المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي اخْتِلَافٌ وَفُرْقَةٌ .
میری امت میں اختلاف اور تفرقہ پیدا ہو گا
حدیث نمبر: 2686
أخبرنا أبو الحسين أحمد بن عثمان بن يحيى المقرئ ببغداد، حدثنا أبو جعفر محمد بن الحسين بن موسى الحُنيني، حدثنا أبو حذيفة النَّهْدي، حدثنا عِكْرمة بن عمار، عن شدّاد بن عبد الله أبي عمار، قال: شهدتُ أبا أمامة الباهِلي وهو واقف على رأس الحَرُورية عند باب دمشق، وهو يقول:"كلابُ أهل النار - قالها ثلاثًا - خيرُ قَتْلى من قَتَلوا" قال: ودَمَعَت عيناه، فقال له رجل: يا أبا أُمامة، أرأيت قولَك: هؤلاء كلابُ النار، أشيء سمعتَه من رسول الله ﷺ، أو رأي رأيتَه في نفسك؟ قال: إني إذًا لجريءٌ، لو لم أسمعْه من رسول الله ﷺ إلّا مرّة أو مرّتين أو ثلاثًا - وعدّ سبع مرات - ما حدّثْتُكموه، قال له رجل: إني رأيتك قد دَمَعت عيناك، قال: إنهم لما كانوا مؤمنين وكفروا بعد إيمانهم، ثم قرأ: ﴿وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ﴾ الآية [آل عمران: 105] ، فهي لهم مرتين (1) .
سیدنا شداد بن عبداللہ ابی عمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ابوامامہ کو باب دمشق کے قریب خوارج کے سروں پر کھڑے دیکھا۔ وہ کہہ رہے تھے یہ جہنم کے کتے ہیں، یہ بات تین مرتبہ کہی۔ سب سے اچھا مقتول وہ ہے جس کو انہوں نے مار ڈالا یہ بات کرتے ہوئے وہ آبدیدہ ہو گئے، ایک شخص نے ان سے کہا: تم اپنی رائے سے ان کو دوزخ کے کتے کہہ رہے ہو یا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے متعلق کوئی ارشاد سن رکھا ہے؟ (ابوامامہ) بولے: اگر میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بار، دو بار، تین بار یا سات بار (سے کم مرتبہ) سنا ہوتا تو میں بہت بڑی جسارت کرتا اور میں تمہیں یہ حدیث نہ سناتا۔ ایک شخص نے ان سے کہا میں آپ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: یہ لوگ پہلے مسلمان تھے۔ لیکن ایمان قبول کرنے کے بعد یہ لوگ دوبارہ کافر ہو گئے ہیں، پھر یہ آیت تلاوت کی: (وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْ بَعْدِ مَا جَآئَھُمُ الْبَیِّنٰتُ) (آل عمران: 105) ” اور ان جیسے نہ ہونا جو آپس میں پھٹ گئے اور ان میں پھوٹ پڑ گئی بعد اس کے کہ روشن نشانیاں انہیں آ چکی تھیں “۔۔ پس یہ (آیت) انہی کے لیے ہے (یہ بات انہوں نے) دو مرتبہ (کہی)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2686]
حدیث نمبر: 2687
أخبرنا أبو محمد بن زياد، حدثنا محمد بن إسحاق بن خُزيمة، حدثنا أحمد بن يوسف السُّلمي، حدثنا النضر بن محمد، حدثنا عِكْرمة بن عمار، حدثنا شدّاد بن عبد الله أبو عمّار، قال: سمعت أبا أمامة، وهو واقف على رؤوس الحَرُورية على باب حمص أو باب دمشق، وهو يقول: كلابُ النار، كلابُ النار، شرُّ قَتلى تحت ظِلّ السماء، خيرُ قتلى مَن قتلوهُم؛ ثم ساق الحديث نحو حديث أبي حذيفة (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وحدَّثَ مسلم في"المسند الصحيح" عن نصر بن علي، بن عمر بن يونس بن القاسم، عن عِكْرمة بن عمار، عن شدّاد أبي عمار، عن أبي أمامة، عن النبي ﷺ قال:"يقول الله: يا ابنَ آدم، إنك إن تَبذُلِ الفضلَ" الحديث (2) . وإنما شرحنا القولَ فيه، لأنَّ الغالب على هذا المتن طرق حديث أبي غالب عن أبي أمامة، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2654 - صحيح على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وحدَّثَ مسلم في"المسند الصحيح" عن نصر بن علي، بن عمر بن يونس بن القاسم، عن عِكْرمة بن عمار، عن شدّاد أبي عمار، عن أبي أمامة، عن النبي ﷺ قال:"يقول الله: يا ابنَ آدم، إنك إن تَبذُلِ الفضلَ" الحديث (2) . وإنما شرحنا القولَ فيه، لأنَّ الغالب على هذا المتن طرق حديث أبي غالب عن أبي أمامة، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2654 - صحيح على شرط مسلم
سیدنا شداد بن عبداللہ ابوعمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے ابوامامہ کو باب حمص یا باب دمشق کے پاس خوارج کے سروں پر کھڑے یہ کہتے سنا ہے: یہ دوزخ کے کتے ہیں، یہ دوزخ کے کتے ہیں، یہ آسمان کے نیچے سب سے بُرے مقتول ہیں اور سب سے اچھا مقتول وہ ہے جس کو انہوں نے قتل کیا۔ پھر ابوحذیفہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ” اَلْمُسْنَدُ الصَّحِیْحُ، میں نَصْرُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عُمَرُ بْنُ یُوْنُسَ بْنِ الْقَاسِمِ کے ذریعے عکرمہ بن عمار سے روایت کی ہے کہ شداد ابوعمار نے ابوامامہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! تو اضافی چیزیں خرچ کرتا ہے۔ اس کے بعد پوری حدیث بیان کی۔ اور ہم نے اس سلسلے میں تفصیلی کلام اس لیے کیا ہے کہ اس متن پر ابوغالب کی ابوامامہ سے روایت کردہ سند غالب ہے۔ لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2687]
6. مُنَاظَرَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ مَعَ الْحَرُورِيَّةَ .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا حروریوں سے مناظرہ
حدیث نمبر: 2688
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب من أصل كتابه، حدثنا أبو أُميّة محمد بن إبراهيم الطَّرَسُوسي، حدثنا عمر بن يونس بن القاسم بن معاوية اليَمامي، حدثنا عِكرمة بن عمار العِجْلي، حدثنا أبو زُمَيل سِماك الحَنَفي، حدثنا عبد الله بن عباس، قال: لما خرجتِ الحَرُورية اجتمعوا في دارٍ وهم ستة آلاف، أتيتُ عليًّا، فقلت: يا أمير المؤمنين، أبرِدْ بالظُّهر لَعلِّي آتي هؤلاء القوم فَأُكلّمَهم، قال: إني أخافُ عليك، قلت: كلا. قال: فخرجتُ إليهم، ولبستُ أحسنَ ما يكون من حُلل اليمن، قال أبو زُميل: كان ابن عباس جميلًا جَهِيرًا، قال ابن عباس: فأتيتُهم وهم مجتمِعُون في دارهم قائلون، فسلَّمتُ عليهم، فقالوا: مرحبًا بك يا ابن عباس، فما هذه الحُلّة؟ قال: قلت: ما تَعيبون عليَّ، لقد رأيتُ على رسول الله ﷺ أحسنَ ما يكون من الحُلَل، ونَزَلَ: ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ﴾ [الأعراف: 32] ، قالوا: فما جاء بك؟ قلت: أتيتُكم مِن عند صحابة النبي ﷺ من المهاجرين والأنصار، لأُبلِّغكم ما يقولون، وتُخبروني (1) بما تقولون، فعليهم نزل القرآن، وهم أعلمُ بالوحي منكم وفيهم أُنزل، وليس فيكم منهم أحدٌ. فقال بعضهم: لا تُخاصِموا قريشًا، فإنَّ الله يقول: ﴿بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴾ [الزخرف: 58] . قال ابن عباس: وأتيتُ قومًا لم أرَ قومًا قطُّ أشدَّ اجتهادًا منهم، مُسهَمَةً وجوهُهم من السَّهر، كأنَّ أيديهم ورُكبَهم ثَفِنٌ (2) ، عليهم قُمُصٌ مُرَحَّضة (3) ، فقال بعضُهم: لنُكلِّمنَّه ولنَنظُرنَّ ما يقول، قلت: أخبِروني ماذا نَقَمتُم على ابن عمِّ رسول الله ﷺ وصهرِه والمهاجرين والأنصار؟ قالوا: ثلاثًا، قلت: ما هنّ؟ قالوا: أما إحداهنّ: فإنه حَكَّم الرجالَ في أمر الله، وقال الله: ﴿إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ﴾ [يوسف: 40] ، وما للرِّجال وما للحكم؟ فقلت: هذه واحدة، قالوا: وأما الأُخرى: فإنه قاتَلَ ولم يَسْبِ ولم يَغْنَم، فلئن كان الذي قاتَلَ كفارًا، لقد حَلَّ سَبْيُهم (1) وغنيمتُهم، ولئن كانوا مؤمنين ما حَلّ قتالُهم. قلت: هذه ثِنتان، فما الثالثة؟ قالوا: إنه مَحَا نفسَه مِن أمير المؤمنين، فهو أمير الكافرين، قلت: أعندكم سوى هذا؟ قالوا: حسبُنا هذا. فقلت لهم: أرأيتُم إن قرأتُ عليكم من كتاب الله ومن سنة نبيه ﷺ ما يردُّ به قولَكم، أتَرْضَون؟ قالوا: نعم، فقلت لهم: أمّا قولكم: حَكَّم الرجالَ في أمر الله، فأنا أقرأ عليكم ما قد رُدَّ حكمُه إلى الرجال في ثمن رُبع درهم في أرنبٍ ونحوِها من الصيد، فقال: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ﴾ إلى قوله: ﴿يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ﴾ [المائدة: 95] ، فنشَدتُكم بالله، أحُكمُ الرجالِ في أرنبٍ ونحوها من الصيد أفضلُ، أم حُكمُهم في دمائهم وصلاحِ ذاتِ بينِهم، وأن تَعلَمُوا أنَّ الله لو شاء لحكَم ولم يُصيِّر ذلك إلى الرجال؟ وفي المرأة وزوجها قال الله ﷿: ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا﴾ [النساء: 35] ، فجعل الله حُكمَ الرجالِ سنةً ماضية. أخَرَجتُ عن هذه؟ قالوا: نعم. قال: وأما قولكم: قاتَلَ ولم يَسْبِ، ولم يَغْنَم، أتسْبُون أمَّكم عائشة، ثم تَستحلُّون منها ما يُستحلُّ من غيرها؟ فلئن فعلتُم لقد كفرتُم وهي أمُّكم، ولئن قلتم: ليست بأمِّنَا، لقد كفرتم، فإنَّ الله يقول: ﴿النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ﴾ [الأحزاب: 6] ، فأنتم تدُورون بين ضلالَتَين، أيُّهما صِرتُم إليها صِرتُم إلى ضلالةٍ، فنظر بعضُهم إلى بعض. قلت: أخَرَجتُ من هذه؟ قالوا: نعم. قال: وأما قولكم: مَحَا اسمَه من أمير المؤمنين، فأنا آتيكُم بمن تَرضَون، وأُراكم قد سمعتُم: أنَّ النبي ﷺ يومَ الحُدَيبيَة كاتَبَ سُهيلَ بن عمرو وأبا سفيان بن حَرْب، فقال رسول الله ﷺ لأمير المؤمنين:"اكتُبْ يا عليُّ: هذا ما اصطَلَح عليه محمدٌ رسول الله" فقال المشركون: لا والله ما نعلم أنك رسولُ الله، لو نعلم أنك رسولُ الله ما قاتَلْناك، فقال رسول الله ﷺ:"اللهم إنك تَعلمُ أني رسولُ الله، اكتُبْ يا عليُّ: هذا ما اصطَلَح عليه محمدُ بنُ عبد الله"، فوالله لَرسولُ الله خيرٌ من عليٍّ، وما أخرَجَه من النبوّة حين مَحَا نفسه. قال عبد الله بن عباس: فرجع من القوم أَلفان، وقُتل سائرُهم على ضلالةٍ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2656 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2656 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب خوارج نے بغاوت کی تو وہ ایک حویلی میں جمع ہوئے، اس وقت ان کی تعداد 6 ہزار تھی۔ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: اے امیرالمومنین رضی اللہ عنہما آج ظہر کی نماز ذرا تاخیر سے پڑھیے گا۔ میں ارادہ رکھتا ہوں کہ ان لوگوں کے پاس آ کر ان سے مذاکرات کروں۔ آپ نے فرمایا: مجھے تیرے بارے میں خدشہ ہے (کہ یہ لوگ تجھے کوئی نقصان نہ پہنچا دیں) میں نے کہا: ایسا نہیں ہو گا (ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں) میں بہت ہی قیمتی یمنی جبہ زیب تن کر کے ان کی طرف روانہ ہوا۔ ابوزمیل فرماتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما بہت خوبصورت نوجوان تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں ان کے پاس آیا، اس وقت وہ اس حویلی میں موجود باتیں کر رہے تھے۔ میں نے ان کو سلام کیا، انہوں نے جواباً مجھے خوش آمدید کہتے ہوئے کہا: یہ کیسا جبہ ہے؟ میں نے کہا: تم اس کی وجہ سے مجھ پر کیوں عیب لگا رہے ہو؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بھی زیادہ قیمتی جبہ پہنے دیکھا ہے اور قرآن کریم کی اس آیت میں اس کی اجازت بھی موجود ہے: (قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ) (الاعراف: 32) ” تم فرماؤ کس نے حرام کی اللہ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لیے نکالی اور پاک رزق “ وہ کہنے لگے: تم کہنے کیا آئے ہو؟ میں نے کہا: میں تمہارے پاس مہاجرین اور انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس سے آیا ہوں تاکہ تمہارے پاس ان کی جانب سے جو خبریں پہنچ رہی ہیں، ان کی حقیقت حال تم تک پہنچاؤں۔ ان لوگوں کی موجودگی میں قرآن نازل ہوا ہے اور وہ لوگ وحی کو تم سے بہتر طریقے سے جانتے ہیں اور ان کے متعلق ہی یہ حکم نازل ہوا ہے اور تم میں ان میں سے کوئی نہیں ہے۔ تو ایک شخص بولا: تم قریش سے بلاوجہ مت جھگڑو۔ کیونکہ قرآن کہتا ہے: (بَلْ ھُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ) (الزخرف: 58) ” بلکہ وہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ “ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں ایسی قوم کے پاس سے آیا ہوں کہ ان سے بڑھ کر اجتہاد کی صلاحیت رکھنے والا میں نے کسی قوم کو نہیں پایا۔ شب بیداریوں کی وجہ سے ان کے چہروں کی رنگت بدلی ہوئی تھی۔ یوں لگتا تھا کہ ان کے ہاتھ اور پاؤں ان کی تعریف کر رہے ہیں، ان میں سے بعض نے کہا: ہمیں اس کے ساتھ گفت و شنید ضرور کرنی چاہیے تاکہ اس کے نظریات ہم پر آشکار ہوں لیکن میں نے کہا: تم مجھے یہ بات بتاؤ کہ تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی، ان کے داماد اور مہاجرین و انصار پر کیا اعتراض ہے؟ انہوں نے کہا: (ہمیں ان پر) تین اعتراض ہیں۔ میں نے پوچھا: وہ کیا؟ انہوں نے کہا: پہلا تو یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بادشاہی میں بندوں کو حاکم بنا دیا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ) (یوسف: 40) ” حکم نہیں مگر اللہ کا “ بندوں کا امر سے کیا تعلق؟ میں نے کہا: یہ تو ایک ہوا۔ انہوں نے کہا: دوسرا یہ ہے کہ انہوں نے جنگ کی ہے لیکن نہ تو کسی کو قیدی بنایا اور نہ مالِ غنیمت حاصل کیا۔ اب یہ جن سے لڑ رہے ہیں اگر وہ کافر ہیں تو ان کو قیدی بنانا اور ان کا مالِ غنیمت میں لینا جائز ہوتا اور اگر وہ مومن ہیں تو ان سے جہاد جائز نہیں۔ میں نے کہا: دو ہو گئے۔ تیسرا اعتراض کیا ہے؟ انہوں نے کہا: (تیسری بات یہ ہے کہ) انہوں نے اپنے نام سے لفظ ” امیرالمومنین “ ہٹا دیا ہے، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہ ” امیرالکافرین “ ہوئے۔ میں نے کہا: اس کے علاوہ آپ لوگوں کے کوئی تحفظات ہوں تو وہ بھی بتا دو۔ انہوں نے کہا: ہمارے اعتراضات یہی تھے۔ میں نے ان سے کہا: اگر میں تمہیں قرآن پاک کی وہ آیات اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ احادیث سنا دوں جس سے تمہارے موقف کی تردید ہوتی ہو تو کیا مان لو گے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ میں نے کہا: تم نے جو یہ اعتراض کیا ہے کہ بندوں کو حاکم بنا دیا گیا ہے، اس سلسلے میں، میں تمہیں ایک آیت سناتا ہوں جس میں خرگوش وغیرہ کے شکار کے متعلق ربع درہم کے آٹھویں حصے میں بندوں کو حاکم بنایا گیا ہے۔ وہ آیت یہ ہے: (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوْا الصَّیْدَ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ اِلٰی قَوْلِہِ یَحْکُمُ بِہٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ) ” اے ایمان والو! شکار نہ مارو جب تم احرام میں ہو اور تم میں جو اسے قصداً قتل کرے تو اس کا بدلہ یہ ہے کہ ویسا ہی جانور مویشی سے دے تم میں کے دو ثقہ آدمی اس کا حکم کریں “ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ بندوں کا خرگوش وغیرہ شکار کے متعلق حاکم بننا افضل ہے یا ان کے خونوں اور ان کے درمیان اصلاح کا حاکم بننا زیادہ افضل ہے؟ اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان میں خود ہی فیصلہ کر دیتا اور ان کو دوسروں کے سپرد نہ کرتا۔ نیز اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کے متعلق فرمایا: (وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِھِمَا فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَھْلِہٖ وَحَکَمًا مِّنْ اَھْلِھَاج اِنْ یُّرِیْدَآ اِصْلَاحًا یُوَفِّقِ اللّٰہُ بَیْنَھُمَا) (النساء: 35) ” اور اگر تم کو میاں بی بی کے جھگڑے کا خوف ہو تو ایک پنچ مرد والوں کی طرف سے بھیجو اور ایک پنچ عورت والوں کی طرف سے، یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ ان میں رجحان پیدا کر دے گا “ تو اللہ تعالیٰ نے بندوں کو حکم بنانا سنتِ مامونہ قرار دیا ہے (جو ان کو اس مشکل سے نکال سکتا ہے) انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اور تم نے یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ جنگ کر رہے ہیں لیکن نہ قیدی بنا رہے ہیں نہ مالِ غنیمت، کیا تم اپنی اماں عائشہ رضی اللہ عنہما کو قیدی بناؤ گے اور پھر ان کے ساتھ وہ سب کچھ کر سکو گے جو ایک قیدی خاتون کے ساتھ کرنا جائز ہے؟ اگر تم ایسا کرو گے تو تم کافر ہو جاؤ گے کیونکہ وہ تمہاری ماں ہیں۔ اور اگر تم ان کے ایمان کا انکار کرو تو بھی تم ہی کافر ہو گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: (اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ وَ اَزْوَاجُہٗٓ اُمَّھٰتُھُمْ) (الاحزاب: 6) ” یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے اور اس کی بیبیاں ان کی مائیں ہیں “ تو تم لوگ دو گمراہیوں کے درمیان گھوم رہے ہو۔ ان میں سے کسی کی طرف بھی جاؤ بہرحال گمراہی ہی تمہارا مقدر ہے۔ (میری یہ دلیل سن کر) انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ میں نے کہا: میں نے تمہارے دوسرے اعتراض کا بھی جواب دے دیا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں (میں نے کہا) اور تمہارا یہ اعتراض تھا کہ انہوں نے اپنے نام سے ” امیرالمومنین “ کا نام ہٹا دیا ہے۔ تو میں تمہیں ایسی شخصیت کی بات بتاتا ہوں جس پر تم سب لوگ راضی ہو اور میرا خیال ہے کہ تم لوگوں نے سن رکھا ہو گا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ اور ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کی طرف (جو مکتوب) لکھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیرالمومنین سے فرمایا تھا۔ اے علی! لکھو یہ وہ معاہدہ ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کی ہے۔ اس پر مشرکین نے اعتراض کیا کہ نہیں، خدا کی قسم ہم آپ کو ” رسول اللہ “ نہیں مانتے، اگر ہم آپ کو رسول اللہ مانتے ہوتے تو تمہارے ساتھ جنگ کیوں کرتے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بولے: اے اللہ! تُو تو جانتا ہے کہ میں ” رسول اللہ “ ہوں۔ اے علی! اس کی عبارت یوں کر دو۔ یہ وہ معاہدہ ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے صلح کی ہے۔ تو خدا کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ” علی “ سے کہیں افضل ہیں۔ لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نام سے ” رسول اللہ “ مٹوا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت ختم نہیں ہوئی۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں (میری یہ گفتگو سن کر) دو ہزار آدمیوں نے ان کی جماعت سے رجوع کر لیا۔ اور باقی سب گمراہی پر قتل ہوئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2688]
7. ذِكْرُ مُكَاتَبَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَالَحَ قَوْمَهُ قُرَيْشًا .
صلحِ قریش کے وقت سیدنا رسول اللہ ﷺ کی تحریر کا بیان
حدیث نمبر: 2689
حدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا هشام بن علي السَّدُوسي، حدثنا محمد بن كَثير العَبْدي، حدثنا يحيى بن سُليم وعبد الله (2) بن واقِد، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن عبد الله بن شَدّاد بن الهادِ، قال: قَدِمتُ على عائشة، فبينما نحنُ عندها جلوسٌ مَرجِعَها من العراق لياليَ قُوتل عليٌّ، إذ قالت: يا عبدَ الله بن شدّاد، هل أنت صادقِي عمَّا أسألك عنه؟ حَدِّثني عن هؤلاء القومِ الذين قتَلَهم عليٌّ، قلت: وما لي لا أَصدُقُكِ؟ قالت: فحدِّثني عن قصتهم، قلت: إنَّ عليًّا لما كاتَبَ معاويةَ وحَكَّم الحكَمَين، خرج عليه ثمانية آلاف من قُرّاء الناس، فنزلوا أرضًا من جانب الكوفة يقال لها: حَرُوراء، وإنهم أنكَروا عليه، فقالوا: انسلخْتَ من قميصٍ ألبَسَكَهُ اللهُ وأسماكَ به، ثم انطلقتَ فحكَّمْتَ في دِين الله، ولا حُكمَ إِلَّا لله، فلما بلغ عليًّا ما عَتَبوا عليه وفارَقُوه، أمَرَ فأذَّن مُؤذِّن: لا يَدخُلَنَّ على أمير المؤمنين إلّا رجلٌ قد حَمَلَ القرآن، فلما أن امتلأ من قرّاء الناس الدارُ، دعا بمصحف عظيم، فوضعَه عليٌّ بين يديه، فطَفِقَ يَصُكُّه بيده، ويقول: أيها المصحفُ حَدَّثَ الناسَ، فناداه الناسُ، فقالوا: يا أمير المؤمنين، ما تسألُه عنه؟ إنما هو وَرَقٌ ومِدادٌ، ونحن نتكلّم بما رأينا منه، فماذا تريد؟ قال: أصحابكم الذين خرجوا بيني وبينهم كتابَ الله، يقول اللهُ ﷿ في امرأة ورجل: ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا﴾ [النساء: 35] ، فأُمَّةُ محمد ﷺ أعظمُ حُرمةً من امرأة ورجل. ونَقَمُوا عليَّ أني كاتبتُ معاويةَ وكتبتُ (1) عليَّ بن أبي طالب، وقد جاء سُهيل بن عمرو ونحن مع رسول الله ﷺ بالحُدَيبيَة حين صالَحَ قومَه قريشًا، فكتب رسول الله ﷺ: بسم الله الرحمن الرحيم، فقال سُهيلٌ: لا تَكتُبْ: بسم الله الرحمن الرحيم، قال:"فكيف أكتُبُ؟" قال: اكتُبْ: باسمِك اللهمَّ، فقال رسول الله ﷺ:"اكتُبْ" ثم قال:"اكتُبْ: من محمدٍ رسول الله" قال: لو نعلمُ أنك رسولُ الله لم نُخالِفْك، فكتب: هذا ما صالَحَ عليه محمدُ بن عبد الله قريشًا. يقول الله في كتابه: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ﴾ [الأحزاب: 21] . فبعثَ (1) إليهم عليُّ بن أبي طالب [عبدَ الله بنَ عباس] (2) ، فخرجتُ معهم، حتى إذا تَوسَّطْنا عسكَرَهم قام ابن الكَوّاء فخطب الناسَ، فقال: يا حَمَلةَ القرآن، هذا عبد الله بن عباس، فمن لم يكن يَعرِفُه فأنا أَعرِفُه مِن كتاب الله، هذا مَن نزل في قومه: ﴿بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴾ [الزخرف: 58] ، فرُدُّوه إلى صاحبِه، ولا تُواضِعُوه كتابَ الله، قال: فقام خطباؤهم، فقالوا: لا والله، لنُواضِعنَّه كتابَ الله، فإذا جاء بالحقّ نَعرفُه استطَعْناه، ولئن جاء بالباطل لنُبَكِّتَنَّه بباطِلِه، ولنَرُدَّنّه إلى صاحبِه، فواضَعُوه على كتابِ الله ثلاثةَ أيامٍ، فرجع منهم أربعةُ آلافٍ كلُّهم تائبٌ، منهم ابن الكوّاء، حتى أدخلَهم على عليٍّ، فبعث عليٌّ إلى بقيّتهم فقال: قد كان مِن أمرنا وأمر الناس ما قد رأيتُم، فقِفُوا حيثُ شئتم، حتى تجتمعَ أمّةُ محمد ﷺ، وتنزلوا فيها حيث شئتم، بيننا وبينكم أن نَقِيَكم رماحَنا ما لم تقطعُوا سبيلًا أو تطلبوا دمًا، فإنكم إن فعلتُم ذلك فقد نَبَذْنا إليكم الحربَ على سَواءٍ، إن الله لا يحبُّ الخائنين. فقالت له عائشة: يا ابنَ شدّاد، فقد قتلهم، فقال: واللهِ ما بعثَ إليهم حتى قَطَعوا السبيلَ، وسَفَكوا الدماءَ بغير حقِّ الله، وقتلوا ابنَ خَبّاب، واستَحَلُّوا أهلَ الذِّمّة، فقالت: آللهِ؟ فقلت: آللهِ الذي لا إله إلّا هو. قالت: فما شيءٌ بلغني عن أهل العراق يتحدّثون به يقولون: ذو الثُّدَيّ، ذو الثُّدَيّ، قلتُ: قد رأيتُه ووقفتُ عليه مع عليٍّ في القَتْلى، فدعا الناسَ، فقال: هل تعرفون هذا؟ فكان أكثرُ من جاء يقول: قد رأيتُه في مسجد بني فلان يصلي، ورأيتُه في مسجد بني فلان يصلي، فلم يأتِ بثَبَتٍ يُعرَف إلّا ذلك، قالت: فما قول عليٍّ حين قام عليه كما يَزعُم أهلُ العراق؟ قلت: سمعتُه يقول: صَدَق اللهُ ورسولُه، قالت: وهل سمعتَ أنت منه قال غيرَ ذلك؟ قلت: اللهم لا، قالت: أجَلْ، صدقَ اللهُ ورسولُه، يَرحَمُ اللهُ عليًا، إنه من كلامه، كان لا يرى شيئًا يُعجِبُه إلّا قال: صدق الله ورسوله (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه إِلَّا ذكرَ ذي الثُّدَيّة، فقد أخرجه مسلم بأسانيد كثيرة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2657 - على شرط البخاري ومسلم وأخرج منه ذكر ذي الثدية
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه إِلَّا ذكرَ ذي الثُّدَيّة، فقد أخرجه مسلم بأسانيد كثيرة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2657 - على شرط البخاري ومسلم وأخرج منه ذكر ذي الثدية
سیدنا عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما سیدنا علی کی لڑائی سے لوٹ کر واپس آئیں تو میں ان کے پاس گیا، ہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ کے متعلق گفتگو کر رہے تھے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما نے کہا: میں جو بات تم سے پوچھوں، کیا تم سچ سچ بتاؤ گے؟ آپ مجھے ان لوگوں کے متعلق بتایئے جن کو علی نے قتل کیا۔ میں نے کہا: میں تمہیں سچ کیوں نہیں بتاؤں گا۔ ام المومنین رضی اللہ عنہما نے کہا: تو مجھے اس کا واقعہ سناؤ۔ میں بولا: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے معاویہ کی جانب مکتوب لکھا اور دو حاکموں کا فیصلہ سنایا تو 8000 ہزار قراء نے ان کے خلاف بغاوت کر دی پھر وہ کوفہ کی جانب ایک حروراء نامی مقام پر جمع ہو گئے اور انہوں نے علی کے احکام کا انکار کیا اور کہنے لگے: تم نے وہ قمیص اُتار دی ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہیں پہنائی تھی اور اس کے ساتھ تمہیں بلند کیا تھا، پھر تم نے اللہ کے دین میں حاکم مقرر کر دیئے ہیں حالانکہ حکم کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ جب ان کی بغاوت اور ہرزہ سرائی کی خبر سیدنا علی رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو آپ نے منادی کو حکم دیا کہ لوگوں میں یہ منادی کر دی جائے کہ امیرالمومنین کے پاس صرف حامل قرآن حاضر ہو سکتا ہے، جب حویلی قراء سے بھر گئی تو آپ نے قرآن پاک کا ایک بڑا نسخہ منگوایا۔ اپنے ہاتھ اس پر رکھے اور اس پر ہاتھ پھیر پھیر کر کہنے لگے: اے قرآن! تو ہی لوگوں کو حقیقت بتا۔ لوگوں نے آپ کو آواز دی اور کہنے لگے: اے امیرالمومنین! آپ جس سے سوال کر رہے ہیں وہ تو محض ورق اور سیاہی ہے، ہم اس میں پڑھ کر آپ کو سنا دیتے ہیں، آپ بتایئے آپ چاہتے کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: تمہارے وہ ساتھی جنہوں نے بغاوت کی ہے، اللہ تعالیٰ ایک عورت اور مرد کے متعلق فرماتا ہے: (وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِھِمَا فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَھْلِہِ وَحَکَمًا مِّنْ اَھْلِھَا) ” اور اگر تمہیں میاں بیوی کے جھگڑے کا خوف ہو تو ایک پنچ مرد والوں کی طرف سے بھیجو اور ایک پنچ عورت والوں کی طرف سے “ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی حرمت ایک مرد اور عورت کی حرمت سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے مجھ پر یہ الزام لگایا ہے کہ میں نے معاویہ سے خط و کتابت کی ہے اور علی بن ابی طالب نے لکھا ہے (اپنے آپ کو امیرالمومنین کیوں نہیں لکھا؟ تو سنئے) ہم حدیبیہ کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، سہیل بن عمرو آپ کے پاس آیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم قریش کے ساتھ صلح کی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ لکھ دی۔ تو سہیل نے کہا: بسم اللہ الرحمن الرحیم مت لکھو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو کیسے لکھوں؟ اس نے کہا: لکھو ” باسمک اللّٰھمّ “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں لکھتا ہوں۔ پھر فرمایا: لکھو ” من محمد رسول اللہ “ وہ کہنے لگے: اگر ہم آپ کو رسول اللہ مانتے ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت نہ کرتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا: (ھٰذَا مَا صَالَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ قُرَیْشًا) اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے: (لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ) (الاحزاب: 21) ” بے شک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے اس کے لیے کہ اللہ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو “۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ ان کی طرف بھیجا اور میں بھی ان کے ہمراہ ہو لیا۔ جب ہم ان کے لشکر کے درمیان میں پہنچے تو ابن الکواء کھڑا ہو کر لوگوں کو خطبہ دینے لگا، اس نے کہا: اے قرآن کے قاریو! یہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہے، جو ان کو نہیں جانتا اس کو میں اِن کا تعارف کراتا ہوں، قرآن کی یہ آیت انہی کی قوم کے متعلق نازل ہوئی ہے: (بَلْ ھُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْن) ” بلکہ یہ جھگڑالو قوم ہے “ اس کو اس کے صاحب کی طرف لوٹا دو اور اس کے ساتھ کتاب اللہ میں مذاکرہ مت کرو، آپ فرماتے ہیں: ان کے خطباء کھڑے ہو کر کہنے لگے: خدا کی قسم! ہم اس کے ساتھ کتاب اللہ میں مذاکرہ کریں گے۔ اگر یہ حق بیان کرے گا جو ہم سمجھ سکیں تو ہم مانیں گے اور اگر اس نے باطل پیش کیا تو اس کی سرزنش کریں گے، اور ہم اس کو اس کے صاحب کے پاس واپس بھیج دیں گے۔ چنانچہ ان لوگوں نے تین دن تک ان کے ساتھ کتاب اللہ میں مباحثہ کیا (اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ) ان میں سے چار ہزار لوگ تائب ہو گئے۔ ان میں ابوالکواء بھی تھا۔ یہاں تک کہ ان کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا اور فرمایا: ہمارا اور دوسرے لوگوں کا (نظریہ) وہی تھا جو تم نے دیکھ لیا ہے، اس لیے تم جہاں پر ہو وہیں ٹھہر جاؤ یہاں تک کہ امت محمدیہ جمع ہو جائے اور تم جہاں بھی ہو وہیں پڑاؤ کر لو ہمارا تمہارے ساتھ یہ معاہدہ ہے کہ جب تک تم بغاوت نہیں کرو گے ہمارے نیزے تمہاری حفاظت کرتے رہیں گے۔ اور اگر تم نے ایسا کیا تو ہم تم پر بھی جنگ مسلط کر دیں گے۔ بے شک اللہ تعالیٰ خیانت گروں کو پسند نہیں کرتا۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اے بن شداد! تو انہوں نے ان کو قتل کر دیا؟ انہوں نے کہا: خدا کی قسم انہوں نے ان کی طرف سے اس وقت تک (کوئی مجاہد) نہیں بھیجا جب تک انہوں نے فساد اور ناحق خونریزی شروع نہیں کر دی۔ اور انہوں نے ابن خباب کو بھی قتل کر ڈالا اور انہوں نے اہل ذمہ کے خون اور مالوں کو حلال جانا۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے کہا: خدا کی قسم؟ میں نے کہا: اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ اور اہلِ عراق کے متعلق جتنی باتیں مجھ تک پہنچی ہیں وہ یہ ہے کہ وہ اس کو ” ذوثدی، ذوثدی “ کہتے ہیں۔ تو میں نے کہا: میں نے اس کو دیکھا ہے اور میں مقتولوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ اس کی لاش پر بھی کھڑا ہوا تھا۔ انہوں نے لوگوں کو بلایا اور ان سے کہا: کیا تم اس کو پہچانتے ہو؟ تو جو شخص بھی آیا ان میں سے اکثر نے اسی طرح کی باتیں کی ہیں کہ میں نے اس کو فلاں قبیلے کی مسجد میں نماز پڑھتے دیکھا ہے میں نے اس کو فلاں قبیلے کی مسجد میں نماز پڑھتے دیکھا ہے، اس طرح کی گفتگو کے علاوہ اس کی پہچان کے متعلق کسی نے بھی کوئی خاطرخواہ بات نہیں کی۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا بولیں: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کی لاش پر کھڑے تھے تو انہوں نے کیا کہا؟ جیسا کہ اہلِ عراق کا گمان ہے۔ میں نے کہا: میں نے ان کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے: اللہ اور اس کے رسول نے بالکل سچ فرمایا ہے۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا تم نے اس کے علاوہ بھی ان کا کوئی فرمان سنا ہے؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے کہا: جی ہاں۔ اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ تاہم امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ” ثدیہ “ کا ذکر متعدد سندوں کے ہمراہ کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2689]
حدیث نمبر: 2690
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزَة الغِفاري، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن محمد بن قيس، قال: سمعت مالك بن الحارث يقول: شهدتُ عليًّا يوم النَّهْروان طلبَ المُخْدَجَ فلم يَقدِرْ عليه، فجَعَلَت جبينُه تَعرَقُ وأخذه الكَرْب، ثم إنه قَدَرَ عليه، فخَرّ ساجدًا، فقال: والله ما كَذَبتُ ولا كُذِبتُ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بذكر سجدة الشُّكر، وهو غريب صحيح في سجود الشكر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2658 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بذكر سجدة الشُّكر، وهو غريب صحيح في سجود الشكر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2658 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا مالک بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نھروان کے دن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ ناقص بازو والے کو ڈھونڈ رہے تھے لیکن اس میں کامیاب نہ ہو سکے تو ان کی پیشانی پر پسینہ آنا شروع ہو گیا اور آپ شدید پریشان ہو گئے۔ پھر جب آپ کو اس کی لاش مل گئی تو سجدہ شکر ادا کیا اور بولے: خدا کی قسم، میں نے جھوٹ نہیں بولا، خدا کی قسم میرے ساتھ جھوٹ نہیں بولا گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو سجدہ کے ذکر کے ہمراہ نقل نہیں کیا ہے۔ اور یہ حدیث ” سجدہ شکر “ کے حوالے سے غریب صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2690]
حدیث نمبر: 2691
أخبرنا مُكرَم بن أحمد بن مكرم القاضي، حدثنا أبو قِلابة عبد الملك بن محمد بن عبد الله الرَّقَاشي، حدثنا أبو عَتَّاب سهل بن حمّاد، حدثنا عبد الملك بن أبي نَضْرة، عن أبيه، عن أبي سعيد الخُدْري: أنَّ رسول الله ﷺ أتاه مال، فجعل يَضرِب بيده فيه فيُعطي يمينًا وشمالًا، وفيهم رجل مُقَلَّص الثياب، ذو سِيْماءَ، بين عَينَيه أثرُ السجود، فجعل رسولُ الله ﷺ يضرب يدَه يمينًا وشمالًا حتى نَفِد المالُ، فلما نَفِدَ المالُ ولَّى مُدبرًا، وقال: والله ما عدلتَ منذ اليومِ. قال: فجعل رسولُ الله ﷺ يُقلِّب كفّه، ويقول:"إذا لم أعدِلْ فمن ذا يَعدلُ بعدي؟ أَمَا إِنه سَتَمْرُق مارِقةٌ، يَمرُقون من الدِّين مُروق السهم من الرَّمِيّة، ثم لا يعُودون إليه حتى يَرجِعَ السهمُ على فُوقِه، يقرؤون القرآن لا يجاوز تَراقِيهَم، يُحسِنون القولَ ويُسيئون الفعلَ، فمن لقيَهم فليقاتلْهم، فمن قتلهم فله أفضلُ الأجر، ومن قتَلُوه فله أفضل الشهادة، هم شرُّ البَرّيّة، بَرِئ اللهُ منهم، تقتلهم أَولى الطائفتَين بالحقّ" (1) .
هذا حديث صحيح ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة (2) ، وعبد الملك بن أبي نَضْرة من أعزّ البصريين حديثًا، ولا أعلم أني عَلَوت له في حديث غير هذا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2659 - صحيح
هذا حديث صحيح ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة (2) ، وعبد الملك بن أبي نَضْرة من أعزّ البصريين حديثًا، ولا أعلم أني عَلَوت له في حديث غير هذا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2659 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ (غنیمت کا) مال آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مال اپنے دائیں بائیں (بیٹھے ہوئے لوگوں کو) دینا شروع کر دیا۔ ان میں ایک سمٹے ہوئے کپڑوں والا شخص بھی موجود تھا۔ اس کی پیشانی پر سجدوں کا اثر تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں بائیں مال بانٹتے رہے، حتیٰ کہ سارا مال ختم ہو گیا۔ جب مال ختم ہو گیا تو وہ شخص وہاں سے چلا گیا اور جاتے جاتے بولا! خدا کی قسم! آج تو نے عدل نہیں کیا۔ (راوی) فرماتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہتھیلیوں کو الٹ پلٹ کرتے ہوئے بولے: جب میں ہی عدل نہیں کروں گا تو میرے بعد اور کون عمل کرے گا۔ اور عنقریب کچھ لوگ خارجی ہو جائیں گے یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے، پھر یہ دین کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے جیسے تیر اپنے سوفار کی طرف لوٹ کر نہیں آتا۔ یہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اُترے گا، یہ گفتگو تو بہت اچھی کریں گے لیکن ان کے اعمال برے ہوں گے۔ جس کو یہ ملیں، اس کو چاہیے کہ وہ ان کو قتل کر دے۔ جو ان کو قتل کرے گا، اس کے لیے بہترین اجر ہے اور جو ان کے ہاتھوں قتل ہو گا وہ بہترین شہید ہے۔ یہ تمام مخلوق سے بدتر لوگ ہوں گے۔ اللہ ان سے بری ہے۔ ان کو دو جماعتوں میں سے وہ قتل کرے گی جو حق کے زیادہ قریب ہو گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو اس انداز کے ساتھ نقل نہیں کیا ہے۔ اور عبدالملک بن ابی نضرہ بصرہ کے تمام محدثین سے زیادہ عزیزالحدیث ہیں۔ اور میرے علم میں نہیں ہے کہ اس کے علاوہ کسی اور حدیث میں میری سند (اس جیسی) عالی ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2691]
حدیث نمبر: 2692
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، أخبرنا الحارث بن أبي أسامة، أنَّ كثير بن هشام حدثهم، حدثنا جعفر بن بُرْقان، حدثنا ميمون بن مِهْران، عن أبي أُمامة، قال: شهدتُ صِفِّين، فكانوا لا يُجِيزون (3) على جَريح، ولا يقتلون مُولِّيًا، ولا يَسلُبون قَتيلًا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد في هذا الباب. وله شاهد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2660 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد في هذا الباب. وله شاهد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2660 - صحيح
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں جنگ صفین میں موجود تھا، وہ لوگ نہ تو کسی زخمی کو قتل کرتے تھے، نہ پیٹھ دے کر بھاگنے والے کو قتل کرتے تھے اور نہ کسی مقتول کا سامان لوٹتے تھے۔ ٭٭ اس باب میں یہ حدیث ” صحیح الاسناد “ ہے۔ درج ذیل صحیح حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2692]
حدیث نمبر: 2693
حدَّثَناه محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو سعيد محمد بن شاذان، حدثنا علي بن حُجْر، حدثنا شَريك، عن السُّدِّي، عن يزيد بن ضُبَيعة العَبْسي، قال: نادى مُنادي عمارٍ يوم الجمَل، وقد ولَّى الناسُ: ألا لا يُذْأفُ على جَريح، ولا يُقتَل مُوَلِّي (2) ، ومن ألقى السلاحَ فهو آمِن، فشقَّ ذلك علينا (3) . وقد رُوي في هذا الباب حديث مسنَد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2661 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2661 - صحيح
سیدنا یزید بن ضبیعہ عبسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ جمل کے دن جب لوگ بھاگ کھڑے ہوئے تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے منادی نے یہ اعلان کیا: خبردار! کسی زخمی کو مت مارنا، اور پیٹھ دے کر بھاگنے والے کو بھی نہیں مارنا اور جو ہتھیار ڈال دے، وہ امن والا ہے۔ ان کا یہ اعلان ہم پر بہت شاق گزرا۔ ٭٭ اس باب میں درج ذیل مسند حدیث بھی منقول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2693]
8. حُكْمُ الْبُغَاةِ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ .
اس امت کے باغیوں کے احکام
حدیث نمبر: 2694
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا يوسف بن عبد الله الخُوارزمي ببيت المقدس، حدثنا عبد الملك بن عبد العزيز التمَّار. وحدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا أحمد بن علي الخزّاز (1) ، حدثنا أبو نصر التمّار، حدثنا كَوثَر بن حَكيم، عن نافع، عن ابن عمر، قال: قال رسول الله ﷺ لعبد الله بن مسعود:"يا ابنَ مسعود، أتدري ما حُكم اللهِ فيمن بَغَى مِن هذه الأُمة؟" من قال ابن مسعود: الله ورسوله أعلم، قال:"فإنَّ حُكم الله فيهم أن لا يُتبَعَ مُدبِرُهم، ولا يُقتَلَ أسِيرُهم، ولا يُذفَّفَ على جَريحِهم" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2662 - كوثر بن حكيم متروك
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2662 - كوثر بن حكيم متروك
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے ابن مسعود! کیا تم جانتے ہو کہ اس امت کے باغیوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا کیا فیصلہ ہے؟ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہے کہ ان میں پیٹھ دے کر بھاگنے والے کو قتل نہ کیا جائے۔ ان کے قیدیوں کو قتل نہ کیا جائے اور ان کے زخمیوں کو قتل نہ کیا جائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2694]
حدیث نمبر: 2695
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنْعاني، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبّاد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن عبد الله بن طاووس، عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم، عن أبيه، قال: لما قُتل عمار بن ياسر دخل عمرو بن حَزْم على عمرو بن العاص، فقال: قُتل عمار، وقد قال رسول الله ﷺ:"تقتلُه الفئةُ الباغِية"، فقام عمرو بن العاص فَزِعًا حتى دخل على معاوية، فقال له معاوية: ما شأنُك؟ فقال: قُتل عمار، فقال معاوية: قُتل عمار، فماذا؟! فقال عمرو: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"تقتله الفئةُ الباغِيةُ"، فقال له معاوية: دَحَضْتَ في بَولِك، أوَنحن قتلناه؟! إنما قتلَه عليٌّ، وأصحابُه، جاؤوا به حتى ألقَوه بين رماحِنا؛ أو قال: بين سيوفنا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2663 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2663 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا محمد بن عمر بن حزم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا تو سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہنے لگے: عمار کو قتل کر دیا گیا ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا ” تجھے باغی گروہ قتل کرے گا “۔ تو عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ گھبرا کر اٹھے اور فوراً سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان کو بتایا کہ عمار کو شہید کر دیا گیا ہے۔ معاویہ بولے: عمار کو قتل کر دیا گیا ہے تو کیا ہوا؟ عمرو بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ” اس کو باغی گروہ قتل کرے گا “ تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تو خود اپنے ہی پیشاب میں پھسلا ہے ہم نے اس کو تھوڑی قتل کیا ہے۔ اس کے قتل کے ذمہ دار ” علی “ اور اس کے ساتھی ہیں جو ان کو لا کر ہمارے نیزوں میں ڈال گئے یا (شاید یہ فرمایا) ہماری تلواروں میں ڈال گئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2695]