🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
263. باب فضل الصلوات الخمس - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به الأعمش
پانچ نمازوں کا فضیلت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ حدیث صرف اعمش نے بیان کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1726
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، بِتُسْتَرَ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، مَا تَقُولُونَ، هَلْ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا؟". قَالُوا: لا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ. قَالَ:" ذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تمہارا کیا خیال ہے؟ اگر تم میں سے کسی ایک کے دروازے پر نہر بہتی ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو تو تم اس بارے میں کیا کہتے ہو؟ کیا (یہ عمل) اس کے میل میں سے کوئی بھی چیز باقی رہنے دے گا؟“ لوگوں نے عرض کی: اس کے میل میں سے کوئی بھی چیز باقی نہیں رہے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پانچ نمازوں کی مثال ہے جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1726]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 528، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 667، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1726، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 461، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 319، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2868، 2868 م، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1221، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1722، 5050، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9046» «رقم طبعة با وزير 1723»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، قتيبة: هو ابن سعيد، وابن الهاد: هو يزيد بن عبد الله بن أسامة بن الهاد، ومحمد بن إبراهيم: هو التيمي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
264. باب فضل الصلوات الخمس - ذكر تكفير الصلوات الخمس الحد عن مرتكبه
پانچ نمازوں کا فضیلت کا بیان - پانچوں نمازوں کے ذریعے گناہوں کے کفارے کا ذکر جو اس کے مرتکب سے ہٹ جاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1727
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي وَاثِلَةُ بْنُ الأَسْقَعِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ. قَالَ: فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ. فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ تَوَضَّأْتَ حِينَ أَقْبَلْتَ؟". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" صَلَّيْتَ مَعَنَا؟". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" فَاذْهَبْ، فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ" .
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے قابلِ حد جرم کا ارتکاب کیا ہے آپ مجھ پر حد قائم کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا۔ پھر نماز قائم کی گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے قابلِ حد جرم کا ارتکاب کیا ہے مجھ پر اسے قائم کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا جب تم آئے تھے، تو تم نے وضو کیا تھا؟“ اس نے عرض کی: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز ادا کی ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں! [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1727]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1727، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7271، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16261، والطبراني فى(الكبير) برقم: 162، 191، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 4762» «رقم طبعة با وزير 1724»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر التعليق. * [الوَلِيدُ] قال الشيخ: هو ابنُ مُسلمٍ الدمشقيُّ، وقد أخرجه النَّسائيُّ في «الكبرى» (4/ 314 / 7312)، وابن خزيمة (1/ 160 / 311)، من طريق أخرى عنه. وهذا إِسنادٌ صحيحُ عَلَى شَرطِ مُسلمٍ، مُسلسلٌ بالتحديث. وقال النَّسائيُّ عَقِبَهُ: «لم يُتابع الوليدُ عَلَى قوله: «عن واثلة»». قلت: لا وجه عندي لهذا الإعلال، وذلك لأمور: الأوَّلُ: أنَّ الوليد ثِقة حافظٌ مُحتجٌّ به في «الصحيحين»؛ فلا مَجَال لتخطئته، وقد صرَّحَ بالتحديث في الإسناد كلِّه. ثانياً: قَد تَابعَة مُحَمَّدُ بنُ كَثِير: ثنا الأوزاعيُّ به، وابنُ كَثير - هَذَا -: هو المَصِّيصِيُّ: صدوقٌ سَيِّءٌ الحفظ؛ فمتابعته إِنْ لَمْ تَنفعْ؛ فَلاَ تَضُرُّ. الثالث: قد جاء به طريق آخر عن واثلة: عند أحمد (3/ 391)، والطبرانيّ (22/ 77 / 191)، ورجاله ثقات غير ليث بن أبي سُليمٍ، وهو: صدوق كان قد اختلط؛ فيُمكِنُ الاستشهاد به. الرابع: أن النسائي إِنَّمَا أَعَلَّةُ بِتَفَرُّدِ الوليد؛ لأنَّهُ خالفه معمر، فقال: ثنا الأوزاعي، قال حدثني أبو هانئ، قال حدثني أبو أمامة: أن رجلا قال: فذكر الحديث مختصرا، وقال: «هذا هو الصواب»!! فأقول: لا أدري - والله - ما وجه هذا التصويب، ومعمر قد تَكَلَّمُوا في روايته عن بعض شيوخه، ولا سيَّما وقد [تابعة] ثقتان آخران في شيخ الأوزاعي عند النسائي - أيضا - من طريق بشر وأبي المُغِيرة قالا: حدثنا الأوزاعي، قال حدثني أبو عمَّار، عن أبي أمامة به. ثُمَّ رواه من طريق عكرمة بن عمَّار، قال: ثنا أبُو عَمَّار ... أقول: فما الَّذِي صوَّب - أو رَجَّحَ - رِوَاية معمر على رواية هؤلاء الثلاثة؟! فالَّذِي أَرَاهُ - والله أعلم -: أنَّ كُلَّ هذه الروايات صحيح عن الأوزاعي، وَأَنَّ أبا عمَّار تَلَقَّى الحديث عن كُلٍّ مِنْ: واثلة، وأبي أمامة، وَأَنَّ الأوزاعي روى عن هذا تارةً، وهذا تارةً، والكلُّ صحيحٌ، والله أعلم. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله رجال الصحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
265. باب فضل الصلوات الخمس - ذكر البيان بأن الحد الذي أتى هذا السائل لم يكن بمعصية توجب الحد
پانچ نمازوں کا فضیلت کا بیان - اس بات کا بیان کہ اس سائل کے کیے ہوئے گناہ کی حد ایسی نافرمانی نہیں تھی جو حد کو واجب کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1728
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالأَسْوَدِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أَخَذْتُ امْرَأَةً فِي الْبُسْتَانِ، فَأَصَبْتُ مِنْهَا كُلَّ شَيْءٍ إِلا أَنِّي لَمْ أَنْكِحْهَا، فَافْعَلْ بِي مَا شِئْتَ، فَلَمْ يَقُلْ لَهُ شَيْئًا، ثُمَّ دَعَاهُ، فَقَرَأَ عَلَيْهِ هَذِهِ الآيَةَ:" أَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ سورة هود آية 114" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الْعَرَبُ تَذْكُرُ الشَّيْءَ إِذَا احْتَوَى اسْمُهُ عَلَى أَجْزَاءٍ وَشُعُبٍ، فَتَذْكُرُ جُزْءًا مِنْ تِلْكَ الأَجْزَاءِ بِاسْمِ ذَلِكَ الشَّيْءِ نَفْسِهِ، فَلَمَّا كَانَتِ الْمَحْظُورَاتُ كُلُّهَا مِمَّا نُهِيَ الْمَرْءُ عَنِ ارْتِكَابِهَا، وَاشْتَمَلَ عَلَيْهَا كُلَّهَا اسْمُ الْمَعْصِيَةِ، وَكَانَ الزِّنَى مِنْهَا يُوجِبُ الْحَدَّ عَلَى مُرْتَكِبِهَا، وَلَهَا أَسَبَابٌ يُتَسَلَّقُ مِنْهَا إِلَيْهِ، أُطْلِقَ اسْمُ كُلِّيَّتِهِ عَلَى سَبَبِهِ الَّذِي هُوَ الْقُبْلَةُ وَاللَّمْسُ دُونَ الْجِمَاعِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: میں نے ایک باغ میں ایک عورت کو پکڑ لیا اور میں نے اس کے ساتھ صحبت کرنے کے علاوہ ہر عمل کیا، اب آپ جو چاہیں میرے ساتھ سلوک کریں۔ (راوی بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ نہیں فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اس کے سامنے تلاوت کیا: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ﴾ [سورة هود: 114] ”دن کے دونوں کناروں میں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو، بیشک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عرب بعض اوقات کسی چیز کا تذکرہ کرتے ہیں جس کا نام کئی اجزاء اور شعبوں پر مشتمل ہوتا ہے، پھر عرب ان اجزاء میں سے کسی ایک جزء کا ذکر اس پوری چیز کے نام سے کر دیتے ہیں؛ محظورات کی تمام اقسام کے ارتکاب سے بندوں کو منع کیا گیا ہے اور ان سب پر لفظ ”معصیت“ کا اطلاق ہوتا ہے، ان میں سے ایک زنا ہے جو اپنے مرتکب پر حد کو واجب کر دیتا ہے، اس کے کچھ اسباب ہیں جو اس کی طرف لے جاتے ہیں، تو یہاں ایک سبب کا اطلاق پورے فعل پر کر دیا گیا ہے اور وہ سبب بوسہ لینا اور چھونا ہے، صحبت کرنا مراد نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1728]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 526، 4687، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2763، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 312، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1728، 1729، 1730، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4468، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3112، 3112 م 1، 3112 م 2، 3114، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1398، 4254، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1102، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3727» «رقم طبعة با وزير 1725»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (2353). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن من أجل سماك - وهو ابن حرب - أبو عوانة: هو الوضاح بن عبد الله اليشكري.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
266. باب فضل الصلوات الخمس - ذكر خبر ثان يدل على أن هذا الفعل لم يكن بفعل يوجب الحد
پانچ نمازوں کا فضیلت کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ فعل وہ نہیں تھا جو حد کو واجب کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1729
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، بِالصُّغْدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَنَّهُ أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةً، كَأَنَّهُ يَسْأَلُ عَنْ كَفَّارَتِهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا: أَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114 قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: أَلِي هَذِهِ؟ قَالَ:" هِيَ لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے اس بات کا تذکرہ کیا کہ اس نے ایک عورت کا بوسہ لیا ہے، وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا کفارہ دریافت کرنا چاہتا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ﴾ [سورة هود: 114] ”دن کے دونوں کناروں میں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو، بے شک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں، یہ بات نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے“۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس شخص نے دریافت کیا کہ کیا یہ حکم صرف میرے لیے ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ میری امت کے ہر اس شخص کے لیے ہے جو اس پر عمل کرے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1729]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 526، 4687، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2763، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 312، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1728، 1729، 1730، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4468، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3112، 3112 م 1، 3112 م 2، 3114، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1398، 4254، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1102، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3727» «رقم طبعة با وزير 1726»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، محمد بن عبد الأعلى: من رجال مسلم، وباقي السند على شرطهما، معتمر: هو ابن سليمان بن طرخان التيمي، وأبو عثمان: هو النهدي عبد الرحمن بن مُلّ.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
267. باب فضل الصلوات الخمس - ذكر خبر ثالث يصرح بصحة ما ذكرناه
پانچ نمازوں کا فضیلت کا بیان - تیسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1730
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَقِيتُ امْرَأَةً فِي الْبُسْتَانِ، فَضَمَمْتُهَا إِلَيَّ، وَقَبَّلْتُهَا، وَبَاشَرْتُهَا، وَفَعَلْتُ بِهَا كُلَّ شَيْءٍ، إِلا أَنِّي لَمْ أُجَامِعْهَا. فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا: أَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114. قَالَ: فَدَعَاهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ، فَقَالُ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَهُ خَاصَّةً؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلْ لِلنَّاسِ كَافَّةً" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں ایک باغ میں ایک عورت کو ملا، اسے اپنے ساتھ چمٹا لیا، میں نے اس کا بوسہ لیا، میں نے اس کے ساتھ مباشرت کی، میں نے اس کے ساتھ ہر کام کیا لیکن میں نے اس کے ساتھ صحبت نہیں کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَّ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ﴾ [سورة هود: 114] ”دن کے دونوں کناروں میں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو، بیشک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں، تو یہ بات نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلایا اور اس کے سامنے اسے تلاوت فرمایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا یہ حکم اس کے لیے خاص ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(جی نہیں) بلکہ تمام لوگوں کے لیے ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1730]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 526، 4687، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2763، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 312، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1728، 1729، 1730، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4468، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3112، 3112 م 1، 3112 م 2، 3114، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1398، 4254، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1102، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3727» «رقم طبعة با وزير 1727»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
