صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
541. فصل في القنوت - ذكر مغفرة الله جل وعلا ما سلف من ذنوب المسلم بقوله ما وصفنا في عقيب الصلوات المفروضات
نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا ہمارے بیان کردہ الفاظ کو فرض نمازوں کے بعد کہنے سے مسلمان کے پچھلے گناہ معاف کر دیتا ہے
حدیث نمبر: 2016
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَبَّحَ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ، وَحَمَدَهُ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ، وَكَبَّرَهُ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ، فَتِلْكَ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ، وَقَالَ تَمَامَ الْمِائَةِ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، غُفِرَتْ لَهُ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَبُو عُبَيْدٍ هَذَا، حَاجِبُ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ رَوَى عَنْهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، تینتیس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے“ اور تینتیس مرتبہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھتا ہے، تو یہ ننانوے بن جاتے ہیں، اور وہ اس کلمے کو پڑھ کر سو کو مکمل کرے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے“، تو اس شخص کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوعبید نامی راوی سلیمان بن عبدالملک کا دربان تھا، اس سے امام مالک نے روایات نقل کی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2016]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 597، ومالك فى (الموطأ) برقم: 714، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 750، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2013، 2016، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3075، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8956» «رقم طبعة با وزير 2013»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر (2010). تنبيه!! رقم (2010) = (2013) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، خالد بن عبد الله: هو ابن عبد الرحمن بن يزيد الطحان.
542. فصل في القنوت - ذكر استحباب زيادة التهليل مع التسبيح والتحميد والتكبير ليكون كل واحد منها خمسا وعشرين
نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - تسبیح، تحمید اور تکبیر کے ساتھ تہلیل کی زیادتی کے استحباب کا ذکر تاکہ ہر ایک پچیس ہو
حدیث نمبر: 2017
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّهُ قَالَ:" أُمِرْنَا أَنْ نُسَبِّحَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ، وَنُحِمِّدَ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ، وَنُكَبِّرَ أَرْبَعًا وَثَلاثِينَ"، فَأُتِيَ رَجُلٌ فِي مَنَامِهِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُ أَمَرَكُمْ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ تُسَبِّحُوا فِي دُبُرُ كُلُّ صَلاةٍ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ، وَتُحَمِّدُوا ثَلاثًا وَثَلاثِينَ، وَتُكَبِّرُوا أَرْبَعًا وَثَلاثِينَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: اجْعَلُوهَا خَمْسًا وَعِشْرِينَ، وَاجْعَلُوا فِيهِ التَّهْلِيلَ. فَلَمَّا أَصْبَحَ، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَافْعَلُوهُ" .
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہمیں ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ پڑھنے، تینتیس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے“ پڑھنے اور چونتیس مرتبہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھنے کا حکم دیا گیا، پھر ان کے خواب میں ایک شخص آیا اور ان سے کہا گیا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» پڑھنے، تینتیس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» اور چونتیس مرتبہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ سیدنا زید نے جواب دیا: جی ہاں، تو اس شخص نے کہا: آپ اسے پچیس پچیس مرتبہ پڑھ لیں اور اس میں «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کو بھی شامل کر لیں، جب صبح ہوئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ایسا کر لو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2017]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 752، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2017، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 934، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1349، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1275، 9911، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3413، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1394، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22001» «رقم طبعة با وزير 2014»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «المشكاة» (973). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله رجال الصحيح غير كثير بن أفلح، وهو ثقة.
543. فصل في القنوت - ذكر كتبة الله جل وعلا لمن اقتصر من التسبيح والتحميد والتكبير في عقيب الصلوات المفروضات
نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا فرض نمازوں کے بعد تسبیح، تحمید اور تکبیر پر اکتفا کرنے والے کے لیے لکھتا ہے
حدیث نمبر: 2018
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَصْلَتَانِ لا يُحْصِيهِمَا عَبْدٌ إِلا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَهُمَا يَسِيرً وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ: يُسَبِّحُ اللَّهَ أَحَدُكُمْ فِي دُبُرُ كُلُّ صَلاةٍ عَشْرًا، وَيُحَمِّدُهُ عَشْرًا، وَيُكَبِّرُهُ عَشْرًا، فَتِلْكَ خَمْسُونَ وَمِائَةٌ بِاللِّسَانِ، وَأَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ. وَإِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ يُسَبِّحُ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ، وَيُحَمِّدُ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ، وَيُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلاثِينَ، فَتِلْكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ، وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ"، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ أَلْفَيْنِ وَخَمْسَ مِائَةِ سَيِّئَةٍ؟". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْقِدُهُنَّ بِيَدِهِ. قَالَ: فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ لا يُحْصِيهَا؟ قَالَ:" يَأْتِي أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ، وَهُوَ فِي صَلاتِهِ، فَيَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا، اذْكُرْ كَذَا، وَيَأْتِيهِ عِنْدَ مَنَامِهِ فَيُنَوِّمُهُ" . قَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ: كَانَ أَيُّوبُ حَدَّثَنَا، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَلَمَّا قَدِمَ عَطَاءٌ الْبَصْرَةَ، قَالَ لَنَا أَيُّوبُ، قَدْ قَدِمَ صَاحِبُ حَدِيثِ التَّسْبِيحِ، فَاذْهَبُوا فَاسْمَعُوهُ مِنْهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”دو خصوصیات ایسی ہیں، جن کو جو بھی بندہ اختیار کر لے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ یہ دونوں آسان ہیں لیکن ان پر عمل کرنے والے لوگ تھوڑے ہیں۔ ایک یہ، کوئی شخص نماز کے بعد دس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“، دس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد اللہ“ اور دس مرتبہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ پڑھے تو یہ (ایک دن اور رات میں) زبان سے پڑھنے کے حساب سے ایک سو پچاس ہوں گے اور میزان میں ایک ہزار پانچ سو ہوں گے، (دوسری عادت یہ ہے)، جب کوئی شخص اپنے بستر پر جائے، تو تینتیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“، تینتیس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد اللہ“ اور چونتیس مرتبہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ پڑھے تو یہ زبان پر پڑھنے کے حساب سے ایک سو ہوں گے اور میزان میں ایک ہزار ہوں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون شخص روزانہ دو ہزار پانچ سو برائیاں کرتا ہے؟“ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اپنے دستِ مبارک کے ذریعے انہیں شمار کر رہے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کوئی شخص ان دونوں پر کیوں عمل نہیں کرے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کسی ایک کے پاس شیطان آتا ہے اور وہ آدمی اس وقت نماز پڑھ رہا ہوتا ہے، تو شیطان کہتا ہے کہ تم فلاں چیز کو یاد کرو، فلاں چیز کو یاد کرو اور جب آدمی سونے لگتا ہے اس وقت شیطان آدمی کے پاس آتا ہے اور اسے سلا دیتا ہے۔“ حماد بن زید رحمہ اللہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ ایوب رحمہ اللہ نے عطاء بن سائب رحمہ اللہ کے حوالے سے یہ حدیث ہمیں سنائی تھی۔ جب عطاء رحمہ اللہ بصرہ آئے تو ایوب رحمہ اللہ نے ہمیں کہا: کہ تسبیح والی اس حدیث کو نقل کرنے والے صاحب تشریف لے آئے ہیں، تم لوگ جاؤ اور ان سے اسے سن لو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2018]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 843، 2012، 2018، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2012، 2013، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1347، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1502، 5065، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3410، 3411، 3486، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 926، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6609، 7029، والحميدي فى (مسنده) برقم: 594» «رقم طبعة با وزير 2015»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر (2009). تنبيه!! رقم (2009) = (2012) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، حماد بن زيد روى عن عطاء بن السائب قبل الاختلاط.
544. فصل في القنوت - ذكر البيان بأن ما وصفنا من التسبيح والتحميد والتكبير من المعقبات الذي لا يخيب قائلهن
نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس بات کا بیان کہ ہمارے بیان کردہ تسبیح، تحمید اور تکبیر ان معقبات میں سے ہیں جن کا کہنے والا ناکام نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 2019
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنِ قَحْطَبَةَ ، بِفَمِ الصِّلْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَمْزَةُ الزَّيَّاتُ ، وَمَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مُعَقِّبَاتٌ لا يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ: تُسَبِّحُ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ، وَتُحَمِّدُهُ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ، وَتُكَبِّرُهُ أَرْبَعًا وَثَلاثِينَ" .
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”(نماز) کے بعد پڑھے جانے والے کچھ کلمات ایسے ہیں، جنہیں پڑھنے والا شخص رسوا نہیں ہو گا؛ تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، تینتیس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ اور چونتیس مرتبہ «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ پڑھو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2019]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 596، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2019، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1348، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1273، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3412، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3076» «رقم طبعة با وزير 2016»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (102)، «مختصر الأدب المفرد» (473): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله رجال الصحيح غير محمد بن حسان الأزرق، وهو ثقة، الحكم: هو ابن عتيبة.
545. فصل في القنوت - ذكر الاستحباب للمرء أن يستعين بالله جل وعلا على ذكره وشكره وحسن عبادته عقيب الصلوات المفروضات
نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس بات کا استحباب کہ آدمی فرض نمازوں کے بعد اللہ جل وعلا سے اس کے ذکر، شکر اور اچھی عبادت کے لیے مدد مانگے
حدیث نمبر: 2020
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ التُّجِيبِيُّ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ ، عَنِ الصُّنَابِحِيُّ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخَذَ بِيَدِ مُعَاذٍ، فَقَالَ:" يَا مُعَاذُ، وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّكَ". فَقَالَ مُعَاذٌ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّكَ. فَقَالَ: يَا مُعَاذُ،" أُوصِيكَ أَنْ لا تَدَعَنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ أَنْ تَقُولَ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ" . قَالَ: وَأَوْصَى بِذَلِكَ مُعَاذٌ الصُّنَابِحِيَّ، وَأَوْصَى بِذَلِكَ الصُّنَابِحِيُّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَوْصَى بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ارشاد فرمایا: ”اے معاذ! اللہ کی قسم! میں تم سے محبت رکھتا ہوں۔“ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ کی قسم! میں بھی آپ سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے معاذ! میں تمہیں یہ تلقین کر رہا ہوں، تم ہر نماز کے بعد یہ کلمات پڑھنا کبھی نہ چھوڑنا: «اَللّٰهُمَّ أَعِنِّيْ عَلَىٰ ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ» ”اے اللہ! تو اپنے ذکر، اپنے شکر اور اچھے طریقے سے اپنی عبادت کے بارے میں میری مدد کر۔““ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے (اپنے شاگرد) صنابحی کو ان کلمات کی تلقین کی تھی، صنابحی نے ابوعبدالرحمن نامی راوی کو تلقین کی تھی اور ابوعبدالرحمن نے عقبہ بن مسلم نامی راوی کو ان کی تلقین کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2020]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 751، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2020، 2021، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1015، 5230، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1302، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1522، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22546» «رقم طبعة با وزير 2017»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1362). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، رجاله رجال الصحيح غير عقبة بن مسلم، وهو ثقة، المقرئ: هو عبد الله بن يزيد، وأبو عبد الرحمن الحبلي: هو عبد الله بن يزيد المعافري، والصُّنابحي – بضم الصاد وفتح النون وكسر الباء، نسبة إلى صنابح: بطن من مراد: هو عبد الرحمن بن عُسَيْلَة.
546. فصل في القنوت - ذكر الأمر بسؤال العبد ربه جل وعلا أن يعينه على ذكره وشكره وعبادته في عقب صلاته
نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ بندہ اپنے رب جل وعلا سے اپنی نماز کے بعد اس کے ذکر، شکر اور عبادت کے لیے مدد مانگے
حدیث نمبر: 2021
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ التُّجِيبِيَّ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخَذَ بِيَدِهِ يَوْمًا، فَقَالَ:" يَا مُعَاذُ، إِنِّي وَاللَّهِ لأُحِبُّكَ"، فَقَالَ مُعَاذٌ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَنَا وَاللَّهِ أُحِبُّكَ. فَقَالَ:" أُوصِيكَ يَا مُعَاذُ، لا تَدَعْ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ أَنْ تَقُولَ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ" . وَأَوْصَى بِذَلِكَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ الصُّنَابِحِيَّ، وَأَوْصَى بِذَلِكَ الصُّنَابِحِيُّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَوْصَى بِهِ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”اے معاذ! اللہ کی قسم! میں تم سے محبت رکھتا ہوں۔“ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ کی قسم! میں بھی آپ سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے معاذ! میں تمہیں یہ تلقین کر رہا ہوں، تم ہر نماز کے بعد یہ کلمات پڑھنا اور کبھی نہ چھوڑنا: «اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ» ”اے اللہ! تو اپنے ذکر، اپنے شکر اور اچھے طریقے سے اپنی عبادت کے بارے میں میری مدد کر۔““ (راوی بیان کرتے ہیں) سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے صنابحی کو ان کلمات کی تلقین کی تھی، صنابحی نے ابوعبدالرحمن کو تلقین کی تھی اور ابوعبدالرحمن نے عقبہ بن مسلم کو ان کلمات کی تلقین کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2021]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 751، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2020، 2021، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1015، 5230، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1302، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1522، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22546» «رقم طبعة با وزير 2018»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، وهو مكرر ما قبله.
547. فصل في القنوت - ذكر كتبة الله عز وجل جوازا من النار لمن استجار منها في عقب صلاة الغداة والمغرب سبع مرات نعوذ بالله منها
نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ عز وجل صبح اور مغرب کی نماز کے بعد سات بار "نعوذ بالله منها" کہنے والے کو جہنم سے جواز دیتا ہے
حدیث نمبر: 2022
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ الْكِنَانِيِّ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ مُسْلِمٍ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، فَلَمَّا بَلَغْنَا الْمُغَارَ، اسْتَحْثَثْتُ فَرَسِي، فَسَبَقْتُ أَصْحَابِي، فَتَلَقَّانِي الْحَيُّ بِالرَّنِينِ، فَقُلْتُ: قُولُوا: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ تُحَرَّزُوا، فَقَالُوهَا. فَلامَنِي أَصْحَابِي، وَقَالُوا: حُرِمْنَا الْغَنِيمَةَ بَعْدَ أَنْ رُدَّتْ بِأَيْدِينَا. فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرُوهُ بِمَا صَنَعْتُ، فَدَعَانِي، فَحَسَّنَ لِي مَا صَنَعْتُ، وَقَالَ:" أَمَا إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَتَبَ لَكَ بِكُلِّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ كَذَا وَكَذَا". قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَأَنَا نَسِيتُ الثَّوَابَ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِي:" إِنِّي سَأَكْتُبُ لَكَ كِتَابًا، وَأُوصِي بِكَ مَنْ يَكُونُ بَعْدِي مِنْ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ". قَالَ: فَكَتَبَ لِي كِتَابًا، وَخَتَمَ عَلَيْهِ، وَدَفَعَهُ إِلَيَّ، وَقَالَ: " إِذَا صَلَّيْتَ الْمَغْرِبَ، فَقُلْ قَبْلَ أَنْ تُكَلِّمَ أَحَدًا: اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ سَبْعَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّكَ إِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ تِلْكَ كَتَبَ اللَّهُ لَكَ جَوَازًا مِنَ النَّارِ، وَإِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَقُلْ قَبْلَ أَنْ تُكَلِّمَ أَحَدًا: اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ سَبْعَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّكَ إِنْ مُتَّ مِنْ يَوْمِكَ ذَلِكَ كَتَبَ اللَّهُ لَكَ جَوَازًا مِنَ النَّارِ" . قَالَ: فَلَمَّا قَبَضَ اللَّهُ رَسُولَهُ، أَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ بِالْكِتَابِ، فَفَضَّهُ، فَقَرَأَهُ وَأَمَرَ لِي بِعَطَاءٍ وَخَتَمَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ عُمَرَ، فَقَرَأَهُ، وَأَمَرَ لِي، وَخَتَمَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ عُثْمَانَ، فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ. قَالَ مُسْلِمُ بْنُ الْحَارِثِ: تُوُفِّيَ الْحَارِثُ بْنُ مُسْلِمٍ فِي خِلافَةِ عُثْمَانَ، وَتَرَكَ الْكِتَابَ عِنْدَنَا، فَلَمْ يَزَلْ عِنْدَنَا حَتَّى كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى الْوَالِي بِبَلَدِنَا يَأْمُرُهُ بِإِشْخَاصِي إِلَيْهِ وَالْكِتَابَ، فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ، فَفَضَّهُ، وَأَمَرَ لِي، وَخَتَمَ عَلَيْهِ، وَقَالَ: أَمَا إِنِّي لَوْ شِئْتُ أَنْ يَأْتِيَكَ ذَلِكَ وَأَنْتَ فِي مَنْزِلِكَ فَعَلْتُ، وَلَكِنْ أَحْبَبْتُ أَنْ تُحَدِّثَنِي بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ. قَالَ: فَحَدَّثْتُهُ.
مسلم بن حارث رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مہم پر روانہ کیا، جب ہم مطلوبہ مقام کے قریب پہنچے تو میں نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور اپنے ساتھیوں سے آگے نکل گیا، ”رنین“ کے مقام پر ایک قبیلے سے میرا سامنا ہوا، میں نے کہا: تم لوگ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» پڑھ لو تم لوگ محفوظ رہو گے، ان لوگوں نے یہ کلمہ پڑھ لیا، میرے ساتھیوں نے مجھے ملامت کی اور کہا: ہم لوگ مالِ غنیمت سے محروم رہ گئے ہیں اور یہ ہمارے ہاتھ آتے رہ گیا، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، میرے ساتھیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے طرزِ عمل کے بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا اور میرے اس عمل پر تحسین کا اظہار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ ان لوگوں میں سے ہر ایک انسان کے عوض میں تمہارے لیے اتنا اجر نوٹ کر لے گا۔“ عبدالرحمن نامی راوی بیان کرتے ہیں: وہ ثواب میں بھول گیا ہوں، راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”میں تمہارے لیے ایک تحریر لکھواؤں گا اور (اس تحریر میں) میں اپنے بعد آنے والے مسلمانوں کے حکمران کو تمہارے بارے میں عطیات دینے کی ہدایت کروں گا، میں تمہیں اس بات کی تلقین کروں گا، میرے بعد مسلمانوں کے حکمران کون لوگ ہوں گے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے ایک تحریر لکھوائی، اس پر مہر لگوائی اور اسے میرے سپرد کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم مغرب کی نماز ادا کر لو تو کسی کے ساتھ بات چیت کرنے سے پہلے سات مرتبہ یہ کلمہ پڑھو: «اللّٰهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ» ”اے اللہ! تو مجھے جہنم سے نجات عطا کر۔“ اگر تم اسی رات میں فوت ہو جاتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے جہنم سے آزادی کو نوٹ کر لے گا اور جب تم صبح کی نماز پڑھ لو تو کسی کے ساتھ بات چیت کرنے سے پہلے سات مرتبہ یہ کلمہ پڑھ لو: «اللّٰهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ» ”اے اللہ! تو مجھے جہنم سے نجات عطا کر۔“ اگر تم اس دن میں فوت ہو جاتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آگ سے آزادی کو نوٹ کر لے گا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو میں وہ تحریر لے کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس مہر کو توڑا اور اس مکتوب کو پڑھا، پھر انہوں نے مجھے ادائیگی کا حکم دیا اور اس پر مہر لگا دی، پھر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس (ان کے عہدِ خلافت میں) آیا، انہوں نے اس کو پڑھا اور میرے لیے ادائیگی کا حکم دیا، انہوں نے بھی اس پر مہر لگا دی، پھر میں اسے لے کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی ایسا ہی کیا، مسلم بن حارث رضی اللہ عنہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا حارث بن مسلم رضی اللہ عنہ کا انتقال سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں ہوا تھا، وہ تحریر ہمارے پاس موجود رہی، یہاں تک کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ہمارے علاقے کے گورنر کو خط لکھ کر اسے حکم دیا کہ وہ مجھے اور اس تحریر کو عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی خدمت میں پیش کرے، میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس آیا، انہوں نے اس مہر کو توڑا، میرے لیے ادائیگی کا حکم دیا اور پھر اس پر مہر لگا دی، پھر ارشاد فرمایا: ”میں چاہتا تو یہ سب کچھ تمہارے پاس تمہارے گھر میں پہنچ سکتا تھا لیکن میں یہ چاہتا تھا کہ تم مجھے یہ حدیث بیان کرو۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے انہیں یہ حدیث سنائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2022]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2022، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9859، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5079، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18339» «رقم طبعة با وزير 2019»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «الضعيفة» (1624). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط مسلم بن الحارث – ويقال: الحارث بن مسلم، وهو الأصح كما سيأتي: لم يوثقه غير المؤلف 5/ 391، ولا يعرف بغير هذا الحديث، وقال الدارقطني: مجهول، وباقي رجاله ثقات، وَمَالَ الحافظ في «التهذيب» إلى تضعيفه، إلا أَنَّ ابن علان في «التفوحات الربانية» نقل عنه قوله: حديث حسن.
548. فصل في القنوت - ذكر الشيء الذي يعدل لمن قاله بعد صلاة الغداة والمغرب عتاقة أربع رقاب مع احتراسه من الشيطان به
نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس چیز کا ذکر جو صبح اور مغرب کی نماز کے بعد کہنے سے چار غلاموں کی آزادی کے برابر ہے اور اس سے شیطان سے حفاظت ہوتی ہے
حدیث نمبر: 2023
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعِيشَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، عَشْرَ مَرَّاتٍ، كُتِبَ لَهُ بِهِنَّ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَمُحِيَ بِهِنَّ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ، وَرُفِعَ لَهُ بِهِنَّ عَشْرُ دَرَجَاتٍ، وَكُنَّ لَهُ عَدْلَ عَتَاقَةِ أَرْبَعِ رِقَابٍ، وَكُنَّ لَهُ حَرَسًا مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ، وَمَنْ قَالَهُنَّ إِذَا صَلَّى الْمَغْرِبَ دُبُرَ صَلاتِهِ فَمِثْلُ ذَلِكَ حَتَّى يُصْبِحَ" . أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، فِي عَقِبِهِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعِيشَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ دُبُرَ صَلاتِهِ إِذَا صَلَّى: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، كُتِبَ لَهُ بِهِنَّ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَمُحِيَ عَنْهُ بِهِنَّ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ، وَرُفِعَ لَهُ بِهِنَّ عَشْرُ دَرَجَاتٍ، وَكُنَّ لَهُ عِتْقَ عَشْرِ رِقَابٍ، وَكُنَّ لَهُ حَرَسًا مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ، وَمَنْ قَالَهُنَّ حِينَ يُمْسِي كَانَ لَهُ مِثْلُ ذَلِكَ حَتَّى يُصْبِحَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ يَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، وَالْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، جَمِيعًا وَهُمَا طَرِيقَانِ مَحْفُوظَانِ.
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات پڑھ لے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔“ آدمی دس مرتبہ یہ کلمہ پڑھے تو ان کلمات کے عوض میں اس کے لیے دس نیکیاں نوٹ کی جائیں گی، اس کے دس گناہ ختم کیے جائیں گے، ان کلمات کی وجہ سے اس کے دس درجات بلند کیے جائیں گے اور یہ کلمات اس شخص کے لیے چار غلام آزاد کرنے کے برابر ہوں گے اور یہ کلمات اس کے لیے شام تک شیطان سے حفاظت کا ذریعہ ہوں گے، جو شخص مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد ان کلمات کو پڑھ لے، تو اسے صبح تک یہ خصوصیت حاصل رہے گی۔“ ایک اور سند کے ساتھ یہ روایت منقول ہے۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص نماز پڑھ لینے کے بعد یہ کلمہ پڑھ لے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے، کوئی اس کا شریک نہیں ہے، بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔“ تو ان کلمات کی وجہ سے اس شخص کے لیے دس نیکیاں نوٹ کی جائیں گی، ان کی وجہ سے اس کے دس گناہ معاف کر دیے جائیں گے، ان کی وجہ سے اس کے دس درجات بلند ہوں گے اور یہ کلمات اس کے لیے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ہوں گے اور یہ کلمات اس کے لیے شیطان سے حفاظت کا ذریعہ ہوں گے، جو شخص شام کے وقت یہ کلمات پڑھ لے گا، تو صبح تک اسے یہ خصوصیت حاصل رہے گی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یزید بن یزید نے یہ روایت مکحول اور قاسم بن مخیمرہ دونوں سے سنی ہے اور دونوں طریقے محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2023]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6404، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2693، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2023، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3553، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24001»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني (1) صحيح - «الصحيحة» (113 و 2563). <br> (2) صحيح - «الصحيحة» -أيضاً-. * [ابْنِ] قال الشيخ: في الأصل: «أبي». قال الناشر: وقع في «طبعة المؤسسة» بدون ترقيم! وكأنَّ القائمين عليه توهموا أنَّه مكرَّر!! مع أنَّه حديث آخر - كما قال أبو حاتم -. استدراك على «طبعة المؤسسة»!! وقع هذا الحديث بدون ترقم في «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط (1) عبد الله بن يعيش: روى عنه اثنان، وذكره المؤلف في «الثقات» 5/ 62، وقال الحسيني في «الإكمال» فيما نقله عنه الحافظ في «تعجيل المنفعة» ص 243: مجهول، وباقي رجاله ثقات، وقال الحافظ في «الفتح» 11/ 205 بعد أن ذكره من رواية أحمد: وسنده حسن. <br> (2) هو مكرر ما قبله.
549. فصل في القنوت - ذكر ما يتعوذ المرء بالله جل وعلا منه في عقيب الصلوات
نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی اپنی نمازوں کے بعد اللہ جل وعلا سے کس چیز سے پناہ مانگتا ہے
حدیث نمبر: 2024
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، وَعَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الأَوْدِيِّ ، قَالا: كَانَ سَعْدٌ يُعَلِّمُ بَنِيهِ هَؤُلاءِ الْكَلِمَاتِ كَمَا يُعَلِّمُ الْمَكْتَبُ الْغِلْمَانَ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ بِهِنَّ بَعْدَ كُلِّ صَلاةٍ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ" .
عبدالملک بن عمیر، مصعب بن سعد اور عمرو بن میمون اودی کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ اپنے بچوں کو ان کلمات کی تعلیم یوں دیتے تھے جس طرح (مدرسے میں) استاد شاگردوں کو تعلیم دیتا ہے، وہ یہ فرماتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد ان کلمات کے ذریعے پناہ مانگتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» ”اے اللہ! میں کنجوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور میں بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ مجھے سٹھیا جانے والی عمر تک لوٹا دیا جائے، اور میں دنیا کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2024]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2822، 6365، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 746، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1004، 1011، 2024، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5460، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3567، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1607» «رقم طبعة با وزير 2022»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3937). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري، رجاله ثقات رجال الشيخين غير محمد ابن عثمان العجلي، فهو من رجال البخاري، وشيبان: هو ابن عبد الرحمن النحوي.
550. فصل في القنوت - ذكر ما يستحب للمرء أن يسأل الله جل وعلا في عقيب الصلاة التفضل عليه بمغفرة ما تقدم من ذنبه
نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ نماز کے بعد اللہ جل وعلا سے اپنے پچھلے گناہ کی مغفرت مانگے
حدیث نمبر: 2025
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنَ الصَّلاةِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدَّمُ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ" .
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تھے، تو آپ یہ پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! جو میں نے پہلے کیا، اور جو بعد میں کروں گا اور جو میں نے پوشیدہ طور پر کیا جو اعلانیہ طور پر کیا، اور جو اسراف کیا، اور ہر وہ چیز جس کے بارے میں، تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے ان سب کے حوالے سے میری مغفرت کر دے، تو آگے کرنے والا ہے، تو پیچھے کرنے والا ہے، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2025]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 393، 771، وابن الجارود فى "المنتقى"، 198، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 462، 463، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1771، 1772، 1773، 1774، 1901، 1903، 1904، 1966، 1977، 1978، 2025، وأبو داود فى (سننه) برقم: 744، 760، 1509، والترمذي فى (جامعه) برقم: 266، 3421، 3422، 3423، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 864، 1054، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1109، وأحمد فى (مسنده) برقم: 728» «رقم طبعة با وزير 2023»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (838): م، وهو من تمام الحديث (1768). تنبيه!! رقم (1768) = (1771) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.