🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
173. باب الكذب - ذكر البيان بأن الكذب يسود وجه صاحبه في الدارين-
جھوٹ بولنے کا بیان - ذکر بیان کہ جھوٹ انسان کے چہرے کو دونوں جہانوں میں سیاہ کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5735
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَلا إِنَّ الْكَذِبَ يُسَوِّدُ الْوَجْهَ، وَالنَّمِيمَةَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ" .
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”خبردار! بے شک جھوٹ چہرے کو سیاہ کر دیتا ہے اور چغلی کرنا قبر کے عذاب کا باعث ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5735]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5735، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 7440، م1، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 2630» «رقم طبعة با وزير 5705»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني موضوع - «الضعيفة» (1496). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
174. باب الكذب - ذكر البيان بأن الكذب كان من أبغض الأخلاق إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم-
جھوٹ بولنے کا بیان - ذکر بیان کہ جھوٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ اخلاق میں سے تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5736
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا كَانَ خُلُقٌ أَبْغَضَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْكَذِبِ، وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَكْذِبُ عِنْدَهُ الْكَذْبَةَ فَمَا تَزَالُ فِي نَفْسِهِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ مِنْهَا تَوْبَةً" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: کوئی بھی برائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک جھوٹ سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھی، بعض اوقات کوئی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کوئی غلط بیانی کرتا تو یہ بات مسلسل آپ کے ذہن میں رہتی، جب تک آپ کو اس بات کا پتہ نہیں چل جاتا کہ اس نے بعد میں نئے سرے سے توبہ کر لی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5736]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5736، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7136، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1973، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20878، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25822» «رقم طبعة با وزير 5706»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2052). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
175. باب الكذب - ذكر الخبر الدال على إباحة قول المرء الكذب في المعاريض يريد به صيانة دينه ودنياه-
جھوٹ بولنے کا بیان - ذکر خبر جو اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ انسان اپنے دین اور دنیا کی حفاظت کے لیے کنایہ میں جھوٹ بولے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5737
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ قَطُّ إِلا ثَلاثًا: اثْنَتَيْنِ فِي ذَاتِ اللَّهِ: قَوْلُهُ: إِنِّي سَقِيمٌ سورة الصافات آية 89، وَقَوْلُهُ: بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا سورة الأنبياء آية 63، قَالَ: وَمَرَّ عَلَى جَبَّارٍ مِنَ الْجَبَابِرَةِ وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ سَارَةُ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ رَجُلا هَاهُنَا مَعَهُ امْرَأَةٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ، قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَأَتَاهُ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: هَذِهِ أُخْتِي، قَالَ: فَأَتَاهَا، فَقَالَ لَهَا: إِنَّ هَذَا قَدْ سَأَلَنِي عَنْكِ، وَإِنِّي أَنْبَأْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي، وَإِنَّكَ أُخْتِي فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَلا تُكَذِّبِينِي، قَالَ: فَلَمَّا رَآهَا ذَهَبَ لِيَأْتِيَهَا، فَدَعَتِ اللَّهَ فَأُخِذَ، فَقَالَ: ادْعِي اللَّهَ لِي، وَلَكِ عَلَيَّ أَنْ لا أَعُودَ، فَدَعَتْ لَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَأْتِيَهَا، فَدَعَتْ فَأُخِذَ أَخْذَةً هِيَ أَشَدُّ مِنَ الأُولَى، فَقَالَ: ادَّعَى اللَّهَ لِي، وَلَكِ عَلَيَّ أَنْ لا أَعُودَ، فَدَعَتْ لَهُ، فَذَهَبَ لِيَأْتِيَهَا، فَدَعَتْ فَأُخِذَ أَخْذَةً هِيَ أَشَدُّ مِنَ الأُولَيَيْنِ، فَقَالَ: ادْعِي اللَّهَ لِي، وَلَكِ عَلَيَّ أَنْ لا أَعُودَ، فَدَعَتْ لَهُ، فَأُرْسِلَ، فَقَالَ لأَدْنَى حَجَبَتِهِ عِنْدَهُ: إِنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ، إِنَّمَا أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ، وَأَخْدَمَهَا هَاجَرَ، فَلَمَّا رَآهَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ: مَهْيَمْ، قَالَتْ: كَفَى اللَّهُ كَيَدَ الْكَافِرِ الْفَاجِرِ، وَأَخْدَمَهَا هَاجَرَ" ، قَالَ: فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: تِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ قَالَ: وَمَدَّ النَّضْرُ صَوْتَهُ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: كُلُّ مَنْ كَانَ مِنْ وَلَدِ هَاجَرَ يُقَالُ لَهُ: وَلَدُ مَاءِ السَّمَاءِ، لأَنَّ إِسْمَاعِيلَ مِنْ هَاجَرَ، وَقَدْ رُبِّيَ بِمَاءِ زَمْزَمَ، وَهُوَ مَاءُ السَّمَاءِ الَّذِي أَكْرَمَ اللَّهُ بِهِ إِسْمَاعِيلَ، حَيْثُ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ هَاجَرُ، فَأَوْلادُهَا أَوْلادُ مَاءِ السَّمَاءِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے کبھی غلط بیانی نہیں کی، صرف تین مرتبہ انہوں نے (ذومعنی کی)، دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں جب انہوں نے یہ کہا: ﴿إِنِّي سَقِيمٌ﴾ [سورة الصافات: 89] ”میں بیمار ہوں“ اور یہ کہا: ﴿بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا﴾ [سورة الأنبياء: 63] ”بلکہ ان میں سے بڑے نے ایسا کیا ہے“۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ایک مرتبہ ان کا گزر ایک ظالم حکمران کے پاس سے ہوا، سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ان کی اہلیہ سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں، اس بادشاہ کو بتایا گیا کہ یہاں ایک شخص ہے جس کے ساتھ ایک انتہائی خوبصورت خاتون ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس شخص نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو بلوایا، سیدنا ابراہیم علیہ السلام اس کے پاس گئے، اس نے ان سے سوالات کیے تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بتایا: یہ میری (دینی) بہن ہے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سیدنا ابراہیم علیہ السلام سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ اس حکمران نے مجھ سے تمہارے بارے میں دریافت کیا تھا تو میں نے اسے بتایا: تم میری بہن ہو، تو تم اللہ کی کتاب میں میری بہن ہو، اس لیے تم مجھے جھوٹا قرار نہ دینا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جب اس حکمران نے سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا تو وہ ان کے پاس آنے لگا، سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے اس کے لیے دعائے ضرر کی تو وہ گرفت میں آ گیا، اس شخص نے کہا: اللہ تعالیٰ سے میرے لیے دعا کیجیے، میرے اوپر یہ بات لازم ہے میں دوبارہ یہ غلطی نہیں کروں گا، پھر سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے اس کے حق میں دعا کی، وہ دوبارہ سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کے قریب آنے لگا، سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے پھر بددعا کی تو اس پر دوبارہ گرفت ہوئی جو پہلی سے زیادہ سخت تھی، اس نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے میرے حق میں دعا کیجیے، مجھ پر یہ بات لازم ہے میں دوبارہ یہ حرکت نہیں کروں گا۔ سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے پھر اس کے لیے دعا کی، وہ پھر آگے آنے لگا، سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے پھر دعائے ضرر کی تو اس کو دوبارہ گرفت میں لیا گیا جو پہلی دونوں مرتبہ کی گرفت سے زیادہ سخت تھی، تو اس نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے میرے حق میں دعا کیجیے، مجھ پر یہ بات لازم ہے میں دوبارہ یہ حرکت نہیں کروں گا۔ سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے اس کے حق میں دعا کی تو اس کی طبیعت ٹھیک ہو گئی، اس نے اپنے پاس موجود اپنے وزیر سے یہ کہا: تم میرے پاس کسی انسان کو نہیں لے کر آئے، تم میرے پاس شیطان کو لے کر آئے ہو، پھر اس نے سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کو خادمہ کے طور پر سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا دے دیں، جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اس خاتون کو دیکھا تو فرمایا: یہ کہاں سے آئی ہے؟ سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: اللہ تعالیٰ نے کافر گنہگار شخص کے فریب کا توڑ کیا اور ہاجرہ رضی اللہ عنہا کو خادمہ کے طور پر دے دیا۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جب یہ حدیث بیان کرتے تھے تو ساتھ یہ بھی کہتے تھے: ”اے آسمانی پانی سے سیراب ہونے والے لوگو! وہ تمہاری والدہ ہیں۔“ نضر نامی راوی یہ الفاظ بلند آواز میں بیان کرتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی اولاد کے لیے آسمانی پانی سے سیراب ہونے والے کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کیونکہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا کے صاحبزادے تھے اور ان کی نشوونما آب زمزم کے ذریعے ہوئی تھی اور یہ آسمانی پانی ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی عزت افزائی کی تھی، اس وقت جب ان کی والدہ سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا نے انہیں جنم دیا تھا تو ان کی اولاد وہ اولاد ہے جس نے آسمانی پانی کے ذریعے (نشوونما پائی تھی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5737]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2217، 2635، 3357، 3358، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2371، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5737، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8315، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2212، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3166، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15246، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9364» «رقم طبعة با وزير 5707»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1916): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
176. باب الكذب - ذكر الإخبار عن وصف المتشبعة من زوجها ما لم يعطها-
جھوٹ بولنے کا بیان - ذکر خبر کہ اس عورت کی جو اپنے شوہر سے ایسی چیزوں کا دعویٰ کرتی ہے جو اسے نہیں دی گئیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5738
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِيَ ضَرَّةً، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ أَتَشَبَّعَ مِنْ زَوْجِي، مَا لَمْ يُعْطِنِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ" .
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں: ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میری ایک سوکن ہے، کیا مجھ پر کوئی گناہ ہو گا اگر میں خود کو اپنے شوہر کے حوالے سے ایسی بات کے حوالے سے سیر ظاہر کروں جو اس نے مجھے نہیں دی ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو چیز نہیں دی گئی اس کے حوالے سے خود کو سیر ظاہر کرنے والا شخص جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی مانند ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5738]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5219، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2129، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5738، 5739، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8871، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4997، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14912، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25232» «رقم طبعة با وزير 5708»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الروض النضير» (820). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
177. باب الكذب - ذكر الإخبار عن نفي جواز تشبع المرأة عند ضرتها بما لم يعطها زوجها-
جھوٹ بولنے کا بیان - ذکر خبر کہ عورت کا اپنی سوکن کے سامنے ایسی چیزوں کا دعویٰ کرنا جو اس کے شوہر نے اسے نہیں دیں، جائز نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5739
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الطُّفَاوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِيَ ضَرَّةً، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ إِنِ اسْتَكْثَرْتُ مِنْ زَوْجِي بِمَا لَمْ يُعْطِنِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ" .
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ایک سوکن ہے، کیا مجھ پر کوئی گناہ ہو گا اگر میں اپنے شوہر کے حوالے سے ایسی چیز کا اظہار کروں جو اس نے مجھے نہیں دی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو چیز نہیں دی گئی اس کے حوالے سے خود کو سیر ظاہر کرنے والا شخص جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی مانند ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5739]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5219، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2129، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5738، 5739، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8871، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4997، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14912، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25232» «رقم طبعة با وزير 5709»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
178. باب اللعن-
لعنت کرنے کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5740
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قِلابَةَ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، وَامْرَأَةٌ عَلَى نَاقَةٍ لَهَا، فَضَجرَتْ فَلَعَنَتْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذُوا مَتَاعَكُمْ عَنْهَا، وَأَرْسِلُوهَا، فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ"، قَالَ: فَفَعَلُوا، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا نَاقَةً وَرْقَاءَ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: عَمُّ أَبِي قِلابَةَ هَذَا هُوَ عَمْرُو بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ زَيْدٍ الْجَرْمِيُّ كُنْيَتُهُ أَبُو الْمُهَلَّبِ، وَهِمَ الأَوْزَاعِيُّ فِي كُنْيَتِهِ، فَقَالَ: أَبُو الْمُهَاجِرِ، إِذِ الْجَوَادُ يَعْثُرُ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے، ایک خاتون اپنی اونٹنی پر سوار تھی، اس خاتون نے اس اونٹنی کو جھڑکتے ہوئے اس پر لعنت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اپنا سامان اس اونٹنی سے اتار لو اور اسے چھوڑ دو کیونکہ اس پر لعنت کر دی گئی ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: لوگوں نے ایسا ہی کیا، اس اونٹنی کا منظر گویا کہ آج بھی میری نگاہ میں ہے، وہ خاکستری رنگ کی اونٹنی تھی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوقلابہ نامی راوی کے چچا عمرو بن معاویہ بن زید جرمی ہیں جن کی کنیت ابومہلب ہے، امام اوزاعی کو ان کی کنیت کے بارے میں وہم ہوا تو انہوں نے یہ کہا: کہ ان کی کنیت ابومہاجر ہے، اس کی وجہ یہ ہے سوار کو بھی کبھی کبھی ٹھوکر لگ جاتی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5740]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2595، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5740، 5741، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8765، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2561، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2719، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10441، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20175» «رقم طبعة با وزير 5710»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2308): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
179. باب اللعن - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به يحيى بن أبي كثير-
لعنت کرنے کا بیان - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر صرف یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5741
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ إِذْ سَمِعَ لَعْنَةً، فَقَالَ:" مَنْ هَذَا"؟ فَقِيلَ: هَذِهِ فُلانَةٌ لَعَنَتْ رَاحِلَتَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ضَعُوا عَنْهَا، فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ" ، قَالَ: فَوُضِعَ عَنْهَا، قَالَ عِمْرَانُ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا نَاقَةً وَرْقَاءَ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے لعنت کرنے کی آواز سنی تو دریافت کیا: ”یہ کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا: یہ فلاں خاتون ہے، جس نے اپنی سواری پر لعنت کی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس سواری کو چھوڑ دو کیونکہ اس پر لعنت کر دی گئی ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: تو اس سواری پر سے سامان اتار لیا گیا۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس اونٹنی کا منظر گویا کہ آج بھی میری نگاہ میں ہے، وہ خاکستری رنگ کی اونٹنی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5741]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2595، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5740، 5741، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8765، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2561، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2719، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10441، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20175» «رقم طبعة با وزير 5711»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم رجاله ثقات رجال الشيخين غير أبي المهلب فمن رجال مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
180. باب اللعن - ذكر العلة التي من أجلها أمر بهذا الأمر-
لعنت کرنے کا بیان - ذکر وجہ جس کی بنا پر اس حکم کا امر کیا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5742
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَطْلُبُ الْمَجْدِيَّ بْنَ عَمْرٍو الْجُهَنِيَّ، وَكَانَ النَّاضِحُ يَعْتَقِبُهُ مِنَّا الْخَمْسَةُ، وَالسِّتَّةُ وَالسَّبْعَةُ، فَدَنَا عُقْبَةُ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ عَلَى نَاضِحٍ لَهُ، فَأَنَاخَهُ فَرَكِبَهُ، ثُمَّ بَعَثَهُ، فَتَلَدَّنَ عَلَيْهِ بَعْضَ التَّلَدُّنِ، فَقَالَ: شَأْ! لَعَنَكَ اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ هَذَا اللاعِنُ بَعِيرَهُ؟" قَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" انْزِلْ عَنْهُ، فَلا تَصْحَبْنَا بِمَلْعُونٍ، لا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، وَلا تَدْعُوا عَلَى أَوْلادِكُمْ، وَلا تَدْعُوا عَلَى أَمْوَالِكُمْ، لا تُوَافِقُوا مِنَ السَّاعَةِ فَيَسْتَجِيبَ لَكُمْ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجدی بن عمرو جہنی کی تلاش میں تھے، ہمارا یہ حال تھا کہ ہم پانچ یا چھ یا سات افراد ایک اونٹ پر باری باری سوار ہوتے تھے، انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص جن کا نام عقبہ تھا وہ اپنے اونٹ کے پاس آئے، انہوں نے اسے بٹھایا تاکہ اس پر سوار ہوں، پھر انہوں نے اسے کھڑا کیا تو اس اونٹ نے کچھ شوخی دکھائی تو ان صاحب نے کہا: ”اٹھو، اللہ تعالیٰ تم پر لعنت کرے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اپنے اونٹ پر لعنت کرنے والا شخص کون ہے؟“ ان صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس سے نیچے اتر جاؤ، تم ہمارے ساتھ کسی لعنت یافتہ کو نہ رکھو، تم لوگ اپنے خلاف بددعا نہ کیا کرو اور نہ ہی اپنے اموال کے خلاف بددعا کیا کرو، کیونکہ تمہیں نہیں معلوم کہ وہ کسی ایسی گھڑی میں ہو جائے جس میں وہ تمہارے لیے مستجاب ہو جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5742]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5742، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1532، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 3539» «رقم طبعة با وزير 5712»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1371): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
181. باب اللعن - ذكر الخبر الدال على صحة ما تأولنا خبر عمران بن الحصين بأن لعنة هذه اللاعنة قد استجيب لها في ناقتها-
لعنت کرنے کا بیان - ذکر خبر جو ہمارے عمران بن الحصین کی خبر کی صحت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس لعن کرنے والی کی لعنت اس کے اونٹنی کے بارے میں قبول ہوئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5743
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، أَنَّ جَارِيَةً، بَيْنَا هِيَ عَلَى بَعِيرٍ أَوْ رَاحِلَةٍ عَلَيْهَا مَتَاعُ الْقَوْمِ بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَتَضَايَقَ بِهَا الْجَبَلُ، وأَتَى عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَبْصَرَتْهُ جَعَلَتْ تَقُولُ: حَلْ، اللَّهُمَّ الْعَنْهُ، اللَّهُمَّ الْعَنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَصْحَبْنَا رَاحِلَةٌ عَلَيْهَا لَعْنَةٌ مِنَ اللَّهِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَمْرُ الْمُصْطَفَى بِتَسْيِيبِ الرَّاحِلَةِ الَّتِي لُعِنَتْ أَمْرٌ أُضْمِرَ فِيهِ سَبَبُهُ، وَهُوَ حَقِيقَةُ اسْتِجَابَةِ الدُّعَاءِ لِلاعِنِ، فَمَتَى عُلِمَ اسْتِجَابَةُ الدُّعَاءِ مِنْ لاعِنٍ مَا رَاحِلَةً لَهُ، أَمَرْنَاهُ بِتَسْيِيبِهَا، وَلا سَبِيلَ إِلَى عِلْمِ هَذَا لانْقِطَاعِ الْوَحْيِ، فَلا يَجُوزُ اسْتِعْمَالُ هَذَا الْفِعْلِ لأَحَدٍ أَبَدًا.
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک کنیز ایک اونٹ پر سوار تھی جس پر لوگوں کا سامان رکھا ہوا تھا، وہ دو پہاڑوں کے درمیان سے گزر رہی تھی اور پہاڑ کا راستہ تنگ تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پہاڑ پر تشریف لائے، جب اس لڑکی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ کہنے لگی: اٹھو، اے اللہ! اس پر لعنت کر، اے اللہ! اس پر لعنت کر۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے ساتھ کوئی ایسی سواری نہیں رہے گی، جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت ہوئی ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سواری کو چھوڑ دینے کا حکم دینا جس پر لعنت کی گئی تھی، اس میں یہ حکم پوشیدہ ہے جو اس کا سبب ہے اور وہ یہ کہ لعنت کرنے والے کی دعا مستجاب نہ ہو جائے، تو جب لعنت کرنے والے کی دعا کے مستجاب ہونے کے بارے میں علم ہو جائے تو پھر ہم اسے یہ حکم دیں گے کہ وہ اس سواری کو چھوڑ دے، لیکن وحی کے منقطع ہونے کی وجہ سے اس کا علم حاصل کرنے کا امکان نہیں رہا، اس لیے اب کسی کے لیے اس فعل پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5743]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2596، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5743، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10442، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20080» «رقم طبعة با وزير 5713»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (2184). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
182. باب اللعن - ذكر الزجر للنساء عن إكثار اللعن وإكفار العشير-
لعنت کرنے کا بیان - ذکر منع کہ عورتیں زیادہ لعن طعن کریں اور اپنے شوہر کو کافر کہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5744
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَضْحًى، أَوْ فِطْرٍ إِلَى الْمُصَلَّى، فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَامَ، فَوَعَظَ النَّاسَ وَأَمَرَهُمْ بِالصَّدَقَةِ، قَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، تَصَدَّقُوا"، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ، فَإِنِّي أَرَاكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ"، فَقُلْنَ: وَلِمَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، مَا رَأَيْتُ مِنَ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ، يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ"، فَقُلْنَ لَهُ: مَا نُقْصَانُ دِينِنَا وَعَقْلِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَلَيْسَ شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ مِثْلَ نِصْفِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ؟" قُلْنَ: بَلَى، قَالَ:" فَذَاكَ نُقْصَانُ عَقْلِهَا، أَوَ لَيْسَتْ إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ؟" قُلْنَ: بَلَى، قَالَ:" فَذَاكَ نُقْصَانُ دِينِهَا" . ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا صَارَ إِلَى مَنْزِلِهِ، جَاءَتْ زَيْنَبُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ تَسْتَأْذِنُ عَلَيْهِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ زَيْنَبُ تَسْتَأْذِنُ عَلَيْكَ، فَقَالَ: " أَيُّ الزَّيَانِبِ؟" قِيلَ: امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:" نَعَمْ، ائْذَنُوا لَهَا"، فَأُذِنَ لَهَا، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّكَ أَمَرْتَنَا الْيَوْمَ بِالصَّدَقَةِ، وَكَانَ عِنْدِي حُلِيٌّ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ، فَزَعَمَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهُ وَوَلَدَهُ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقَتْ بِهِ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَ، زَوْجُكِ، وَوَلَدُكِ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتِ بِهِ عَلَيْهِمْ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالاضحی یا عیدالفطر کے موقع پر عید گاہ کی طرف تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! صدقہ کرو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے مڑے اور خواتین کے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خواتین کے گروہ! تم لوگ صدقہ کرو کیونکہ میں نے دیکھا ہے جہنم میں اکثریت تم خواتین کی ہے۔“ ان خواتین نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کی وجہ کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ لعنت کثرت سے کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ اے خواتین کے گروہ! میں نے ایسی کوئی مخلوق نہیں دیکھی جو عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص ہونے کے باوجود سمجھ دار اور تجربہ کار آدمی کی عقل کو رخصت کر دیتی ہے۔“ ان خواتین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے دین اور عقل میں کیا کمی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا ایک عورت کی گواہی مرد کی گواہی کا نصف نہیں ہوتی؟“ ان خواتین نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ان کی عقل کی کمی کی وجہ سے ہے۔ کیا جب عورت حائضہ ہوتی ہے تو وہ نماز اور روزہ ترک نہیں کر دیتی؟“ ان خواتین نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ان کے دین کی کمی ہے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے مڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اندر آنا چاہ رہی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون سی زینب؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں، اس خاتون کو اندر آنے دو۔“ اس خاتون کو اندر آنے کی اجازت دی گئی، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا، میرے پاس کچھ زیورات ہیں، میں نے انہیں صدقہ کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ خیال ہے وہ اور ان کی اولاد اس بات کے زیادہ حق دار ہیں، میں یہ زیورات ان پر صدقہ کروں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس نے ٹھیک کہا ہے، تمہارا شوہر اور تمہاری اولاد اس بات کے زیادہ حق دار ہیں، تم ان پر صدقہ کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5744]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 304، 956، 1462، 1951، 2658، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 49، 80، 889، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1430، 1449، 2045، 2462، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 306، 307، 3321، 5744، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1105، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1575، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1140، 4340، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2172، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1275، 1288، 4013، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11216» «رقم طبعة با وزير 5714»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (630). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں