877]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4125، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 840، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1347، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2869، 2874، 2877، 2882، 2883، 2884، 2888، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1253، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1260، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2504، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1779، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14400» «رقم طبعة با وزير 2866»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1122): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1361. باب صلاة الخوف - ذكر النوع الرابع من صلاة الخوف
خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - صلاة الخوف کے چوتھے نوع کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2878
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ وَكَتَبْتُهُ مِنْ أَصْلِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ عُرْوَةِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَمَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ يَسْأَلُهُ عَنْ صَلاةِ الْخَوْفِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:" كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تِلْكَ الْغَزَاةِ"، قَالَ: " فَصَدَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ، صَدْعَيْنِ، قَامَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ، وَطَائِفَةٌ أُخْرَى مِمَّا يَلِي الْعَدُوَّ، وَظُهُورُهُمْ إِلَى الْقِبْلَةِ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَبَّرُوا جَمِيعًا الَّذِينَ مَعَهُ وَالَّذِينَ يُقَاتِلُونَ الْعَدُوَّ، ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَاحِدَةً، فَرَكَعَ مَعَهُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيهِ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيهِ، وَالآخَرُونَ قِيَامٌ مُقَابِلِي الْعَدُوِّ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخَذْتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي صَلَّتْ مَعَهُ أَسْلِحَتَهُمْ، ثُمَّ مَشَوَا الْقَهْقَرَى عَلَى أَدْبَارِهِمْ حَتَّى قَامُوا مِمَّا يَلِي الْعَدُوَّ، وَأَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابَلَةَ الْعَدُوِّ، فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ كَمَا هُوَ، ثُمَّ قَامُوا، فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَكْعَةً أُخْرَى فَرَكَعُوا مَعَهُ، وَسَجَدَ وَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ تُقَابِلُ الْعَدُوَّ فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَاعِدٌ وَمَنْ مَعَهُ ثُمَّ كَانَ السَّلامُ، فَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَلَّمُوا جَمِيعًا، فَقَامَ الْقَوْمُ وَقَدْ شَرَكُوهُ فِي الصَّلاةِ" .
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا، مروان بن حکم نے ان سے نمازِ خوف کے بارے میں دریافت کیا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: میں اس جنگ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا، ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور دوسرا گروہ دشمن کے مدمقابل کھڑا ہو گیا، ان لوگوں کی پشت قبلہ کی طرف تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو ان سب لوگوں نے تکبیر کہی، وہ بھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے اور وہ بھی جو دشمن کے مدمقابل کھڑے ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو جو گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رکوع کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس والا گروہ بھی سجدے میں چلا گیا، جبکہ دوسرا گروہ دشمن کے مدمقابل کھڑا رہا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو جس گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک رکعت ادا کی تھی انہوں نے اپنا اسلحہ لیا اور الٹے قدموں چلتے ہوئے دشمن کے مدمقابل آ کر کھڑے ہو گئے اور وہ گروہ جو دشمن کے مدمقابل کھڑا ہوا تھا وہ آگے آ گیا، ان لوگوں نے رکوع کیا اور سجدہ کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی حالت میں ہی کھڑے رہے، پھر وہ لوگ کھڑے ہو گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ رکوع کیا، ان لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رکوع کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو انہوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سجدہ کیا، پھر وہ گروہ آ گیا جو دشمن کے مدمقابل تھا، پھر انہوں نے رکوع اور سجدہ کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ والے افراد بیٹھے رہے، پھر سلام کا وقت آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا اور ان سب لوگوں نے بھی سلام پھیر دیا، تو ان سب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز ادا کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2878]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1361، 1362، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2872، 2878، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1257، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1542، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1240، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3035، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6136، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8376» «رقم طبعة با وزير 2867»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «صحيح أبي داود» (1129). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1362. باب صلاة الخوف - ذكر النوع الخامس من صلاة الخوف
خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - صلاة الخوف کے پانچویں نوع کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2879
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْخَوْفِ، بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً، وَالطَّائِفَةُ الأُخْرَى مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ، ثُمَّ انْصَرَفُوا، فَقَامُوا مَقَامَ أَصْحَابِهِمْ مُقْبِلِينَ عَلَى الْعَدُوِّ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَضَى هَؤُلاءِ، فَقَامُوا مَقَامَ أَصْحَابِهِمْ مُقْبِلِينَ عَلَى الْعَدُوِّ، وَجَاءَ أُولَئِكُ، فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَضَى هَؤُلاءِ رَكْعَةً وَهَؤُلاءِ رَكْعَةً" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نمازِ خوف پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھائی اور دوسرا گروہ دشمن کے مدمقابل موجود رہا، پھر وہ لوگ واپس آ گئے اور آ کر دشمن کی طرف رُخ کر کے کھڑے ہو گئے، وہ لوگ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو بھی ایک رکعت پڑھائی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب سمیت سلام پھیر دیا، پھر یہ لوگ چلے گئے اور اپنے ساتھیوں کی جگہ دشمن کی طرف رُخ کر کے کھڑے ہو گئے، پھر وہ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو بھی ایک رکعت پڑھائی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب سمیت سلام پھیر دیا، تو ان لوگوں نے بھی اور ان لوگوں نے بھی ایک، ایک رکعت ادا کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2879]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 943، 4133، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 839، وابن الجارود فى "المنتقى"، 259، 260، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 980، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2879، 2887، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1537، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1243، والترمذي فى (جامعه) برقم: 564، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1258، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2263، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1775، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6268» «رقم طبعة با وزير 2868»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1132): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1363. باب صلاة الخوف - ذكر البيان بأن القوم في الصلاة التي وصفناها كانوا يحرسون بعضهم بعضا
خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - اس بات کا بیان کہ ہمارے بیان کردہ نماز میں لوگ ایک دوسرے کی حفاظت کرتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2880
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَكَبَّرَ وَكَبَّرُوا مَعَهُ، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعَ مَعَهُ نَاسٌ مِنْهُمْ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدُوا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، فَتَأَخَّرَ الَّذِينَ سَجَدُوا مَعَهُ يَحْرُسُونَ إِخْوَانَهُمْ، وَأَتَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى، فَرَكَعُوا مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَجَدُوا، وَالنَّاسُ كُلُّهُمْ فِي صَلاةٍ يُكَبِّرُونَ وَلَكِنْ يَحْرُسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ لوگ بھی کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوگوں نے بھی تکبیر کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان میں سے کچھ لوگ رکوع میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے، تو وہ لوگ بھی سجدے میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے، تو وہ لوگ پیچھے ہٹ گئے جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سجدہ کیا تھا، وہ اپنے بھائیوں کی حفاظت کرنے لگے، دوسرا گروہ آ گیا، ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رکوع کیا اور سجدہ کیا، تو ان سب لوگوں نے نماز ادا کی، وہ تکبیر بھی کہتے رہے اور ایک دوسرے کی حفاظت بھی کرتے رہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2880]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 944، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2880، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1533، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1935، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6110، 6111، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1771، 1772، 1773، والطبراني فى(الكبير) برقم: 13021» «رقم طبعة با وزير 2869»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - ومضى (2860). تنبيه!! رقم (2860) = (2871) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1364. باب صلاة الخوف - ذكر النوع السادس من صلاة الخوف
خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - صلاة الخوف کے چھٹے نوع کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2881
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَفَّهُمْ صَفَّيْنِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ، ثُمَّ سَلَّمَ، وَتَأَخَّرُوا، وَتَقَدَّمَ الآخَرُونَ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَلِلْمُسْلِمِينَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ" .
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی دو صفیں بنا دیں، جو صف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو رکعات پڑھائیں، پھر انہوں نے سلام پھیر دیا اور وہ پیچھے ہٹ گئے، اور دوسرے لوگ آگے آ گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی دو رکعات پڑھائیں، پھر انہوں نے بھی سلام پھیر دیا، تو یوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعات ہوئیں اور ان مسلمانوں نے دو دو رکعات ادا کیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2881]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1368، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2881، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1255، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 835، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1248، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5189، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1781، 1783، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20736» «رقم طبعة با وزير 2870»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1135). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات رجال الصحيح غير أشعث وهو ابن عبد الملك الحمراني فإنه ثقة روى له أصحاب السنن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1365. باب صلاة الخوف - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به الحسن عن أبي بكرة
خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر صرف حسن نے ابو بکرہ سے روایت کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2882
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِقْصَارِ الصَّلاةِ فِي الْخَوْفِ، أَيْنَ أُنْزِلَ وَأَيْنَ هُوَ؟ فَقَالَ: خَرَجْنَا نَتَلَقَّى عِيرًا لِقُرَيْشٍ أَتَتْ مِنَ الشَّامِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِنَخْلٍ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَيْفُهُ مَوْضُوعٌ، فَقَالَ: أَنْتَ مُحَمَّدٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: أَمَا تَخَافُنِي؟ قَالَ:" لا"، قَالَ: فَمَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ:" اللَّهُ يَمْنَعُنِي مِنْكَ"، قَالَ: فَسَلَّ سَيْفَهُ، وَتَهَدَّدَهُ الْقَوْمُ وَأَوْعَدُوهُ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، النَّاسَ بِالرَّحِيلِ وَبِأَخْذِ السِّلاحِ، ثُمَّ نَادَى بِالصَّلاةِ، فَصَلَّتْ طَائِفَةٌ خَلْفَهُ، وَطَائِفَةٌ تَحْرُسُ مُقْبِلِينَ عَلَى الْعَدُوِّ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالطَّائِفَةِ الَّتِي مَعَهُ رَكْعَتَيْنِ، وَأَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى، فَقَامَتْ فِي مَصَافِّ الَّذِينَ صَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَرَسَتِ الطَّائِفَةُ الَّذِينَ صَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُمْ مُقْبِلُونَ عَلَى الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَكْعَتَيْنِ، فَصَارَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا وَلأَصْحَابِهِ رَكْعَتَيْنِ .
سلیمان یشکری سے مروی ہے، انہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خوف کے عالم میں نماز مختصر ادا کرنے کے بارے میں دریافت کیا کہ اس کا حکم کہاں نازل ہوا تھا اور یہ صورتِ حال کہاں درپیش آئی تھی؟ انہوں نے بتایا: ہم لوگ قریش کے ایک قافلے کا پیچھا کرتے ہوئے نکلے جو شام جا رہا تھا، جب ہم نخل کے مقام پر پہنچے تو ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے تلوار لٹکائی ہوئی تھی، اس نے کہا: کیا آپ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ اس نے دریافت کیا: کیا آپ مجھ سے ڈرتے نہیں ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی نہیں۔“ اس نے دریافت کیا: آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ مجھے تم سے بچائے گا۔“ راوی کہتے ہیں: اس شخص نے اپنی تلوار کھینچ لی، لوگوں نے اسے ڈانٹا اور اسے جھڑکا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو وہاں سے روانگی کا اور اسلحہ اختیار کرنے کا حکم دیا، پھر نماز کے لیے اذان دی گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے موجود گروہ کو نماز پڑھائی اور ایک گروہ دشمن کی طرف رخ کر کے حفاظت کرتا رہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ والے گروہ کو دو رکعات پڑھائیں، پھر دوسرا گروہ آ کر اس جگہ کھڑا ہو گیا جہاں وہ لوگ کھڑے تھے جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز ادا کی تھی اور وہ دشمن کی طرف رخ کر کے حفاظت کے فرائض سر انجام دینے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو بھی دو رکعات پڑھائیں، تو یوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعات ہو گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے دو رکعات ادا کیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2882]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4125، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 840، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1347، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2869، 2874، 2877، 2882، 2883، 2884، 2888، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1253، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1260، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2504، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1779، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14400» «رقم طبعة با وزير 2871»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1164). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح رجاله رجال الشيخين غير سليمان وهو ابن قيس اليشكري لم يخرجا له وهو ثقة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1366. باب صلاة الخوف - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به قتادة عن سليمان اليشكري
خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر صرف قتادہ نے سلیمان یشکری سے روایت کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2883
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُحَارِبَ خَصَفَةَ بِنَخْلٍ، فَرَأَوْا مِنَ الْمُسْلِمِينَ غُرَّةً، فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ، يُقَالُ لَهُ: عَوْفُ بْنُ الْحَارِثِ، أَوْ غَوْرَثُ بْنُ الْحَارِثِ، حَتَّى قَامَ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِالسَّيْفِ، فَقَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ:" اللَّهُ"، قَالَ: فَسَقَطَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّيْفَ، فَقَالَ لَهُ:" مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي"، قَالَ: كُنَّ خَيْرًا مِنِّي، قَالَ:" تَشَهَّدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ؟" قَالَ: لا، وَلَكِنْ أُعَاهِدُكَ عَلَى أَنْ لا أُقَاتِلَكَ وَلا أَكُونَ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُونَكَ، قَالَ: فَخَلَّى سَبِيلَهُ، فَجَاءَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ، شَكَّ أَبُو عَوَانَةَ، أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِصَلاةِ الْخَوْفِ قَالَ: فَكَانَ النَّاسُ طَائِفَتَيْنِ: طَائِفَةً بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، وَطَائِفَةً يُصَلُّونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفُوا، فَكَانُوا مَكَانَ أُولَئِكَ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّوْا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَكْعَتَيْنِ، فَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نخل کے مقام پر موجود ”محارب خصفہ“ میں لڑائی کی، ان لوگوں نے مسلمانوں کو غافل دیکھا تو ان کا ایک شخص آیا جس کا نام عوف بن حارث یا شاید غورث بن حارث تھا، وہ تلوار لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے آ کر کھڑا ہو گیا اور دریافت کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے کون بچائے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهُ» ”اللہ تعالیٰ۔“ راوی کہتے ہیں: اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار کو پکڑا اور دریافت کیا: ”تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟“ اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے بہتر ہو جائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے؟“ اس نے کہا: جی نہیں، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ عہد کرتا ہوں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ نہیں کروں گا اور نہ ہی اس قوم کے ساتھ رہوں گا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ کرے گی۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا، وہ اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور بولا: میں سب سے بہتر شخص کے پاس سے تمہارے پاس آیا ہوں۔ جب ظہر یا شاید عصر کا وقت ہوا، یہ شک ابوعوانہ نامی راوی کو ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ خوف کا حکم دیا، راوی بیان کرتے ہیں: لوگوں کے دو گروہ بن گئے، ایک گروہ دشمن کے مدمقابل ہو گیا اور ایک گروہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرنے لگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ والے گروہ کو دو رکعات پڑھائیں، پھر ان لوگوں نے نماز ختم کر دی اور وہ ان لوگوں کی جگہ پر آ گئے اور وہ لوگ آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کرنے لگے، انہوں نے دو رکعات ادا کیں، یوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعات ہوئیں اور ان لوگوں کی دو رکعات ہوئیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2883]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4125، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 840، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1347، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2869، 2874، 2877، 2882، 2883، 2884، 2888، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1253، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1260، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2504، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1779، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14400» «رقم طبعة با وزير 2872»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - المصدر نفسه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات إلا أنه منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1367. باب صلاة الخوف - ذكر الموضع الذي صلى فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الخوف التي ذكرناها
خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - اس مقام کا ذکر جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے بیان کردہ صلاة الخوف ادا کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2884
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذْ كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ، نُودِيَ: الصَّلاةُ جَامِعَةٌ، فَصَلَّى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ تَأَخَّرُوا، وَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ، وَلِلْقَوْمِ رَكْعَتَانِ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آئے یہاں تک کہ جب ہم ذات الرقاع کے مقام پر پہنچے، تو اعلان کیا گیا: ”باجماعت نماز ہونے لگی ہے“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعات پڑھائیں، پھر وہ پیچھے ہٹ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے گروہ کو دو رکعات پڑھائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعات ہوئیں اور ان لوگوں کی دو رکعات ہوئیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2884]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4125، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 840، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1347، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2869، 2874، 2877، 2882، 2883، 2884، 2888، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1253، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1260، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2504، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1779، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14400» «رقم طبعة با وزير 2873»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (2/ 204). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1368. باب صلاة الخوف - ذكر النوع السابع من صلاة الخوف
خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - صلاة الخوف کے ساتویں نوع کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2885
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ صَاعِقَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، وَمَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: " فِي صَلاةِ الْخَوْفِ تَقُومُ طَائِفَةٌ وَرَاءَ الإِمَامِ وَطَائِفَةٌ خَلْفَهُ، فَيُصَلِّي بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ يَقْعُدُ مَكَانَهُ حَتَّى يَقْضُوا رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُونَ إِلَى مَكَانِ أَصْحَابِهِمْ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُ أَصْحَابُهُمْ إِلَى مَكَانِ هَؤُلاءِ، فَيُصَلِّي بِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ يَقْعُدُ مَكَانَهُ حَتَّى يُصَلُّوا رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ" .
سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ نمازِ خوف کے بارے میں بیان کرتے ہیں: ”ایک گروہ امام کے سامنے کھڑا ہوگا، دوسرا گروہ امام کے پیچھے کھڑا ہوگا، امام اس گروہ کو ایک رکعت اور دو سجدے پڑھائے گا جو اس کے پیچھے کھڑا ہے، پھر وہ اپنی جگہ پر بیٹھا رہے گا، یہاں تک کہ وہ لوگ (دوسری رکعت کا) ایک رکوع اور دو سجدے ادا کر لیں گے، پھر وہ لوگ اپنے ساتھیوں کی جگہ پر چلے جائیں گے اور ان کے ساتھی اس جگہ پر آ جائیں گے، امام انہیں ایک رکوع اور دو سجدے پڑھائے گا، امام اپنی جگہ بیٹھا رہے گا، یہاں تک کہ وہ لوگ بھی ایک رکوع اور دو سجدے ادا کر لیں گے، تو امام سلام پھیر دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2885]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4129، 4131، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 841، 842، وابن الجارود فى "المنتقى"، 261، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1356، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2885، 2886، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1535، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1237، 1238، 1239، والترمذي فى (جامعه) برقم: 565، 566، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1259، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6090، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1780، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15951» «رقم طبعة با وزير 2874»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1128): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں