🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1319. باب صلاة الكسوف - ذكر الأمر بالدعاء والاستغفار مع الصلاة عند رؤية كسوف الشمس والقمر
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ سورج یا چاند گرہن دیکھنے پر نماز کے ساتھ دعا اور استغفار کرنا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2836
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ زَمَنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ فَزِعًا، خَشِينَا أَنْ تَكُونَ السَّاعَةُ، حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ، فَقَامَ فَصَلَّى بِأَطْوَلِ قِيَامٍ، وَرُكُوعٍ، وَسُجُودٍ مَا رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ فِي صَلاةٍ قَطُّ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ هَذِهِ الآيَاتِ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ لا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُرْسِلُهَا يُخَوِّفُ بِهَا عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا، فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ، وَدُعَائِهِ، وَاسْتِغْفَارِهِ" .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا تو آپ گھبرا کر کھڑے ہوئے، ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ قیامت آنے والی ہے، آپ مسجد میں تشریف لائے، آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے طویل قیام، رکوع اور سجدے والی نماز ادا کی، میں نے آپ کو کسی نماز میں اتنا طویل قیام، رکوع اور سجدہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا، پھر آپ نے (خطبہ دیتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”بیشک یہ نشانیاں ہیں، جو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے، یہ کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے نمودار نہیں ہوتی ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں بھیجتا ہے، تاکہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو خوف دلائے، تو جب تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو اللہ کے ذکر، اس سے دعا مانگنے اور اس سے مغفرت طلب کرنے کی طرف جاؤ۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2836]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1059، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 912، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1371، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2836، 2847، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1502، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1903، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6453» «رقم طبعة با وزير 2825»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «جزء الكسوف»: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناد صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1320. باب صلاة الكسوف - ذكر خبر أوهم عالما من الناس أن صلاة الكسوف كسائر الصلوات سواء
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو بعض علماء کو یہ وہم دلاتا ہے کہ صلاة الكسوف دیگر نمازوں کی طرح ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2837
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّاجِرُ الْمَرْوَزِيُّ بِمَرْوَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السُّكَّرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ صَلَّى فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ رَكْعَتَيْنِ مِثْلَ صَلاتِكُمْ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُ أَبِي بَكْرَةَ:" رَكْعَتَيْنِ مِثْلَ صَلاتِكُمْ"، أَرَادَ بِهِ مِثْلَ صَلاتِكُمْ فِي الْكُسُوفِ.
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن اور چاند گرہن کی نماز میں دو رکعات ادا کی تھیں، جو تمہاری نماز کی مانند تھیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ ”تمہاری نماز کی مانند دو رکعات“ اس سے ان کی مراد یہ ہے جس طرح تم لوگ نمازِ کسوف ادا کرتے ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2837]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1040، 1048، 1062، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1374، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2833، 2834، 2835، 2837، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1248، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1458، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1793، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20717» «رقم طبعة با وزير 2826»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني شاذ أو منكر بذكر القمر - «ضعيف الموارد». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات غير عبد الكريم بن عبد الله السكري لم أقف له على ترجمة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1321. باب صلاة الكسوف - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن عند كسوف الشمس أو القمر يكتفى بالدعاء دون الصلاة إذا صلى كسائر الصلوات
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ سورج یا چاند گرہن کے وقت صرف دعا کافی ہے اگر دیگر نمازوں کی طرح نماز پڑھ لی جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2838
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي حَتَّى لَمْ يَكَدْ أَنْ يَرْكَعَ، ثُمَّ رَكَعَ حَتَّى لَمْ يَكَدْ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَجَعَلَ يَتَضَرَّعُ، وَيَبْكِي، وَيَقُولُ: " رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لا تُعَذِّبَهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ، أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لا تُعَذِّبَهُمْ وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُكَ"، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْجَلَتِ الشَّمْسُ، فَقَامَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَيْنِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا انْكَسَفَا، فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ" . ثُمَّ قَالَ:" لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ شِئْتُ لَتَعَاطَيْتُ قِطْفًا مِنْ قُطُوفِهَا، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ، حَتَّى جَعَلْتُ أَتَّقِيهَا حَتَّى خَشِيتُ أَنْ تَغْشَاكُمْ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ: أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لا تُعَذِّبَهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ، رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لا تُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرِونَكَ"، قَالَ:" فَرَأَيْتُ فِيهَا الْحَمَيرِيَةَ السَّوْدَاءَ صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ كَانَتْ حَبَسَتْهَا، فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا، وَلَمْ تَتْرُكْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ، فَرَأَيْتُهَا كُلَّمَا أَدْبَرَتْ نُهِشَتْ فِي النَّارِ، وَرَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ بَدَنَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخَا دَعْدَعٍ، يُدْفَعُ فِي النَّارِ بِقَضِيبَيْنِ ذِي شُعْبَتَيْنِ، وَرَأَيْتُ صَاحِبَ الْمِحْجَنِ، فَرَأَيْتُهُ فِي النَّارِ عَلَى مِحْجَنِهِ مُتَوَكِّئًا" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، یوں محسوس ہوتا تھا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جائیں گے ہی نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے تو یوں محسوس ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر کو اٹھائیں گے ہی نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کو اٹھایا اور گریہ و زاری اور رونا شروع کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے: ”اے میرے پروردگار! کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو ان لوگوں کو اس وقت تک عذاب نہیں دے گا جب تک میں ان کے درمیان موجود ہوں؟ کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو ان لوگوں کو اس وقت تک عذاب نہیں دے گا جب تک ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے؟“ ﴿وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾ [سورة الأنفال: 33] جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی تو سورج روشن ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور یہ بات ارشاد فرمائی: ”بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں، جب یہ دونوں گرہن ہو جائیں تو اللہ کے ذکر کی طرف جاؤ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: ”میرے سامنے جنت کو پیش کیا گیا یہاں تک کہ اگر میں چاہتا تو اس کا کوئی گچھا حاصل کر سکتا تھا اور میرے سامنے جہنم کو پیش کیا گیا یہاں تک کہ میں نے اس سے بچنے کی کوشش کی، مجھے یہ اندیشہ ہوا کہیں وہ تمہیں اپنی لپیٹ میں نہ لے، تو میں نے یہ کہنا شروع کیا: اے میرے پروردگار! کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو اس وقت تک عذاب نہیں دے گا جب تک میں ان کے درمیان موجود ہوں؟ اے میرے پروردگار! کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو انہیں اس وقت تک عذاب نہیں دے گا جب تک ہم تجھ سے مغفرت طلب کرتے رہیں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس میں ایک سیاہ فام حمیری عورت کو دیکھا جو بلی کی مالک تھی، اس نے اس بلی کو باندھ دیا تھا اور اسے کھانے کے لیے کچھ نہیں دیتی تھی اور پینے کے لیے کچھ نہیں دیتی تھی، اس نے اسے چھوڑا بھی نہیں تھا کہ وہ خود ہی کچھ کھا لیتی، تو میں نے اس عورت کو دیکھا، وہ جب بھی آتی تھی اس کے چہرے کو نوچ لیا جاتا تھا، میں نے جہنم میں (دعدع قبیلے سے تعلق رکھنے والے) اس شخص کو بھی دیکھا جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے دو جانوروں کا نگران تھا، اسے دو کناروں والی دو ڈنڈیوں کے ذریعے جہنم میں ڈالا جا رہا تھا، میں نے لاٹھی والے شخص کو بھی دیکھا، میں نے اسے جہنم میں دیکھا، وہ اپنی لاٹھی سے ٹیک لگائے ہوئے تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2838]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1045، 1051، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 910، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 901، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2829، 2838، 5622، 7489، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1233، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1194، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3414، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6594» «رقم طبعة با وزير 2827»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «صحيح أبي داود» (1079)، لكن المحفوظ ركوعان في كل ركعة، وأن (أخا بني دعدع): هو صاحب المحجن. استراك على «طبعة باوزير»!! هناك حاشية بعد جملة «لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ» قال فيها الشيخ: ما بين المعقوفين سقط من مطبوعة «دار الكتب العلمية». لكنهم لم يضعوا المعقوفين؟! - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1322. باب صلاة الكسوف - ذكر وصف الصلاة التي ذكرناها في هذا الكسوف
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس بات کی کیفیت کا ذکر کہ ہم نے اس گرہن کی نماز بیان کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2839
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ بِصَيدَا، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بِحِمْصَ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ بِصُغْدَ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بِدِمَشْقَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ كَسَفَتَ الشَّمْسُ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ، وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جس دن سورج گرہن ہوا، اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات میں چار مرتبہ رکوع کیا اور چار مرتبہ سجدہ کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2839]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 902، 902، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2831، 2839، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1468، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 512، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6394، 6397، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1789، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1889» «رقم طبعة با وزير 2828»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1072)، «جزء الكسوف». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1323. ذكر كيفية هذا النوع من صلاة الكسوف
اس قسم کی نمازِ کسوف کی کیفیت کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2840
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَتْهُ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا، أَنَّ يَهُودِيَّةً أَتَتْهَا، فَقَالَتْ: أَجَارَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ النَّاسَ لَيُفْتَنُونَ فِي الْقَبْرِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَائِذٌ بِاللَّهِ"، قَالَتْ عَائِشَةُ: ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مَخْرَجًا فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَخَرَجْنَا إِلَى الْحُجْرَةِ، وَاجْتَمَعَ إِلَيْنَا النِّسَاءُ، وَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَلِكَ ضَحْوَةً، فَقَامَ يُصَلِّي فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلا، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَامَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَكَعَ دُونَ رُكُوعِهِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ، وَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ إِلا أَنَّ رُكُوعَهُ دُونَ الرَّكْعَةِ الأُولَى، ثُمَّ سَجَدَ وَتَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: فِيمَا يَقُولُ:" إِنَّ النَّاسَ يُفْتَنُونَ فِي قُبُورِهِمْ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ"، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكُنَّا نَسْمَعُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِتَعَوُّذٍ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک خاتون ان کے پاس آئیں اور بولیں: اللہ تعالیٰ تمہیں قبر کے عذاب سے نجات عطا کرے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: کیا لوگوں کو قبر میں آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے، اسی دوران سورج گرہن ہو گیا تو ہم لوگ حجرے کی طرف آئے، خواتین ہمارے پاس اکٹھی ہوئیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، یہ چاشت کے وقت کی بات ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر نماز ادا کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کو اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا لیکن یہ پہلے والے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رکعت ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح اسے ادا کیا البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے، اسی دوران سورج روشن ہو گیا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے کے دوران یہ بات بھی ارشاد فرمائی: ”لوگ اپنی قبروں میں ایسی آزمائش میں مبتلا ہوں گے جو دجال کی آزمائش جیسی ہو گی۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اس کے بعد میں نے ہمیشہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2840]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 832، 833، 922، 2397، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 587، 589، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 722، 852، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1031، 1032، 1968، 2840، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1406، وأبو داود فى (سننه) برقم: 880، 1543، 1550، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3495، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3838، 3839، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24667» «رقم طبعة با وزير 2829»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «جزء الكسوف»: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1324. باب صلاة الكسوف - ذكر البيان بأن المصلي صلاة الكسوف التي ذكرناها له أن يقرأ في الركعة الثانية غير السورة التي قرأها في الركعة الأولى
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس بات کا بیان کہ جو شخص ہمارے بیان کردہ صلاة الكسوف پڑھے، اسے دوسری رکعت میں پہلی رکعت سے مختلف سورت پڑھنی چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2841
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلاةِ، فَقَرَأَ بِسُورَةِ طَوِيلَةٍ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَافْتَتَحَ بِسُورَةٍ أُخْرَى، حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْهَا رَكَعَ ثَانِيَةً، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَسَجَدَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، فَقَرَأَ أَيْضًا بِسُورَةٍ، وَقَامَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الأُولَى، ثُمَّ رَكَعَ فَكَانَ رُكُوعُهُ دُونَ الأَوْلِ، ثُمَّ سَجَدَ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، قَالَ: " مَا مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ إِلا وَقَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا، وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أُرِيدُ أَنْ آخُذَ قِطْفًا مِنَ الْجَنَّةِ حِينَ رَأَيْتُمُونِي أَتَقَدَّمُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ، وَرَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ لُحَيٍّ وَهُوَ الَّذِي سَيَّبَ السَّوَائِبَ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل سورت کی تلاوت کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قیام جتنا طویل رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور دوسری سورت کی تلاوت شروع کر دی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پڑھ کر فارغ ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ رکوع کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور سجدے میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں بھی ایک سورت کی تلاوت کی لیکن یہ پہلی والی قرأت سے کچھ کم تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ رکوع پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے سے سر اٹھایا، تو یہ بات ارشاد فرمائی: ”تم لوگوں سے جس بھی چیز کا وعدہ کیا گیا ہے وہ میں نے اپنی اس جگہ پر کھڑے ہوئے دیکھ لی ہے اور میں نے یہ چاہا، میں جنت کا ایک گچھا حاصل کروں، یہ اس وقت ہوا جب تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا اور میں نے جہنم کو بھی دیکھا، اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو نگل رہا ہے، یہ اس وقت ہوا تھا جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا تھا، میں نے (جہنم میں) عمرو بن لحی کو بھی دیکھا، یہ وہ شخص تھا جس نے بتوں کے نام پر جانور دینے کا آغاز کیا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2841]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1044، 1046، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 901، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 851، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2830، 2841، 2842، 2845، 2846، 2849، 2850، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1238، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1177، 1180، والترمذي فى (جامعه) برقم: 561، 563، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1263، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3486، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1786، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24679» «رقم طبعة با وزير 2830»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1071): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناد صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1325. باب صلاة الكسوف - ذكر البيان بأن من صلى صلاة الكسوف التي ذكرناها عليه أن يختم صلاته بالتشهد والتسليم
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس بات کا بیان کہ جو شخص ہمارے بیان کردہ صلاة الكسوف پڑھے، اسے اپنی نماز تشہد اور سلام کے ساتھ مکمل کرنی چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2842
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَمِرٍ ،، أَنَّهُ سَأَلَ الزُّهْرِيَّ ، عَنْ سُنَّةِ صَلاةِ الْكُسُوفِ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا، فَنَادَى أَنَّ الصَّلاةَ جَامِعَةٌ، فَاجْتَمَعَ النَّاسَ، فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَبَّرَ، ثُمَّ قَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ، فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا مِثْلَ قِيَامِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، ثُمَّ قَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِيَامِ الأَوْلِ، ثُمَّ كَبَّرَ، فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا، وَهُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، ثُمَّ كَبَّرَ، فَسَجَدَ سُجُودًا طَوِيلا وَهُوَ أَدْنَى مِنْ رُكُوعِهِ أَوْ أَطْوَلُ، ثُمَّ كَبَّرَ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَقَامَ، فَقَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ، فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، ثُمَّ قَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الأُولَى فِي الْقِيَامِ الثَّانِي، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا دُونَ الرُّكُوعِ الأَوْلِ، ثُمَّ كَبَّرَ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، ثُمَّ كَبَّرَ، فَسَجَدَ أَدْنَى مِنْ سُجُودِهِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ تَشَهَّدَ، ثُمَّ سَلَّمَ، وَقَامَ فِيهِمْ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِنْ خُسِفَ بِهِمَا أَوْ بِأَحَدِهِمَا فَافْزَعُوا إِلَى اللَّهِ وَالصَّلاةِ" ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ: وَاللَّهِ مَا صَنَعَ هَذَا أَخُوكَ عَبْدُ اللَّهِ حِينَ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ، وَمَا صَلَّى إِلا رَكْعَتَيْنِ مِثْلَ صَلاةِ الصُّبْحِ، قَالَ: أَجَلْ، كَذَلِكَ صَنَعَ، وَأَخْطَأَ السُّنَّةَ.
عبدالرحمن بن نمر بیان کرتے ہیں: انہوں نے زہری سے نماز کسوف کے طریقے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا، عروہ بن زبیر نے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: سورج گرہن ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا، اس نے یہ اعلان کیا کہ باجماعت نماز ہونے لگی ہے، لوگ اکٹھے ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قرأت کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور طویل رکوع کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام جتنا تھا یا شاید اس سے کچھ زیادہ لمبا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کو اٹھایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ تعالیٰ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قرأت کی لیکن یہ پہلے قیام سے کچھ کم تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ تعالیٰ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور سجدے میں چلے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل سجدے کیے لیکن یہ رکوع سے کچھ کم تھے یا شاید کچھ طویل تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور سر اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور سجدے میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور کھڑے ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرأت کی اور طویل قرأت کی لیکن یہ پہلی والی قرأت سے کم تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ تعالیٰ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ پڑھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قرأت کی لیکن یہ دوسرے قیام کی پہلی قرأت سے کچھ کم تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی پھر سر کو اٹھایا اور «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ تعالیٰ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ پڑھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کو اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا لیکن یہ پہلے والے سجدوں سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کو اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد پڑھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک سورج اور چاند کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں، اگر ان دونوں کو یا ان دونوں میں سے کسی ایک کو گرہن لگ جائے، تو اللہ (کے ذکر) اور نماز کی طرف آؤ۔“ زہری کہتے ہیں: میں نے عروہ سے کہا: اللہ کی قسم! آپ کے بھائی سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے تو اس طرح نہیں کیا تھا جب وہ مدینہ منورہ میں تھے اور سورج گرہن ہوا تھا، انہوں نے صرف دو رکعات ادا کی تھیں جو صبح کی نماز کی مانند ہوتی ہیں، تو عروہ نے کہا: جی ہاں، انہوں نے اسی طرح کیا تھا، انہوں نے سنت کے برخلاف کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2842]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1044، 1046، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 901، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 851، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2830، 2841، 2842، 2845، 2846، 2849، 2850، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1238، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1177، 1180، والترمذي فى (جامعه) برقم: 561، 563، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1263، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3486، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1786، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24679» «رقم طبعة با وزير 2831»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1072): خ (1076)، م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط عمرو بن عثمان صدوق ومن فوقه من رجال الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1326. باب صلاة الكسوف - ذكر النوع الثاني من صلاة الكسوف
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - صلاة الكسوف کے دوسرے نوع کی کیفیت کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2843
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَامَ دُونَ قِيَامِهِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَامَ دُونَ قِيَامِهِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَكَعَ ثَلاثَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَامَ، فَرَكَعَ ثَلاثَ رَكَعَاتٍ قَامَ فِيهِنَّ دُونَ قِيَامِهِ الأَوْلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ، وَهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ كُسُوفَهُمَا فَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا جو پہلے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کو اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا جو پہلے والے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، تو یہ تین رکوع ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کو اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ رکوع کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان جو قیام کیا تھا وہ پہلے والے قیام سے کم ہوتا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو اس دوران سورج روشن ہو چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک سورج اور چاند کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے، یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں، جب تم انہیں گرہن کی حالت میں دیکھو تو نماز ادا کرتے رہو یہاں تک کہ گرہن ختم ہو جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2843]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 904، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1380، 1381، 1386، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2843، 2844، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1178، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1477، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14641» «رقم طبعة با وزير 2832»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (656)، «صحيح أبي داود» (1069 - 1070): م، لكن قوله: ثلاث ركعات .. شاذ، والمحفوظ: ركعتان؛ كما في بعض طرقه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1327. باب صلاة الكسوف - ذكر البيان بأن هذا النوع من صلاة الكسوف يجب أن يصلى ركعتين في ست ركعات وأربع سجدات
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس بات کا بیان کہ اس نوع کی صلاة الكسوف دو رکعتوں میں چھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھنی چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2844
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَلِكَ يَوْمَ مَاتَ فِيهِ إِبْرَاهِيمُ، فَقَالَ النَّاسُ: إِنَّمَا انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، كَبَّرَ، ثُمَّ قَرَأَ، فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَرَأَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الأُولَى، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَرَأَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَرَأَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الثَّانِيَةِ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَرَأَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ، فَصَلَّى ثَلاثَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ لَيْسَ فِيهَا رَكْعَةٌ إِلا الَّتِي قَبْلَهَا أَطْوَلُ مِنَ الَّتِي بَعْدَهَا إِلا أَنَّ رُكُوعَهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ تَأَخَّرَ فِي صَلاتِهِ، فَتَأَخَّرَتِ الصُّفُوفُ مَعَهُ، ثُمَّ تَقَدَّمَ، فَتَقَدَّمْتُ الصُّفُوفُ مَعَهُ فَقَضَى الصَّلاةَ وَقَدْ أَضَاءَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ بَشَرٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا، یہ اس دن کی بات ہے، جس دن سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے) کا انتقال ہوا تھا، لوگوں نے کہا: سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کے انتقال کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو چھ رکوع اور چار سجدوں کے ہمراہ نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرأت کی اور طویل قرأت کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا جو اتنا لمبا تھا جتنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کو اٹھایا اور قرأت شروع کر دی لیکن یہ پہلی والی قرأت سے کم تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس (دوسری) قرأت جتنا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کو اٹھایا، پھر قرأت کی جو دوسری قرأت سے کچھ کم تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقریباً اتنا ہی لمبا رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کو اٹھایا، پھر دو مرتبہ سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر نماز ادا کی جس میں تین مرتبہ رکوع کیا جو سجدے میں جانے سے پہلے تھا، اس میں سے ہر ایک رکوع اپنے سے پہلے والے رکوع سے کم تھا، البتہ آپ کا رکوع آپ کے قیام جتنا ہوتا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران پیچھے بھی ہٹے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ لوگوں کی صفیں بھی پیچھے ہٹ گئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ لوگوں کی صفیں بھی آگے بڑھ گئیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو سورج روشن ہو چکا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں، یہ کسی انسان کے مرنے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں، جب تم ان میں سے کوئی چیز دیکھو تو نماز ادا کرو یہاں تک کہ گرہن ختم ہو جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2844]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 904، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1380، 1381، 1386، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2843، 2844، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1178، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1477، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14641» «رقم طبعة با وزير 2833»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح؛ لكن قوله: ست ركعات .. شاذ، والمحفوظ: أربع ركعات: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1328. باب صلاة الكسوف - ذكر ما يستحب للمرء أن يكثر من التكبير لله جل وعلا مع الصدقة إذا أراد الصلاة لكسوف الشمس أو القمر
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی کے لیے مستحب ہے کہ سورج یا چاند گرہن کی نماز کے لیے تیاری کرتے وقت اللہ جل وعلا کی کثرت سے تکبیر کرے اور صدقہ دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2845
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ، فَقَامَ وَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الأُخْرَى مِثْلَ مَا فَعَلَ فِي الأُولَى، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدِ انْجَلَتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرِ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللَّهَ وَكَبِّرُوا وَتَصَدَّقُوا" . وَقَالَ:" يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهِ مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ أَنْ يَزْنِي عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِي أُمَّتُهُ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا اور طویل قیام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے اور طویل رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ قیام کیا تو طویل قیام کیا لیکن یہ پہلے والے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا اور طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور سجدے میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کی جس طرح پہلی رکعت ادا کی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو سورج روشن ہو چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں، جب تم انہیں دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرو، اس کی کبریائی بیان کرو اور صدقہ و خیرات کرو۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت! اللہ کی قسم! کسی کو بھی اتنا غصہ نہیں آتا جتنا اللہ تعالیٰ کو اس بات پر آتا ہے جب اس کا کوئی بندہ زنا کا ارتکاب کرے یا اس کی کوئی کنیز زنا کا ارتکاب کرے۔ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت! اللہ کی قسم! جو میں جانتا ہوں اگر وہ تم لوگ جان لو تو تم تھوڑا ہنسا کرو اور زیادہ رویا کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2845]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1044، 1046، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 901، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 851، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2830، 2841، 2842، 2845، 2846، 2849، 2850، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1238، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1177، 1180، والترمذي فى (جامعه) برقم: 561، 563، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1263، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3486، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1786، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24679» «رقم طبعة با وزير 2834»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1077)، «جزء الكسوف»، «الإرواء» (658): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناد صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں