🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. ذكر الزجر عن انتهاب المرء مال أخيه المسلم-
- یہ تنبیہ کہ مسلمان کو اپنے بھائی کا مال چھیننے یا چھاپہ مارنے سے روکا گیا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5170
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص لوٹ مار کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الغصب/حدیث: 5170]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3267، 5170، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3335، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1561، 2581، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1123، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3937، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19838، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4831، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20171» «رقم طبعة با وزير 5148»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2403)، «المشكاة» (2947 / التحقيق الثاني).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. ذكر الزجر عن احتلاب المرء ماشية أخيه المسلم بغير إذنه-
- یہ تنبیہ کہ کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے جانوروں کا دودھ بغیر اجازت دوہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5171
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُحْتَلَبَ مَوَاشِي النَّاسِ إِلا بِإِذْنِ أَرْبَابِهَا، وَقَالَ: أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرُبَتُهُ فَيُكْسَرَ بَابُهَا، فَيُنْتَثَلَ مَا فِيهَا مِنَ الطَّعَامِ، إِنَّمَا ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ هُوَ طَعَامُ أَحَدِهِمْ، فَلا أَعْرِفَنَّ أَحَدًا حَلَبَ مَاشِيَةَ أَحَدٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ لوگوں کے جانوروں کا دودھ ان کے مالکان کی اجازت کے بغیر دوہ لیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا کوئی شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کے گودام میں کوئی آئے، اس کا دروازہ توڑے اور اس میں سے اناج نکال لے؟ ان جانوروں کے تھن لوگوں کی خوراک ہیں۔ میں کسی ایسے شخص کو نہ پاؤں کہ اس نے کسی دوسرے کے جانور کا دودھ اس کی اجازت کے بغیر دوہ لیا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الغصب/حدیث: 5171]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2435، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1726، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5171، 5282، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2623، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2302، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11614، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4557» «رقم طبعة با وزير 5149»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2522): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. ذكر نفي اسم الإيمان عن المنتهب النهبة إذا كانت ذات شرف-
- یہ بیان کہ اگر کوئی عزت والی چیز لوٹ لے تو اس سے ایمان کا نام سلب ہو جاتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5172
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلانَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولانِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَزْنِي الزَّانِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلا يَسْرِقُ السَّارِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلا يَشْرَبُ الْخَمْرُ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ" قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانَ يُحَدِّثُهُمْ بِهَؤُلاءِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَكَانَ يَلْحَقُ فِيهَا وَلا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ النَّاسَ إِلَيْهَا أَبْصَارَهُمْ وَهُوَ حِينَ يَنْتَهِبُهَا مُؤْمِنٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: زنا کرنے والا زنا کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، چوری کرنے والا چوری کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا اور شراب پینے والا شراب پیتے ہوئے مومن نہیں رہتا۔ ابن شہاب کہتے ہیں: عبدالمالک بن ابوبکر بن عبدالرحمن نے مجھے یہ بات بتائی کہ ابوبکر بن عبدالرحمن نے ان لوگوں کو یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سنائی تھی، وہ اس کے ہمراہ ان الفاظ کا اضافہ کرتے تھے: کسی قیمتی چیز کو لوٹنے والا شخص جس کی طرف لوگ دیکھ رہے ہوں، وہ اسے لوٹتے ہوئے مومن نہیں رہتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الغصب/حدیث: 5172]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2475، 5578، 6772، 6810، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 57، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 186، 4412، 4454، 5172، 5173، 5979، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4885، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4689، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2625، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3936، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7438، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1162» «رقم طبعة با وزير 5150»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3000): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن ذكر النهبة تفرد به أبو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث في هذا الخبر-
- یہ خبر جو اس قول کو باطل کرتی ہے جس نے کہا کہ لوٹ مار (نہبہ) کے ذکر میں ابو بکر بن عبدالرحمن بن الحارث منفرد ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5173
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً وَهُوَ حِينَ يَنْتَهِبُهَا مُؤْمِنٌ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: زنا کرنے والا زنا کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، چوری کرنے والا چوری کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، شراب پینے والا شراب پیتے ہوئے مومن نہیں رہتا اور لوٹ مار کرنے والا لوٹ مار کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الغصب/حدیث: 5173]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2475، 5578، 6772، 6810، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 57، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 186، 4412، 4454، 5172، 5173، 5979، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4885، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4689، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2625، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3936، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7438، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1162» «رقم طبعة با وزير 5151»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - المصدر نفسه: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. ذكر الزجر عن أخذ هذه الأموال من غير حلها لأحد من المسلمين-
- یہ تنبیہ کہ مسلمانوں کے لیے حرام مال یا ناجائز طریقے سے حاصل شدہ دولت لینا جائز نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5174
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، سَمِعَ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ:" إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا أَخْرَجَ اللَّهُ مِنْ نَبَتِ الأَرْضِ وَزَهْرَةِ الدُّنْيَا"، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَهَلْ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ يُنَزَّلُ عَلَيْهِ، وَكَانَ إِذَا نُزِّلَ عَلَيْهِ غَشِيَهُ بُهْرٌ وَعَرَقٌ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ؟" فَقَالَ: هَا أَنَا ذَا، يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَمْ أُرِدْ إِلا خَيْرًا، فَقَالَ: " إِنَّ الْخَيْرَ لا يَأْتِي إِلا بِالْخَيْرِ، وَلَكِنْ كُلُّ مَا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ إِلا آكِلَةَ الْخَضِرِ، فَإِنَّهَا تَأْكُلُ حَتَّى إِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا، اسْتَقْبَلَتِ الشَّمْسَ، فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ، ثُمَّ عَاذَتْ، فَأَكَلَتْ، ثُمَّ قَامَتْ فَاجْتَرَّتْ، فَمَنْ أَخَذَ مَالا بِحَقِّهِ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَنَفَعَهُ، وَمَنْ أَخَذَ مَالا بِغَيْرِ حَقِّهِ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كالَّذي يَأْكُلُ وَلا يَشْبَعُ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: تمہارے بارے میں مجھے سب سے زیادہ اندیشہ اس بات کا ہے کہ اللہ تعالیٰ زمین کی نباتات اور دنیا کی آرائش و زیبائش کو ظاہر کر دے گا۔ ایک صاحب آپ کی خدمت میں کھڑے ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا بھلائی برائی کو لے کر آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے یہاں تک کہ ہمیں یہ اندازہ ہو گیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ جب آپ پر وحی نازل ہوتی تھی تو آپ پر غنودگی طاری ہو جاتی تھی اور آپ کو پسینہ آتا تھا، جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے دریافت کیا: سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں یہاں ہوں، میں نے اس کے ذریعے صرف بھلائی کا ارادہ کیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بھلائی صرف بھلائی کو لے کر آتی ہے، لیکن موسم بہار جو کچھ اگاتا ہے وہ بہت سے جانوروں کو مار دیتا ہے اور بہت سے جانوروں کو تکلیف کا شکار کرتا ہے۔ صرف سبزہ کھانے والے جانور کا حکم مختلف ہے کیونکہ وہ کھاتا ہے یہاں تک کہ جب اس کا پیٹ پھول جاتا ہے تو وہ دھوپ میں آ جاتا ہے، وہاں وہ لید کرتا ہے، پیشاب کرتا ہے، پھر واپس جاتا ہے، پھر کھاتا ہے، پھر کھڑا ہو جاتا ہے، پھر چل پڑتا ہے۔ جو شخص حق کے ہمراہ مال کو حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت رکھی جاتی ہے اور وہ مال اسے فائدہ دیتا ہے، جو شخص ناحق طور پر مال کو حاصل کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت نہیں رکھی جاتی اور اس کی مثال اس شخص کی مانند ہوتی ہے جو کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الغصب/حدیث: 5174]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 921، 1465، 2842، 6427، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1052، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3225، 3226، 3227، 4513، 5174، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2580، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3995، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5792، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11192» «رقم طبعة با وزير 5152»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (3215 - 3217). تنبيه!! رقم (3215) = (3225) من «طبعة المؤسسة». رقم (3217) = (3227) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. ذكر البيان بأن الله قد يمهل الظلمة والفساق إلى وقت قضاء أخذهم فإذا أخذهم أخذ بشدة نعوذ بالله منه-
- یہ بیان کہ اللہ ظالموں اور فاسقوں کو ایک مقررہ وقت تک مہلت دیتا ہے، پھر جب پکڑتا ہے تو سختی سے پکڑتا ہے — ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5175
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ يُمْهِلُ الظَّالِمَ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يَنْفَلِتْ، ثُمَّ تَلا: وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ سورة هود آية 102" .
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: بے شک اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب وہ اس کی گرفت کرتا ہے تو پھر اسے نہیں چھوڑتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَكَذَٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَىٰ وَهِيَ ظَالِمَةٌ ۚ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ﴾ [سورة هود: 102] اسی طرح تمہارے پروردگار کی پکڑ ہوتی ہے جب اس نے اس بستی کی پکڑ کی جو ظالم تھی، بے شک اس کی پکڑ دردناک اور زبردست ہوتی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الغصب/حدیث: 5175]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4686، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2583، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5175، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11181، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3110، 3110 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4018، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11624، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 7287، 7322، والبزار فى (مسنده) برقم: 3183، 3184» «رقم طبعة با وزير 5153»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. ذكر الزجر عن الظلم والفحش والشح-
- یہ تنبیہ کہ ظلم، بے حیائی اور بخل سے روکا گیا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5176
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، قَالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ، فَإِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلا التَّفَحُّشَ، وَإِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الشُّحُّ أَمَرَهُمْ بِالْقَطِيعَةِ، فَقَطَعُوا أَرْحَامَهُمْ، وَأَمَرَهُمْ بِالْفُجُورِ، فَفَجَرُوا، وَأَمَرَهُمْ بِالْبُخْلِ فَبَخِلُوا" . فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَيُّ الإِسْلامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " أَنْ يَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ" . قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ" . قَالَ: قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْهِجْرَةُ هِجْرَتَانِ، هِجْرَةُ الْحَاضِرِ وَهِجْرَةُ الْبَادِي، أَمَّا الْبَادِي فَيُجِيبُ إِذَا دُعِيَ وَيُطِيعُ إِذَا أُمِرَ، وَأَمَّا الْحَاضِرُ فَهُوَ أَعْظَمُهُمَا بَلِيَّةً وَأَعْظَمُهُمَا أَجْرًا" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ظلم کرنے سے بچو کیونکہ قیامت کے دن ظلم تاریکیوں کی شکل میں ہو گا اور فحش گفتگو سے بچو کیونکہ اللہ تعالیٰ فحش گفتگو اور بدزبانی کا مظاہرہ کرنے والے شخص کو پسند نہیں کرتا اور کنجوسی سے بچو کیونکہ تم سے پہلے کے لوگوں کو کنجوسی نے ہلاکت کا شکار کیا تھا۔ اس نے انہیں رشتہ داری کے حقوق کی پامالی کی ترغیب دی تو ان لوگوں نے رشتہ داری کے حقوق کو پامال کیا، اس نے انہیں گناہ کرنے کی ترغیب دی تو انہوں نے گناہ کیا۔ اس نے انہیں کنجوسی کرنے کی ترغیب دی تو انہوں نے کنجوسی کی۔ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا اسلام زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (یہ کہ) مسلمان تمہاری زبان اور ہاتھوں سے محفوظ رہیں۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سی لاتعلقی زیادہ فضیلت رکھتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ کہ تم اس چیز سے لاتعلق ہو جاؤ جسے تمہارا پروردگار ناپسند کرتا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہجرت دو طرح کی ہوتی ہے: شہری کی ہجرت اور دیہاتی کی ہجرت؛ جہاں تک دیہاتی کی ہجرت کا تعلق ہے تو وہ یہ ہے کہ جب اسے بلایا جائے تو وہ آ جائے اور جب اسے حکم دیا جائے تو وہ اس کی فرمانبرداری کرے۔ جہاں تک شہری کی ہجرت کا تعلق ہے، اس میں آزمائش بڑی ہوتی ہے اور اس کا اجر بھی زیادہ ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الغصب/حدیث: 5176]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4863، 5176، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 26، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4176، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1698، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7912، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6598» «رقم طبعة با وزير 5154»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (858).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5177
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارِ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ، فَإِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْفَاحِشَ وَالْمُتَفَحِّشَ، وَإِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ فَإِنَّ الظُّلْمَ هِيَ الظُّلُمَاتُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ فَإِنَّ الشُّحَّ دَعَا مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَسَفَكُوا دِمَاءَهُمْ وَقَطَعُوا أَرْحَامَهُمْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: فحش گفتگو سے بچو کیونکہ اللہ تعالیٰ فحش گفتگو اور بدزبانی کا مظاہرہ کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا اور ظلم کرنے سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن تاریکیوں کی صورت میں ہو گا اور کنجوسی سے بچو کیونکہ کنجوسی نے تم سے پہلے لوگوں کو اپنی طرف بلا لیا تو انہوں نے (کنجوسی کی وجہ سے) ایک دوسرے کا خون بہایا اور رشتہ داری کے حقوق کو پامال کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الغصب/حدیث: 5177]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5177، 6248، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 28، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9699، 9701، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1193، والبزار فى (مسنده) برقم: 8481، 8486» «رقم طبعة با وزير 5154/م»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» تحت الحديث (858). * قال الناشر: ساقط من «الأصل»، واستدركناه من «طبعة المؤسسة».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
«12