مسند الشافعی سے متعلقہ
14. بَابُ الصَّائِمِ يُصْبِحُ جُنُبًا
روزے دار کا حالتِ جنابت میں صبح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 647
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ [ ص: 118 ] بْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَسْمَعُ: إِنِّي أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"وَأَنَا أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ فَأَغْتَسِلُ ثُمَّ أَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ". فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّكَ لَسْتَ مِثْلَنَا، قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:"وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ للَّهِ وَأَعْلَمَكُمْ بِمَا أَتَّقِي" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اور وہ سن رہی تھیں: ”میں صبح کرتا ہوں اور میں جنبی ہوتا ہوں اور میرا روزے کا بھی ارادہ ہوتا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی صبح کو اٹھتا ہوں اور جنبی ہوتا ہوں اور میرا روزے کا بھی ارادہ ہوتا ہے، میں پہلے غسل کرتا ہوں پھر اس دن کا روزہ رکھتا ہوں۔“ اس آدمی نے کہا: ”آپ اور ہم برابر نہیں ہیں اس لیے کہ اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیے ہیں۔“ (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آگیا اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں، اور تم سب سے زیادہ ان (حدود) کو جاننے والا ہوں جن سے بچنا ضروری ہوں۔“ [مسند الشافعی/ كتاب الصيام /حدیث: 647]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم، الصيام، باب صحة صوم من طلع عليه الفجر وهو جنب (1110).»
حدیث نمبر: 648
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى الْبَابِ وَأَنَا أَسْمَعُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصَّوْمَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"وَأَنَا أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ فَأَغْتَسِلُ وَأَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ" .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جبکہ وہ دروازے پر کھڑا تھا میں سن رہی تھی، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جنابت میں صبح کرتا ہوں اور میرا روزے کا بھی ارادہ ہوتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی حالتِ جنابت میں صبح کرتا ہوں اور میں روزہ کا بھی ارادہ رکھتا ہوں، میں پہلے غسل کرتا ہوں، اور پھر اس دن کا روزہ رکھتا ہوں۔“ [مسند الشافعی/ كتاب الصيام /حدیث: 648]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم، الصيام، باب صحة صوم من طلع عليه الفجر وهو جنب (1110).»
حدیث نمبر: 649
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ: أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: كُنْتُ أَنَا وَأَبِي عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ، فَذَكَرَ لَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا أَفْطَرَ ذَلِكَ الْيَوْمَ. فَقَالَ مَرْوَانُ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَتَذْهَبَنَّ إِلَى أُمَّيِ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَلْتَسْأَلَنَّهُمَا عَنْ ذَلِكَ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَذَهَبْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَلَّمَ عَلَيْهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّا كُنَّا عِنْدَ مَرْوَانَ فَذُكِرَ لَنَا أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا أَفْطَرَ ذَلِكَ الْيَوْمَ. فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: لَيْسَ كَمَا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، أَتَرْغَبُ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ؟ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: لَا وَاللَّهِ يَا عَائِشَةُ. فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَأَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ كَانَ لَيُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ [ ص: 119 ] جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلَامٍ، ثُمَّ يَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ. قَالَ: ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ مِثْلَ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَخَرَجْنَا حَتَّى جِئْنَا مَرْوَانَ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَا قَالَتَا فَأَخْبَرَهُ. فَقَالَ مَرْوَانُ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ لَتَرْكَبَنَّ دَابَّتِي بِالْبَابِ فَلْتَأْتِ أَبَا هُرَيْرَةَ فَلْتُخْبِرْهُ بِذَلِكَ. فَرَكِبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَرَكِبْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَتَحَدَّثَ مَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ سَاعَةً ثُمَّ ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَا عِلْمَ لِي بِذَلِكَ إِنَّمَا أَخْبَرَنِيهِ مُخْبِرٌ.
ابوبکر بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرا باپ مدینہ کے گورنر مروان بن حکم کے پاس تھے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے متعلق ذکر کیا گیا کہ وہ کہتے ہیں: ”جس نے حالت جنابت میں صبح کی وہ اس دن روزہ چھوڑ دے۔“ مروان نے کہا: اے عبدالرحمن! میں تجھے قسم دے کر کہتا ہوں کہ تو امہات المؤمنین سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما کے پاس جا اور ان دونوں سے اس کے متعلق ضرور پوچھ۔ ابوبکر کہتے ہیں: عبدالرحمن گئے اور میں بھی ان کے ساتھ گیا حتیٰ کہ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، عبدالرحمن نے انہیں سلام کیا اور کہا: اے ام المؤمنین! ہم مروان کے پاس تھے کہ ہمارے سامنے ذکر ہوا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس نے حالت جنابت میں صبح کی وہ اس دن روزہ افطار کرے گا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اے عبدالرحمن! بات اس طرح نہیں جس طرح ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہی ہے، کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے اعراض کرے گا؟“ عبدالرحمن نے کہا: اللہ کی قسم! بالکل نہیں اے عائشہ رضی اللہ عنہا! تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گواہی دیتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جماع کی وجہ سے، نہ کہ احتلام کی وجہ سے، حالت جنابت میں صبح ہوتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس روز روزہ رکھتے۔“ ابوبکر کہتے ہیں: پھر ہم نکلے اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آئے۔ ان سے بھی اس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے بھی وہی بات کہی جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہی تھی۔ ابوبکر کہتے ہیں: ہم نکلے یہاں تک کہ مروان کے پاس آئے۔ عبدالرحمن نے اسے وہی بات بتلائی جو ان دونوں (ازواجِ مطہرات صلی اللہ علیہ وسلم ) نے کہی تھی۔ تو مروان نے کہا: اے ابو محمد! میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ تو ضرور دروازے پر کھڑی سواری پر سوار ہو کر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس جائے گا اور انہیں اس کے متعلق بتائے گا۔ ابوبکر کہتے ہیں: عبدالرحمن سوار ہوئے تو میں بھی ان کے ساتھ سوار ہو گیا، حتیٰ کہ ہم ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، عبدالرحمن نے ان کے ساتھ کچھ دیر (ارد گرد کی) باتیں کیں پھر یہ ماجرہ ان سے کہا، تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے تو اس کا کچھ علم نہیں، ایک بتانے والے نے مجھے ایسا ہی بتایا تھا۔“ [مسند الشافعی/ كتاب الصيام /حدیث: 649]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الصوم، باب الصائم، يصبح جنبا (1925)، (1926)، ومسلم، الصيام، باب صحة صوم من طلع عليه الفجر وهو جنب (1109).»
حدیث نمبر: 650
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْرِكُهُ الصُّبْحُ وَهُوَ جُنُبٌ فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ يَوْمَهُ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الصِّيَامِ وَإِلَى آخِرِ الرَّابِعِ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صبح ہو جاتی، اور آپ جنبی ہوتے، پھر غسل فرماتے اور اس دن کا روزہ رکھتے۔ [مسند الشافعی/ كتاب الصيام /حدیث: 650]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الصوم، باب اغتسال الصائم (1930) . ومسلم، الصيام، باب صحة صوم من طلع عليه الفجر وهو جنب (1109).»
15. بَابُ مَنْ أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ مِنْ جِمَاعٍ وَكَفَّارَتِهِ وَإِفْطَارِ مَنْ خَافَتْ عَلَى وَلَدٍ
رمضان میں جماع کے ذریعے روزہ توڑنے والے، اس کے کفارے اور اپنے بچے کی وجہ سے ڈرنے والی عورت کے روزہ چھوڑنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 651
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَجُلًا أَفْطَرَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ أَوْ صِيَامِ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ أَوْ إِطْعَامِ سِتِّينَ مِسْكِينًا، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَجِدُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ بِعَرَقِ تَمْرٍ، فَقَالَ:"خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَحَدٌ أَحْوَجَ مِنِّي، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ ثَنَايَاهُ ثُمَّ قَالَ:"كُلْهُ" . قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَكَانَ فِطْرُهُ بِجِمَاعٍ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رمضان میں (جماع سے) روزہ توڑ دیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک گردن آزاد کرنے یا دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم دیا۔ اس آدمی نے کہا: ”میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجوروں کا ایک بڑا تھیلا پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے لو اور صدقہ کردو۔“ اس آدمی نے کہا: مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح ہنسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کے دانت نظر آنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا، (جاؤ اور) اسے خود ہی کھا لو۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس کا روزہ جماع کرنے کی وجہ سے ٹوٹا تھا۔“ [مسند الشافعی/ كتاب الصيام /حدیث: 651]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصوم، باب اذا جامع في رمضان ولم يكن له شيء فتصدق عليه فليكفر (1936)، (1937) . ومسلم، الصيام، باب تغليظ تحريم الجماع في نهار رمضان على الصائم، ووجوب الكفارة .... الخ (1111).»
حدیث نمبر: 652
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: أَتَى أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْتِفُ شَعْرَهُ، وَيَضْرِبُ نَحْرَهُ، وَيَقُولُ: هَلَكَ الْأَبْعَدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: أَصَبْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَعْتِقَ رَقَبَةً"؟ قَالَ: لَا. قَالَ:"فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُهْدِيَ بَدَنَةً"؟ قَالَ: لَا. قَالَ:"فَاجْلِسْ". قَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقِ تَمْرٍ فَقَالَ: خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ، قَالَ: مَا أَجِدُ أَحَدًا أَحْوَجَ مِنِّي، قَالَ:"فَكُلْهُ، وَصُمْ يَوْمًا مَكَانَ مَا أَصَبْتَ" . قَالَ عَطَاءٌ: فَسَأَلْتُ سَعِيدًا: كَمْ فِي ذَلِكَ الْعَرَقِ؟ قَالَ: مَا بَيْنَ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا إِلَى عِشْرِينَ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، وہ اپنے بال نوچ رہا تھا اور اپنے سینے کو پیٹ رہا تھا، اور کہہ رہا تھا: اور اپنے سینے کو پیٹ رہا تھا اور کہہ رہا تھا دوری نے ہلاک کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ہوا؟“ اس نے کہا: ”میں نے رمضان میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کر لیا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو غلام آزاد کرنے کی طاقت رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو اونٹ کی قربانی کی طاقت رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا، بیٹھ جا۔“ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجوروں کا ایک بڑا تھیلا پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے لو اور صدقہ کر دو۔“ اس آدمی نے کہا: ”میں اپنے آپ سے بڑھ کر کسی کو محتاج نہیں پاتا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو کھاؤ، اور اس (جماع والے) دن کے بدلے کسی اور دن روزہ رکھو۔“ عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے پوچھا: ”اس تھیلے میں کتنی کھجوریں تھیں؟“ تو انہوں نے جواب دیا کہ 15 سے 20 صاع کے درمیان تھیں۔ [مسند الشافعی/ كتاب الصيام /حدیث: 652]
تخریج الحدیث: «صحيح ثبت موصولا من طريق ابن المسيب اخرجه ابن ماجة، الصيام، باب ماجاء في كفارة من أفطر يوما من رمضان (1671) وانظر الحديث السابق برقم (651).»
حدیث نمبر: 653
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ الْحَامِلِ إِذَا خَافَتْ عَلَى وَلَدِهَا، قَالَ: تُفْطِرُ وَتُطْعِمُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا مُدًّا مِنْ حِنْطَةٍ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الصِّيَامِ، وَالثَّالِثَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حاملہ عورت کے متعلق پوچھا گیا کہ جب اسے بچے کا خدشہ ہو تو کیا کرے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: روزہ نہ رکھے اور ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو گندم کا ایک مد کھلا دے۔ [مسند الشافعی/ كتاب الصيام /حدیث: 653]
تخریج الحدیث: «صحيح اخرجه البيهقي: 230/4 وفي المعرفة السنن والآثار له (2488).»
16. بَابٌ فِي الْحِجَامَةِ
حجامہ کا بیان
حدیث نمبر: 654
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَانَ الْفَتْحِ، فَرَأَى رَجُلًا يَحْتَجِمُ لِثَمَانِ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ، فَقَالَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي:"أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ".
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے زمانے میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے سنگی لگوائی ہوئی ہے جبکہ رمضان کے 18 دن گزر چکے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور فرمایا: ”سنگی لگانے اور لگوانے والے دونوں نے روزہ توڑ دیا۔“ [مسند الشافعی/ كتاب الصيام /حدیث: 654]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابوداود، الصيام، باب في الصائم يحتجم (2369) وابن ماجة، الصيام، باب ماجاء في الحجامة للصائم (1681) . وصححه الحاكم: (1/ 429 428).»
حدیث نمبر: 655
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ مُحْرِمًا صَائِمًا.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں روزہ سے سنگی لگوائی۔ [مسند الشافعی/ كتاب الصيام /حدیث: 655]
تخریج الحدیث: «صحيح من غير هذا الطريق، اخرجه البخاري، الصوم، باب الحجامة والقئ للصائم (1938)، (1939).»
حدیث نمبر: 656
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ كَانَ يَحْتَجِمُ وَهُوَ صَائِمٌ، ثُمَّ تَرَكَ ذَلِكَ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ، وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ الصِّيَامِ
نافع رحمہ اللہ سے مروی ہے وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما پہلے روزے کی حالت میں سنگی لگواتے تھے پھر بعد میں چھوڑ دی۔ [مسند الشافعی/ كتاب الصيام /حدیث: 656]
تخریج الحدیث: «اسناده صحیح اخرجه مالك في الموطا الصيام، باب حجامة الصائم والبيهقي: 4/ 269 ـ وفي المعرفة السنن والآثار له، رقم: (2545).»