🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ
اہلِ بغاوت سے قتال کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2676
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب الأُموي، حدثنا محمد بن سنان القَزّاز، حدثنا عبد الله بن خُمْران، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، أخبرني أبي، عن عمر بن الحَكَم، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، قال: أتى رسولَ الله ﷺ رجلٌ وهو يَقسِمُ تمرًا يوم حُنين، فقال: يا محمد، اعدِلْ، قال:"وَيحَك ومَن يعدلُ عليك إذا لم أعدِلْ؟" أو"عند مَن تلتمِسُ العدْلَ بعدي؟" ثم قال:"يُوشِكُ أن يأتيَ قومٌ مثلُ هذا، يَسألُون كتابَ الله وهم أعداؤه، يقرؤون كتابَ الله، محلَّقةً رؤوسُهم، فإذا خَرجُوا فاضرِبُوا رقابَهم" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2644 - محمد بن سنان كذبه أبو داود وغيره
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر کے موقع پر کھجوریں تقسیم فرما رہے تھے کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! انصاف کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے لیے ہلاکت ہو، اگر میں انصاف نہیں کروں گا تو تجھے کون انصاف دے گا؟ یا (شاید یہ فرمایا: تم میرے بعد کس سے انصاف طلب کرو گے؟ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2676]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. الْأَمْرُ بِقِتَالِ الْمَارِقَةِ مِنَ الدِّينِ .
دین سے نکل جانے والوں کے خلاف قتال کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2677
أخبرني أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا عبد الملك بن محمد بن عبد الله الرَّقَاشي، حدثنا أبو عاصم الضحّاك بن مَخْلَد، حدثنا عثمان الشَّحّام، حدثنا مُسلم بن أبي بَكْرة، عن أبيه، قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ أقوامًا من أمتي أشدّةً ذَلِقةً ألسنتُهم بالقرآن، لا يجاوزُ تَراقِيَهم، يَمْرُقُون مِن الدِّين كما يَمرُق السهمُ من الرَّمِيَّة، فإذا لقيتُمُوهم فاقتُلُوهم، فإنَّ المأجورَ مَن قَتلَهم" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد رواه حماد بن زيد عن عثمان الشّحّام:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2645 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو بہت خوبصورت لہجے میں قرآن پڑھیں گے لیکن (ان کا قرآن) ان کے حلق سے نیچے نہیں اُترے گا، وہ دین سے اس طرح تیزی سے نکل جائیں گے جیسے تیر نشانے سے نکل جاتا ہے۔ جب تم ان سے ملو تو انہیں مار ڈالو کیونکہ اس شخص کو اجر دیا جائے گا جو ان کو قتل کرے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور اسی حدیث کو حماد بن زید نے عثمان شحام کے حوالے سے روایت کیا ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2677]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2678
أخبرَناه أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببُخارى، أخبرنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا أبو الربيع سليمان بن داود العَتَكي وأحمد بن عَبْدة الضَّبّي قالا: حدثنا حماد بن زيد، عن عثمان الشحّام، قال: أتيت مُسلمَ بن أبي بَكْرة وفَرْقَدَ السَّبَخي، فدخلْنا عليه، فقلنا: أسمعتَ أباك يذكُر في حديث الفتن؟ فقال: نعم، سمعتُ أبي يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"يكون في أمتي قومٌ أعداءٌ ذَلِقَةٌ ألسنتُهم بالقرآن، فإذا رأيتُمُوهم فأَنِيمُوهم، فإذا رأيتموهم فأَنِيمُوهم" (1) .
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت میں کچھ دشمن ایسے ہوں گے جو بہت خوبصورت لہجے میں قرآن کی تلاوت کریں گے، جب تم ان کو دیکھو تو ان کو (موت کی نیند) سلا دو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2678]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. صِفَاتُ الْخَوَارِجِ وَحُكْمُ قَتْلِهِمْ .
خوارج کی صفات اور ان کے قتل کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2679
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن بن ميمون، حدثنا عفّان بن مسلم، حدثنا حماد بن سَلَمة، حدثنا الأزرق بن قيس، عن شَريك بن شِهاب، قال: كنت أتمنّى أن أرى رجلًا من أصحاب رسول الله ﷺ يحدّثُني عن الخوارج، قال: فلقيتُ أبا بَرْزة في يوم عرفةَ في نفر من أصحابه، فقلت: يا أبا بَرْزة، حدِّثنا بشيءٍ سمعتَه من النبيّ ﷺ يقول في الخوارج، قال: أحدّثُك ما سمعتْ أُذناي ورأتْ عَيناي: أُتي رسول الله ﷺ بدنانيرَ من أرضٍ، فكان يَقسِمُها وعنده رجلٌ أسودُ مَطمُومُ الشعر، عليه ثوبان أبيضان، بين عينيه أثرُ السُّجود، فتعرَّض لرسول الله ﷺ، فأتاه من قِبَل وجهه، فلم يُعطِه شيئًا، فأتاه مِن قِبَل شماله، فلم يُعطِه شيئًا، فأتاه من خلفه، فقال: والله يا محمد، ما عَدلْتَ منذ اليومِ في القِسْمة، فغضب النبيُّ ﷺ فقال:"لا تَجِدُون بعدي أحدًا أعدَلَ عليكم مني" قالها ثلاثًا، ثم قال:"يخرج من قِبَل المشرق قومٌ كأنّ هديَهم هكذا، يقرؤون القرآنَ لا يجاوزُ تَراقِيَهم، يَمْرُقُون من الدِّين كما يَمرُق السهمُ من الرَّمِيَّة، ثم لا يَرجعون إليه - ووضع يده على صدره - سِيماهم التَّحليق، لا يزالون يخرُجُون حتى يخرجَ آخرُهم، فإذا رأيتُمُوهم فاقتُلُوهم - قالها حماد ثلاثًا - هم شرُّ الخَلْق والخَلِيقة - قالها حماد ثلاثًا" وقال: قال أيضًا:"لا يَرجِعون فيه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2647 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا شریک بن شہاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میری بہت خواہش تھی کہ کسی ایسے صحابی رسول سے ملاقات کروں جو مجھے خوارج کے حوالے سے کوئی حدیث سنائے۔ چنانچہ عرفہ کے دن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت میں ابوبرزہ کے ساتھ میری ملاقات ہو گئی۔ میں نے ان سے پوچھا: آپ نے خوارج کے متعلق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فرمان سن رکھا ہے؟ انہوں نے جواباً کہا: (جی ہاں) میں آپ کو وہ بات سناؤں گا، جو میرے کانوں نے سنی اور آنکھوں نے دیکھی ہے۔ (ایک دفعہ) کسی علاقے سے مالِ غنیمت آیا ہوا تھا جس کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تقسیم فرما رہے تھے، آپ کے قریب کٹے ہوئے بالوں والا، کالے رنگ کا ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے اوپر سفید رنگ کی دو چادریں تھیں اور اس کی پیشانی پر سجدوں کا اثر تھا، وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہی پڑا ہوا تھا۔ وہ (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کچھ نہیں دیا، وہ (دوبارہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب سے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پھر بھی) اس کو کچھ نہیں دیا، وہ (تیسری بار) پیچھے سے آیا اور کہنے لگا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تو نے آج تک تقسیم میں انصاف نہیں کیا، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراض ہو کر فرمایا: میرے بعد تمہیں ایسا کوئی شخص نہیں ملے گا جو مجھ سے بڑھ کر تمہیں انصاف دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرق کی طرف سے کچھ لوگ ایسے پیدا ہوں گے جن کا یہی انداز ہو گا، وہ قرآن کی تلاوت کریں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح تیزی سے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کی طرف (تیزی سے) نکلتا ہے پھر وہ اس (دین) کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے فرمایا: ان کی نشانی سر منڈانا ہے، وہ مسلسل ظاہر ہوتے رہیں گے حتیٰ کہ جب ان میں سب سے آخری ظاہر ہو تو جب اس کو دیکھو، وہیں مار ڈالو، حماد نے یہ بات تین مرتبہ کہی۔ وہ بدترین مخلوق، بداخلاق ہوں گے، حماد نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی اور یہ بھی کہا کہ وہ دین کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2679]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2680
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا الحسن بن علي بن بحر البَرِّي، حدثنا أبي، حدثنا هشام بن يوسف الصنعاني، عن مَعمَر، عن قَتَادة، عن أنس، أنَّ النبي ﷺ قال:"سيكون في أمتي اختِلافٌ وفُرقةٌ، وسيجيء قومٌ يُعجِبُونكم وتُعجبُهم أنفسُهم، الذين يقتلونهم أَولى بالله منهم، يُحسِنون القيلَ ويُسيئُون الفِعلَ، يَدعُون إلى الله، وليسوا مِن الله في شيء، فإذا لَقيتمُوهم فأَنِيمُوهم" قالوا: يا رسول الله، انعَتْهم لنا، قال:"آيتُهم الحَلْقُ والتَّسْبيتُ" يعني: استئصال القَصير (1) ، قال: والتَّسبِيتُ: استئصال الشَّعر (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد روى هذا الحديث الأوزاعيُّ عن قَتَادة عن أنس، وهو صحيح على شرط الشيخين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2648 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب میری امت میں اختلافات اور فرقہ بندیاں شروع ہو جائیں گی اور ایک ایسی قوم آئے گی جنہیں تم بہت اچھا سمجھو گے اور وہ خود اپنے آپ کو بہت اچھا سمجھیں گے جو ان کو قتل کرے گا، وہ اللہ کا مقرب ہو گا۔ وہ بہت نرم و شیریں گفتگو کریں گے لیکن بے عمل ہوں گے۔ اللہ کی طرف دعوت دیں گے لیکن اللہ کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ جب تم ان سے ملو تو ان کو (موت کی نیند) سلا دو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: ہمیں ان کے اوصاف بتا دیجئے! آپ نے فرمایا: ان کی نشانی حلق (سر منڈوانا) اور تسبیب یعنی جڑ سے بال اکھیڑنا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور یہی حدیث اوزاعی نے قتادہ کے واسطے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور یہ بھی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ (وہ روایت درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2680]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. الْخَوَارِجُ شِرَارُ الْخَلْقِ، طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ .
خوارج بدترین مخلوق ہیں، خوش خبری ہے اسے جو انہیں قتل کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2681
حدَّثَناه أحمد بن عثمان البَزّاز ببغداد، حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن الهيثم البَلَدي، حدثنا محمد بن كثير المِصِّيصي، حدثنا الأوزاعي، عن قَتَادة، عن أنس بن مالكٍ، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"سيكون في أمتي اختِلافٌ وفُرقةٌ، قومٌ يُحسِنون القِيلَ ويُسيئون الفِعلَ، يقرؤون القرآنَ لا يُجاوزُ تَراقِيهَم، يَحقِرُ أحدُكم صلاتَه مع صَلاته، وصيامَه مع صيامه، يَمرُقون من الدِّين مُروقَ السهْم من الرَّمِيَّة، لا يرجعُ حتى يُرَدَّ السهمُ على فُوقِه، وهم شِرارُ الخلق والخليقة، طُوبَى لمن قتَلَهم وقتَلُوه، يَدعُون إلى كتاب الله، وليسُوا منه في شيءٍ، مَن قاتلهم كان أَولى بالله منهم" قالوا: يا رسول الله، ما سِيماهُم؟ قال:"التَّحْلِيق" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2649 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب میری امت میں اختلافات اور فرقہ واریت ہو گی۔ ایک ایسی قوم ہو گی جو گفتار کے غازی ہوں گے لیکن بدکردار ہوں گے، قرآن کی تلاوت کریں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اُترے گا۔ تم ان کی نمازوں کے سامنے اپنی نمازوں کو اور ان کے روزوں کے مقابلے میں اپنے روزوں کو حقیر جانو گے، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کی طرف نکلتا ہے، وہ دین میں لوٹ کر نہیں آئیں گے، جیسا کہ تیر اپنے سوفار کی طرف لوٹ کر نہیں آتا۔ یہ لوگ ساری دنیا سے بدتر مخلوق ہوں گے۔ اس شخص کے لیے خوشخبری ہے جو ان کو قتل کرے گا۔ اور وہ اس کو قتل کریں گے۔ یہ لوگوں کو کتاب اللہ کی دعوت دیں گے لیکن ان کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ جو ان کو قتل کرے گا وہ اللہ کا مقرب بندہ ہو گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! ان کی نشانی کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سر منڈانا ۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2681]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي اخْتِلَافٌ وَفُرْقَةٌ .
میری امت میں اختلاف اور تفرقہ پیدا ہو گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2682
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا بِشْر بن بكر، حدثنا الأوزاعي، حدثني قَتَادة بن دِعامة، عن أنس بن مالك وأبي سعيد الخُدْري، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"سيكونُ في أمتي اختِلافٌ وفُرقةٌ، قومٌ يُحسِنون القِيل ويُسيئون الفِعل، يقرؤون القرآنَ لا يجاوِزُ تَراقيَهم، يَمرُقون من الدِّين مُروقَ السهم من الرَّمِيَّة، لا يَرجِعون حتى يَرْتدَّ على فُوقِه، شرُّ الخلق والخَلِيقة، طُوبَى لمن قتَلَهم وقتَلُوه، يَدعُون إلى كتاب الله، وليسوا منه في شيءٍ، من قاتلَهم كان أَولى بالله منهم" قالوا: يا رسول الله، فما سِيْماهم؟ قال:"التَّحْليق" (1) . لم يسمع هذا الحديث قَتَادة من أبي سعيد الخُدْري، إنما سمعه من أبي المتوكِّل الناجِيّ عن أبي سعيد:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب میری امت میں اختلافات اور فرقہ واریت ہو گی، ان میں ایک ایسی قوم بھی ہو گی جو گفتار کے غازی ہوں گے لیکن بدکردار ہوں گے، وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے اور وہ دین کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے جیسا کہ تیر اپنے سوفار کی طرف لوٹ کر نہیں آتا وہ بدترین مخلوق ہوں گے، اس شخص کے لیے خوشخبری ہے جو ان کو قتل کرے گا اور جس کو وہ قتل کریں گے۔ یہ لوگوں کو کتاب اللہ کی دعوت دیں گے لیکن اس کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ جو ان کو قتل کرے گا وہ سب سے زیادہ اللہ کا مقرب ہو گا۔ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے) پوچھا: یا رسول اللہ! ان کی نشانی کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سر منڈانا ۔ ٭٭ قتادہ نے یہ حدیث ابوسعید سے بلاواسطہ نہیں سنی بلکہ ابوالمتوکل کے واسطے سے سنی ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل روایت سے واضح ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2682]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2683
أخبرَنيهِ أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه بالطابَرَان، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي بهَراةَ وعُبيد بن عبد الواحد بن شَريك ببغداد، قالا: حدثنا أبو الجُماهر محمد بن عثمان التَّنُوخي، حدثنا سعيد بن بَشير، عن قَتَادة، عن عليّ الناجِيّ، عن أبي سعيد الخُدْري، عن النبي ﷺ قال:"مَثَلُهم مَثَل رجل يَرمي رَميّةً، فيَتَوخّى السهمَ حيث وقعَ، فأخذه فنَظَر إلى فُوقِه فلم يَرَ به دسَمًا ولا دمًا، ثم نظر إلى رِيشه فلم يَرَ به دسَمًا ولا دمًا، ثم نظر إلى نَصْلِه فلم يَرَ به دسمًا ولا دمًا، كما لم يتعلَّقْ به شيءٌ من الدسَمِ والدمِ، كذلك لم يتعلَّقْ هؤلاء بشيءٍ من الإسلام" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2651 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو تیر پھینکے، جہاں پر تیر گرے، یہ اس کو وہاں سے ڈھونڈ کر اٹھا لے اور اس کے سوفار کی طرف دیکھے لیکن اس پر گوشت، چربی اور خون وغیرہ نہ لگا ہو پھر وہ اس کے پر کی طرف دیکھے لیکن اس پر بھی گوشت، چربی یا خون وغیرہ نہ نظر آئے، پھر اس کے پھل کو دیکھے لیکن اس پر بھی گوشت، چربی یا خون وغیرہ نظر نہ آئے، جیسا کہ اس پر گوشت، چربی یا خون لگا ہی نہ ہو، اسی طرح یہ لوگ بھی اسلام کی کسی چیز کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہیں رکھتے ہوں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2683]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2684
أخبرنا إسحاق بن محمد بن خالد الهاشمي بالكوفة، حدثنا محمد بن علي بن عفّان العامِري، حدثنا مالك بن إسماعيل النَّهْدي، أخبرنا إسرائيل بن يونس، عن مسلم الأَعْور، عن حَبَّة (1) العُرَني، قال: دخلتُ أنا وأبو سعيد الخُدْري على حُذيفة، فقلنا: يا أبا عبد الله، حدِّثنا ما سمعتَ من رسول الله ﷺ في الفتنة، قال حذيفةُ: قال رسول الله ﷺ:"دُورُوا مع كتابِ الله حيثُما دارَ"، فقلنا: فإذا اختلف الناسُ فمع من نكون؟ فقال: انظُروا الفئةَ التي فيها ابنُ سُمَيّة، فالْزَمُوها، فإنه يَدُور مع كتابِ الله، قال: فقلت: ومَن ابنُ سُمَيّة؟ قال: أوَما تعرفُه؟ قلت: بَيِّنه لي، قال: عمّار بن ياسر، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول لعمار:"يا أبا اليَقْظانِ، لن تموتَ حتى تَقتُلَك الفئةُ الباغِيةُ عن الطريق" (2) .
هذا حديث له طرق بأسانيد صحيحة، أخرجا بعضها، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2652 - مسلم بن كيسان تركه أحمد وابن معين
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کتاب اللہ پر مکمل طور پر عمل پیرا رہو۔ ہم نے عرض کی: جب لوگوں میں اختلاف واقع ہو جائے تو ہم کس کا ساتھ دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس جماعت میں ابن سمیہ ہو، تم اس کا ساتھ دینا۔ کیونکہ وہ قرآن کے احکام پر عمل پیرا ہے (حذیفہ) فرماتے ہیں: میں نے پوچھا: ابن سمیہ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کو نہیں پہچانتے ہو؟ میں نے کہا: آپ ارشاد فرما دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمار بن یاسر ۔ میں نے عمار بن یاسر کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا ہوا ہے اے ابوالیقظان! ایک باغی گروہ کے تجھے قتل کرنے سے تیری موت واقع ہو گی۔ ٭٭ اس حدیث کی متعدد صحیح سندیں ہیں جن میں سے بعض کو شیخین نے نقل بھی کیا ہے لیکن اس حدیث کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2684]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2685
حدثنا أبو أحمد الحسين بن علي التميمي، حدثنا أبو القاسم عبد الله بن محمد البَغَوي، حدثنا أبو كامل الجَحْدَري، حدثنا عبد العزيز بن المختار، حدثنا خالد الحَذّاء، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، أنه قال له ولابنِه عليّ: انطلِقا إلى أبي سعيد فاسمَعا منه حديثَه في شأن الخوارج، فانطلقا فإذا هو في حائطٍ له يُصلِح، فلما رآنا أخذ رداءه ثم احتَبَى، ثم أنشأ يحدِّثنا حتى علا ذِكرُه في المسجد (1) ، فقال: كنا نَحمِل لَبِنةً لَبِنةً، وعمارٌ يحمِل لَبِنتَين لَبِنتَين، فرآه النبي ﷺ، فجعل يَنفُضُ الترابَ عن رأسِه ويقول:"يا عمارُ، ألا تحملُ لَبِنةً لَبِنةً كما يحملُ أصحابُك؟" قال: إني أريد الأجرَ عند الله، قال: فجعل يَنفُض عنه الترابَ، ويقول:"وَيْحَ عمارٍ، تقتُلُه الفئةُ الباغِيةُ" قال: ويقولُ عمار: أعوذُ بالله من الفِتَن (2)
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه بهذه السّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2653 - على شرط البخاري
سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے اور اپنے بیٹے علی سے کہا: تم دونوں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس چلے جاؤ اور ان سے خوارج کے متعلق کوئی حدیث سن کر آؤ۔ ہم دونوں چل دیئے، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اپنے باغ میں کام کر رہے تھے۔ جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو اپنی چادر درست کر کے ہم سے باتیں کرنے لگ گئے حتیٰ کہ مسجد کے متعلق بات چل نکلی، وہ کہنے لگے: ہم ایک ایک اینٹ اٹھا رہے تھے جبکہ عمار دو دو اینٹیں اٹھا رہے تھے، جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا تو ان کے سر سے مٹی جھاڑتے ہوئے بولے: اے عمار! اپنے دوسرے ساتھیوں کی طرح تم بھی ایک ایک اینٹ کیوں نہیں اٹھا رہے؟ عمار نے جواباً کہا: میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اجر کا طلبگار ہوں۔ (ابوسعید) فرماتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (پھر ان کے سر سے) مٹی جھاڑنے لگ گئے اور فرمایا: اے عمار! افسوس ہے کہ تجھے ایک باغی گروہ قتل کر دے گا۔ ابوعمار بولے: میں فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2685]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں