🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1339. باب صلاة الكسوف - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن الكسوف يكون لموت العظماء من أهل الأرض
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ گرہن زمین کے عظیم لوگوں کی موت کی وجہ سے ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2856
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلْفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ: قَامَ يَوْمًا خَطِيبًا فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ، حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَمُرَةُ: بَيْنَما أَنَا وَغُلامٌ مِنَ الأَنْصَارِ نَرْمِي غَرَضًا لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَكَانَتْ فِي عَيْنِ النَّاظِرِ قِيدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ اسْوَدَّتْ، فَقَالَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ: انْطَلَقَ بِنَا إِلَى مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَاللَّهِ لَتُحْدِثَنَّ هَذِهِ الشَّمْسُ الْيَوْمَ لِرَسُولِ اللَّهِ فِي أُمَّتِهِ حَدِيثًا، قَالَ: فَدَفَعْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ خَرَجَ فَاسْتَقَامَ فَصَلَّى، فَقَامَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا قَامَ فِي صَلاةٍ قَطُّ، لا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ قَامَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ بِالرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، ثُمَّ جَلَسَ فَوَافَقَ جُلُوسَهُ تَجَلِّي الشَّمْسِ، فَسَلَّمَ وَانْصَرَفَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَشَهِدَ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا بَشَرٌ رَسُولٌ أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي قَصَّرْتُ عَنْ شَيْءٍ بِتَبْلِيغِ رِسَالاتِ رَبِّي لَمَّا أَخْبَرْتُمُونِي"، فَقَالَ النَّاسُ: نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ رِسَالاتِ رَبِّكِ، وَنَصَحْتَ لأُمَّتِكَ، وَقَضَيْتَ الَّذِي عَلَيْكَ . ثُمَّ قَالَ:" أَمَا بَعْدُ فَإِنَّ رِجَالا يَزْعُمُونَ أَنَّ كُسُوفَ هَذِهِ الشَّمْسِ، وَكُسُوفَ هَذَا الْقَمَرِ، وَزَوَالِ هَذِهِ النُّجُومِ عَنْ مَطَالِعِهَا لِمَوْتِ رِجَالٍ عُظَمَاءَ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ، وَإِنَّهُمْ كَذَبُوا، وَلَكِنَّهَا آيَاتُ اللَّهِ يَعْتَبِرُ بِهَا عِبَادُهُ لَيَنْظُرَ مَنْ يُحَدِّثُ مِنْهُمْ تَوْبَةً، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ مَا أَنْتُمْ لاقُونَ فِي أَمْرِ دُنْيَاكُمْ، وَأَخِرَتِكُمْ مُذْ قُمْتُ أُصَلِّي، وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلاثُونَ كَذَّابًا أَحَدُهُمُ الأَعْوَرُ الدَّجَّالُ مَمْسُوحُ عَيْنِ الْيُسْرَى، كَأَنَّهَا عَيْنُ أَبِي تِحْيَى شَيْخٍ مِنَ الأَنْصَارِ، بَيْنَهُ وَبَيْنَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ خَشَبَةٌ، وَإِنَّهُ مَتَى يَخْرُجُ، فَإِنَّهُ سَوْفَ يَزْعُمُ أَنَّهُ اللَّهُ، فَمَنْ آمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ، وَاتَّبَعَهُ، فَلَيْسَ يَنْفَعُهُ عَمِلٌ صَالِحٌ مِنْ عَمِلٍ سَلَفَ، وَإِنَّهُ سَيَظْهَرُ عَلَى الأَرْضِ كُلِّهَا غَيْرَ الْحَرَمِ، وَبَيْتِ الْمَقْدِسِ، وَإِنَّهُ يَسُوقُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَيُحَاصَرُونَ حِصَارًا شَدِيدًا"، قَالَ الأَسْوَدُ: وَظَنِّي أَنَّهُ قَدْ حَدَّثَنِي، أَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ يَصِيحُ فِيهِ، فَيَهْزِمُهُ اللَّهُ وَجُنُودَهُ، حَتَّى إِنَّ أَصْلَ الْحَائِطِ، أَوْ جِذْمَ الشَّجَرَةِ لَيُنَادِي: يَا مُؤْمِنُ هَذَا كَافِرٌ، مُسْتَتِرٌ بِي، تَعَالَ فَاقْتُلْهُ، وَلَنْ يَكُونَ ذَلِكَ كَذَلِكَ حَتَّى تَرَوْا أُمُورًا عِظَامًا يَتَفَاقَمُ شَأْنُهَا فِي أَنْفُسِكُمْ، وَتَسَاءَلُونَ بَيْنَكُمْ: هَلْ كَانَ نَبِيِّكُمْ ذِكْرُ لَكُمْ مِنْهَا ذِكْرًا، وَحَتَّى تَزُولَ جِبَالٌ عَنْ مَرَاتِبِهَا، قَالَ: ثُمَّ عَلَى إِثْرِ ذَلِكَ الْقَبْضُ ، ثُمَّ قَبَضَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ، ثُمَّ قَالَ مَرَّةً أُخْرَى: وَقَدْ حَفِظْتُ مَا قَالَ، فَذَكَرَ هَذَا فَمَا قَدَّمَ كَلِمَةً عَنْ مَنْزِلِهَا وَلا أَخَّرَ أُخْرَى".
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ وہ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، تو انہوں نے اپنے خطبے کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کی، سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی کہ ایک مرتبہ میں اور انصار سے تعلق رکھنے والا ایک لڑکا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں نشانے بازی کر رہے تھے، اسی دوران سورج طلوع ہوا تو وہ دیکھنے والے کو ایک نیزے جتنا یا دو نیزے جتنا محسوس ہو رہا تھا، باقی سیاہ تھا، ہم میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: ہم اللہ کے رسول کی مسجد کی طرف چلتے ہیں، اللہ کی قسم! سورج کی یہ حالت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے کوئی نیا حکم لے کر آئے گی، ہم لوگ مسجد کی طرف آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت گھر سے تشریف لائے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، نماز ادا کرنا شروع کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جتنی بھی نمازیں پڑھائی تھیں وہ ان میں سے سب سے طویل تھی، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں سنی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھنے کے دوران ہی گرہن ختم ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، نماز مکمل کی، پھر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور اس بات کی گواہی دی کہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! میں ایک انسان ہوں، جسے رسول کے طور پر مبعوث کیا گیا، میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، اگر تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں نے اپنے پروردگار کے پیغام کی تبلیغ میں کوئی کوتاہی کی ہے، تو تم مجھے اس بارے میں بتاؤ۔“ لوگوں نے عرض کی: ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار کے پیغام کو پہنچا دیا ہے اور اپنی امت کی خیر خواہی کی ہے اور جو چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ادا کر دیا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سورج کا گرہن ہونا، چاند کا گرہن یا ان ستاروں کا اپنے مطلع سے گرنا زمین سے تعلق رکھنے والے کسی بڑے آدمی کے انتقال کی وجہ سے ہوتا ہے، یہ لوگ غلط سمجھتے ہیں، بلکہ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں، جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عبرت دلاتا ہے تاکہ وہ لوگ توبہ کی طرف آئیں۔ اللہ کی قسم! تم نے اپنے دنیا اور آخرت کے معاملے میں جس بھی صورت حال کا سامنا کرنا ہے وہ میں نے ابھی یہاں نماز ادا کرنے کے دوران کھڑے ہوئے دیکھ لی ہے، اللہ کی قسم! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم میں تیس کذابوں کا ظہور نہیں ہو گا، جن میں سے ایک کانا دجال ہو گا، اس کی بائیں آنکھ نہیں ہو گی، وہ ابو تحییٰ کی آنکھ کی مانند ہو گی (یہ انصار کا ایک بوڑھا تھا، اس کے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے درمیان ایک لکڑی تھی) دجال کا جب بھی ظہور ہو گا، تو وہ یہی دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ ہے، اور جو اس کی تصدیق کرے گا اور پیروی کرے گا، تو اس کے پہلے کا کوئی بھی نیک عمل اسے فائدہ نہیں دے گا اور عنقریب دجال تمام روئے زمین پر غالب آ جائے گا، صرف حرم کی حدود اور بیت المقدس پر قبضہ نہیں کر سکے گا، وہ مسلمانوں کو بیت المقدس کی طرف جانے پر مجبور کر دے گا، وہ لوگ شدید محاصرہ کریں گے۔“ اسود نامی راوی بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ اسی دوران سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ان کے درمیان آئیں گے، تو اللہ تعالیٰ دجال کو اور اس کے لشکروں کو پسپا کر دے گا، یہاں تک کہ دیوار کی بنیاد اور درخت کا تنا بھی یہ پکار کر کہیں گے: ”اے مومن! یہ کافر ہے، جو میرے پیچھے چھپا ہوا ہے، تم آگے آؤ اور اسے قتل کر دو۔“ اور ایسا اس وقت تک نہیں ہو گا، جس وقت تک تم عظیم امور نہیں دیکھو گے، جو تمہیں پریشان کر دیں گے، تم ایک دوسرے سے پوچھو گے: کیا تمہارے نبی نے اس کا ذکر تمہارے سامنے کیا تھا؟ وہ ایسی آزمائش ہو گی کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اس کے بعد قبض ہوگا۔“ پھر انہوں نے اپنی انگلیوں کے کناروں کو بند کیا، پھر انہوں نے دوسری مرتبہ یہ کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات ارشاد فرمائی تھی وہ میں نے دیکھی ہے، پھر انہوں نے یہی چیز ذکر کی اور اس میں کوئی ایک لفظ بھی اپنی جگہ سے پہلے یا بعد میں بیان نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2856]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1397، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2851، 2852، 2856، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1234، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1184، والترمذي فى (جامعه) برقم: 562، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1264، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6432، 6451، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20477» «رقم طبعة با وزير 2845»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - انظر (2841). تنبيه!! رقم (2841) = (2852) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف لجهالة ثعلبة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1340. باب صلاة الاستسقاء - ذكر ما يستحب للمرء عند وجود الجدب أن يسأل الصالحين الدعاء والاستسقاء للمسلمين
بارش کے لیے طلب بارش کی نماز کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی کے لیے مستحب ہے کہ جب قحط پڑے تو وہ صالحین سے دعا اور مسلمانوں کے لیے استسقاء کی درخواست کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2857
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَتِ الْمَوَاشِي، وَتَقَطَّعَتِ السُّبُلُ، فَادْعُ اللَّهَ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَمُطِرْنَا مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ، وَهَلَكَتِ الْمَوَاشِي، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " اللَّهُمَّ عَلَى رُؤُوسِ الْجِبَالِ، وَالآكَامِ، وَبُطُونِ الأَوْدِيَةِ، وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ" ، قَالَ: فَانْجَابَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ انْجِيَابَ الثَّوْبِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مویشی ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں، سفر کرنا ممکن نہیں رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، راوی کہتے ہیں: ایک جمعے سے لے کر اگلے جمعے تک ہم پر بارش ہوتی رہی، راوی کہتے ہیں: پھر ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! گھر گر رہے ہیں، مویشی ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ عَلَى الآكَامِ وَالظِّرَابِ، وَبُطُونِ الأَوْدِيَةِ، وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ» ”اے اللہ! پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور نشیبی علاقوں میں اور جنگلات میں بارش ہو۔“ راوی کہتے ہیں: مدینہ منورہ سے بادل یوں چھٹ گیا جس طرح کپڑا پھٹ جاتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2857]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 932، 933، 1013، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 895، ومالك فى (الموطأ) برقم: 650، وابن الجارود فى "المنتقى"، 283، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1411، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 877، 992، 2857، 2858، 2859، 2863، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1224، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1503، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1170، 1171، 1174، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1180، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5920، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1808، 1838، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12201» «رقم طبعة با وزير 2846»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1066)، «الإرواء» (2/ 144 / 416): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1341. باب صلاة الاستسقاء - ذكر ما يستحب للإمام عند وقوع الجدب بالناس أن يستسقي الله جل وعلا لهم
بارش کے لیے طلب بارش کی نماز کا بیان - اس بات کا ذکر جو امام کے لیے مستحب ہے کہ جب لوگوں پر قحط پڑے تو وہ اللہ جل وعلا سے ان کے لیے استسقاء کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2858
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَامَ إِلَيْهِ النَّاسُ فَصَاحُوا فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَحِطَ الْمَطَرُ، وَاحْمَرَّ الشَّجَرُ، وَهَلَكَتِ الْبَهَائِمُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ اسْقِنَا" قَالَ: وَايْمُ اللَّهِ مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً مِنْ سَحَابٍ، قَالَ: فَنَشَأَتْ سَحَابَةٌ، فَانْتَشَرَتْ، ثُمَّ إِنَّهَا مَطَرَتْ، فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى، وَانْصَرَفَ فَلَمْ تَزَلْ تُمْطِرُ إِلَى الْجُمُعَةِ الأُخْرَى، فَلَمَّا قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَخْطُبُ، صَاحُوا وَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ، وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ، فَادْعُ اللَّهَ يَحْبِسْهَا عَنَّا، قَالَ: فَتَبَسَّمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا، وَلا عَلَيْنَا" ، قَالَ: فَتَقَشَّعَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ فَجَعَلَتْ تُمْطِرُ حَوْلَهَا، وَمَا تَقْطُرُ بِالْمَدِينَةِ قَطْرَةً، قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَإِنَّهَا لَفِي مِثْلِ الإِكْلِيلِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوئے، انہوں نے بلند آواز سے کہا: اے اللہ کے نبی! بارش کا قحط پڑ گیا ہے، درخت سیاہ ہو گئے ہیں اور جانور ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ ہم پر بارش نازل کر دے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ أَغِثْنَا» ”اے اللہ! ہم پر بارش نازل کر دے۔“ راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ہمیں آسمان میں بادل کا کوئی بھی ٹکڑا نظر نہیں آ رہا تھا۔ راوی کہتے ہیں: اسی دوران ایک ٹکڑا نمودار ہوا اور وہ پھیلنا شروع ہوا، پھر بارش شروع ہو گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی، اس کے بعد اگلے جمعے تک بارش ہوتی رہی، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو لوگوں نے بلند آواز میں عرض کی: اے اللہ کے نبی! گھر گر رہے ہیں اور سفر کرنا ممکن نہیں رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ ہم سے بارش کو روک دے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، پھر فرمایا: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا» ”اے اللہ! ہمارے آس پاس ہو، ہم پر نہ ہو۔“ راوی کہتے ہیں: مدینہ منورہ سے بادل چھٹ گیا اور مدینہ منورہ کے اردگرد بارش ہوتی رہی اور مدینہ منورہ پر بارش کا ایک قطرہ بھی نہیں پڑا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ کو دیکھا تو وہ تاج کی مانند تھا (یعنی اس سے بادل چھٹ چکا تھا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2858]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 932، 933، 1013، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 895، ومالك فى (الموطأ) برقم: 650، وابن الجارود فى "المنتقى"، 283، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1411، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 877، 992، 2857، 2858، 2859، 2863، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1224، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1503، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1170، 1171، 1174، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1180، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5920، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1808، 1838، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12201» «رقم طبعة با وزير 2847»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1065): خ، م مختصراً. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1342. باب صلاة الاستسقاء - ذكر العلة التي من أجلها تبسم النبي صلى الله عليه وسلم فيما وصفنا
بارش کے لیے طلب بارش کی نماز کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے بیان کردہ موقع پر تبسم کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2859
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَحِطَ الْمَطَرُ عَامًا، فَقَامَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَحِطَ الْمَطَرُ، وَأَجْدَبَتِ الأَرْضُ، وَهَلَكَ الْمَالُ، قَالَ: فَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابَةً، فَمَدَّ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ، يَسْتَسْقِي اللَّهَ، فَمَا صَلَّيْنَا الْجُمُعَةَ حَتَّى أَهَمَّ الشَّابَّ الْقَرِيبَ الدَّارِ الرُّجُوعُ إِلَى أَهْلِهِ، فَدَامَتْ جُمُعَةً، فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الَّتِي تَلِيهَا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ، وَاحْتَبَسَ الرُّكْبَانُ، قَالَ: فَتَبَسَّمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِسُرْعَةِ مَلالَةِ بْنِ آدَمَ وَقَالَ بِيَدَيْهِ: " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا، وَلا عَلَيْنَا" ، قَالَ: فَتَكَشَّفَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک سال تک بارش نہیں ہوئی تو بعض مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بارش نہیں ہوئی، زمین خشک ہو گئی ہے اور کھیتیاں ہلاکت کا شکار ہو رہی ہیں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے، ہمیں آسمان میں کوئی بادل نظر نہیں آ رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے یہاں تک کہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے بارش کے لیے دعا کی، ابھی ہم نے جمعہ ادا نہیں کیا تھا (کہ اتنی تیز بارش شروع ہو گئی) کہ وہ نوجوان جس کا گھر مسجد کے قریب تھا اس نے یہ ارادہ کیا کہ وہ اپنے گھر چلا جائے، پھر پورا ہفتہ بارش ہوتی رہی، جب اس کے بعد والا جمعہ آیا تو ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! گھر گر رہے ہیں اور سفر کرنا ممکن نہیں رہا۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابنِ آدم کے جلد ملال پر مسکرا دیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کر کے دعا کی: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا» ”اے اللہ! ہمارے آس پاس ہو ہم پر نہ ہو۔“ راوی کہتے ہیں: مدینہ منورہ سے بادل چھٹ گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2859]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 932، 933، 1013، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 895، ومالك فى (الموطأ) برقم: 650، وابن الجارود فى "المنتقى"، 283، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1411، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 877، 992، 2857، 2858، 2859، 2863، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1224، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1503، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1170، 1171، 1174، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1180، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5920، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1808، 1838، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12201» «رقم طبعة با وزير 2848»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (2/ 144 - 145)، «التعليق على صحيح ابن خزيمة» (1789). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1343. باب صلاة الاستسقاء - ذكر ما يدعو المرء به عند وجود الجدب بالمسلمين
بارش کے لیے طلب بارش کی نماز کا بیان - اس دعا کا ذکر جو آدمی مانگتا ہے جب مسلمانوں پر قحط پڑے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2860
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا طَاهِرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ نِزَارٍ الأَيْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الأَيْلِيِّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: شَكَا النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَحْطَ الْمَطَرُ، فَأَمَرَ بِالْمِنْبَرِ، فَوُضِعَ لَهُ فِي الْمُصَلَّى، وَوَعَدَ النَّاسَ يَوْمًا يَخْرُجُونَ فِيهِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ، فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَيْ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّكُمْ شَكَوْتُمْ جَدْبَ جِنَانِكُمْ، وَاحْتِبَاسَ الْمَطَرِ عَنْ إِبَّانِ زَمَانِهِ عَنْكُمْ، وَقَدْ أَمَرَكُمُ اللَّهُ أَنْ تَدَعُوهُ، وَوَعَدَكُمْ أَنْ يَسْتَجِيبَ لَكُمْ"، ثُمَّ قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ، تَفْعَلُ مَا تُرِيدُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ، الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً، وَبَلاغًا إِلَى خَيْرٍ"، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْنَا بَيَاضَ إِبْطَيْهِ، ثُمَّ حَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ، وَقَلَبَ أَوْ حَوَّلَ رِدَاءَهُ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، وَنَزَلَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَأَنْشَأَ اللَّهُ سَحَابًا فَرَعَدَتْ، وَأَبْرَقَتْ، وَأَمْطَرَتْ بِإِذْنِ اللَّهِ، فَلَمْ نَلْبَثْ فِي مَسْجِدِهِ حَتَّى سَأَلَتِ السُّيُولُ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَثَقَ الثِّيَابِ عَلَى النَّاسِ، ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، وَقَالَ:" أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَإِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بارش نہ ہونے کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر کے بارے میں حکم دیا، اسے عیدگاہ میں رکھا گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ ایک دن کا وعدہ کیا کہ اس دن وہ لوگ آئیں؛ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جیسے ہی سورج نکلا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے اور منبر پر تشریف فرما ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم نے اپنے باغات کے خشک ہونے کی شکایت کی اور ایک طویل عرصے سے بارش نہ ہونے کی شکایت کی، اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو یہ حکم دیا ہے کہ تم لوگ اس سے دعا مانگو اور اس نے تم سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ تمہاری دعا کو قبول کرے گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پڑھا: « ﴿الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۝ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۝ مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ﴾ [سورة الفاتحة: 2-4] لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُ، اللّٰهُمَّ أَنْتَ اللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلَى حِيْنٍ» ”ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، جو بڑا مہربان ہے نہایت رحم کرنے والا ہے، قیامت کے دن کا مالک ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، تو جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے، اے اللہ! تو ہی وہ اللہ ہے، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو بے نیاز ہے اور ہم تیرے محتاج ہیں، تو ہم پر بارش نازل کر اور جو تو نے ہم پر نازل کیا ہے اسے قوت بنا دے اور بھلائی کی طرف پہنچانے والا بنا دے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ ہم نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پشت کو لوگوں کی طرف کیا اور اپنی چادر کو الٹا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ہوئے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف رخ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اتر آئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات نماز ادا کی تو اللہ تعالیٰ نے بادل کو پیدا کیا، اور وہ کڑکا، بجلی چمکی اور بارش شروع ہو گئی، یہ اللہ کے حکم سے ہوا، ابھی ہم مسجد میں ہی تھے کہ نالیاں بہنی شروع ہو گئیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ لوگوں نے کپڑے اپنے اوپر کر لیے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ تعالیٰ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے اور میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2860]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 991، 2860، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1229، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1173، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6501، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 1906، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 5404» «رقم طبعة با وزير 2849»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - وهو مكرر (987). تنبيه!! رقم (987) = (991) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1344. باب صلاة الاستسقاء - ذكر ما يستحب للإمام إذا أراد الاستسقاء أن يستسقي الله بالصالحين رجاء استجابة الدعاء لذلك
بارش کے لیے طلب بارش کی نماز کا بیان - اس بات کا ذکر جو امام کے لیے مستحب ہے کہ جب وہ استسقاء کرنا چاہے تو صالحین کے وسیلے سے اللہ سے دعا مانگے تاکہ دعا کی قبولیت کی امید ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2861
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنِ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانُوا إِذَا قَحَطُوا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اسْتَسْقَوْا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَسْتَسْقِي لَهُمْ فَيُسْقَوْنَ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي إِمَارَةِ عُمَرَ، قَحَطُوا، فَخَرَجَ عُمَرُ بِالْعَبَّاسِ يَسْتَسْقِي بِهِ، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا إِذَا قَحَطْنَا عَلَى عَهْدِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَسْقُينَا بِهِ، فَسَقَيْتَنَا، وإِنا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ الْيَوْمَ بِعَمِّ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْقِنَا قَالَ: فَسُقُوا" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ اقدس میں جب قحط پڑ جاتا تھا، تو لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے بارش کی دعا کیا کرتے تھے؛ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان لوگوں کے لیے بارش کی دعا کرتے تھے، تو ان لوگوں کو بارش عطا ہو جاتی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں قحط آیا، تو سیدنا عمر، سیدنا عباس رضی اللہ عنہما کو ساتھ لے کر نکلے تاکہ ان کے وسیلے سے بارش کی دعا کریں، انہوں نے یہ کہا: «اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا» ”اے اللہ! پہلے تیرے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب ہم قحط کا شکار ہوتے تھے، تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے بارش کی دعا کرتے تھے، تو تو ہمیں سیراب کر دیتا تھا؛ اب ہم تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے وسیلے سے تیری بارگاہ میں دعا کرتے ہیں، تو ہمیں سیراب کر دے۔“ راوی کہتے ہیں: ان لوگوں کو سیراب کر دیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2861]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1010، 3710، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1421، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2861، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6520، والطبراني فى(الكبير) برقم: 84، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 2437» «رقم طبعة با وزير 2850»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (672): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1345. باب صلاة الاستسقاء - ذكر البيان بأن صلاة الاستسقاء يجب أن تكون مثل صلاة العيد سواء
بارش کے لیے طلب بارش کی نماز کا بیان - اس بات کا بیان کہ صلاة الاستسقاء کو عید کی نماز کی طرح ہونا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2862
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنَ الأُمَرَاءِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَسْأَلُهُ عَنْ صَلاةِ الاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُتَبَذِّلا مُتَمَسْكِنًا مُتَضَرِّعًا مُتَوَاضِعًا، وَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدِ" .
ہشام بن اسحاق اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک گورنر نے مجھے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے نمازِ استسقاء کے بارے میں دریافت کروں، تو انہوں نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم معمولی کپڑوں میں عاجزی، انکساری اور تواضع کا اظہار کرتے ہوئے نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں کی طرح خطبہ نہیں دیا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز ادا کی جیسے عید کے موقع پر نماز ادا کرتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2862]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 280، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1405، 1408، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2862، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1221، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1165، والترمذي فى (جامعه) برقم: 558، 559، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1266، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6477، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1800، 1807، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2067» «رقم طبعة با وزير 2851»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «صحيح أبي داود» (1058). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1346. باب صلاة الاستسقاء - ذكر ما يستحب للمرء المبالغة في الدعاء عند الاستسقاء
بارش کے لیے طلب بارش کی نماز کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی کے لیے مستحب ہے کہ استسقاء کے وقت دعا میں مبالغہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2863
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنَ الدُّعَاءِ إِلا فِي الاسْتِسْقَاءِ، فَإِنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگتے ہوئے دونوں ہاتھ بلند نہیں کرتے تھے، البتہ بارش کی دعا مانگتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اتنے بلند کیے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2863]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 932، 933، 1013، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 895، ومالك فى (الموطأ) برقم: 650، وابن الجارود فى "المنتقى"، 283، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1411، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 877، 992، 2857، 2858، 2859، 2863، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1224، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1503، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1170، 1171، 1174، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1180، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5920، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1808، 1838، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12201» «رقم طبعة با وزير 2852»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1061): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناد صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1347. باب صلاة الاستسقاء - ذكر الإباحة للمصلي صلاة الاستسقاء أن يجهر بقراءته فيها
بارش کے لیے طلب بارش کی نماز کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ صلاة الاستسقاء پڑھنے والا اس میں اپنی قرأت بلند آواز سے کر سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2864
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَطَّابِ الْبَلَدِيُّ الزَّاهِدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْقَى فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَجَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ" .
عباس بن تمیم اپنے چچا رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ استسقاء ادا کرتے ہوئے دو رکعات ادا فرمائی تھیں اور بلند آواز میں قرأت فرمائی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2864]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1005، 1011، 1012، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 894، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1406، 1407، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2864، 2865، 2866، 2867، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1225، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1504، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1161، 1162، والترمذي فى (جامعه) برقم: 556، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1267، 1267 م، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1799، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16695» «رقم طبعة با وزير 2853»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1053): خ، م دون الجهر. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1348. باب صلاة الاستسقاء - ذكر البيان بأن صلاة الاستسقاء يجب أن يجهر فيها بالقراءة
بارش کے لیے طلب بارش کی نماز کا بیان - اس بات کا بیان کہ صلاة الاستسقاء میں قرأت بلند آواز سے کرنی چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2865
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَرَجَ يَسْتَسْقِي، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَلَّى ظَهْرَهُ النَّاسَ، وَقَلَبَ رِدَاءَهُ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ جَهَرَ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ" .
عباس بن تمیم رحمہ اللہ اپنے چچا رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ استسقاء ادا کرنے کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور پشت لوگوں کی طرف کر لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر کو پلٹ دیا اور دو رکعات ادا کیں جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں قرأت کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2865]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1005، 1011، 1012، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 894، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1406، 1407، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2864، 2865، 2866، 2867، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1225، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1504، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1161، 1162، والترمذي فى (جامعه) برقم: 556، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1267، 1267 م، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1799، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16695» «رقم طبعة با وزير 2854»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناد صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں