المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
81. فِي اشْتِرَاءِ بَقَرَةٍ لِلْهَدْيِ
قربانی کے لیے گائے خریدنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1805
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا عمرو بن ميمون بن مِهْران، حدثنا أبو حاضرٍ عثمان بن حاضرٍ قال: سمعتُ ابن عباس يقول: إنَّ أهل الحُدَيبيَةِ أُمِروا بإبدال الهَدْي في العام الذي دخلوا فيه مكة، فأبدَلوا، وعزَّتِ الإبلُ، فرُخِّصَ لهم فيمن لا يجدُ بَدَنةً في اشتِراءِ بقرة (1) . رواه محمد بن إسحاق بن يسار عن عمرو بن ميمون مفسَّرًا ملخَّصًا:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اہلِ حدیبیہ جس سال مکہ میں داخل ہوئے، ان کو قربانی کے جانور کے بدلے میں جانور ذبح کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر بدل بھی لیئے۔ اور اونٹ کم پڑ گئے۔ تو جن لوگوں کو قربانی کے لیئے اونٹ یا بدنہ نہ مل سکا، انہیں گائے خریدنے کی رخصت دی گئی۔ ٭٭ اس حدیث کو محمد بن اسحاق بن یسار نے عمرو بن میمون سے مفسر اور مختصر روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1805]
حدیث نمبر: 1806
أخبرَناه أبو بكر محمد بن المُؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا النُّفَيلي، حدثنا محمد بن سَلَمة، عن محمد بن إسحاق، عن عمرو بن ميمون بن مِهْران قال: سمعتُ أبا حاضر الحِمْيَري يحدِّث أبي ميمونَ بن مِهْران قال: خرجتُ معتمرًا عامَ حاصَرَ أهلُ الشام ابنَ الزبير بمكة، وبَعَثَ معي رجالٌ من قومي بهديٍ، فلما انتهينا إلى أهل الشام مَنَعُونا أن ندخل الحرم، فنحرتُ الهدي مكاني وأحللتُ، ثم رجعتُ، فلما كان من العام المُقبِل خرجتُ لأقضيَ عُمرتي، فأتيتُ ابن عباس فسألته، فقال: أبدِلِ الهديَ، فإنَّ رسولَ الله ﷺ أَمَرَ أصحابه أن يُبدِلوا الهديَ الذي نَحَروا عام الحديبية في عُمْرة القضاء. قال عمرو: وكان أبي قد أهمَّه ذلك، يقول: لا أدري هل أبدلَ أصحابُ النبيِّ ﷺ الهديَ الذي نحروا بالحديبية في عمرة القضاء، أم لا، حتى حدَّثه أبو حاضر (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وأبو حاضر شيخٌ من أهل اليمن مقبولٌ صدوق.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وأبو حاضر شيخٌ من أهل اليمن مقبولٌ صدوق.
سیدنا ابومیمون بن مہران رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس سال اہلِ شام نے ابن الزبیر کا مکہ میں محاصرہ کیا، میں اس سال عمرہ کے لیے نکلا اور میرے قبیلے کے بہت سارے لوگوں نے میرے ہمراہ قربانی کے جانور بھی بھیجے تھے، جب ہم لوگ مکہ پہنچے تو اہلِ شام نے ہمیں حرم شریف میں داخل ہونے سے منع کر دیا۔ میں نے اسی جگہ پر جانور ذبح کر دئیے اور احرام کھول دیا اور لوٹ آیا پھر اگلے سال میں عمرہ کی قضاء کرنے کے لیے نکلا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ان قربانیوں کے بدلے قربانیاں دو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو عمرہ قضاء میں دوبارہ قربانیاں کرنے کا حکم دیا تھا جنہوں نے حدیبیہ کے سال جانور ذبح کیے تھے، عمرو بن میمون فرماتے ہیں: جن لوگوں نے حدیبیہ کے سال جانور ذبح کیے تھے، ان کو اس پر عمل کرنا بہت دشوار تھا۔ وہ فرماتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے عمرہ قضاء میں ان قربانیوں کا بدل دیا تھا یا نہیں؟ جو انہوں نے حدیبیہ کے سال ذبح کی تھیں یہاں تک کہ ابوحاضر نے ان کو یہ حدیث سنائی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور ابوحاضر اہلِ یمن سے ہیں شیخ الحدیث ہیں۔ مقبول اور صدوق ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1806]
82. قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِمَكَّةَ: " مَا أَطْيَبَكِ مِنْ بَلْدَةٍ "
رسولُ اللہ ﷺ کا مکہ کے بارے میں فرمان: اے مکہ! تو کتنی پاکیزہ بستی ہے۔
حدیث نمبر: 1807
أخبرنا أبو جعفر محمد بن عليٍّ الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا زهير، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عباسٍ قال: قال رسولُ الله ﷺ لِمكَّةَ:"ما أطيَبَكِ من بلدةٍ، وأحبَّكِ إليَّ، ولولا أنَّ قومَكِ أَخرَجوني ما سكنتُ غيرَكِ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے کہا: اے شہر مکہ! تجھ سے بڑھ کر کوئی شہر مجھے زیادہ عزیز نہیں ہے اور میں سب سے زیادہ تجھ سے محبت کرتا ہوں، اگر تیرے باشندے مجھے ہجرت پر مجبور نہ کرتے تو میں تیرے سوا کسی شہر میں سکونت اختیار نہیں کرتا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1807]
83. مَنْهِيَّاتُ النِّسَاءِ فِي الْإِحْرَامِ
احرام میں عورتوں کے لیے ممنوع امور کا بیان۔
حدیث نمبر: 1808
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يعقوب، حدثني أبي، عن ابن إسحاق، حدثني نافع مولى عبد الله بن عمر، حدثني عبد الله بن عمر، أنه سَمِع رسول الله ﷺ يقول؛ يَنهَى النِّساءَ في إحرامِهِنَّ عن القُفَّازين والنِّقاب، وما مَسَّ الوَرْسُ والزَّعفرانُ من الثياب، ولْتَلْبَس بعد ذاك ما أحبَّت من ألوان الثياب من مُعصفَرٍ أو خَزٍّ أو حُلِيٍّ، أو سَرَاويلَ، أو قَميصٍ، أو خُفٍّ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عورتوں کو حالتِ احرام میں دستانے پہننے، نقاب کرنے اور ایسے کپڑے پہننے سے منع کیا جائے جس کو ورس (ایک خاص قسم کی گھاس) اور زعفران سے رنگا گیا ہو اور اس (احرام کھولنے) کے بعد جس رنگ کا چاہیں کپڑا پہن سکتی ہیں۔ یعنی زرد رنگ کا یا ریشم کا کپڑا یا زیور یا شلوار یا موزے یا قمیص وغیرہ۔ (جو چاہیں پہن سکتی ہیں)۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1808]
84. تَحْرِيمُ قَطْعِ شَجَرَةِ الْمَدِينَةِ
مدینہ کے درخت کاٹنے کی حرمت۔
حدیث نمبر: 1809
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المُثنّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا بِشْر بن المُفضَّل، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق، عن أبيه، عن عامر بن سعد بن أبي وقَّاص، عن أبيه سعدٍ: أنه كان يَخرُج من المدينة فيجدُ الحاطبَ من الحُطَّاب معه شجرٌ (1) رَطْبٌ قد عَضَدَه من بعض شَجَر المدينة، فيأخذُ سَلَبَه، فيكلِّمُه فيه - وقال بِشْر: فيُكلَّم فيه - فيقول: لا أدَعُ غَنيمةً غنَّمَنِيها رسولُ الله ﷺ وأنا من أكثر الناس مالًا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عامر بن سعد بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ مدینہ سے باہر نکل جایا کرتے تھے تو کسی لکڑھارے کو دیکھتے، جس کے پاس تروتازہ درخت ہوتا جو اس نے مدینہ کے درختوں سے کاٹا ہوتا۔ اگرچہ اس کو چھیل لیا ہوتا۔ اس سلسلے میں اگر وہ کوئی چون و چرا کرتا تو آپ فرماتے: میں ایسی کوئی چیز نہیں چھوڑوں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دی ہے حالانکہ میں سب سے زیادہ مالدار ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1809]
حدیث نمبر: 1810
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتَّاب العَبْدي ببغداد، حدثنا عبد الرحمن بن مرزوق أبو عوف البُزُوري، حدثنا خالد بن مَخْلَد القَطَواني، حدثنا عبد الله بن جعفر المَخْرَميّ، حدثنا إسماعيل بن محمد، عن عامر بن سعد: أنَّ سعدًا ركب إلى قصرِه بالعَقِيق فوجد عبدًا يقطع شجرًا فاستَلَبَه، فلما رَجَعَ جَاءَه أهلُ العبد يسألونه أن يَرُدَّ عليهم ما أَخذ من عبدهم، قال: مَعَاذَ اللهِ أَن أَرُدَّ شيئًا نَفَّلَنِيه رسولُ الله ﷺ، فلم يَرُدَّ إليهم شيئًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
سیدنا عامر بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ (مقامِ عقیق میں) اپنے محل کی طرف سفر میں تھے کہ راستے میں ایک غلام کو دیکھا جو (سرکاری) درخت کاٹ رہا تھا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اس سے وہ چھین لیے۔ جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ لوٹ کر آئے تو اس کے گھر والے ان کے پاس گئے اور ان سے مطالبہ کیا کہ ان کے غلام سے جو درخت چھینے گئے ہیں وہ واپس کیے جائیں۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: خدا کی پناہ: ہم وہ چیز نہیں لوٹا سکتے جو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا کی ہے چنانچہ آپ نے ان کو کچھ بھی واپس نہیں دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1810]
85. فَضْلُ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَسْجِدِهِ بِقُبَاءَ
مسجدِ نبوی ﷺ اور مسجدِ قباء کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 1811
أخبرنا أبو النضر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا يحيى بن صالح الوُحاظيّ، حدثنا عبد العزيز بن محمد، حدثنا أُنيس بن أبي يحيى، حدثني أبي، قال: سمعتُ أبا سعيدٍ الخُدْريَّ: أنَّ رجلًا من بني عمرو بن عوف ورجلًا من بني خُدْرة اختلفا - أو امتَرَيا - في المسجد الذي أُسِّس على التقوى، فقال العَوْفي: هو مسجد قُباءٍ، وقال الخُدْري: هو مسجدُ رسولِ الله ﷺ، فأَتَيا النبيَّ ﷺ فسألاه، فقال:"هو مسجدي هذا، وفي ذلك خيرٌ كثير" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وأُنيس بن أبي يحيى بخلاف أخيه إبراهيم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وأُنيس بن أبي يحيى بخلاف أخيه إبراهيم (1) .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بنی عمرو بن عوف کے ایک آدمی اور بنی خدرہ کے ایک آدمی کے درمیان اس مسجد کے بارے میں اختلاف ہو گیا جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی۔ عوفی شخص نے کہا: اس سے مراد مسجد قبا ہے اور خدری نے کہا: وہ مسجد نبوی ہے۔ یہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیش ہو گئے اور آپ سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ میری یہی مسجد ہے اور اس میں بہت زیادہ بھلائی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور انیس بن ابی یحیی کا اپنے بھائی سے اختلاف ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1811]
حدیث نمبر: 1812
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفَّان العامِرِي، حدثنا أبو أسامة، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثنا أبو الأبْرَد موسى بن سُلَيم مولى بني خَطْمة (2) ، أنه سَمِعَ أُسَيدَ بن ظُهَيرٍ الأنصاريَّ - وكان من أصحاب النبي ﷺ يحدِّث، عن النبي ﷺ قال:"صلاةٌ في مسجد قُباءٍ كعُمْرة" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إِلَّا أَنَّ أَبا الأبْرَد مجهول.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إِلَّا أَنَّ أَبا الأبْرَد مجهول.
سیدنا اسید بن ظہیر انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسجد قباء میں نماز پڑھنا عمرے کے برابر ثواب رکھتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا مگر ابوالابرد مجہول راوی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1812]
حدیث نمبر: 1813
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن سَلَمة، حدثنا محمد بن مِهْران الجَمّال، حدثنا جَرير، عن يحيى بن سعيد، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر قال: كان رسولُ الله ﷺ يُكثِرُ الاختلافَ إلى قُباءٍ ماشيًا وراكبًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قباء کی طرف جاتے ہوئے کبھی پیدل چلا کرتے اور کبھی سوار ہوتے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1813]
86. الصَّلَاةُ عَلَى أَهْلِ الْبَقِيعِ
اہلِ بقیع پر درود و سلام (نماز/دعا) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1814
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفَّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي. وأخبرني أبو بكر بن أبي نصر المُزكِّي بمَرْو، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى، قالا: حدثنا القَعْنبي فيما قَرأَ على مالك. وأخبرني أبو يحيى السَّمَرقَنْدي، حدثنا محمد بن نَصْر (2) . وأخبرنا يحيى بن منصور، حدثنا محمد بن عبد السلام؛ قالا: حدثنا يحيى بن يحيى قال: قرأتُ على مالك، عن علقمة بن أبي علقمة، عن أُمه، عن عائشة سَمِعتُها تقول: قام رسولُ الله ﷺ فلَبِسَ ثيابه ثم خرج، فأمرتُ جاريتي بَرِيرةَ أَن تَتْبعَه فتنظرَ أين يذهب، فتَبِعَتْه حتى جاء البَقِيع، فوقف في أدناهُ ما شاء الله أن يقفَ، ثم انصَرَف راجعًا، فَسَبَقَتْه بَرِيرةُ، قالت عائشة: فأخبَرَتْني، قالت: فلم أذكرْ شيئًا من ذلك لرسول الله ﷺ حتى أصبحتُ، فذكرتُ ذلك له، فقال ﷺ:"إِنِّي بُعِثْتُ إلى أهل البَقِيع لأُصلِّيَ عليهم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (رات کے وقت) اُٹھ کر کپڑے پہن کر باہر نکل گئے، میں نے اپنی لونڈی بریرہ سے کہا: وہ آپ کے پیچھے پیچھے جائے اور یہ دیکھتی رہے کہ آپ کہاں جاتے ہیں۔ چنانچہ وہ لونڈی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے چلتے جنت البقیع میں پہنچ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پر کافی دیر ٹھہرے رہے پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آنے کے لیے پلٹے تو بریرہ آپ سے پہلے گھر پہنچ گئیں۔ اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: بریرہ نے مجھے یہ سارا معاملہ بتا دیا۔ آپ فرماتی ہیں: میں نے (رات میں) اس بات کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نہیں کیا، جب صبح ہو گئی، تب میں نے آپ کو یہ بات بتائی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اہلِ بقیع کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ میں ان کے لیے دعائے مغفرت مانگوں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب المناسك/حدیث: 1814]