🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1329. باب صلاة الكسوف - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم فادعوا الله وكبروا وتصدقوا أراد به فصلوا إذ الصلاة تسمى دعاء
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "فادعوا الله وكبروا وتصدقوا" سے مراد نماز پڑھنا ہے کیونکہ نماز کو دعا کہا جاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2846
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلاةِ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ جِدًّا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُودِ، فَسَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَانْحَدَرَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا وَكَبِّرُوا" ." يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، إِنْ أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أُمَّتُهُ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی طویل قیام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی طویل رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کو اٹھایا اور طویل قیام کیا لیکن یہ پہلے والے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جانے کے لیے جھک گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا یہ پہلے والے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے اور طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور طویل قیام کیا لیکن یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے اور طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور سجدہ کے لیے جھک گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) فرمایا: ”اے لوگو! بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں، کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں، جب تم انہیں (گرہن کی حالت میں) دیکھو تو نماز ادا کرو، صدقہ و خیرات کرو (اور اللہ تعالیٰ کی) کبریائی کا اعتراف کرو۔ اے محمد کی امت! کسی کو بھی اتنا غصہ نہیں آتا جتنا اللہ تعالیٰ کو اس بات پر آتا ہے، جب اس کا کوئی بندہ زنا کا ارتکاب کرے یا اس کی کوئی کنیز زنا کا ارتکاب کرے۔ اے محمد کی امت! اگر تم وہ بات جان لو جو میں جانتا ہوں، تو تم تھوڑا ہنسا کرو اور زیادہ رویا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2846]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1044، 1046، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 901، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 851، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2830، 2841، 2842، 2845، 2846، 2849، 2850، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1238، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1177، 1180، والترمذي فى (جامعه) برقم: 561، 563، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1263، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3486، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1786، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24679» «رقم طبعة با وزير 2835»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناد صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1330. باب صلاة الكسوف - ذكر ما يستحب للمرء الاستغفار لله جل وعلا عند رؤية كسوف الشمس أو القمر
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی کے لیے مستحب ہے کہ سورج یا چاند گرہن دیکھنے پر اللہ جل وعلا سے استغفار مانگے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2847
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ زَمَنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ فَزِعًا، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ هَذِهِ الآيَاتُ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ لا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُرْسِلُهَا يُخَوِّفُ بِهَا عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا، فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ": يُرِيدُ بِهِ إِلَى صَلاةِ الْكُسُوفِ لأَنَّ الصَّلاةَ تُسَمَّى ذِكْرًا، أَوْ فِيهَا ذِكْرُ اللَّهِ، فَسَمَّى الصَّلاةَ ذِكْرًا.
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھبراہٹ کے عالم میں اٹھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ وہ نشانیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، یہ کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے ظاہر نہیں ہوتی ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں بھیجتا ہے تاکہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو خوف دلائے، جب تم ان میں سے کسی چیز کو دیکھو تو اللہ کے ذکر اور اس سے مغفرت طلب کرنے کی طرف آؤ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ”تم اس کے ذکر کی طرف آؤ“ اس سے آپ کی مراد نماز کسوف ہے، کیونکہ نماز کے لیے لفظ ذکر استعمال ہوتا ہے یا پھر یہ کہ اس میں اللہ کا ذکر ہوتا ہے، اس لیے نماز کے لیے لفظ ذکر استعمال ہوا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2847]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1059، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 912، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1371، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2836، 2847، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1502، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1903، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6453» «رقم طبعة با وزير 2836»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (2825). تنبيه!! رقم (2825) = (2836) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1331. باب صلاة الكسوف - ذكر الخبر الدال على أن المرء إذا ابتدأ في صلاة الكسوف وصلى بعضها ثم انجلت عليه أن يتم باقي صلاته كسائر الصلوات لا كصلاة الكسوف
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ اگر آدمی صلاة الكسوف شروع کرے اور اس کا کچھ حصہ پڑھے پھر گرہن صاف ہو جائے تو اسے اپنی باقی نماز دیگر نمازوں کی طرح مکمل کرنی چاہیے، نہ کہ صلاة الكسوف کی طرح
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2848
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ:" كُنْتُ أَرْمِي بَأْسَهُمٍ بِالْمَدِينَةِ، إِذْ خَسَفَتْ فَنَبَذْتُهَا"، فَقُلْتُ:" وَاللَّهِ لأَنْظُرَنَّ مَا يُحَدِّثُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ" قَالَ:" فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَائِمٌ فِي الصَّلاةِ رَافِعٌ يَدَيْهِ، قَالَ: فَجَعَلَ يُسَبِّحُ، وَيَحْمَدُ، وَيُكَبِّرُ، وَيُهَلِّلُ، وَيَدْعُو، حَتَّى حَسَرَ، فَلَمَّا حَسَرَ عَنْهَا قَرَأَ سُورَتَيْنِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ" .
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں تیر اندازی کر رہا تھا اسی دوران سورج گرہن ہو گیا میں نے تیر ایک طرف رکھے میں نے سوچا: اللہ کی قسم! آج میں اس بات کا ضرور جائزہ لوں گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورج گرہن کے بارے میں کیا کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ پاک ہے، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ سب سے بڑا ہے اور اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ پڑھ رہے تھے دعا مانگ رہے تھے یہاں تک کہ جب گرہن ختم ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سورتوں کی تلاوت کی پھر دو رکعات ادا کیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2848]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 913، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1373، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2848، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1232، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1459، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1195، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6424، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20948، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 8398، 30292» «رقم طبعة با وزير 2837»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - على أن المراد أن ذلك في كل ركعة؛ كما في حديث عائشة (2830) - «صحيح أبي داود» (1080): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1332. باب صلاة الكسوف - ذكر الإباحة للمصلي صلاة الكسوف أن يجهر بقراءته فيها
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ صلاة الكسوف پڑھنے والا اس میں اپنی قرأت بلند آواز سے کر سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2849
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَمِرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ فِي صَلاةِ الْكُسُوفِ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ کسوف میں بلند آواز میں قرأت کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2849]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1044، 1046، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 901، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 851، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2830، 2841، 2842، 2845، 2846، 2849، 2850، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1238، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1177، 1180، والترمذي فى (جامعه) برقم: 561، 563، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1263، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3486، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1786، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24679» «رقم طبعة با وزير 2838»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1074): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناد صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1333. باب صلاة الكسوف - ذكر البيان بأن المصلي صلاة الكسوف له أن يجهر بالقراءة فيها
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس بات کا بیان کہ صلاة الكسوف پڑھنے والے کو اس میں قرأت بلند آواز سے کرنے کی اجازت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2850
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَمِرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ، وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، وَجَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے دو رکعات میں چار مرتبہ رکوع کیا اور چار سجدے کیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں قراءت کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2850]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1044، 1046، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 901، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 851، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2830، 2841، 2842، 2845، 2846، 2849، 2850، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1238، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1177، 1180، والترمذي فى (جامعه) برقم: 561، 563، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1263، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3486، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1786، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24679» «رقم طبعة با وزير 2839»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1334. باب صلاة الكسوف - ذكر خبر أوهم غير المتبحر في صناعة العلم أن صلاة الكسوف لا يجهر فيها بالقراءة
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ صلاة الكسوف میں قرأت بلند آواز سے نہیں کی جاتی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2851
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ: " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكُسُوفِ لا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا" .
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کسوف کے موقع پر نماز پڑھائی، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں سنی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2851]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1397، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2851، 2852، 2856، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1234، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1184، والترمذي فى (جامعه) برقم: 562، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1264، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6432، 6451، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20477» «رقم طبعة با وزير 2840»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - وهو مختصر الآتي بعده - «المشكاة» (1490). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1335. باب صلاة الكسوف - ذكر الخبر الدال على أن سمرة لم يسمع قراءة المصطفى صلى الله عليه وسلم في صلاة الكسوف لأنه كان في أخريات الناس بحيث لا يسمع صوته
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ سمرہ نے صلاة الكسوف میں مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت نہیں سنی کیونکہ وہ لوگوں کے آخر میں تھا جہاں سے آواز نہیں سنائی دیتی تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2852
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثَعْلَبَةُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبْدِيُّ ، أَنَّهُ شَهِدَ خِطْبَةَ يَوْمًا لِسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ حَدِيثًا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ سَمُرَةُ : بَيْنمَا أَنَا يَوْمًا وَغُلامٌ مِنَ الأَنْصَارِ نَرْمِي غَرَضًا لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ قَدْرَ رُمْحَيْنِ أَوْ ثَلاثَةٍ فِي عَيْنِ النَّاظِرِ مِنَ الأُفُقِ اسْوَدَّتْ، فَقَالَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ: انْطَلَقَ بِنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَاللَّهِ لَتُحْدِثَنَّ هَذِهِ الشَّمْسُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي أُمَّتِهِ، حَدِيثًا قَالَ: فَدَفَعْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا هُوَ بَارَزٌ حِينَ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ قَالَ: " فَتَقَدَّمَ، فَصَلَّى بِنَا كَأَطْوَلِ مَا قَامَ بِنَا فِي صَلاةٍ قَطُّ لا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ سَجَدَ كَأَطْوَلِ مَا سَجَدْنَا قَطُّ لا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ قَعَدَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ"، قَالَ: فَوَافَقَ تَجَلِّي الشَّمْسُ جُلُوسَهُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، فَسَلَّمَ" .
ثعلبہ بن عباد عبدی کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے خطبے میں موجود تھے، تو انہوں نے اپنے خطبے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ایک حدیث بیان کی، سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک مرتبہ میں اور انصار سے تعلق رکھنے والا ایک لڑکا نشانے بازی کر رہے تھے یہاں تک کہ سورج دو نیزوں جتنا یا شاید تین نیزوں جتنا ہو گیا اور دیکھنے والے کو افق سیاہ محسوس ہونے لگا (یعنی سورج گرہن ہو گیا) تو ہم میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: ہم مسجد کی طرف چلتے ہیں، اللہ کی قسم! سورج کی یہ حالت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی نیا حکم لے کر آئے گی۔ راوی کہتے ہیں: ہم لوگ مسجد کی طرف آئے وہاں ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف تشریف لائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھانا شروع کی، جو سب سے طویل نماز تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پڑھائی تھی لیکن ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں سنی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا جو سب سے طویل سجدہ تھا جو ہم نے کسی بھی نماز میں کیا تھا لیکن ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنائی نہیں دی، پھر دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسری رکعت میں بیٹھنے کے ساتھ ہی سورج روشن ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2852]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1397، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2851، 2852، 2856، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1234، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1184، والترمذي فى (جامعه) برقم: 562، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1264، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6432، 6451، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20477» «رقم طبعة با وزير 2841»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «ضعيف أبي داود» (216)، «الإرواء» (662). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1336. باب صلاة الكسوف - ذكر خبر قد يوهم عالما من الناس أن صلاة الكسوف لا يجهر فيها بالقراءة
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو بعض علماء کو یہ وہم دلاتا ہے کہ صلاة الكسوف میں قرأت بلند آواز سے نہیں کی جاتی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2853
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَامَ طَوِيلا نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ طَوِيلا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوْلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوْلِ، وَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوْلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ" . فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ هَذَا، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ، فَقَالَ:" إِنِّي رَأَيْتَ الْجَنَّةَ، أَوْ أُرِيتُ الْجَنَّةَ، فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا، وَلَوْ أَخَذْتُهُ لأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا، وَرَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ، وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ" قَالُوا: بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" بِكُفْرِهِنَّ" قِيلَ: يَكْفُرْنَ بِاللَّهِ؟ قَالَ:" يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَيَكْفُرْنَ الإِحْسَانَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا جو سورہ بقرہ کی تلاوت جتنا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور طویل قیام کیا لیکن یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل رکوع کیا، یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا لیکن یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو سورج روشن ہو چکا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے، جب تم انہیں (گرہن کی حالت میں) دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے کوئی چیز پکڑنے کے لیے (آگے ہوئے تھے)، پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے ہٹے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے جنت کو دیکھا تھا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) مجھے جنت دکھائی گئی، تو میں نے اس میں سے انگوروں کا ایک گچھا پکڑنے کی کوشش کی، اگر میں اسے پکڑ لیتا تو تم اسے رہتی دنیا تک کھاتے رہتے، اور میں نے جہنم کو دیکھا، میں نے آج جیسا (ہیبت ناک) منظر کبھی نہیں دیکھا، میں نے دیکھا اس میں اکثریت خواتین کی تھی“، لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کی کیا وجہ ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی وجہ کفر ہے“، عرض کی گئی: کیا وہ اللہ کا کفر کرتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان کا انکار کرتی ہیں، اگر تم ان میں سے کسی ایک کے ساتھ ایک زمانے تک اچھائی کرتے رہو پھر اسے تمہاری طرف سے کوئی ناگوار صورت حال دیکھنی پڑے تو وہ یہی کہے گی: اللہ کی قسم! میں نے کبھی تمہاری طرف سے کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2853]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 29، 431، 748، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 907، وابن الجارود فى "المنتقى"، 274، 275، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1377، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2832، 2853، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1189، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1569، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6392، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2755» «رقم طبعة با وزير 2842»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (2821). تنبيه!! رقم (2821) = (2832) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1337. باب صلاة الكسوف - ذكر ما يجب على المرء أن يتبرك برؤية كسوف الشمس والقمر فيحدث لله توبة أو يقدم لنفسه طاعة
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ سورج یا چاند گرہن دیکھ کر برکت حاصل کرے، یعنی اللہ کے لیے توبہ کرے یا اپنے لیے کوئی اطاعت پیش کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2854
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" كُنَّا نَرَى الآيَاتِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرَكَاتٍ، وَأَنْتُمْ تَرَوْنَهَا تَخْوِيفًا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: خَبَرُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، لَيْسَ بِصَحِيحٍ لأَنَّ حَبِيبًا لَمْ يَسْمَعْ مِنْ طَاوُسٍ هَذَا الْخَبَرَ، وَكَذَلِكَ خَبَرُ عَلِيٍّ رِضْوَانُ اللَّهُ عَلَيْهِ، أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى فِي صَلاةِ الْكُسُوفِ هَذَا النَّحْوَ، لأَنَا لا نَحْتَجَّ بِحَنَشٍ وَأَمْثَالِهِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَكَذَلِكَ أَغْضَيْنَا عَنْ إِمْلائِهِ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں (ظاہر ہونے والی) نشانیوں کو برکت کا نشان سمجھتے تھے جبکہ تم انہیں خوف دلانے والی چیز سمجھتے ہو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) حبیب بن ابوثابت نے طاؤس کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کی نماز میں آٹھ رکوع کیے تھے اور چار سجدے کیے تھے۔ یہ روایت صحیح نہیں ہے کیونکہ حبیب نے طاؤس کے حوالے سے یہ روایت نہیں سنی ہے۔ اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول یہ روایت کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ کسوف اس طرح ادا کی تھی وہ بھی درست نہیں ہے کیونکہ ہم حنش اور اس جیسے راویوں کی احادیث سے استدلال نہیں کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم ان کی املا کروائی ہوئی روایت سے بھی چشم پوشی کرتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2854]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3579، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 204، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2854، 6493، 6540، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 77، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 80، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3633، والدارمي فى (مسنده) برقم: 29، 30، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3839» «رقم طبعة با وزير 2843»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (3579). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1338. باب صلاة الكسوف - ذكر الأمر بالعتاقة عند رؤية كسوف الشمس أو القمر لمن قدر على ذلك
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ سورج یا چاند گرہن دیکھنے پر جو اس کی استطاعت رکھتا ہو وہ غلام آزاد کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2855
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنِ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَأْمُرُ بِالْعَتَاقَةِ فِي صَلاةِ الْكُسُوفِ" .
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ کسوف (کے بعد والے خطبے) کے دوران غلام آزاد کرنے کا حکم دیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2855]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1054، 2519، 2520، وابن الجارود فى "المنتقى"، 278، 279، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1401، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2855، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1236، 1237، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1192، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6456، 6457، 6458، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27565» «رقم طبعة با وزير 2844»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1078): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناد صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں