المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
8. حُكْمُ الْبُغَاةِ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ .
اس امت کے باغیوں کے احکام
حدیث نمبر: 2696
أخبرنا أبو بكر محمد بن المؤمَّل بن الحسن بن عيسى، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا إسماعيل بن أبي أُويس، حدثنا أبي، عن محمد بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم، عن أبيه، عن عَمْرة بنت عبد الرحمن، عن عائشة، أنها قالت: ما رأيتُ مثلَ ما رَغِبَتْ عنه هذه الأُمة مِن هذه الآية: ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ﴾ [الحجرات: 9] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2664 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2664 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: یہ امت جس قدر اس آیت (پر عمل کرنے) سے اعراض کرتی ہے، میں نے ایسا کبھی نہیں دیکھا (وہ آیت یہ ہے): (وَاِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَھُمَا فَاِنْ م بَغَتْ اِحْدٰھُمَا عَلَی الْاُخْرٰی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰی تَفِیْٓئَ اِلٰٓی اَمْرِ اللّٰہِ) (الحجرات: 9) ” اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان کے میں صلح کراؤ پھر اگر ایک، دوسرے پر زیادتی کرے تو اس زیادتی والے سے لڑو، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے “۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2696]
9. الْأَمْرُ بِقَتْلِ مَنْ يُفَرِّقُ بَيْنَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ .
اس شخص کے قتل کا حکم جو امتِ محمد ﷺ میں تفرقہ ڈالے
حدیث نمبر: 2697
أخبرنا أبو العباس السَّيّاري وأبو محمد الحَليميّ جميعًا بمَرْو، وأبو إسحاق إبراهيم بن أحمد الفقيه البُخاري بنَيسابور، قالوا: حدثنا أبو المُوجِّه محمد بن عمرو الفَزَاري، حدثنا عَبْدان بن عثمان، حدثنا أبو حمزة محمد بن ميمون، عن زياد بن عِلَاقة، عن عَرْفجة بن شُريح الأسلميّ، قال: قال رسول الله ﷺ:"إنها ستكون بعدي هَنَاتٌ وهَنَاتٌ - ورفع يديه - فمن رأيتُموه يريدُ أن يُفرِّقَ أَمرَ أمةِ محمدٍ وهم جَميعٌ، فاقتُلُوه، كائنًا مَن كان من الناس" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! وإنما حكمتُ به على الشيخين، لأنَّ شعبة بن الحجّاج وسفيان بن سعيد وشَيبان بن عبد الرحمن ومَعمَر بن راشد قد رَوَوه عن زياد بن عِلاقة، ثم وجدتُ أبا حازم الأشجعي (2) وعامرًا الشعبي وأبا يَعفُور العَبْدي وغيرَهم تابعوا زياد بن عِلاقة على روايتِه عن عَرْفجة، والباب عندي مجموع في جزء، فأغنى ذلك عن ذكر هذه الروايات. وقد أخرج مسلم حديث أبي نَضْرة، عن أبي سعيد، عن النبي ﷺ قال:"إذا بُويع للخليفتَين، فاقتُلُوا الآخِرَ منهما" (1) . وشرَحَه حديث عبد الرحمن بن عبد ربّ الكعبة عن عبد الله بن عمرو، وقد أخرجه مسلم (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2665 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! وإنما حكمتُ به على الشيخين، لأنَّ شعبة بن الحجّاج وسفيان بن سعيد وشَيبان بن عبد الرحمن ومَعمَر بن راشد قد رَوَوه عن زياد بن عِلاقة، ثم وجدتُ أبا حازم الأشجعي (2) وعامرًا الشعبي وأبا يَعفُور العَبْدي وغيرَهم تابعوا زياد بن عِلاقة على روايتِه عن عَرْفجة، والباب عندي مجموع في جزء، فأغنى ذلك عن ذكر هذه الروايات. وقد أخرج مسلم حديث أبي نَضْرة، عن أبي سعيد، عن النبي ﷺ قال:"إذا بُويع للخليفتَين، فاقتُلُوا الآخِرَ منهما" (1) . وشرَحَه حديث عبد الرحمن بن عبد ربّ الكعبة عن عبد الله بن عمرو، وقد أخرجه مسلم (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2665 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عرفجہ بن شریح اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے بعد عنقریب مصیبتیں ہی مصیبتیں ہوں گی۔ (یہ فرماتے ہوئے آپ نے) اپنے ہاتھ بلند کیے۔ (اور فرمایا) تم جس شخص کو دیکھو کہ وہ امت محمدیہ کا شیرازہ بکھیرنا چاہتا ہے اس کو قتل کر ڈالو، لوگوں میں اس کی کوئی بھی حیثیت ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور میں نے شیخین کے متعلق جو یہ بات کہی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ شعبہ بن حجاج، سفیان بن سعید، شیبان بن عبدالرحمن اور معمر بن ارشد نے اس حدیث کو زیاد بن علاقہ سے روایت کیا ہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ یہ حدیث عرفجہ سے روایت کرنے میں ابوحازم اشجعی، عامر الشعبی اور ابویعفور عبدی اور دیگر محدثین نے زیاد بن علاقہ کی متابعت کی ہے۔ اور میرے نزدیک یہ باب ایک جزء میں جمع ہے۔ جس کی بناء پر ان روایات کو بیان ذکر کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ البتہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ابونضرہ کے واسطے سے ابوسعید کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے:” جب دو خلیفوں کی بیعت کی جائے تو تم ان میں سے دوسرے (یعنی بعد والے) کو قتل کر دو “۔ اور اس حدیث کی شرح وہ حدیث ہے جس کو عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2697]
حدیث نمبر: 2698
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدَّبَري، أخبرنا عبد الرزاق. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن أبي عِمران الجَوْني، عن عبد الله بن الصامِت، عن أبي ذرٍّ، قال: قال رسول الله ﷺ:"يا أبا ذر، كيف أنتَ وموتٌ يصيبُ الناسَ حتَّى يكون البيتُ بالوَكِيف (3) ؟" - يعني: القَبْرَ - قلتُ: ما خارَ اللهُ لي ورسولُه، ثم قال:"كيف أنتَ وجوعٌ يصيبُ الناسَ حتى تأتيَ مسجدَك، فلا تستطيعَ أن ترجعَ إلى فِراشِك، ولا تستطيعَ أن تقومَ من فِراشِك إلى مسجدك؟" قلت: ما خارَ لي اللهُ ورسولُه، قال:"عليك بالعِفّة"، ثم قال:"كيف أنتَ وقتلٌ يصيب الناسَ حتى تَغرقَ حجارةُ الزيتِ بالدم؟" قال: قلت: ما خارَ اللهُ لي ورسولُه - أو الله ورسوله أعلم - قال:"الْزَمْ منزلَك" قال: فقلت: يا رسول الله، أفلا آخُذُ سيفي فأضربَ به مَن فعل ذاك؟ قال:"فقد شاركتَ القومَ إذًا" قلت: يا رسول الله، فإن دُخِل بيتي؟ قال:"إن خشيتَ أَن يَبْهَرَك شُعاعُ السَّيف، فقُلْ هكذا، فألْقِ طَرَفَ ثوبِك على وجهِك، فيَبُوءُ بإثمِه وإثمِك، ويكونُ من أصحاب النار" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، لأنَّ حماد بن زيد رواه عن أبي عمران الجَوْني، عن المُشعَّث بن طَريف، عن عبد الله بن الصامت:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2666 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، لأنَّ حماد بن زيد رواه عن أبي عمران الجَوْني، عن المُشعَّث بن طَريف، عن عبد الله بن الصامت:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2666 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اس وقت تو کیسا ہو گا جب لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتارا جا رہا ہو گا یہاں تک کہ قبر ہی اصل مکان ٹھہرے گی۔ میں نے کہا: جو اللہ اور اس کا رسول میرے لیے منتخب کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس وقت کیا کرے گا؟ جب لوگ شدید بھوک کا شکار ہوں گے (اور کمزوری اس قدر شدید ہو چکی ہو گی کہ) تم میں نماز پڑھ کر بستر تک آنے کی یا بستر سے اُٹھ کر جائے نماز تک آنے کی بھی ہمت نہ ہو گی۔ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جو میرے لیے منتخب کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” عفت “ کو اختیار کر لو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تو کیا کرے گا؟ جب لوگوں میں قتل عام ہو گا یہاں تک کہ (مقام) حجارۃ الزیت خون میں ڈوب جائے گا۔ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول میرے لیے جو منتخب فرما دے۔ (شاید یہ فرمایا) اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھر سے باہر مت نکلنا۔ (ابوذر) فرماتے ہیں: میں نے عرض کی: کیا (ایسے حالات میں) میں، ایسا کرنے والوں کی گردن نہ ماروں؟ آپ نے فرمایا: تب تو تُو بھی انہی کا شریک ہو گا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر وہ میرے گھر میں گھس آئے (تو کیا پھر بھی میں تلوار نہ اٹھاؤں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تجھے اپنے قتل کا خوف ہو تو اپنے چہرے پر یوں کر کے کپڑے کا پلو ڈال لینا تو تیرے اور اس کے گناہ کا ذمہ دار وہی ہو گا۔ اور وہ جہنمی ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ کیونکہ حماد بن زید نے اس حدیث کو ابوعمران جونی سے روایت کیا ہے، وہ فرماتے ہیں: یہ حدیث مجھے منبعث بن طریف نے روایت کی ہے۔ اور وہ ہرات میں قاضی تھے۔ انہوں نے عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ذریعے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی جیسا فرمان نقل کیا ہے۔ (جو کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2698]
حدیث نمبر: 2699
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، أخبرنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حماد بن زيد قال: حدثني المُشعَّث بن طَرِيف، وكان قاضيًا بهَراة، عن عبد الله بن الصامِت، عن أبي ذر، عن النبي ﷺ، نحوه (1) .
حماد بن زید نے ابو عمران الجونی کے واسطے سے روایت کیا ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے منبعث بن طریف نے حدیث بیان کی - جو ہرات میں قاضی تھے - انہوں نے عبداللہ بن صامت سے اور انہوں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح (کی حدیث) روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2699]
10. النَّهْيُ عَنْ قِتَالِ مَنْ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ
لا إله إلا الله کہنے والے سے قتال کی ممانعت
حدیث نمبر: 2700
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفَّار، حدثنا أحمد بن يونس بن المسيَّب الضَّبِّي، حدثنا جعفر بن عَوْن، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم وعامر الشَّعْبي، قالا: قال مروان بن الحكم لأيمن بن خُريم: ألا تخرجُ فتُقاتلَ معنا، فقال: إِنَّ أبي وعمِّي شهدا بدرًا، وإنهما عَهِدا إليّ أن لا أُقاتل أحدًا يقول: لا إله إلّا الله، فإن أنت جئتني ببراءةٍ من النار قاتلتُ معك، قال: فاخرُجْ عنا، قال: فخرج وهو يقول: ولست بقاتلٍ رجلًا يصلّي … على سلطانِ آخرَ من قريشِ له سُلْطانُه وعليَّ إثمي … معاذَ اللهِ مِن جَهلٍ وطَيشِ أأقتُلُ مسلمًا في غير جُرْمٍ … فليسَ بنافعي ما عشتُ عَيشي (2)
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. والصحابيان اللذان ذُكِرا وشَهِدا بدرًا يصير الحديثُ به في حدود المسانيد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2667 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. والصحابيان اللذان ذُكِرا وشَهِدا بدرًا يصير الحديثُ به في حدود المسانيد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2667 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا قیس بن ابوحازم رضی اللہ عنہ اور عامر شعبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مروان بن حکم نے ایمن بن خریم سے کہا: تم ہمارے ہمراہ جنگ میں شریک کیوں نہیں ہوتے؟ انہوں نے کہا: میرے والد اور میرے چچا بدر میں شریک ہوئے ہیں، انہوں نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا کہ میں کسی کلمہ گو کے خلاف نہیں لڑوں گا۔ اگر دوزخ سے براءت کا یقین دلاتے ہو تو میں آپ کے ہمراہ جنگ میں شریک ہوتا ہوں۔ (مروان نے) کہا: یہاں سے نکل جاؤ۔ تو وہ یہ کہتے ہوئے وہاں سے نکل آئے ” میں ایسے کسی شخص سے نہیں لڑوں گا جو قریش کے کسی دوسرے سلطان کی تعریف کرتا ہے۔ اس کے لیے اس کی سلطنت ہے اور میرے اوپر گناہ۔ میں ایسے جہل اور زوالِ عقل سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ کیا میں ایک مسلمان کو بلاوجہ قتل کروں گا۔ تو پھر میں جتنی بھی زندگی جی لوں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور وہ دو صحابی جن کا ذکر ہوا ہے جو بدر میں شہید ہوئے ہیں ان کے متعلق حدیث مسانید کی حدود میں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2700]
حدیث نمبر: 2701
أخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مُرّة، عن أبي البَخْتَري، عن أبي ثَوْر الحُدّاني، قال: بعث عثمانُ بن عفان يومَ الجَرَعة سعيدَ بن العاص إلى الكوفة، قال: فخرجوا إليه فردُّوه، قال: وكنت قاعدًا مع أبي مسعود (1) وحذيفة، فقال أبو مسعود: ما كنتُ أرى أن يرجعَ هؤلاء ولم يُهرَقْ فيها مِحجَمةٌ من دمٍ، وما علمتُ من ذلك شيئًا إلّا شيئًا علمتُه ومحمدٌ ﷺ حيٌّ: أنَّ الرجل يُصبح مؤمنًا ويُمسي وما معه شيءٌ، ويُمسي مؤمنًا ويصبحُ وما معه شيءٌ، يُقاتِل في الفتنة اليومَ ويقتلُه اللهُ غدًا، يُنكِّسُ (2) قلبَه وتَعلُوه اسْتُه، قلت: أسفلُه؟ قال: بلِ استُه (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2668 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2668 - صحيح
سیدنا ابوثور حدانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جرعہ کے دن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کو جرعہ کے دن (جس دن اہل کوفہ نے سیدنا سعید بن العاص کے خلاف بغاوت کی تھی) کوفہ بھیجا (ابوثور) فرماتے ہیں: لیکن اہل کوفہ نے ان کے خلاف بغاوت کر دی اور ان کو واپس بھیج دیا۔ میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ بولے: میں نہیں سمجھتا کہ یہ لوگ واپس آ جائیں گے اور تھوڑا سا بھی خون نہ بہے۔ اور میں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں جان لی تھی کہ ایک شخص حالت ایمان میں صبح کرتا ہے لیکن شام کے وقت اس کے پاس (ایمان نام کی) کوئی چیز نہیں ہو گی۔ اور ایک شخص شام کے وقت صاحبِ ایمان ہو گا لیکن صبح کے وقت اس کے پاس (ایمان نام کی) کوئی شئے نہیں ہو گی۔ آج وہ فتنوں میں جنگ کرتا ہے اور کل اس کو اللہ تعالیٰ اس حالت میں مارے گا کہ اس کا دل اوندھا کر دے گا اور اس کی سرین اونچی کر دے گا۔ میں نے کہا: اس کا نچلا حصہ؟ اس نے کہا: (نہیں بلکہ) سرین۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2701]
حدیث نمبر: 2702
أخبرنا بكر بن محمد الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا أبو الأحوص محمد بن الهيثم القاضي، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا سليمان بن بلال، عن علقمة بن أبي علقمة، عن أمّه: أنَّ غلامًا كان لبابَى (1) ، وكان بابَى يضربه في أشياء ويُعاقِبه، وكان الغلامُ يُعادي سيِّدَه فباعه (2) ، فلقيه الغلامُ يومًا ومع الغلام سيفٌ، وذلك في إمْرة سعيد بن العاص، فشَهَرَ العبدُ على بابَى السيفَ وتَفلَّت به عليه، فأمسكَه الناسُ عنه، فدخل بابَى على عائشة، فأخبرها بما فعل العبدُ، فقالت عائشة: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"مَن أشار بحديدةٍ إلى أحدٍ من المسلمين يريد قتلَه، فقد وَجَبَ دمُه". قالت: فخرج بابَى من عندها، فذهب إلى سيد العبدِ الذي ابتاعه منه فاستقالَه فأقالَه، وردَّ إليه، فأخذَه بابَى فقتلَه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2669 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2669 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا علقمہ بن ابوعلقمہ رضی اللہ عنہ اپنی والدہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں بابی کا ایک غلام تھا جس کو ” بابی “ اکثر طور پر مارا کرتا تھا اور سزائیں دیا کرتا تھا اور وہ غلام اپنے آقا کے متعلق شدید غصہ رکھتا تھا۔ آقا نے اس کو بیچ دیا۔ ایک دن اس کی اسی غلام سے ملاقات ہو گئی اور غلام کے پاس اس وقت تلوار تھی۔ یہ واقعہ سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کی ولایت میں پیش آیا۔ اس غلام نے ” بابی “ پر تلوار سونت لی اور اس پر حملہ کر دیا۔ لوگوں نے بچ بچاؤ کرا دیا۔ پھر ” بابی “ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان کو غلام کا واقعہ بتایا۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو قتل کرنے کے لیے ہتھیار اٹھائے وہ ” مباح الدم “ ہو جاتا ہے۔ (علقمہ کی والدہ) کہتی ہیں:” بابی “ ام المومنین رضی اللہ عنہا کے ہاں سے نکلا اور اس شخص کے پاس گیا جس نے اس سے یہ غلام خریدا تھا۔ اور اس سے کہا: اپنے دام واپس لے لو یہ غلام مجھے واپس کر دو۔ وہ مان گیا۔ اور غلام بابی کے حوالے کر دیا۔ بابی اس کو لے آیا اور لا کر اسے مار ڈالا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2702]
11. مَنْ شَهَرَ سَيْفَهُ ثُمَّ وَضَعَهُ فَدَمُهُ هَدَرٌ .
جو تلوار کھینچ لے پھر واپس رکھ دے اس کا خون رائیگاں ہے
حدیث نمبر: 2703
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّريّ بن خُزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا وُهَيب، عن معمر بن راشد، عن عبد الله بن طاووس، عن أبيه، عن ابن الزُّبَير، قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن شَهَرَ سيفَه ثم وَضَعَه، فدَمُه هَدْرٌ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2670 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2670 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابن الزبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو تلوار سونت لے پھر (چاہے) اس کو نیچے (ہی) کر لے (بہرحال) اس کا خون رائیگاں ہو گیا۔ (یعنی وہ مباح الدم ہو گیا)۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2703]
حدیث نمبر: 2704
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر بن سابق الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثني يعقوب بن عبد الرحمن، عن عُمارة بن حَزْم، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"كيف بكم وبزمانٍ - أو (1) يُوشِك أن يأتيَ زمانٌ - يُغربَلُ الناسُ غَربلةً، ويَبقى حُثالةٌ من الناس قد مَرِجَتْ عهودُهم وأماناتُهم، واختَلَفوا فكانوا هكذا" وشَبَّك بين أصابعه، قالوا: فكيف بنا يا رسول الله؟ قال:"تأخذون ما تَعرِفون، وتَدَعُون ما تُنكِرون، وتُقبِلون على أمر خاصّتِكم، وتَدَعُون أمرَ عامّتِكم" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة. هذا آخر كتاب الجهاد [كتاب النكاح]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2671 - على شرط البخاري ومسلم_x000D_ كِتَابُ النِّكَاحِ
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة. هذا آخر كتاب الجهاد [كتاب النكاح]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2671 - على شرط البخاري ومسلم_x000D_ كِتَابُ النِّكَاحِ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (قابل) لوگ قتل کر دیئے جائیں گے اور فالتو قسم کے لوگ رہ جائیں گے، جو امانت اور عہد کے کچے ہوں گے، آپس میں اختلافات کریں گے۔ اور یوں ہو جائیں گے (یہ کہتے ہوئے) انہوں نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ میں ڈالیں، لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارا کیا بنے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم صرف اسی چیز کو اختیار کرو گے جس کو تم خود پہچانتے ہو گے اور اپنی ناپسندیدہ کو چھوڑ دو گے اپنے خاص امر کو قبول کرو گے اور عام امر کو چھوڑ دو گے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2704]