🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. ذِكْرُ رُقْيَةِ النَّمْلَةِ
پھوڑے پھنسی (نملہ) کے لیے دم کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8480
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى الذُّهلي، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا يحيى بن سعيد، عن سفيان. وأخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حَدَّثَنَا أحمد بن محمد بن عيسى، حَدَّثَنَا محمد بن كَثير وأبو حُذَيفة قالا: حَدَّثَنَا سفيان عن محمد بن المُنكَدِر، عن أبي بكر بن سليمان بن أبي حَثْمة، عن حَفْصة: أنَّ امرأةً من قريش يقال لها: الشِّفاء، كانت تَرقِي من النَّمْلة، فقال النَّبِيّ ﷺ:"علِّمِيها حفصةَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8275 - صحيح
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ قریش کی ایک خاتون جنہیں الشفاء کہا جاتا تھا، وہ نملہ (جلد کی ایک بیماری/پھنسیوں) کا دم کیا کرتی تھیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھ سے) فرمایا: (اے حفصہ!) تم حفصہ کو بھی یہ دم سکھا دو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 8480]
تخریج الحدیث: «رجاله في الجملة ثقات، وقد اختُلف في وصله وإرساله كما سلف بيانه عند الحديث (7062)، والراجح إرساله» [ترقيم الرساله 8480] [ترقيم الشركة 8377] [ترقيم العلميه 8275]

الحكم على الحديث: رجاله في الجملة ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8481
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حَدَّثَنَا يحيى بن بُكَير، حَدَّثَنَا اللَّيث، عن عُقيل، عن ابن شِهاب قال: أخبرني عُرْوةُ، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ رأَى في بيت أم سَلَمة زوجِ النَّبِيّ ﷺ جاريةً بوجهها سَفْعةٌ، فقال رسول الله ﷺ:"بها نَظْرةٌ، فاستَرْقُوا لها" (2) .
هذا حديث صحيح (1) على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8276 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک بچی دیکھی جس کے چہرے پر (زردی یا سیاہی کا) نشان تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے نظرِ بد لگی ہے، اس کے لیے دم کرواؤ۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 8481]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، رجاله ثقات عن آخرهم، إلَّا أنَّ المحفوظ فيه: عروة عن زينب بنت أبي سلمة عن أم سلمة، كما رواه محمد بن الوليد الزبيدي عن الزهري فيما سلف عند المصنّف برقم (7676)، والزبيدي أضبط أصحاب الزهري فيه، وذلك أنه كان رجلًا يلازمه كثيرًا حضرًا وسفرًا» [ترقيم الرساله 8481] [ترقيم الشركة 8378] [ترقيم العلميه 8276]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ
تم میں سے جو اپنے بھائی کو نفع پہنچانے کی استطاعت رکھتا ہو وہ ضرور پہنچائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8482
أخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الزُّهري، حَدَّثَنَا مُحاضِر بن المُورِّع، حَدَّثَنَا الأعمش، عن أبي سفيان (2) ، عن جابر بن عبد الله قال: جاء رجلٌ من الأنصار يقال له: عَمرو بن حَزْم، وكان يَرقِي من الحيّة، فقال: يا رسول الله، إنك نهيتَ عن الرُّقى وأنا أَرقي من الحيَّة، قال:"قُصَّها عليَّ"، فقصَّها، فقال:"لا بأسَ بهذه، هذه مَواثيقُ". قال: وجاء خالي من الأنصار، وكان يَرقي من العقرب، فقال: يا رسول الله، إنك نهيتَ عن الرُّقى، وأنا أَرقي من العقرب، قال:"مَن استطاع أن يَنفَعَ أخاه فليَفعَلْ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8277 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انصار کا ایک شخص جسے عمرو بن حزم کہا جاتا تھا حاضر ہوا، وہ سانپ کے ڈسے کا دم کیا کرتا تھا، اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ نے دم کرنے سے منع فرمایا ہے جبکہ میں سانپ کا دم کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مجھے سناؤ، اس نے سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں، یہ تو عہد و پیمان (مواثیق) ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ میرے انصاری ماموں بھی آئے جو بچھو کا دم کیا کرتے تھے، انہوں نے بھی یہی عرض کی کہ آپ نے دم سے منع فرمایا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو اپنے بھائی کو نفع پہنچانے کی استطاعت رکھتا ہو، وہ ضرور ایسا کرے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 8482]
تخریج الحدیث: «حديث قوي، وهذا إسناد حسن من أجل محاضر بن المورِّع، وقد توبع، وأبو سفيان» [ترقيم الرساله 8482] [ترقيم الشركة 8379] [ترقيم العلميه 8277]

الحكم على الحديث: حديث قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8483
حَدَّثَنَا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد حَدَّثَنَا أحمد بن زهير ابن حَرْب، حَدَّثَنَا موسى بن إسماعيل، حَدَّثَنَا حمّاد بن سَلَمة، حَدَّثَنَا عاصم بن بَهْدلة، عن زِرّ بن حُبَيش، عن ابن مسعود قال: قال رسول الله ﷺ:"عُرِضَت عليَّ الأممُ بالمَوسِم، فرأيت جَمْعَهم، فأعجَبَني كَثرتُهم وهيئتُهم قد مَلَؤوا السهلَ والجبلَ، فقيل: أيْ محمدُ، رضيتَ؟ فأقول: نعم أيْ ربِّ، فقال: إنَّ لك مع هؤلاء سبعين ألفًا يدخلون الجنَّة بغير حسابٍ، وهم الذين لا يَسْتَرقُون ولا يَكتَوُون وعلى ربِّهم يتوكَّلون"، فقام عُكَّاشة بن مِحصَن فقال: يا رسولَ الله، ادعُ الله أن يجعلَني منهم، فدعا له، فقام رجلٌ آخرُ، فقال: يا رسول الله، ادعُ الله أن يجعلَني منهم، فقال:"سَبَقَك إليها عُكّاشةُ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد من أوجهٍ، ولم يُخرجاه. وليس فيه نهيٌ عن الرُّقَى، لم يُؤثَر (2) التوكلُ عليه، والدليل على ذلك:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8278 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج کے موسم میں مجھ پر تمام امتیں پیش کی گئیں، میں نے ان کا بڑا اجتماع دیکھا تو ان کی کثرت اور ان کی ہیئت (شان و شوکت) نے مجھے بہت خوش کیا کیونکہ انہوں نے میدان اور پہاڑ بھر دیے تھے۔ مجھ سے پوچھا گیا: اے محمد! کیا آپ راضی ہیں؟ میں نے عرض کی: جی ہاں، اے میرے رب! پھر اللہ نے فرمایا: ان لوگوں کے ساتھ آپ کی امت کے ستر ہزار ایسے لوگ بھی ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو نہ دم کرواتے ہیں، نہ داغواتے ہیں (علاج کے لیے آگ سے جلوانا) اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ یہ سن کر سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے ان میں شامل کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ تم سے بازی لے گئے۔
یہ حدیث کئی طرق سے صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس میں دم (رقیہ) کی ممانعت نہیں ہے بلکہ یہ اس صورت میں ہے جب توکل صرف دم پر ہی کر لیا جائے (یعنی اللہ پر بھروسہ نہ رہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 8483]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم بن بهدلة» [ترقيم الرساله 8483] [ترقيم الشركة 8380] [ترقيم العلميه 8278]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8484
ما حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشاذَ؛ قال أبو بكر: أخبرنا، وقال علي: حَدَّثَنَا بِشْر بن موسى، حَدَّثَنَا الحُميدي، عن سفيان، حَدَّثَنَا ابن أبي نَجِيح، عن مجاهد، عن العَقّار بن المغيرة بن شُعْبة، عن أبيه، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لم يَتوكَّلْ مَن استَرقَى أو اكتَوَى" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8279 - صحيح
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دم کروایا یا (علاج کے لیے بدن کو) داغواتا ہے، اس نے (کامل) توکل نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 8484]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل العقّار بن المغيرة، فقد روى عنه جمع ولم يؤثر توثيقه عن غير العجلي وابن حبان» [ترقيم الرساله 8484] [ترقيم الشركة 8381] [ترقيم العلميه 8279]

الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل العقّار بن المغيرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8485
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا شَيْبان الأُبُلِّي، حَدَّثَنَا جَرير بن حازم، عن سُهَيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النَّبِيّ ﷺ قال:"مَن قال حين يُمسي: أعوذُ بكلماتِ الله التامّاتِ من شرّ ما خَلَقَ، ثلاثَ مرات، لم تَضرَّه حيّةٌ تلك الليلةَ". قال: وكان إذا لُدِغَ من أهله إنسانٌ قال (2) : ما قال الكلماتِ؟! (3)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8280 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے شام کے وقت تین مرتبہ یہ کہا: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» (میں اللہ کے مکمل کلمات کی پناہ مانگتا ہوں اس کی مخلوق کے شر سے)، تو اس رات اسے کوئی سانپ نقصان نہیں پہنچائے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے گھر والوں میں سے کسی کو (بچھو یا سانپ) ڈس لیتا تو وہ فرماتے: کیا اس نے وہ کلمات نہیں کہے تھے؟!
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 8485]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل شيبان الأُبلي: وهو شيبان بن فرُّوخ» [ترقيم الرساله 8485] [ترقيم الشركة 8382] [ترقيم العلميه 8280]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8486
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا مُلازِم بن عمرو. وحدثنا أحمد بن إسحاق الفقيه وأحمد بن جعفر القَطِيعي، قالا: حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل، حدثني أَبي، حَدَّثَنَا عليّ بن المَدِيني، حَدَّثَنَا مُلازِم بن عمرو، حَدَّثَنَا عبد الله بن بَدْر، عن قيس بن طَلْق، عن أبيه: أنه لَدغَتْه عقربٌ عند النَّبِيّ ﷺ، فرَقَاه النَّبِيّ ﷺ ومَسحَ بيدِه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8281 - صحيح
قیس بن طلق اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں بچھو نے ڈس لیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر دم کیا اور اپنے دستِ مبارک سے (متاثرہ جگہ کو) مسح فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 8486]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل قيس بن طلق» [ترقيم الرساله 8486] [ترقيم الشركة 8383] [ترقيم العلميه 8281]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. الدُّعَاءُ عِنْدَ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ
بیمار پرسی کے وقت کی دعا کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8487
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن عفَّان العامِرِي، حَدَّثَنَا عبد الله بن نُمير، حَدَّثَنَا أبو خالد يزيدُ بن عبد الرحمن الدّالانيّ. وحدثنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حَدَّثَنَا إبراهيم بن الحسين، حَدَّثَنَا آدم بن أبي إياس، حَدَّثَنَا شُعبة، عن يزيد بن أبي خالد، عن المِنْهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، عن النَّبِيّ ﷺ قال:"مَن عاد مريضًا لم يَحضُرْه أجلُه، فقال عنده سبعَ مرات: أسألُ الله العظيم، ربَّ العرشِ العظيم، أن يَشفِيَك، إلَّا عافاهُ اللهُ من ذلك المرض" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بعد أن اتَّفقا على حديث المِنهال بن عمرو بإسناده: كان يُعوِّذ الحسنَ والحسينَ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8282 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی ایسے مریض کی عیادت کرے جس کی موت کا وقت ابھی قریب نہ آیا ہو، اور اس کے پاس سات مرتبہ یہ کہے: «أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، أَنْ يَشْفِيَكَ» میں عظمت والے اللہ، جو عرشِ عظیم کا رب ہے، سے سوال کرتا ہوں کہ وہ تمہیں شفاء دے، تو اللہ اسے اس بیماری سے ضرور عافیت عطا فرمائے گا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 8487]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد من أجل يزيد الدالاني، وقد سلف الحديث من طريقه برقم (1284)، وعبد الرحمن بن الحسن القاضي» [ترقيم الرساله 8487] [ترقيم الشركة 8384] [ترقيم العلميه 8282]

الحكم على الحديث: إسناده جيد من أجل يزيد الدالاني
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8488
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي، حَدَّثَنَا سعيد بن مسعود، حَدَّثَنَا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن أبي الأَحوص، عن عبد الله: أنَّ ثلاثةَ نَفرٍ أَتَوا النَّبِيَّ ﷺ فقالوا: إنَّ صاحبًا لنا مريضٌ فوُصِفَ له الكيُّ، فنَكْويهِ؟ فَسَكَت، ثم عادوا فسَكَت، ثم قال في الثالثة:"اكوُوه إنْ شئتُم، وإن شئتُم فارْضِفُوه" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8283 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تین افراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ہمارا ایک ساتھی بیمار ہے اور اس کے لیے (آگ سے) داغنا تجویز کیا گیا ہے، کیا ہم اسے داغیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ انہوں نے دوبارہ پوچھا تو آپ پھر خاموش رہے۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو اسے داغ لو، اور اگر چاہو تو گرم پتھر سے سینک لو۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 8488]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،على اختصار في رواية المصنّف كما بيَّنّاه عند الرواية السالفة برقم (7682)» [ترقيم الرساله 8488] [ترقيم الشركة 8385] [ترقيم العلميه 8283]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8489
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا إسماعيل بن إسحاق القاضي وعليّ بن عبد العزيز البَغَوي، حَدَّثَنَا حجَّاج بن مِنْهال، حَدَّثَنَا حمّاد بن سَلَمة، حَدَّثَنَا أبو التّيّاح، عن مُطرِّف، عن عِمْران بن حُصين قال: نَهَى رسولُ الله ﷺ عن الكَيِّ، فاكتَوَينا، فما أفلَحْنا ولا أنجَحْنا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8284 - على شرط مسلم
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے داغنے سے منع فرمایا، لیکن ہم نے (بیماری کی وجہ سے) داغوایا، تو ہمیں نہ اس سے کوئی فلاح ملی اور نہ ہی کامیابی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 8489]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8489] [ترقيم الشركة 8386] [ترقيم العلميه 8284]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں