صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
301. باب صفة الصلاة - ذكر خبر أوهم عالما من الناس أن على المصلي التكبير في كل خفض ورفع من صلاته
نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جس نے بعض عالموں کو یہ وہم دلایا کہ نمازی پر ہر اٹھانے اور جھکنے میں تکبیر کہنا لازم ہے
حدیث نمبر: 1766
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ :" كَانَ يُصَلِّي بِهِمْ كَانَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ" ، فَإِذَا انْصَرَفَ قَالَ: إِنِّي لأَشْبَهُكُمْ صَلاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوسلمہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی، وہ ہر مرتبہ جھکتے ہوئے اور اٹھتے ہوئے تکبیر کہتے تھے، پھر جب انہوں نے نماز مکمل کی تو انہوں نے فرمایا: ”میں تم سب کے مقابلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1766]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 785، 789، 795، 803، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 392، وابن الجارود فى "المنتقى"، 205، 214، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 499، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1766، 1767، 1797، 1801، 1806، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 817، وأبو داود فى (سننه) برقم: 738، 836، 934، والترمذي فى (جامعه) برقم: 254، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1283 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 853، 860، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1136، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6272» «رقم طبعة با وزير 1763»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (788): ق أثم منه، ويأتي بعده. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
302. باب صفة الصلاة - ذكر البيان بأن على المرء التكبير في كل خفض ورفع من صلاته خلا رفعه رأسه من الركوع
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ آدمی پر ہر اٹھانے اور جھکنے میں تکبیر کہنا لازم ہے سوائے رکوع سے سر اٹھانے کے
حدیث نمبر: 1767
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حِينَ اسْتَخْلَفَهُ مَرْوَانُ عَلَى الْمَدِينَةِ، كَانَ: " إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدِ. ثُمَّ يُكَبِّرِ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرِ حِينَ يَقُومِ بَيْنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ التَّشَهُّدِ، ثُمَّ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى يَقْضِيَ صَلاتَهُ" ، فَإِذَا قَضَى صَلاتَهُ وَسَلَّمَ، أَقْبَلَ عَلَى أَهْلِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَشْبَهُكُمْ صَلاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ سَالِمٌ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يَخْفِضُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ.
ابوسلمہ بیان کرتے ہیں جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مروان نے مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا، تو جب وہ فرض نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو انہوں نے تکبیر کہی اور جب رکوع میں جانے لگے تو انہوں نے تکبیر کہی اور جب رکوع سے سر اٹھایا تو «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہا، اور پھر جب وہ سجدے میں جانے کے لیے جھکے تو انہوں نے تکبیر کہی، وہ تشہد کے بعد دو رکعت ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوئے، تو انہوں نے تکبیر کہی، انہوں نے اسی طرح کیا یہاں تک کہ اپنی نماز کو مکمل کر لیا۔ جب انہوں نے اپنی نماز کو مکمل کر کے سلام پھیرا تو انہوں نے اہل مسجد کی طرف رخ پھیرا اور کہا: ”اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، میں تم سب کے مقابلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں۔“ سالم بیان کرتے ہیں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کیا کرتے تھے، البتہ وہ تکبیر کہتے ہوئے اپنی آواز کو پست رکھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1767]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 785، 789، 795، 803، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 392، وابن الجارود فى "المنتقى"، 205، 214، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 499، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1766، 1767، 1797، 1801، 1806، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 817، وأبو داود فى (سننه) برقم: 738، 836، 934، والترمذي فى (جامعه) برقم: 254، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1283 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 853، 860، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1136، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6272» «رقم طبعة با وزير 1764»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، عبد الله: هو ابن المبارك، وهو مطول ما قبله.
303. باب صفة الصلاة - ذكر وصف ما يفتتح به المرء صلاته
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کی کیفیت کا ذکر کہ آدمی اپنی نماز کا آغاز کیسے کرتا ہے
حدیث نمبر: 1768
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ الصَّلاةَ بِالتَّكْبِيرِ، وَالْقِرَاءَةِ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَكَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ لَمْ يُشْخِصْ بَصَرَهُ، وَلَمْ يُصَوِّبْهُ، وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا، وَكَانَ يُوتِرُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى، وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، وَكَانَ يَقُولُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ، وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ، وَكَانَ يَنْهَى أَنْ يَفْرِشَ أَحَدُنَا ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ، وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلاةَ بِالتَّسْلِيمِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر اور ﴿سُورَةُ الْفَاتِحَةِ﴾ [سورة الفاتحة: 1] کی قرأت کے ذریعے نماز کا آغاز کرتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے، تو اپنے سر مبارک کو نہ تو بالکل جھکا کر رکھتے تھے اور نہ ہی بلند رکھتے تھے بلکہ ان دونوں کے درمیان کی صورت اختیار کرتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے، تو اس وقت تک سجدے میں نہیں جاتے تھے جب تک کہ پہلے سیدھے کھڑے نہ ہو جاتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے سے سر اٹھاتے تھے تو دوسری مرتبہ سجدے میں اس وقت تک نہیں جاتے تھے جب تک بالکل سیدھے ہو کر بیٹھ نہ جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بائیں پاؤں کو بچھا لیتے تھے اور دائیں پاؤں کو کھڑا کر لیتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر دو رکعت کے بعد تشہد پڑھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم «عَقِبِ الشَّيْطَانِ» ”شیطان کی طرح ایڑیوں پر بیٹھنے“ سے منع فرماتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے بھی منع فرماتے تھے کہ کوئی شخص درندوں کی طرح اپنی کلائیاں بچھائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام کے ساتھ نماز کو ختم کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1768]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 498، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 699، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1768، وأبو داود فى (سننه) برقم: 783، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1272، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 812، 869، 893، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2296، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24664» «رقم طبعة با وزير 1765»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «صحيح أبي داود» (752)، «الإرواء» (316): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله رجال الشيخين غير بديل بن مسيرة، فإنه من رجال مسلم، وأبو الجوزاء: هو أوس بن عبد الله الربعي، وثقه غير واحد من الأئمة، وأخرج له البخاري حديثا واحدا من رواية ابن عباس، وروى له مسلم وأصحاب السنن وقد أدرك عائشة رضي الله عنها، فقد توفي بعد ست وعشرين سنة من وفاتها، ولا يؤثر عن أحد من الأئمة القدامى التصريح بعدم سماعه منها، اللهم إلا قول ابن عديّ في «كامله» 1/ 402 تعليقا على قول البخاري في «تاريخه» 2/ 16 - 17: في إسناده نظر، بإثر خبر رواه من طريق جعفر بن سليمان، عن عمرو بن مالك النكري، عن أبي الجوزاء قال: أقمت مع ابن عباس وعائشة اثنتي عشرة سنة، ليس من القرآن آية إلا سألتهم عنها، قال ابن عدي: يريد أنه لم يسمع من مثل ابن مسعود وعائشة وغيرها لا أنه ضعيف عنده، والقول بأنه لم يسمع من عائشة يفتقر إلى دليل، وهو مفقود هنا.
304. باب صفة الصلاة - ذكر ما يستحب للمرء نشر الأصابع عند التكبير لافتتاح الصلاة
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ نماز کے آغاز کے لیے تکبیر کہتے وقت آدمی کے لیے انگلیاں پھیلانا مستحب ہے
حدیث نمبر: 1769
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْشُرُ أَصَابِعَهُ فِي الصَّلاةِ نَشْرًا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران اپنی انگلیوں کو کھلا رکھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1769]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 458، 459، 460، 473، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1769، 1777، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 786، 862، 863، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 882، وأبو داود فى (سننه) برقم: 753، والترمذي فى (جامعه) برقم: 239، 240، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8997» «رقم طبعة با وزير 1766»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (735)، ويأتي نحوه أتم منه (1774). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط يحيى بن اليمان مع كونه من رجال مسلم: سيء الحفظ، لكنه توبع، وباقي رجاله ثقات، ابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة.
305. باب صفة الصلاة - ذكر الإخبار عما يستحب للمرء من وضع اليمين على اليسار في صلاته
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی کے لیے نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 1770
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّا مَعْشَرَ الأَنْبِيَاءِ أُمِرْنَا أَنْ نُؤَخِّرَ سُحُورَنَا، وَنُعَجِّلَ فِطْرَنَا، وَأَنْ نُمْسِكَ بِأَيْمَانِنَا عَلَى شَمَائِلِنَا فِي صَلاتِنَا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، وَطَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ہم انبیاء کے گروہ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم اپنی سحری کو مؤخر کریں، افطاری جلدی کریں اور نماز کے دوران اپنے دائیں ہاتھوں کے ذریعے بائیں ہاتھوں کو پکڑ لیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابن وہب نے یہ روایت عمر بن حارث اور طلحہ بن عمرو سے سنی ہے، جو عطاء بن ابی رباح سے منقول ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1770]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1770، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2375، 8222، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1097، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 2776» «رقم طبعة با وزير 1767»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صفة الصلاة». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناد صحيح على شرط مسلم، حرملة بن يحيى: صدوق من رجال مسلم، ومن فوقه من رجال الشيخين.
306. باب صفة الصلاة - ذكر ما يدعو المرء به بعد افتتاح الصلاة قبل القراءة
نماز کے طریقہ کا بیان - اس دعا کا ذکر جو آدمی نماز کے آغاز کے بعد قراءت سے پہلے مانگتا ہے
حدیث نمبر: 1771
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ الصَّلاةَ الْمَكْتُوبَةَ، قَالَ: " وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلاتِي، وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، إِنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لأَحْسَنِ الأَخْلاقِ، لا يَهْدِينِي لأَحْسَنِهَا إِلا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا، لا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ" .
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کا آغاز کرتے تھے تو آپ یہ پڑھتے تھے: ” ﴿إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ [سورة الأنعام: 79] ”میں نے سیدھے راستے پر چلتے ہوئے اور مسلمان ہوتے ہوئے اپنا رخ اس ذات کی طرف کیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرک نہیں ہوں۔“ ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] ”بیشک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔“ «اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ”اے اللہ! تو بادشاہ ہے، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو ہر عیب سے پاک ہے اور حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تو میرا پروردگار ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے، میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں۔ تو میرے تمام گناہوں کی مغفرت کر دے۔ گناہوں کی مغفرت صرف تو ہی کرتا ہے اور اچھے اخلاق کی طرف تو میری رہنمائی کر دے کیونکہ اچھے اخلاق کی طرف صرف تو ہی رہنمائی کر سکتا ہے اور برے اخلاق کو مجھ سے دور کر دے، برے اخلاق کو صرف تو ہی مجھ سے دور کر سکتا ہے۔ میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں۔ سعادت تیری طرف سے ہی حاصل ہو سکتی ہے اور بھلائی تیرے دستِ قدرت میں ہے، وہ شخص ہدایت یافتہ ہے جسے تو ہدایت عطا کرے، میں تیری مدد سے ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں، تو برکت والا اور بلند و برتر ہے۔ میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔“” [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1771]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 393، 771، وابن الجارود فى "المنتقى"، 198، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 462، 463، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1771، 1772، 1773، 1774، 1901، 1903، 1904، 1966، 1977، 1978، 2025، وأبو داود فى (سننه) برقم: 744، 760، 835، 1509، والترمذي فى (جامعه) برقم: 266، 3421، 3422، 3423، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1274، 1353، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 864، 1054، وأحمد فى (مسنده) برقم: 728» «رقم طبعة با وزير 1768»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (738): م دون قوله: «المكتوبة»، و «المهديُّ من هديت». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، يوسف بن مسلم: هو يوسف بن سعيد بن مسلم المصيصي، روى له النسائي، ثقة، ومن فوقه على شرطهما.
307. باب صفة الصلاة - ذكر ما يدعو به المرء عند افتتاح الصلاة الفريضة ويقول بعد التكبيرة
نماز کے طریقہ کا بیان - اس دعا کا ذکر جو آدمی فرض نماز کے آغاز پر اور تکبیر کے بعد کہتا ہے
حدیث نمبر: 1772
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الأَنْمَاطِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ الصَّلاةَ الْمَكْتُوبَةَ، قَالَ: " وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلاتِي، وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لأَحْسَنِ الأَخْلاقِ، لا يَهْدِي لأَحْسَنِهَا إِلا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا، لا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ" .
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کا آغاز کرتے تھے تو آپ یہ پڑھتے تھے: «وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي، وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ”میں سیدھے راستے پر گامزن رہتے ہوئے اپنا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ﴿وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ [سورة الأنعام: 79] اور میں مشرک نہیں ہوں۔ بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے اور مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] ۔ اے اللہ! تو بادشاہ ہے۔ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں۔ تو ہر عیب سے پاک ہے۔ حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تو میرا پروردگار ہے، میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔ میں اپنے ذنب کا اعتراف کرتا ہوں، تو میرے تمام ذنوب کی مغفرت کر دے۔ ذنوب کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے، تو اچھے اخلاق کی طرف میری رہنمائی کر، اچھے اخلاق کی طرف تو ہی رہنمائی کر سکتا ہے، تو برے اخلاق کو مجھ سے دور کر دے۔ برے اخلاق کو صرف تو ہی دور کر سکتا ہے، میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں، سعادت تجھ سے حاصل ہوتی ہے۔ بھلائی تیرے دستِ قدرت میں ہے۔ ہدایت یافتہ وہ ہے جسے تو ہدایت عطا کرے۔ میں تیری مدد سے ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔ تو برکت والا اور بلند و برتر ہے۔ میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1772]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 393، 771، وابن الجارود فى "المنتقى"، 198، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 462، 463، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1771، 1772، 1773، 1774، 1901، 1903، 1904، 1966، 1977، 1978، 2025، وأبو داود فى (سننه) برقم: 744، 760، 835، 1509، والترمذي فى (جامعه) برقم: 266، 3421، 3422، 3423، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1274، 1353، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 864، 1054، وأحمد فى (مسنده) برقم: 728» «رقم طبعة با وزير 1769»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م دون قوله: «سبحانك وبحمدك»، و «المهديُّ من هديت» - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
308. باب صفة الصلاة - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم كان يدعو بما وصفنا بعد التكبير لا قبل
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کے بعد وہ دعا پڑھتے تھے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے، اس سے پہلے نہیں
حدیث نمبر: 1773
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلاةَ كَبَّرَ، ثُمَّ يَقُولُ:" وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلاتِي، وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي، وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ"، أَرَادَ بِهِ: وَالشَّرُّ لَيْسَ مِمَّا يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَيْكَ، فَأَضْمَرَ فِيهِ مَا يُتَقَرَّبُ بِهِ.
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے: ” «وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ» ﴿إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ [سورة الأنعام: 79] ”میں نے سیدھے راستے پر گامزن رہتے ہوئے اپنا رخ اس ذات کی طرف کر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرک نہیں ہوں“، ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] ”بے شک میری نماز، میری ذات، میری موت، میری قربانی، میری زندگی اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں“، «اللهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ”اے اللہ! تو بادشاہ ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تو میرا پروردگار ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے، میں اپنے ذنب کا اعتراف کرتا ہوں، تو میرے ذنوب کی مغفرت کر دے، ذنوب کی مغفرت صرف تو ہی کرتا ہے، میں حاضر ہوں اور سعادت تجھ سے حاصل ہو سکتی ہے، تمام بھلائی تیرے دست قدرت میں ہے اور برائی تیری طرف نہیں جا سکتی اور میں تیری مدد سے ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں، تو برکت والا ہے اور بلند و برتر ہے، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں“۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”برائی تیری طرف نہیں جا سکتی“ اس سے مراد یہ ہے: برائی ایسی چیز نہیں ہے جس کے ذریعے تیرا قرب حاصل کیا جائے۔ تو یہاں ”جس کے ذریعے قرب حاصل کیا جائے“ محذوف ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1773]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 393، 771، وابن الجارود فى "المنتقى"، 198، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 462، 463، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1771، 1772، 1773، 1774، 1901، 1903، 1904، 1966، 1977، 1978، 2025، وأبو داود فى (سننه) برقم: 744، 760، 835، 1509، والترمذي فى (جامعه) برقم: 266، 3421، 3422، 3423، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1274، 1353، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 864، 1054، وأحمد فى (مسنده) برقم: 728» «رقم طبعة با وزير 1770»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه، والماجشون بن أبي سلمة: هو أبو يوسف يعقوب بن دينار، وقيل ميمون، والماجشون معرب ماه كون، ومعناه الأبيض المشرب بالحمرة.
حدیث نمبر: 1774
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الأَنْمَاطِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ الصَّلاةَ الْمَكْتُوبَةَ، قَالَ:" وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلاتِي، وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي، لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لأَحْسَنِ الأَخْلاقِ، لا يَهْدِي لأَحْسَنِهَا إِلا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا، لا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز ادا کرتے تھے، تو یہ پڑھتے تھے: ” ﴿إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ [سورة الأنعام: 79] ”میں نے سیدھے راستے پر گامزن رہتے ہوئے اپنا رخ اس ذات کی طرف کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرک نہیں ہوں“، ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] ”بیشک میری نماز، میری زندگی، میری موت، میری قربانی اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمان ہوں“، «اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ”اے اللہ! ہم تیرے لیے مخصوص ہیں، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو پاک ہے اور حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تو میرا پروردگار ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے، میں اپنے ذنب کا اعتراف کرتا ہوں، تو میرے تمام ذنوب کی مغفرت کر دے، ذنوب کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے، اچھے اخلاق کی طرف صرف تو ہی رہنمائی کر سکتا ہے، تو برے اخلاق کو مجھ سے دور کر دے، بے شک برے اخلاق کو صرف تو ہی مجھ سے دور کر سکتا ہے، میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں، سعادت تجھ سے ہی حاصل ہو سکتی ہے اور بھلائی تیرے دستِ قدرت میں ہے، ہدایت یافتہ وہ ہے جسے تو ہدایت عطا کرے، میں تیری مدد سے ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں، تو برکت والا اور بلند و برتر ہے اور میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں“۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1774]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 393، 771، وابن الجارود فى "المنتقى"، 198، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 462، 463، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1771، 1772، 1773، 1774، 1901، 1903، 1904، 1966، 1977، 1978، 2025، وأبو داود فى (سننه) برقم: 744، 760، 835، 1509، والترمذي فى (جامعه) برقم: 266، 3421، 3422، 3423، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1274، 1353، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 864، 1054، وأحمد فى (مسنده) برقم: 728» «رقم طبعة با وزير 1771»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م دون بعض الجمل، وهو مكرر (1769). تنبيه!! رقم (1769) = (1772) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناد صحيح على شرط مسلم, وهو مكرر (1772).
309. باب صفة الصلاة - ذكر الإباحة للمرء أن يفتتح الصلاة بغير ما وصفنا من الدعاء
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی ہمارے بیان کردہ دعا کے علاوہ کسی اور دعا سے نماز کا آغاز کر سکتا ہے
حدیث نمبر: 1775
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى الْبُسْتَانِيُّ ، بِدِمَشْقَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ، سَكَتَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ. فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي، أَرَأَيْتَ سَكَتَاتِكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ؟ أَخْبَرَنِي مَا تَقُولُ فِيهَا؟ قَالَ: " اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر کہتے تھے، تو تکبیر اور قرأت کے درمیان کچھ دیر خاموش رہتے تھے۔ میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ تکبیر اور قرأت کے درمیان جو خاموش رہتے ہیں، اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ مجھے بتائیے کہ اس دوران آپ کیا پڑھتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(میں یہ پڑھتا ہوں): «اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ» ”اے اللہ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنا فاصلہ کر دے جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ کیا ہے۔ اے اللہ! مجھے میری خطاؤں سے اس طرح صاف کر دے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! تو میری خطاؤں کو پانی، اولوں اور برف کے ذریعے دھو دے۔““ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1775]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 744، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 598، وابن الجارود فى "المنتقى"، 350، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 465، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1775، 1776، 1778، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 60، وأبو داود فى (سننه) برقم: 781، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1280، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 805، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1277، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7285» «رقم طبعة با وزير 1772»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (750): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، علي بن خشرم: ثقة من رجال مسلم، ومن فوقه من رجال الشيخين، ابن فضيل: هو محمد بن فضيل بن غزوان الضبي، وأبو زرعة: هو أبو زرعة بن عمرو بن جرير بن عبد الله البجلي، مختلف في اسمه.