268. باب فضل الصلوات الخمس - ذكر نفي العذاب في القيامة عمن أتى الصلوات الخمس بحقوقها
پانچ نمازوں کا فضیلت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو شخص پانچوں نمازیں ان کے حقوق کے ساتھ ادا کرتا ہے، اس سے قیامت کے دن عذاب ہٹ جاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1731
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، بِوَاسِطٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنِ الْمُخْدَجِيِّ وَهُوَ أَبُو رُفَيْعٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ : يَا أَبَا الْوَلِيدِ، إِنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، يَزْعُمُ أَنَّ الْوِتْرَ حَقٌّ. قَالَ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ جَاءَ بِالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ قَدْ أَكْمَلَهُنَّ، لَمْ يَنْقُصْ مِنْ حَقِّهِنَّ شَيْئًا، كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ لا يُعَذِّبَهُ، وَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ وَقَدِ انْتَقَصَ مِنْ حَقِّهِنَّ شَيْئًا، فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ، إِنْ شَاءَ رَحِمَهُ، وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: أَبُو مُحَمَّدٍ هَذَا: اسْمُهُ مَسْعُودُ بْنُ زَيْدِ بْنِ سُبَيْعٍ الأَنْصَارِيُّ، مِنْ بَنِي دِينَارِ بْنِ النَّجَّارِ، لَهُ صُحْبَةٌ، سَكَنَ الشَّامَ.
ابورافع بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے یہ کہا: اے ابو ولید! سیدنا ابو محمد—جو انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب اور صحابی تھے—وہ اس بات کے قائل ہیں کہ وتر لازم ہیں۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا: ابو محمد نے غلط کہا ہے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص پانچ نمازیں ادا کرتا ہے اور انہیں مکمل ادا کرتا ہے اور ان کے حق میں کوئی کمی نہیں کرتا، تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس شخص کے لیے یہ عہد ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے کوئی عذاب نہیں دے گا، اور جو شخص انہیں ادا کرتا ہے، لیکن ان کے حق میں سے کسی چیز کی کمی کرتا ہے، تو ایسے شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی عہد نہیں ہے۔ اگر وہ چاہے گا، تو اس پر رحم کرے گا اور اگر چاہے گا، تو اس کو عذاب دے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو محمد نامی راوی کا نام مسعود بن زید بن سبیع انصاری ہے، یہ بنو دینار بن نجار سے تعلق رکھتے ہیں، یہ صحابی ہیں، انہوں نے شام میں سکونت اختیار کی تھی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1731]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 400، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1731، 1732، 2417، وأبو داود فى (سننه) برقم: 425، 1420، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1618، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1401، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23133، وأخرجه الحميدي فى (مسنده) برقم: 392» «رقم طبعة با وزير 1728»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1276). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح، محمد بن عمرو: هو ابن علقمة بن وقاص الليثي، حسن الحديث، والمخدجي: ذكره المؤلف في «الثقات» 5/ 570، وهو لا يعرف بغير هذا الحديث، لكن تابعه أبو عبد الله الصنابحي عند أحمد 5/ 317، وأبو داود (425)، وأبو إدريس الخولاني عند الطيالسي (573)، وباقي رجاله ثقات على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
269. باب فضل الصلوات الخمس - ذكر البيان بأن الحق الذي في هذا الخبر قصد به الإيجاب
پانچ نمازوں کا فضیلت کا بیان - اس بات کا بیان کہ اس خبر میں حق سے مراد وجوب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1732
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بْنِ مَرْزُوقٍ ، بِفَمِ الصِّلْحِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ الأَنْصَارِيُّ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، فَقَالَ: يَا أَبَا الْوَلِيدِ، إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ: الْوِتْرُ وَاجِبٌ. فَقَالَ عُبَادَةُ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، سمعت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ، فَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ وَقَدْ أَكْمَلَهُنَّ وَلَمْ يَنْتَقِصْهُنَّ اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ، كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ وَقَدِ انْتَقَصَهُنَّ اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ لَمْ يَكُنْ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ رَحِمَهُ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُ عُبَادَةَ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، يُرِيدُ بِهِ أَخْطَأَ. وَكَذَلِكَ قَوْلُ عَائِشَةَ، حَيْثُ قَالَتْ لأَبِي هُرَيْرَةَ. وَهَذِهِ لَفْظَةٌ مُسْتَعْمَلَةٌ لأَهْلِ الْحِجَازِ إِذَا أَخْطَأَ أَحَدُهُمْ يُقَالُ لَهُ: كَذَبَ، وَاللَّهُ جَلَّ وَعَلا نَزَّهَ أَقْدَارَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِلْزَاقِ الْقَدْحِ بِهِمْ، حَيْثُ قَالَ: يَوْمَ لا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ... سورة التحريم آية 8 فَمَنْ أَخْبَرَ اللَّهُ جَلَّ وَعَزَّ أَنَّهُ لا يُخْزِيهِ فِي الْقِيَامَةِ فَبِالْحَرِيِّ أَنْ لا يُجْرَحَ. وَالرَّجُلُ الَّذِي سَأَلَ عُبَادَةَ هَذَا: هُوَ أَبُو رُفَيْعٍ الْمُخْدَجِيُّ.
ابن محیریز بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: اے ابو ولید! میں نے سیدنا ابومحمد انصاری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ وتر واجب ہیں۔ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابومحمد نے غلط کہا ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”پانچ نمازیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے، جو شخص انہیں ادا کرے گا اور مکمل کرے گا اور ان کے حق کو کم سمجھتے ہوئے ان میں کمی نہیں کرے گا، تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ عہد ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا، اور جو شخص انہیں ادا کرے گا (لیکن) ان کے حق کو کم سمجھتے ہوئے ان میں کمی کرے گا، تو اس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی عہد نہیں ہے، اور اگر وہ چاہے گا تو وہ عذاب دے گا اور اگر چاہے گا تو اس پر رحم کرے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا ”ابومحمد نے جھوٹ کہا ہے“ اس سے مراد انہوں نے غلط کہا ہے۔ اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہ محاورہ ہے کہ جب کوئی شخص غلط بات کہے تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے ”اس نے جھوٹ کہا ہے“۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو اس چیز سے محفوظ رکھا ہے کہ ان میں کوئی قابلِ اعتراض چیز ہو۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ﴾ [سورة التحريم: 8] ”اس دن اللہ تعالیٰ نبی اور اس کے ساتھ موجود اہل ایمان کو رسوا نہیں کرے گا، ان کا نور...“ تو جب اللہ تعالیٰ نے اس بات کی اطلاع دی کہ وہ قیامت کے دن انہیں رسوا نہیں کرے گا تو وہ اس بات کے زیادہ لائق ہیں کہ ان پر جرح نہ کی جائے۔) سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے سوال کرنے والا شخص ابورفیع مخدجی تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1732]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 400، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1731، 1732، 2417، وأبو داود فى (سننه) برقم: 425، 1420، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1618، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1401، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23133، وأخرجه الحميدي فى (مسنده) برقم: 392» «رقم طبعة با وزير 1729»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (452). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات رجال الشيخين، وفي ترجمة ابن محيريز – وهو عبد الله- من «التهذيب»: أنه حدث عن عبادة بن الصامت.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
270. باب فضل الصلوات الخمس - ذكر البيان بأن الله جل وعلا إنما يغفر بالصلوات الخمس ذنوب مصليها إذا كان مجتنبا للكبائر دون من لم يجتنبها
پانچ نمازوں کا فضیلت کا بیان - اس بات کا بیان کہ اللہ جل وعلا پانچوں نمازوں کے ذریعے نمازی کے گناہ معاف کرتا ہے اگر وہ کبائر سے اجتناب کرے، نہ کہ اس سے جو کبائر سے اجتناب نہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1733
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ، كَفَّارَاتٌ لَمَّا بَيْنَهُنَّ، مَا لَمْ يَغْشَ الْكَبَائِرَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”پانچ نمازیں اور ایک جمعہ دوسرے جمعے تک (درمیان میں) کیے جانے والے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں جب تک کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1733]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 233، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 314، 1814، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1733، 2418، والترمذي فى (جامعه) برقم: 214، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1086، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8836» «رقم طبعة با وزير 1730»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 245 و 246). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، العلاء: هو العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب مولى الحُرَقة.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
271. باب فضل الصلوات الخمس - ذكر تساقط الخطايا عن المصلي بركوعه وسجوده
پانچ نمازوں کا فضیلت کا بیان - نمازی کے رکوع اور سجدے سے گناہوں کے گرنے کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1734
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ ، يُحَدِّثُ عَنِ الْعَلاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، رَأَى فَتًى وَهُوَ يُصَلِّي قَدْ أَطَالَ صَلاتَهُ، وَأَطْنَبَ فِيهَا، فَقَالَ: مَنْ يُعْرَفُ هَذَا؟ فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَوْ كُنْتُ أَعْرِفُهُ، لأَمَرْتُهُ أَنْ يُطِيلَ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فإني سمعت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي، أُتِيَ بِذُنُوبِهِ، فَوَضَعَتْ عَلَى رَأْسِهِ، أَوْ عَاتِقِهِ، فَكُلَّمَا رَكَعَ أَوْ سَجَدَ، تَسَاقَطَتْ عَنْهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا، اس نے طویل نماز ادا کی تھی اور اس کو خوب کھینچا تھا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا کہ کون شخص اسے جانتا ہے، تو ایک صاحب نے جواب دیا: میں، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر میں اسے جانتا ہوتا تو میں اسے ہدایت کرتا کہ یہ رکوع اور سجدہ طویل کرے کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”بندہ جب کھڑا ہو کر نماز ادا کرتا ہے، تو اس کے گناہ لائے جاتے ہیں اور وہ اس کے سر یا کندھے پر رکھ دیے جاتے ہیں اور جب وہ رکوع یا سجدہ میں جاتا ہے، تو وہ اس سے گر جاتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1734]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1734، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4772، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 2732، والطبراني فى(الكبير) برقم: 14108» «رقم طبعة با وزير 1731»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - لكن من حديث عبد الله بن عمر - «الصحيحة» (1398). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح رجاله ثقات إلا أن العلاء بن حارث قد اختلط، لكنه متابع.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
272. باب فضل الصلوات الخمس - ذكر حط الخطايا ورفع الدرجات لمن سجد في صلاته لله عز وجل
پانچ نمازوں کا فضیلت کا بیان - اس شخص کے گناہوں کے ہٹنے اور درجات کی بلندی کا ذکر جو اپنی نماز میں اللہ عز وجل کے لیے سجدہ کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1735
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ ، حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيُّ ، قَالَ: لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهِ، فَقَالَ: عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً، إِلا رَفَعَ اللَّهُ لَهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً" . قَالَ مَعْدَانُ: ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ لِي مِثْلَ ذَلِكَ.
معدان بن طلحہ یعمری بیان کرتے ہیں کہ میری ملاقات سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے ہوئی، جو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے۔ میں نے ان سے کہا: مجھے کوئی حدیث بیان کریں، تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مجھے نفع عطا کرے، تو انہوں نے کہا: تم پر سجدے کرنا لازم ہے، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو بھی شخص اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کا ایک گناہ ختم کرتا ہے۔“ معدان بیان کرتے ہیں کہ پھر میری ملاقات سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ہوئی، میں نے ان سے یہ سوال کیا، تو انہوں نے بھی اس کی مانند جواب دیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1735]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 488، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 316، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1735، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1138، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 729، والترمذي فى (جامعه) برقم: 388، 389، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1423، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4640، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22803» «رقم طبعة با وزير 1732»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (457)، «تمام المنة» (ص235). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله ثقات رجال الصحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں