🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
144. باب ما يكره من الكلام وما لا يكره - ذكر الأمر بالصدقة لمن قال هجرا في كلامه-
جن باتوں کا کہنا مکروہ ہے اور جن کا مکروہ نہیں، کا بیان - ذکر حکم کہ جو اپنی بات میں بدزبانی کہے اسے صدقہ کرنا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5705
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ بِاللاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ: تَعَالَ أُقَامِرْكَ، فَلْيَتَصَدَّقْ بِشَيْءٍ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص «اللَّاتِ» اور «الْعُزَّىٰ» کی قسم اٹھاتا ہے اسے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ پڑھنا چاہیے اور جو شخص اپنے ساتھی سے یہ کہتا ہے: آؤ تاکہ میں تمہارے ساتھ جوا کھیلوں اسے کوئی چیز صدقہ کرنی چاہیے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5705]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4860، 6107، 6301، 6650، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1647، 1647، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 45، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5705، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3784، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3247، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1545، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2096، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 694، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8202» «رقم طبعة با وزير 5675»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (2563): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
145. باب ما يكره من الكلام وما لا يكره - ذكر البيان بأن المرء يهوي في النار نعوذ بالله منها بالشيء اليسير الذي يقوله وليس لله فيه رضا-
جن باتوں کا کہنا مکروہ ہے اور جن کا مکروہ نہیں، کا بیان - ذکر بیان کہ انسان اس معمولی بات سے جو وہ کہتا ہے اور اس میں اللہ کی رضا نہیں ہوتی، نعوذ باللہ اس سے جہنم میں گرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5706
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ بَحْرٍ الْعُقَيْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مَا يَرَى بِهَا بَأْسًا يَهْوِي بِهَا فِي النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”آدمی کوئی بات کرتا ہے، جس میں وہ کوئی حرج نہیں سمجھتا، لیکن وہ اس بات کی وجہ سے ستر برس تک جہنم میں گرتا رہے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5706]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6477، 6478، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2988، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5706، 5707، 5708، 5716، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8867، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11773، 11774، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2314، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3970، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16761، 16762، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7335» «رقم طبعة با وزير 5676»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ابن ماجه» (3970). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
146. باب ما يكره من الكلام وما لا يكره - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به ابن إسحاق عن محمد بن إبراهيم التيمي-
جن باتوں کا کہنا مکروہ ہے اور جن کا مکروہ نہیں، کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر صرف ابن اسحاق نے محمد بن ابراہیم التیمی سے بیان کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5707
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ يَنْزِلُ بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”آدمی (بعض اوقات) کوئی بات کہہ دیتا ہے جس کی وجہ سے وہ جہنم میں اس سے زیادہ گہرائی میں گرے گا جتنا مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5707]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6477، 6478، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2988، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5706، 5707، 5708، 5716، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8867، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11773، 11774، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2314، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3970، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16761، 16762، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7335» «رقم طبعة با وزير 5677»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
147. باب ما يكره من الكلام وما لا يكره - ذكر البيان بأن القائل ما وصفنا قد يهوي في النار به مثل ما بين المشرق والمغرب-
جن باتوں کا کہنا مکروہ ہے اور جن کا مکروہ نہیں، کا بیان - ذکر بیان کہ جو ہم نے بیان کیا وہ اس سے جہنم میں گر سکتا ہے جیسے مشرق و مغرب کے درمیان فاصلہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5708
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مَا يَتَثَبَّتُ فِيهَا، يَنْزِلُ بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بعض اوقات بندہ کوئی بات کہتا ہے، جسے وہ بڑی بات نہیں سمجھتا، لیکن وہ اس کی وجہ سے جہنم میں اتنی گہرائی میں گرے گا جو اس سے زیادہ ہوگی جتنا مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5708]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6477، 6478، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2988، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5706، 5707، 5708، 5716، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8867، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11773، 11774، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2314، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3970، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 16761، 16762، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7335» «رقم طبعة با وزير 5678»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
148. باب ما يكره من الكلام وما لا يكره - ذكر الإخبار عن نفي جواز التنابز بالألقاب-
جن باتوں کا کہنا مکروہ ہے اور جن کا مکروہ نہیں، کا بیان - ذکر خبر کہ القاب سے طعنہ زنی کی اجازت نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5709
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ أَبِي جَبِيرَةَ ، قَالَ:" كَانَتْ لَهُمْ أَلْقَابٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا بِلَقَبِهِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ يَكْرَهُهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَلا تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ بِئْسَ الاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الإِيمَانِ سورة الحجرات آية 11، قَالَ: وَكَانَتِ الأَنْصَارُ يَتَصَدَّقُونَ وَيُعْطُونَ مَا شَاءَ اللَّهُ، حَتَّى أَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ، فَأَمْسَكُوا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ سورة البقرة آية 195" .
سیدنا ضحاک بن ابوجبیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں ان لوگوں کے القاب ہوتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اس کے لقب کے ساتھ بلایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ شخص اسے ناپسند کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ﴾ [سورة الحجرات: 11] ”ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو (کسی کے) ایمان لانے کے بعد اسے فاسق کہنا برا نام ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ انصار کا یہ معمول تھا کہ جو اللہ کو منظور ہوتا وہ صدقہ کیا کرتے تھے اور عطیات دیا کرتے تھے یہاں تک کہ ایک مرتبہ انہیں قحط سالی لاحق ہوئی تو انہوں نے ایسا کرنا ختم کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ﴾ [سورة البقرة: 195] ”اور تم لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت کی طرف نہ لے جاؤ اور اچھائی کرو بیشک اللہ تعالیٰ اچھائی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5709]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5709، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 6853، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 5671» «رقم طبعة با وزير 5679»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق على ابن ماجه». * [الضَّحَّاكِ بْنِ أَبِي جَبِيرَةَ] قال الشيخ: الصواب: (أبو جبيرة بن الضحاك) على القلب، كذلك رواه جمع من الثقات. انظر التعليق على «الموارد» (1761). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
149. باب ما يكره من الكلام وما لا يكره - ذكر الزجر عن قول المرء لأخيه قبح الله وجهك-
جن باتوں کا کہنا مکروہ ہے اور جن کا مکروہ نہیں، کا بیان - ذکر منع کہ انسان اپنے بھائی سے کہے کہ اللہ تیرا چہرہ بدصورت کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5710
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: قَبَّحَ اللَّهُ وَجْهَكُ، وَوَجْهَ مَنْ أَشْبَهَ وَجْهَكَ، فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: يُرِيدُ بِهِ عَلَى صُورَةِ الَّذِي قِيلَ لَهُ: قَبَّحَ اللَّهُ وَجْهَكَ مِنْ وَلَدِهِ، وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الْخَطَّابَ لِبَنِي آدَمَ دُونَ غَيْرِهِمْ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَوَجْهَ مَنْ أَشْبَهَ وَجْهَكَ"، لأَنَّ وَجْهَ آدَمَ فِي الصُّورَةِ تُشْبِهُ صُورَةَ وَلَدِهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی شخص یہ بات ہرگز نہ کہے: اللہ تعالیٰ تمہارے چہرے کو قبیح کرے اور اس چہرے کو قبیح کرے جو تمہارے چہرے کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس سے مراد اس آدمی کی صورت ہے جس سے یہ کہا گیا ہے: اللہ تعالیٰ تمہارے چہرے کو قبیح کرے، جو سیدنا آدم علیہ السلام کی اولاد سے تعلق رکھتا ہے، اور اس بات کی دلیل کہ یہاں خطاب اولادِ آدم کو ہے اور ان کے علاوہ کسی اور کو نہیں ہے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: ”اور اس چہرے کو جو تمہارے چہرے کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے،“ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا آدم علیہ السلام کا چہرہ ان کی اولاد کی شکل و صورت سے مشابہت رکھتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5710]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3326، 6227، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2841، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5710، 6162، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8287» «رقم طبعة با وزير 5680»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (862). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
150. باب ما يكره من الكلام وما لا يكره - ذكر الخبر الدال على أن قول المرء لا يغفر الله لك مما قد يخاف عليه العقوبة به-
جن باتوں کا کہنا مکروہ ہے اور جن کا مکروہ نہیں، کا بیان - ذکر خبر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان کا یہ کہنا کہ اللہ تمہیں معاف نہ کرے، اس پر سزا کا خوف ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5711
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ وَرْدَانَ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِيَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ رَجُلٌ: وَاللَّهِ لا يَغْفِرُ اللَّهُ لِفُلانٍ، فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: قَدْ غَفَرْتُ لِفُلانٍ، وَأَحْبَطْتُ عَمَلَكَ" .
سیدنا جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ایک شخص نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ فلاں شخص کی مغفرت نہیں کرے گا، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے فلاں کی مغفرت کر دی اور تمہارے عمل کو ضائع کر دیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5711]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2621، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5711، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1529، والطبراني فى(الكبير) برقم: 1679، 1680» «رقم طبعة با وزير 5681»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2014). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
151. باب ما يكره من الكلام وما لا يكره - ذكر وصف هذين الرجلين اللذين قال أحدهما لصاحبه ما قال-
جن باتوں کا کہنا مکروہ ہے اور جن کا مکروہ نہیں، کا بیان - ذکر وصف ان دو آدمیوں کی جن میں سے ایک نے دوسرے سے وہ بات کہی جو اس نے کہی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5712
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا ضَمْضَمُ بْنُ جَوْسٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا أَنَا بِشَيْخٍ مُصَفِّرٍ رَأْسَهُ، بَرَّاقِ الثَّنَايَا، مَعَهُ رَجُلٌ أَدْعَجُ، جَمِيلُ الْوَجْهِ، شَابٌّ، فَقَالَ الشَّيْخُ: يَا يَمَامِيُّ تَعَالَ، لا تَقُولَنَّ لِرَجُلٍ أَبَدًا لا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ، وَاللَّهِ لا يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ أَبَدًا، قُلْتُ: وَمَنْ أَنْتَ؟ يَرْحَمُكَ اللَّهُ! قَالَ: أَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قُلْتُ: إِنَّ هَذِهِ لَكَلِمَةٌ يَقُولُهَا أَحَدُنَا لِبَعْضِ أَهْلِهِ أَوْ لِخَادِمِهِ إِذَا غَضِبَ عَلَيْهَا، قَالَ: فَلا تَقُلْهَا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" كَانَ رَجُلانِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُتَوَاخِيَيْنِ، أَحَدُهُمَا مُجْتَهِدٌ فِي الْعِبَادَةِ، وَالآخَرُ مُذْنِبٌ، فَأَبْصَرَ الْمُجْتَهِدُ الْمُذْنِبَ عَلَى ذَنْبٍ، فَقَالَ لَهُ: أَقْصِرْ، فَقَالَ لَهُ: خَلِّنِي وَرَبِّي، قَالَ: وَكَانَ يُعِيدُ ذَلِكَ عَلَيْهِ، وَيَقُولُ: خَلِّنِي وَرَبِّي، حَتَّى وَجَدَهُ يَوْمًا عَلَى ذَنْبٍ، فَاسْتَعْظَمَهُ، فَقَالَ: وَيْحَكَ أَقْصِرْ! قَالَ: خَلِّنِي وَرَبِّي، أَبُعِثْتَ عَلَيَّ رَقِيبًا؟! فَقَالَ: وَاللَّهِ لا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ أَبَدًا، أَوْ قَالَ: لا يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ أَبَدًا، فَبُعِثَ إِلَيْهِمَا مَلَكٌ فَقَبَضَ أَرْوَاحَهُمَا، فَاجْتَمَعَا عِنْدَهُ جَلَّ وَعَلا، فَقَالَ رَبُّنَا لِلْمُجْتَهِدِ: " أَكُنْتَ عَالِمًا؟ أَمْ كُنْتَ قَادِرًا عَلَى مَا فِي يَدِي؟ أَمْ تَحْظُرُ رَحْمَتِي عَلَى عَبْدِي؟ اذْهَبْ إِلَى الْجَنَّةِ" يُرِيدُ الْمُذْنِبَ وَقَالَ لِلآخَرِ:" اذْهَبُوا بِهِ إِلَى النَّارِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَوْبَقَتْ دُنْيَاهُ وَآخِرَتَهُ" .
سیدنا ضمضم بن جوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں داخل ہوا تو وہاں ایک عمر رسیدہ شخص تھا جس کے بالوں کا رنگ زرد تھا اور اس کے سامنے کے دانت انتہائی چمکدار تھے، اس کے ساتھ ایک نوجوان تھا جو بہت خوبصورت اور جوان تھا، اس بوڑھے شخص نے کہا: اے یمامی! تم آگے آؤ، تم کسی بھی شخص کو یہ کبھی نہ کہنا کہ ”اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت نہ کرے“ یا ”اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ تمہیں کبھی جنت میں داخل نہیں کرے گا“۔ میں نے دریافت کیا: آپ کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے! انہوں نے جواب دیا: میں ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) ہوں۔ میں نے کہا: اس طرح کا کلمہ تو ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی یا خادم کے لیے استعمال کرتا ہے جب وہ اس پر غصے کا اظہار کرتا ہے، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم یہ نہ کہنا کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بنی اسرائیل میں دو آدمی تھے جو ایک دوسرے کے بھائی بنے ہوئے تھے، ان میں سے ایک شخص عبادت میں اہتمام کرتا تھا اور دوسرا گنہگار تھا، عبادت گزار شخص نے گناہ کرنے والے شخص کو دیکھا تو اس سے کہا: تم اس میں کمی کر دو، تو دوسرے شخص نے کہا: تم یہ معاملہ میرے اور میرے پروردگار کے درمیان رہنے دو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس شخص نے اپنی بات اس کے سامنے دہرائی تو اس شخص نے آگے سے یہی جواب دیا: تم مجھے اور میرے پروردگار کو چھوڑ دو، یہاں تک کہ عبادت گزار نے ایک دن اسے گناہ کرتے ہوئے دیکھا تو اسے اس کا گناہ بڑا لگا، اس نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو! تم گناہ کرنے سے باز آ جاؤ۔ دوسرے شخص نے کہا: تم مجھے اور میرے پروردگار کو چھوڑ دو، کیا تمہیں مجھ پر نگران بنا کر بھیجا گیا ہے؟ تو عبادت گزار نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کبھی نہیں کرے گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اس نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں کبھی جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) پھر ان دونوں کی طرف فرشتے کو بھیجا گیا، اس نے ان دونوں کی ارواح کو قبض کر لیا، وہ دونوں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اکٹھے ہوئے تو پروردگار نے عبادت گزار سے دریافت کیا: کیا تم عالم ہو یا تم اس بات پر قدرت رکھتے ہو کہ جو کچھ میرے اختیار میں ہے؟ یا تم میری رحمت کو میرے بندے پر ہونے سے روکتے ہو؟ تم جنت کی طرف جاؤ۔ (راوی کہتے ہیں: یعنی اللہ تعالیٰ نے گنہگار شخص سے یہ فرمایا) اور دوسرے سے فرمایا: اسے جہنم کی طرف لے جاؤ۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا شاید سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! اس نے ایک ایسی بات کہی ہے جس نے اس کی دنیا اور آخرت کو برباد کر دیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5712]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5712، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4901، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8408، 8870، والبزار فى (مسنده) برقم: 9418، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 2938» «رقم طبعة با وزير 5682»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الطحاوية» (296). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
152. باب ما يكره من الكلام وما لا يكره - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من إضافة الأمور إلى الباري جل وعلا دون التشكي من دهره-
جن باتوں کا کہنا مکروہ ہے اور جن کا مکروہ نہیں، کا بیان - ذکر خبر کہ انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنے معاملات کو اللہ جل وعلا کی طرف منسوب کرے نہ کہ اپنے زمانے سے شکایت کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5713
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: وَاخَيْبَةَ الدَّهْرِ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی بھی شخص یہ نہ کہے: زمانے کا ستیاناس ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی زمانے (کو چلانے والا) ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5713]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4826، 6181، 6182، 6183، 7491، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2246، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3608، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2479، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5713، 5714، 5715، 5832، 5833، 5834، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1531، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4974، 5274، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2742، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6586، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7365» «رقم طبعة با وزير 5683»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (531): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
153. باب ما يكره من الكلام وما لا يكره - ذكر الإخبار عن السبب الذي من أجله قال صلى الله عليه وسلم " إن الله هو الدهر-
جن باتوں کا کہنا مکروہ ہے اور جن کا مکروہ نہیں، کا بیان - ذکر خبر کہ اس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ ہی زمانہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5714
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ: " يَسُبُّ ابْنُ آدَمَ الدَّهْرَ، وَأَنَا الدَّهْرُ، بِيَدِي اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”انسان زمانے کو برا کہتا ہے، حالانکہ میں زمانہ ہوں، رات اور دن میرے دستِ قدرت میں ہیں۔“” [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5714]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4826، 6181، 6182، 6183، 7491، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2246، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3608، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2479، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5713، 5714، 5715، 5832، 5833، 5834، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1531، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4974، 5274، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2742، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6586، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7365» «رقم طبعة با وزير 5684»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» -أيضا-: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں