🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. ذكر الزجر عن لبس المرء خاتمه في السبابة أو الوسطى-
- باب اس زجر کا کہ انسان اپنی انگوٹھی شہادت یا درمیانی انگلی میں نہ پہنے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5502
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا ، يَقُولُ:" نَهَانِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَسِّيِّ، وَالْمِيثَرَةِ، وَعَنِ الْخَاتَمِ فِي السَّبَّابَةِ وَالْوسْطَى" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «الْقَسِّيَّ» (قسی) اور «الْمَيْثَرَةَ» (میثرہ) (یعنی مخصوص قسم کے کپڑے استعمال کرنے) اور شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5502]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2078، 2725، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 998، 5502، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7795، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5225، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4225، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1786، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3648، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6202، 6203، والدارقطني فى (سننه) برقم: 97، وأحمد فى (مسنده) برقم: 596» «رقم طبعة با وزير 5478»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (6/ 153).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. ذكر الزجر عن الوشم إذ الفاعل والمفعول به ذلك ملعونان-
- باب اس وعید کا کہ جسم پر گودنا (ٹیٹو بنوانا) حرام ہے، کیونکہ کرنے والا اور جس پر کیا جائے دونوں ملعون ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5503
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعَيْنُ حَقٌّ، وَنَهَى عَنِ الْوَشْمِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نظر لگنا حق ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (جسم کو) گودنے سے منع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5503]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5740، 5944، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2187، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5503، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3879، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3507، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8361، 9799، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 19778» «رقم طبعة با وزير 5479»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (5740).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. ذكر لعن المصطفى صلى الله عليه وسلم المستوشمات والواشمات-
- باب اس لعنت کا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے والی اور گودوانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5504
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَتْ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ: " لُعِنَتِ الْوَاشِمَةُ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ، وَالنَّامِصَةُ وَالْمُتَنَمِّصَةُ" ، وَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ، فَمَا وَجَدْتُ مَا تَقُولُ، قَالَ: بَلَى، وَجَدْتِ، وَلَكِنَّكِ لا تَعْلَمِينَ، قَالَتْ: وَأَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: أَمَا قَرَأْتِ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7، قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: هُوَ ذَاكَ، قَالَتْ: أَمَا إِنِّي لأَرَى عَلَى أَهْلِكَ بَعْضَ ذَلِكَ، قَالَ: فَادْخُلِي فَانْظُرِي، فَدَخَلَتْ فَنَظَرَتْ، فَلَمْ تَرَ شَيْئًا، فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ: هَلْ رَأَيْتِ شَيْئًا؟ قَالَتْ: لا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَمَا إِنَّكِ لَوْ رَأَيْتِ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، مَا صَحِبْنَنِي.
علقمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ بنو اسد سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور وہ بولی: مجھے یہ پتہ چلا ہے کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ گودنے والی اور گدوانے والی، بال نوچنے والی اور بال نچوانے والی عورت پر لعنت کی گئی ہے حالانکہ میں نے پورا قرآن پڑھا ہے اور مجھے اس میں وہ چیز نہیں ملی جو آپ بیان کرتے ہیں، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم اسے پڑھتیں تو وہ تمہیں مل جانی تھی، اس نے دریافت کیا: وہ کیا ہے؟ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی: ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا﴾ [سورة الحشر: 7] رسول تمہیں جو (حکم) دیں اسے حاصل کر لو اور جس چیز سے وہ تمہیں منع کرتے ہیں باز آ جاؤ۔ اس عورت نے جواب دیا: جی ہاں، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس سے مراد یہی ہے۔ اس عورت نے کہا: میرا یہ خیال ہے کہ آپ کی ایک زوجہ محترمہ بھی اس طرح کا کوئی کام کرتی ہیں، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم گھر کے اندر جاؤ اور اسے دیکھ لو۔ وہ عورت گھر کے اندر گئی، اس نے جائزہ لیا تو اسے ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس عورت سے دریافت کیا: کیا تم نے کوئی ایسی چیز دیکھی ہے؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم اس میں سے کوئی چیز دیکھ لیتی تو وہ (یعنی ایسا کام کرنے والی بیوی) میرے ساتھ نہ رہتی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5504]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4886، 4887، 5931، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2125، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5504، 5505، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5113، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4169، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2782، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1989، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14950، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4024» «رقم طبعة با وزير 5480»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ابن ماجه» (1989): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
40. ذكر لعن المصطفى صلى الله عليه وسلم المغيرات خلق الله المتفلجات للحسن-
- باب اس لعنت کا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان عورتوں پر لعنت فرمائی جو خوبصورتی کے لیے اللہ کی بنائی ہوئی شکل کو بدلتی ہیں اور دانتوں کے درمیان فاصلہ کرواتی ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5505
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ :" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ" ، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ، يُقَالُ لَهَا: أُمُّ يَعْقُوبَ، كَانَتْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَأَتَتْهُ، فَقَالَتْ: مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ لَعَنْتَ الْوَاشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَمَا لِي لا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، قَالَتِ الْمَرْأَةُ: لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ لَوْحَيِ الْمُصْحَفِ، فَمَا وَجَدْتُهُ، قَالَ: وَاللَّهِ إِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ، لَقَدْ وَجَدْتِيهِ، ثُمَّ قَالَ: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7، قَالَ: قَالَتِ الْمَرْأَةُ: فَإِنِّي أَرَى شَيْئًا مِنْ هَذَا الآنَ عَلَى امْرَأَتِكَ، قَالَ: فَاذْهَبِي، فَانْظُرِي، قَالَ: فَدَخَلَتْ عَلَى امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، فَلَمْ تَرَ شَيْئًا، فَجَاءَتْ إِلَيْهِ، فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا، قَالَ: أَمَا لَوْ كَانَ ذَلِكَ لَمْ نُجَامِعْهَا.
علقمہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جسم گودنے والی اور گدوانے والی عورت اور بال باریک کرنے والی عورت اور خوبصورتی کے لیے دانتوں میں خلا پیدا کرنے والی عورتوں پر، جو اللہ کی تخلیق کو تبدیل کر دیتی ہیں، لعنت کی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس بات کی اطلاع بنو اسد سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ام یعقوب کو ملی، وہ قرآن کی عالمہ تھیں، وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ انہوں نے کہا: مجھے یہ پتا چلا ہے کہ آپ جسم گودنے والی اور گدوانے والی عورتوں، بال اکھیڑنے والی عورتوں اور خوبصورتی کے لیے دانتوں میں خلا پیدا کرنے والی عورتوں پر لعنت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تغیر پیدا کر دیتی ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس پر کیوں لعنت نہ کروں جس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور یہ حکم اللہ کی کتاب میں بھی ہے۔ وہ عورت بولی: میں نے پورا قرآن پڑھ لیا ہے، مجھے اس میں یہ حکم نہیں ملا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر تم نے واقعی اسے پڑھا ہوتا تو تمہیں اس میں مل جاتا۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا﴾ [سورة الحشر: 7] اور رسول تمہیں جو (حکم) دیں اسے حاصل کر لو اور جس چیز سے تمہیں منع کریں اس سے باز آ جاؤ۔ وہ عورت بولی: میں نے آپ کی ایک اہلیہ میں ان میں سے کچھ چیزیں دیکھی ہیں، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم جاؤ اور جا کر جائزہ لے لو۔ وہ عورت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر چلی گئی، اسے ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی، پھر وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور بتایا کہ میں نے ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر ایسا ہوتا (یعنی میری بیوی نے اس طرح کا کام کیا ہوتا) تو میں اس کے ساتھ نہ رہتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5505]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4886، 4887، 5931، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2125، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5504، 5505، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5113، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4169، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2782، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1989، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14950، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4024» «رقم طبعة با وزير 5481»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
41. ذكر الزجر عن القزع أن يعمل في رؤوس الصبيان والرجال معا-
- باب اس زجر کا کہ بچوں اور مردوں کے سروں میں قزع (کچھ بال منڈوانا اور کچھ چھوڑ دینا) نہ کیا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5506
أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ بِمَكَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ نَافِعٍ ، أَخْبَرَهُ عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى عَنِ الْقَزَعِ" ، فَقُلْتُ: وَمَا الْقَزَعُ؟ فَأَشَارَ لَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: إِذَا حَلَقَ الصَّبِيُّ، وَتَرَكَ هَا هُنَا شَعْرًا وَهَهُنَا شَعْرًا، فَأَشَارَ لَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ إِلَى نَاصِيَتِهِ، وَجَانِبَيْ رَأْسِهِ، فَقِيلَ لِعُبَيْدِ اللَّهِ: الْجَارِيَةُ وَالْغُلامُ، فَقَالَ: لا أَدْرِي، هَكَذَا قَالَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «القَزَعِ» قزع سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے دریافت کیا: قزع سے مراد کیا ہے؟ تو عبیداللہ نامی راوی نے بتایا: جب بچے کا سر مونڈ دیا جائے تو یہاں کچھ بال رہنے دیے جائیں اور یہاں کچھ بال رہنے دیے جائیں۔ عبیداللہ نامی راوی نے اپنی پیشانی اور سر کے ایک طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی۔ عبیداللہ سے دریافت کیا گیا کہ کیا اس بارے میں لڑکی اور لڑکے دونوں کا حکم برابر ہے؟ انہوں نے فرمایا: مجھے نہیں معلوم۔ انہوں نے (یعنی میرے استاد نے) یہ روایت اسی طرح بیان کی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5506]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5920، 5921، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2120، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5506، 5507، 5508، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5063، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4193، 4194، 4195، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3637، 3638، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19363، 19364، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4559» «رقم طبعة با وزير 5482»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق، وليس عند م (6/ 64 - 65) تفسير القزع إلاَّ مختصراً كالذي بعده.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
42. ذكر الزجر عن أن يحلق وسط رأس الصبي ويترك حواليه عليها الشعر-
- باب اس وعید کا کہ بچے کے سر کے بیچ کے بال منڈوا کر اطراف کے بال چھوڑ دینا ممنوع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5507
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ " نَهَى عَنِ الْقَزَعِ: أَنْ يُحْلَقَ رَأْسُ الصَّبِيِّ وَيُتْرَكَ بَعْضُ شَعْرِهِ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «اَلْقَزَعِ» (قزع) سے منع کیا ہے (راوی کہتے ہیں:) اس سے مراد یہ ہے: سر مونڈ دیا جائے اور اس کے کچھ بال چھوڑ دیے جائیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5507]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5920، 5921، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2120، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5506، 5507، 5508، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5063، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4193، 4194، 4195، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3637، 3638، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19363، 19364، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4559» «رقم طبعة با وزير 5483»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
43. ذكر البيان بأن القزع مباح استعمال ضديه الحلق والإرسال معا-
- باب اس بیان کا کہ قزع کے برعکس دونوں عمل یعنی پورا سر منڈوانا یا پورا چھوڑ دینا مباح ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5508
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى صَبِيًّا حُلِقَ بَعْضُ شَعْرِهِ، وَتُرِكَ بَعْضُهُ، فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: " احْلِقُوهُ كُلَّهُ، أَوِ اتْرُكُوهُ كُلَّهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو دیکھا جس کے کچھ بال مونڈ دیے گئے تھے اور کچھ چھوڑ دیے گئے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کر دیا اور فرمایا: اس کے پورے سر کو مونڈ دو یا پورے سر کو رہنے دو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5508]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5920، 5921، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2120، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5506، 5507، 5508، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5063، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4193، 4194، 4195، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3637، 3638، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19363، 19364، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4559» «رقم طبعة با وزير 5484»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1123): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
44. ذكر الزجر عن أن تستوصل المرأة بشعرها شعر غيرها-
- باب اس زجر کا کہ عورت اپنے بالوں میں کسی اور کے بال نہ لگوائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5509
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الزُّورِ" .
سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکہ دینے (یعنی نقلی بال لگانے) سے منع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5509]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3488، 5938، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2127، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5509، 5510، 5511، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5107، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17104» «رقم طبعة با وزير 5485»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
45. ذكر البيان بأن الزور الذي نهى عنه هو أن تستوصل المرأة بشعرها شعر غيرها-
- باب اس بیان کا کہ جس جھوٹ سے روکا گیا وہ یہ ہے کہ عورت اپنے بالوں میں دوسرے کے بال لگوائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5510
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَفِي يَدِهِ قُصَّةٌ مِنْ شَعْرٍ، يَقُولُ: مَا بَالُ نِسَاءٍ يَجْعَلْنَ فِي رُؤُوسِهِنَّ مِثْلَ هَذَا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنِ امْرَأَةٍ تَجْعَلُ فِي رَأْسِهَا شَعْرًا مِنْ شَعْرِ غَيْرِهَا، إِلا كَانَ زُورًا" ، قَالَ الشَّيْخُ: الرِّوَايَةُ كُلُّهَا زُورٌ، وَالصَّوَابُ زُورٌ أَنْ تُضَمَّ الزَّايُ.
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے منبر پر یہ بات بیان کی، ان کے ہاتھ میں نقلی بالوں کا گچھا تھا، آپ نے فرمایا: خواتین کو کیا ہے وہ اپنے سر میں یہ استعمال کرتی ہیں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جو بھی عورت اپنے سر میں دوسری کے بال استعمال کرتی ہے یہ چیز فریب ہو گی۔ شیخ بیان کرتے ہیں: تمام روایات میں لفظ «زُور» (یعنی دھوکہ) ہے لیکن درست یہ ہے یہ لفظ «زُور» ہے جس میں زیر پیش پڑھی جائے گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5510]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3488، 5938، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2127، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5509، 5510، 5511، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5107، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17104» «رقم طبعة با وزير 5486»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (3/ 125).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
46. ذكر البيان بأن هذا الاسم سماه المصطفى صلى الله عليه وسلم-
- باب اس بیان کا کہ یہ نام (زور) خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5511
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ: قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ، فَخَطَبَنَا، وَأَخْرَجَ كُبَّةً مِنْ شَعْرٍ، وَقَالَ: " مَا كُنْتُ أَرَى أَحَدًا يَفْعَلُهُ، إِلا الْيَهُودَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَهُ، فَسَمَّاهُ الزُّورُ" .
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آئے اور ہمیں خطبہ دیا۔ انہوں نے نقلی بالوں کا گچھا نکالا اور بولے: میرا یہ خیال ہے یہ عمل صرف یہودی کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں اطلاع ملی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دھوکہ دہی کا نام دیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الزينة والتطييب/حدیث: 5511]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3488، 5938، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2127، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5509، 5510، 5511، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5107، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17104» «رقم طبعة با وزير 5487»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں