🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. لَا تُخْبِرْ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِكَ فِي الْمَنَامِ
خواب میں شیطان کے اپنے ساتھ کھیلنے کا تذکرہ (لوگوں کو) نہ کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8382
أخبرنا أبو النضر الفقيه، حدَّثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدَّثنا سعيد بن عُفير وعبد الله بن صالح، قالا: حدَّثنا الليث بن سعد، عن أبي الزُّبير، عن جابر، عن رسول الله ﷺ أنه قال:"إذا رأى أحدُكم الرؤيا يَكْرَهُها، فليَبصُقْ عن يَسَاره وليتحوَّلْ عن جَنْبه الذي كان عليه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
٭٭ اسی اسناد کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی منقول ہے کہ جب کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو وہ اپنے بائیں جانب تھوک دے اور کروٹ بدل کر لیٹ جائے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8382]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. مَنْ كَذَبَ فِي حُلْمِهِ كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَقْدَ شَعِيرَةٍ
جس نے جھوٹا خواب بیان کیا، اسے قیامت کے دن جو کے دو دانوں میں گرہ لگانے کا مکلف کیا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8383
حدَّثنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدَّثنا أبي، حدَّثنا عمرٌو بن سَوَّاد السَّرْحيُّ، حدَّثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أن أبا السَّمح حدثه عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد الخُدْري، أن النبي ﷺ قال:"أصدقُ الرُّؤيا بالأسحار" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8183 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سحری کے وقت جو خواب آئے وہ اکثر سچا ہوتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8383]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8384
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمَّاك، حدَّثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدَّثنا قَبيصة بن عُقبة، حدَّثنا سفيان، عن عبد الأعلى بن عامر، عن أبي عبد الرحمن السُّلَمي، عن علي بن أبي طالب، أنَّ النبي ﷺ قال:"مَن كَذَب في حُلْمِه، كُلِّف يومَ القيامة عَقْدَ شَعيرةٍ" (1) .
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے خواب کے بارے میں جھوٹ بولا، اس کو قیامت کے دن اس کو بال کی گرہ کھولنے پر مجبور کیا جائے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8384]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ -: " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي "
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے حقیقت میں مجھے ہی دیکھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8385
حدَّثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدَّثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدَّثنا مُسدَّد، حدَّثنا أبو عَوَانة، عن عبد الأعلى، عن أبي عبد الرحمن السُّلَمي عن عليٍّ، أن النبي ﷺ قال:"مَن كَذَب في حُلْمِه، كُلِّف يومَ القيامة أن يَعقِدَ بين شَعيرتَين" (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے خواب بیان کرنے میں جھوٹ سے کام لیا اس کو قیامت کے دن اس بات کا مکلف کیا جائے گا کہ وہ دو بالوں کو گرہ لگائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8385]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8386
أخبرني أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدَّثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدَّثنا مُسدَّد، حدَّثنا عبد الواحد بن زياد، عن عاصم بن كُليب قال: حدثني أبي، أنه سمع أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ:"مَن رآني في المَنام فقد رآني؛ إِنَّ الشيطان لا يَتمثَّلُني". قال أَبي: فحدَّثتُ به ابنَ عباس وقلتُ: قد رأيتُه؛ فذكرتُ الحسنَ بن علي فشبَّهتُه به، فقال ابن عباس: إنه كان يُشبِهُه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8186 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے خواب میں مجھے دیکھا، اس نے واقعی مجھے ہی دیکھا، کیونکہ شیطان میری شکل اختیار نہیں کر سکتا۔ میرے والد کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو سنائی، اور کہا: میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، پھر میں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا ذکر کیا، میں نے کہا: حسن بن علی رضی اللہ عنہما، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بالکل ملتے جلتے ہیں، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بولے: جی ہاں، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت مشابہت رکھتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8386]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. رُؤْيَا النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ 8249 - أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِيُّ، ثَنَا جَدِّي، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا فَقَالَ: " إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - عِنْدَ رَأْسِي وَمِيكَائِيلَ عِنْدَ رِجْلَيَّ، يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: اضْرِبْ لَهُ مِثْلًا، فَقَالَ: اسْمَعْ سَمِعَ أُذُنُكَ وَاعْقِلْ عَقِلَ قَلْبُكَ، مَثَلُكَ وَمَثَلُ أُمَّتِكَ كَمَثَلِ مَلِكٍ اتَّخَذَ دَارًا ثُمَّ بَنَى فِيهَا بَيْتًا ثُمَّ جَعَلَ فِيهَا مَأْدُبَةً، ثُمَّ بَعَثَ رَسُولًا يَدْعُو النَّاسَ إِلَى طَعَامِهِ فَمِنْهُمْ مَنْ أَجَابَ الرَّسُولَ وَمِنْهُمْ مَنْ تَرَكَهُ، فَاللَّهُ هُوَ الْمَلِكُ، وَالدَّارُ الْإِسْلَامُ، وَالْبَيْتُ الْجَنَّةُ، وَأَنْتَ يَا مُحَمَّدُ رَسُولٌ مَنْ أَجَابَكَ دَخَلَ الْجَنَّةَ أَكَلَ مَا فِيهَا "
نبی کریم ﷺ کا خواب میں سیدنا جبرائیل اور سیدنا میکائیل علیہما السلام کو دیکھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8387
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، قال: حدثني عثمان بن عبد الرحمن، عن الزُّهري، عن عُروة، عن عائشة قالت: سُئِلَ رسول الله ﷺ عن وَرَقةَ، فقالت له خديجة: إنه كان صدَّقكَ ولكنه مات قبل أن تَظهَر، فقال رسولُ الله ﷺ:"أُريتُه في المنام وعليه ثيابٌ بِيضٌ، ولو كان من أهل النار لكان عليه لباسٌ غيرُ ذلك" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8187 - عثمان هو الوقاص متروك
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ورقہ بن نوفل کے بارے پوچھا گیا، تو ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ وہ آپ کو سچا نبی مانتے تھے، لیکن وہ آپ کے اعلان نبوت سے پہلے وفات پا گئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے ان کو خواب میں دیکھا ہے، وہ سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے، اگر وہ دوزخی ہوتے تو ان پر یہ لباس نہ ہوتا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8387]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. رُؤْيَا رَجُلٍ مِيزَانًا نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ
ایک شخص کا خواب کہ آسمان سے ایک ترازو نازل ہوا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8388
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفَضْل الشَّعْراني، حدَّثنا جَدِّي، حدَّثنا عبد الله بن صالح، حدثني الليث، عن خالد بن يزيد، عن سعيد بن أبي هلال، عن عطاء، أن جابر بن عبد الله الأنصاري قال: خَرَجَ إلينا رسول الله ﷺ يومًا فقال:"إني رأيتُ في المنام كأنَّ جبريلَ عند رأسي، وميكائيلَ عند رِجليَّ، يقول أحدُهُما لصاحبه: اضربْ له مَثَلًا، فقال: اسمَعْ سَمِعَت أذنُك، واعقِلْ عَقَلَ قلبُك: مَثَلُك ومَثَلُ أُمَّتِك كمَثَل مَلِكٍ اتَّخَذ دارًا، ثم بَنَى فيها بيتًا، ثم جعل فيها مائدةً، ثم بَعَث رسولًا يدعو الناسَ إلى طعامِه، فمنهم من أجاب الرسولَ ومنهم من تَرَكه؛ والله: هو المَلِكُ، والدارُ: الإسلامُ، والبيتُ: الجنّةُ، وأنت يا محمدُ رسولٌ، من أجابك دَخَل الجنّة، ومن دخل الجنة أَكل ما فيها" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8188 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، اور فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ جبریل امین علیہ السلام میرے سر کی طرف کھڑے ہیں، سیدنا میکائیل علیہ السلام میرے قدموں کی جانب کھڑے ہیں، ان میں سے ایک، دوسرے سے کہہ رہا ہے: اس کی کوئی مثال بیان کرو، اس نے کہا: غور سے سنو اور دل سے سمجھو، اس کی مثال اور اس کی امت کی مثال ایسے ہے، جیسے کسی بادشاہ نے ایک محل تعمیر کروایا، پھر اس میں ایک کمرہ بنایا، پھر اس میں دسترخوان تیار کروایا، پھر اس نے ایک قاصد بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو کھانے کی دعوت دے کر آئے، کچھ لوگوں نے اس کی دعوت کو قبول کر لیا اور کچھ لوگوں نے انکار کر دیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ بادشاہ ہے، اور محل اسلام ہے، کمرہ جنت ہے، اور اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ تعالیٰ کی جانب سے قاصد ہیں، جس نے آپ کی بات مان لی وہ جنت میں جائے گا اور وہاں کی نعمتیں کھائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8388]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. رُؤْيَا رَجُلٍ رَوْضَةً خَضْرَاءَ
ایک شخص کا خواب کہ اس نے ایک سبز باغ دیکھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8389
أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله بن أبي الوَزير، حدَّثنا أبو حاتم محمد بن إدريس الرَّازي، حدَّثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدَّثنا الأشعث، عن الحسن، عن أبي بَكْرة: أنَّ النبي ﷺ قال ذاتَ يوم:"مَن رأى منكم رُؤْيا؟" فقال رجلٌ: أنا، رأيت كأنَّ ميزانًا نَزَل من السماء، فوُزِنتَ أنت وأبو بكر فرَجَحت أنت بأبي بكر، ووُزِنَ عمرُ بأبي بكر فرَجَح أبو بكر، ووُزِنَ عمرُ وعثمانُ فَرَجَح عمرُ، ثم رُفِع الميزان، فرأيتُ الكراهيَةَ في وجهِ رسول الله ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8189 - صحيح
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) سے پوچھا: تم میں سے کس نے خواب دیکھا؟ ایک آدمی نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ جیسے کوئی ترازو آسمان سے نازل ہوا، اس میں آپ کا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا باہم وزن کیا گیا، آپ، ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بھاری رہے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا باہم وزن کیا گیا، اس مرتبہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھاری رہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ باہم وزن کیا گیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھاری رہے، اس کے بعد ترازو اٹھا لیا گیا، (یہ خواب سنانے کے بعد) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غم کے آثار دیکھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8389]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8390
حدثني علي بن عيسى الحِيريُّ، حدَّثنا الحسين (2) بن محمد بن زياد، حدَّثنا أبو الخَطَّاب زياد بن يحيى الحسّاني (3) ، حدَّثنا مَسْعَدة بن اليَسَع، عن ابن عَوْن، عن ابن سِيرِين، عن قيس بن عُبَاد (4) قال: كنت جالسًا في حَلْقة المسجد فدخل رجلٌ، فقالوا: هذا رجلٌ من أهل الجنة، فصلَّى فخرج، فاتَّبعتُه فقلت: إِنَّ القوم قالوا كذا وكذا، فقال: ما ينبغي لأحدٍ أن يَكذِبَ أو يقولَ ما لا يعلم، وسأحدِّثُك لِمَ ذا: إني رأيت رؤيا فقصصتُها على النبي ﷺ، رأيت كأنِّي في رَوْضةٍ خضراءَ - فذكر من سَعَتِها وخُضْرتها - وفي وَسَط الروضة عمود من حديد، فأتاني رجل فقال لي: اصعَدْ، فقلت: لا أستطيع أن أصعدَ، قال: فأتاني مِنصَفٌ (5) من خلفي، فقال بي، فصعَّدَني مع ثيابي، فلما انتهيتُ إلى أعلى العمود إذا فيه عُرْوةٌ، فأَدخلتُ يدي في العروة، فلقد أصبحتُ وإِنَّ الحَلْقة لفي يدي، فقال النبي ﷺ:"أما الرَّوضةُ فروضةُ الإسلام، وأما العمودُ فعمودُ الإسلام، وأما العُروةُ فأخذتَ بالعروة الوُثْقى، فلا تزالُ ثابتًا على الإسلام حتى تموتَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين (2) ، ولو كان الرجل فيه مسمًّى لصحَّ على شرطهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8190 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا قیس بن عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا، ایک آدمی مسجد میں آیا، لوگ کہنے لگے: یہ جنتی شخص ہے، اس نے نماز پڑھی اور مسجد سے نکل گیا، میں اس کے پیچھے پیچھے گیا، میں نے اس سے کہا: لوگ آپ کے بارے میں ایسی ایسی باتیں کر رہے ہیں، اس نے کہا: جھوٹ نہیں بولنا چاہئے اور ایسی بات نہیں کرنی چاہئے جس کے بارے میں یقین نہیں ہے، اس کی وجہ میں تجھے بتاتا ہوں، (بات دراصل یہ ہے کہ) میں نے ایک دفعہ خواب دیکھا، اور وہ خواب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا، (خواب یہ تھا) میں نے دیکھا کہ میں ایک سرسبز باغ میں موجود ہوں، پھر اس کے سبزہ اور اس کی وسعت کا ذکر کیا، اور باغ کے درمیان لوہے کا ایک ستون ہے، میرے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اس پر چڑھ جا۔ میں نے کہا: میں اس پر نہیں چڑھ سکتا، اس نے چڑھنے کے لئے میرے پیچھے کوئی چیز رکھ دی، پھر کہا: چڑھو، میں نے کہا: میں نہیں چڑھ سکتا، اس نے میرے کپڑوں سے پکڑ کر مجھے اوپر چڑھا دیا، جب میں اس ستون کی بلندی پر پہنچا تو وہاں ایک رسی تھی، میں نے اپنا ہاتھ اس رسی میں ڈال دیا، جب صبح ہوئی تو میرے ہاتھ پر رسی کے نشانات موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باغ سے مراد اسلام ہے۔ اور ستون اسلام کا ستون ہے۔ اور رسی سے مراد عروۃ الوثقی ہے۔ تو نے اس کو تھام لیا ہے، اس لئے تو ساری زندگی اسلام پر قائم رہے گا اور تیرا خاتمہ بھی اسلام پر ہی ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8390]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. رُؤْيَا عَائِشَةَ ثَلَاثَةَ أَقْمَارٍ سَقَطَتْ فِي حُجْرَتِهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا خواب کہ ان کی گود میں تین چاند گرے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8391
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المَحبُوبي، حدَّثنا أبو عيسى محمد بن عيسى التِّرمذيُّ، حدَّثنا سهل بن إبراهيم البَصْري، حدَّثنا مَسْعَدة بن اليَسَع، عن محمد بن عمرو بن عَلْقمة، عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطبٍ قال: اجتمع نساءٌ من نساء المؤمنين عند عائشة أم المؤمنين، فقالت امرأةٌ منهن: والله لا يُعذِّبُني الله أبدًا، إنما بايعتُ رسول الله ﷺ على أن لا أُشرك بالله شيئًا، ولا أسرقَ، ولا أقتُلَ ولدي، ولا آتيَ ببُهتانٍ أَفتريه بين يديَّ ورِجْليَّ، ولا أعصيَه في معروف، وقد وَفَّيتُ، قال: فرَجَعَت إلى بيتها فأُتِيَتْ في منامها، فقيل: أنتِ المُتألِّيةُ على الله تعالى أن لا يعذِّبَكِ، فكيف بقولكِ فيما لا يَعنيك، ومَنْعِكِ ما لا يُغنيك؟ قال: فرَجَعَت إلى عائشة فقالت لها: إني أُتِيتُ في منامي فقيل لي كذا وكذا، وإني أستغفرُ الله وأتوبُ إليه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8191 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
یحیی بن عبدالرحمن بن حاطب فرماتے ہیں: مومنین کی عورتیں ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جمع تھیں، ان میں سے ایک خاتون نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ مجھے کبھی بھی عذاب نہیں دے گا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اس چیز کی بیعت کی ہے کہ میں کبھی شرک نہیں کروں گی، کبھی چوری نہیں کروں گی، اپنی اولاد کو قتل نہیں کروں گی، اور میں زنا کا ارتکاب نہیں کروں گی، اور نیکی کے کام میں نافرمانی نہیں کروں گی، اور میں اپنے اس عہد پر قائم ہوں، وہ خاتون جب واپس اپنے گھر گئی تو اس نے خواب میں دیکھا کہ کسی نے اس کو کہا کہ تو نے اللہ تعالیٰ پر قسم ڈال دی ہے کہ وہ تجھے عذاب نہیں دے گا۔ تو نے جو غیر ضروری باتیں کی ہیں، اور ایسی چیز روک کر رکھی ہے جو تجھے کوئی فائدہ نہیں دے گی، (اس کا حساب کون دے گا؟) راوی کہتے ہیں: وہ عورت دوبارہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور اپنا خواب سنا کر بولی: میں اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتی ہوں اور اس کی طرف رجوع لاتی ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8391]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں