المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
10. رُؤْيَا عَائِشَةَ ثَلَاثَةَ أَقْمَارٍ سَقَطَتْ فِي حُجْرَتِهَا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا خواب کہ ان کی گود میں تین چاند گرے ہیں
حدیث نمبر: 8392
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد بن محبوب بن فُضيل التاجر المَحْبوبيُّ بمَرْو، حَدَّثَنَا أبو عيسى محمد بن عيسى بن سَوْرة الحافظ بتِرمِذَ، حَدَّثَنَا سهل بن إبراهيم الجاروديُّ، حَدَّثَنَا مَسعَدة بن اليَسَع، عن مالك بن أنس، عن يحيى بن سعيد الأنصاري، عن عَمْرة، عن عائشة قالت: رأيت في المنام كأنَّ ثلاثة أقمار سَقَطْن في حُجرتي، فقَصَصتُ رؤيايَ على أبي بكر، فلما دُفن النَّبِيّ ﷺ في بيتي، قال أبو بكر: هذا أَحدُ أقمارك، وهو خَيْرُها (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8192 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8192 - صحيح
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے خواب میں دیکھا کہ تین چاند آ کر میری گود میں گرے ہیں، میں نے اپنا خواب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سنایا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے حجرے میں دفن کیا گیا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: تیرے تین چاندوں میں سے ایک یہ ہے، اور یہ تینوں میں سب سے اچھا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8392]
حدیث نمبر: 8393
حَدَّثَنَا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن عَفَّان العامريّ، حَدَّثَنَا محمد بن فُضَيل، عن حُصَين، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن أبي أيوب، عن النَّبِيّ ﷺ قال:"إنِّي رأيتُ في المنام غَنَمًا سُودًا يَتبعُها (1) غَنَمٌ عُفْرٌ، يا أبا بكر، اعبُرْها" فقال أبو بكر: يا رسول الله هي العربُ تَتْبعُك، ثم تَتبعُها العَجَمُ حتَّى تَعْمُرَها، فقال النَّبِيّ ﷺ:"هكذا عَبَرَها المَلَكُ سَحَرَ" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8193 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8193 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ایک سیاہ رنگ کی بھیٹر ہے، اس کے پیچھے ایک مٹیالے رنگ کی بھیڑ لگی ہوئی ہے، اے ابوبکر رضی اللہ عنہ تم اس خواب کی تعبیر بیان کرو، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ عرب ہیں جو کہ آپ کے پیچھے چل رہے ہیں، پھر اہل عجم ہیں جو اہل عرب کے پیچھے چل رہے ہیں، حتی کہ یہ ان کو مکمل طور پر ڈھانپ لے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سحری کے وقت فرشتے نے بھی یہی تعبیر بیان کی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8393]
11. أَسْمَاءُ نُجُومٍ رَآهَا يُوسُفُ فِي مَنَامِهِ
ان ستاروں کے نام جو سیدنا یوسف علیہ السلام نے خواب میں دیکھے تھے
حدیث نمبر: 8394
أخبرنا أبو الحسين أحمد بن عثمان بن يحيى البزَّاز ببغداد، حَدَّثَنَا العبّاس بن محمد الدُّوري، حَدَّثَنَا هاشم بن القاسم، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن (3) عبد الله بن دِينار، عن زيد بن أسلَمَ، عن ابن عمر قال: قال رسولُ الله ﷺ:"رأيت غَنَمًا كثيرةً سُودًا دَخَلَت فيها غنمٌ كثيرةٌ بيضٌ" قالوا: فما أوَّلْتَه يا رسول الله؟ قال: ["العجمُ يَشْرَكونَكم في دينِكم وأنسابِكم" قالوا: العَجمُ يا رسول الله؟] (1) قال:"لو كان الإيمانُ مُعلَّقًا بالثُّريّا، لنالَه رجالٌ من العجم وأسعَدَهُم به الناسُ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8194 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8194 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے بہت ساری کالی بھیڑیں دیکھی ہیں، جن میں بہت ساری سفید بھیٹریں داخل ہو گئی ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے اس کی کیا تعبیر سمجھی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل عجم تمہارے ساتھ تمہارے دین اور تمہارے نسبوں میں شریک ہو جائیں گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عجم کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ایمان ثریا کے ساتھ لٹک رہا ہو تو کچھ عجمی لوگ وہاں سے بھی ایمان اتار لائیں گے، اور یہ لوگوں کی خوش بختی ہو گی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8394]
حدیث نمبر: 8395
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا موسى بن إسحاق الخَطْميُّ، حَدَّثَنَا واصل بن عبد الأعلى، حَدَّثَنَا محمد بن فُضيل، عن عُمارة بن القَعْقاع، عن إبراهيم، عن عَلْقمة، عن عبد الله قال: الفَتَيانِ اللَّذان أتَيا يوسفَ ﵇ في الرُّؤيا إنما كانا تَكَاذَبا، فلما أوّلَ رُؤْياهما قالا: إنا كنا نَلعَب، فقال يوسف: قُضِيَ الأمرُ الذي فيه تَسْتفتيانِ (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8195 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8195 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو نوجوان سیدنا یوسف علیہ السلام کے پاس خوابوں کی تعبیر پوچھنے آئے، دونوں ہی جھوٹ بول رہے تھے، جب سیدنا یوسف علیہ السلام نے ان کے بیان کردہ خوابوں کی تعبیر بیان کر دی تو وہ کہنے لگے: ہم تو مذاق کر رہے تھے، سیدنا یوسف علیہ السلام نے فرمایا: تم نے جس جس خواب کی تعبیر پوچھی ہے ان کے بارے میں تعبیر کے موافق فیصلہ ہو چکا ہے (اگرچہ تم نے وہ جھوٹ ہی بیان کیا تھا) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8395]
حدیث نمبر: 8396
أخبرنا محمد بن إسحاق الصَّفَّار العَدْل، حَدَّثَنَا أحمد بن محمد بن نصر، حَدَّثَنَا عمرو بن حمَّاد بن (1) طلحة، حَدَّثَنَا أسباط بن نَصْر، عن السُّدِّي، عن عبد الرحمن بن سابِط، عن جابر بن عبد الله قال: جاء بستانُ (2) اليهوديُّ إلى النَّبِيِّ ﷺ فقال: يا محمد، هل تعرف النُّجومَ التي رآها يوسفُ يسجدون له؟ فسكت عنه النَّبِيّ ﷺ حتَّى أتاه جبريل ﵇ فأخبره بما سأله اليهودي، فلَقِيَ النَّبِيُّ ﷺ اليهوديَّ فقال:"يا يهوديّ، لِلَّه عليك إنْ أنا أخبرتُك لتُسلِمَنَّ؟" فقال: نعم، فقال رسول الله ﷺ:"النُّجومُ: حدثانُ (3) والطَّارقُ والذَّيَّالُ وقابِسٌ والعَمُودانِ (4) والفيلق (5) والمُصبح (6) والصَّرُوح وذو الكفّان (7) وذو الفرغ والوثَّاب، رآها يوسفُ محيطةً بأكنافِ السماءِ ساجدةً له، فقصَّها على أبيه، فقال له أبوه: إنَّ هذا أمرٌ مُتَشَتّت (8) ، وسَيَجمَعُه الله بعدُ" (9) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8196 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8196 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک یہودی نوجوان، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے محمد! کیا آپ کو ان ستاروں کا پتا ہے جن کو سیدنا یوسف علیہ السلام نے خواب میں اپنی جانب سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تھا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، (وہ یہودی چلا گیا اس کے بعد) سیدنا جبریل امین علیہ السلام تشریف لائے، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہودی کے سوال کا جواب بتایا، اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس یہودی سے ملے اور فرمایا: اے یہودی تجھے اللہ کی قسم ہے! اگر میں تیرے سوال کا جواب دے دوں تو کیا تو مسلمان ہو جائے گا؟ اس نے کہا: جی بالکل۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان ستاروں کے نام یہ ہیں۔ حدثان، طارق، ذبان، قابس، عودان، فلیق، نصح، قروح، ذولکنفان، ذوالفرع، وثاب۔ یوسف علیہ السلام نے ان کو دیکھا کہ یہ آسمان کے کناروں کو گھیرے ہوئے ہیں اور ان کی جانب سجدہ ریز ہیں، یوسف علیہ السلام نے اپنا یہ خواب اپنے والد کو سنایا، ان کے والد محترم نے فرمایا: یہ ایک امر واقعی ہے، یہ لوگ بكھر جائیں گے، لیکن اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کو دوبارہ اکٹھے کر دے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس كو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8396]
حدیث نمبر: 8397
فحدّثنا أبو النَّضْر الفقيه وأبو الحسن العَنَزيُّ، قالا: حَدَّثَنَا مُعاذ بن نَجْدةَ القُرشي، حَدَّثَنَا قَبيصة بن عُقبة، حَدَّثَنَا سفيان، عن سِماك بن حَرْب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس: ﴿إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا﴾ [يوسف: 4] ، قال: كانت رؤيا الأنبياء وَحْيًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8197 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8197 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سورہ یوسف کی اس آیت اني رايت أحد عشر كوكبا کے بارے میں فرمایا: انبیاء کرام علیہم السلام کا خواب بھی وحی ہوتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8397]
12. بَيَانُ الرُّؤْيَا الَّتِي تَصْدُقُ وَالرُّؤْيَا الَّتِي تَكْذِبُ
سچے اور جھوٹے خوابوں کی وضاحت کا بیان
حدیث نمبر: 8398
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبوبيُّ، حَدَّثَنَا أبو عيسى التِّرمذي، حَدَّثَنَا علي بن حُجْر، حَدَّثَنَا عيسى بن يونس، عن سليمان التَّيْميِّ، عن أبي عثمان النَّهديّ، عن سَلْمان قال: كان بين رؤيا يوسف وتأويلِها أربعون سنةً (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8198 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8198 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یوسف علیہ السلام کے خواب اور اس کی تعبیر کے پورا ہونے میں چالیس سال کا دورانیہ تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8398]
13. مَثَلُهُ وَمَثَلُ أُمَّتِهِ فِي رُؤْيَاهُ
نبی کریم ﷺ کے خواب میں آپ ﷺ کی اور آپ ﷺ کی امت کی مثال
حدیث نمبر: 8399
حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حَدَّثَنَا يحيى بن عبد الله بن ماهان، حَدَّثَنَا محمد بن مِهْران الجمَّال، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن مَغْراء الدَّوْسيّ، حَدَّثَنَا الأزهر بن عبد الله الأَوديُّ، عن محمد بن عَجْلان، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن أبيه قال: لَقِيَ عمرُ بن الخطّاب عليَّ بن أبي طالب فقال: يا أبا الحسن، الرجلُ يرى الرؤيا فمنها ما تَصدُقُ ومنها ما تَكذِب، قال: نعم، سمعت رسولَ الله ﷺ يقول:"ما من عبدٍ ولا أَمَةٍ ينامُ فيمتلئُ نومًا، إِلَّا عُرِجَ برُوحه إلى العرش، فالذي لا يَستيقظُ دونَ العرش، فتلك الرؤيا التي تَصدُقُ، والذي يستيقظُ دونَ العرش، فتلك الرؤيا التي تَكذِبُ" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8199 - حديث منكر
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8199 - حديث منكر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ملے اور کہا: اے ابوالحسن! انسان خواب دیکھتا ہے، ان میں کچھ سچے ہوتے اور کچھ جھوٹے ہوتے ہیں، سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی بھی مرد یا عورت جب نیند میں پوری طرح مستغرق ہو جاتا ہے، تو اس کی روح کو آسمانوں کی طرف لے جایا جاتا ہے، جو روح عرش تک پہنچنے سے پہلے بیدار نہیں ہوتیں، وہ خواب سچے ہوتے ہیں، اور جو روح عرش تک پہنچنے سے پہلے ہی بیدار ہو جاتی ہے وہ خواب جھوٹا ہوتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8399]
14. رُؤْيَا قَارُورَةِ دَمِ الْحُسَيْنِ وَتُرْبَتِهِ
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے خون کی شیشی اور وہاں کی مٹی کا خواب
حدیث نمبر: 8400
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى الذُّهْليُّ، حَدَّثَنَا مسدَّد، حَدَّثَنَا المعتمِر بن سليمان، عن عَوْف، حَدَّثَنَا أبو رَجَاء، عن سَمُرة بن جُندُب قال: كان رسول الله ﷺ يقول:"هل رأى أحدٌ منكم رؤيا؟" قال: فيقصُّ عليه مَن شاء، وإنه قال ذاتَ غَدَاةٍ:"إنه أتاني الليلةَ آتيانِ مَلَكان فقعد أحدُهما عند رأسي والآخرُ عند رجليَّ، فقال الذي عند رجليَّ للذي عند رأسي: اضْرِبْ مَثَل هذا ومَثَلَ أُمتِه، فقال: إِنَّ مَثَلَه ومَثَلَ أُمَّتِهِ كَمَثَل قومٍ سَفْرٍ انتهَوْا إلى رأس مَفازةٍ فلم يكن معهم من الزادِ ما يقطعون به المَفَازةَ ولا ما يَرجِعون به، فبينما هم كذلك إذْ أتاهم رجلٌ مُرجِّلٌ في حُلّةٍ حِبَرَة، فقال: أرأيتم إن وَرَدتُ بكم رِيَاضًا مُعشِبةً وحِياضًا رِوَاءً، أتتَّبعوني؟ فقالوا: نعم، فانطَلَق بهم فأورَدَهم رِياضًا مُعْشِبةً وحِياضًا رِوَاءً، فأكلوا وشربوا وسَمِنوا، فقال لهم: ألم ألْقَكم على تلك الحال فقلتُ لكم: إِنْ وَرَدتُ بكم رياضًا مُعْشِبةً وحِياضًا رِوَاءً، أتتَّبعوني؟ فقالوا: بلى، فقال: إنَّ بين أيديكم رِياضًا أعشَبَ من هذا، وحِياضًا أرْوَى من هذه، فاتَّبِعوني، فقالت طائفةٌ: صدق والله، لنتَّبِعَنَّ، وقالت طائفةٌ: قد رَضِينا بهذا نُقِيمُ عليه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8200 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8200 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھا کرتے تھے کہ کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے، جس نے کوئی خواب دیکھا ہوتا وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا خواب سناتا۔ ایک دفعہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خواب صحابہ کرام کو سنایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گزشتہ رات میرے پاس دو فرشتے آئے، ایک میرے سر کی جانب اور دوسرا قدموں کی جانب کھڑا ہو گیا، ایک نے دوسرے سے کہا: اس کی اور اس کی امت کی کوئی مثال بیان کریں، اس نے کہا: اس کی اور اس کی امت کی مثال یوں ہے جیسے کچھ مسافر اپنی منزل کے بالکل قریب ایک جنگل کے آغاز میں ہوں۔ ان کے پاس اتنا زاد راہ نہ ہو، جس سے وہ اس جنگل کو عبور کر سکیں، اور نہ ہی وہ وہاں سے واپس جا سکتے ہوں، وہ ابھی اسی مخمصے میں ہوں کہ ان کے پاس ایک آدمی آئے، وہ قیمتی جبہ زیب تن کئے ہوئے، بالوں میں کنگھی کئے ہوئے ہو، وہ ان سے کہے: اگر میں تمہیں، پھلدار باغ، اور بھرے ہوئے چشموں تک پہنچا دوں، کیا تم میرے پیچھے چلو گے؟ وہ لوگ کہیں: جی بالکل۔ وہ ان کو ساتھ لے کر چل پڑے، اور ان کو پھلدار باغات اور پانی سے بھرے حوضوں تک پہنچا دے، وہ وہاں سے خوب سیر ہو کر کھائیں اور پئیں، وہ آدمی ان سے کہے: کیا تم سے میری ملاقات تمہاری کسمپرسی کے عالم میں نہیں ہوئی؟ اور میں نے تمہیں کہا تھا: اگر میں تمہیں پھلدار باغات تک اور پانی سے بھرے چشموں تک لے جاؤں تو کیا تم میرے ساتھ چلو گے؟ تم نے کہا تھا: جی بالکل چلیں گے۔ اس نے کہا: تمہارے اگلے زمانے میں اس سے بھی زیادہ پھلدار باغات ہیں، اور اس سے بھی زیادہ پانی سے بھرے ہوئے چشمے ہیں، اس لئے تم میرے پیچھے چلو، تب ایک جماعت نے کہا: اللہ کی قسم! یہ سچ کہہ رہا ہے، ہم ضرور ضرور اس کے پیچھے چلیں گے، اور ایک جماعت نے کہا: ہم تو انہیں باغات پر راضی ہیں، ہم تو یہیں رہیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8400]
حدیث نمبر: 8401
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا بِشْر بن موسى الأَسَدي، حَدَّثَنَا الحسن بن موسى الأشْيَب، حَدَّثَنَا حماد بن سَلَمة، عن عمّار بن أبي عمّار (2) ، عن ابن عبّاس قال: رأيتُ النَّبِيّ ﷺ فيما يرى النائمُ نِصفَ النهار، أشعثَ أغبرَ معه قارورةٌ فيها دم، فقلتُ: يا نبيَّ الله، ما هذا؟ قال:"هذا دمُ الحُسين وأصحابِه، لم أزَلْ أَلتقِطُه منذ اليومِ"، قال: فأُحصيَ ذلك اليومُ فوجدوه قُتل قبل ذلك بيوم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8201 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8201 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے خواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، دوپہر کا وقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زلف عنبریں غبار آلود ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شیشی ہے، اس میں خون ہے۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے۔ میں سارا دن اس خواب کی وجہ سے بہت پریشان رہا، میں نے جب معلومات جمع کیں تو پتہ چلا کہ ایک دن قبل سیدنا حسین اور ان کے ساتھیوں کو شہید کر دیا گیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 8401]