🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب مَا جَاءَ فِي الْهِجْرَةِ وَسُكْنَى الْبَدْوِ
باب: ہجرت کا ذکر اور صحراء و بیابان میں رہائش کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2477
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَ: وَيْحَكَ إِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ شَدِيدٌ فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَهَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا".
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اوپر افسوس ہے! ۱؎ ہجرت کا معاملہ سخت ہے، کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: ہاں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ان کی زکاۃ دیتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں (دیتے ہیں)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر سمندروں کے اس پار رہ کر عمل کرو، اللہ تمہارے عمل سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2477]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے متعلق دریافت کیا (مدینہ منورہ میں سکونت کے لیے بیعت کرنی چاہی)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر افسوس! ہجرت کا معاملہ انتہائی سخت ہے، کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ان کی زکوٰۃ دیتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان بستیوں کے پار عمل کیے جاؤ، اللہ تعالیٰ تمہارے عمل میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2477]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الزکاة 36 (1452)، والھبة 35 (2633)، ومناقب الأنصار 45 (3923)، والأدب 95 (6165)، صحیح مسلم/الإمارة 20 (1865)، سنن النسائی/البیعة 11 (4169)، (تحفة الأشراف: 1453، 15542)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/14، 64) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: حدیث میں «ویحک» ‏‏‏‏ (تمہارے اوپر افسوس ہے!) کا لفظ کلمہ ترحم و توجع ہے اور اس شخص کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو کسی ایسی تباہی میں پھنس گیا ہو جس کا وہ مستحق نہ ہو۔
۲؎: مفہوم یہ ہے کہ تمہاری جیسی نیت ہے اس کے مطابق تمہیں ہجرت کا ثواب ملے گا تم خواہ کہیں بھی رہو، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہجرت ان لوگوں پر واجب ہے جو اس کی طاقت رکھتے ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6165) صحيح مسلم (1865)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2478
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عنها عَنِ الْبَدَاوَةِ، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْدُو إِلَى هَذِهِ التِّلَاعِ وَإِنَّهُ أَرَادَ الْبَدَاوَةَ مَرَّةً فَأَرْسَلَ إِلَيَّ نَاقَةً مُحَرَّمَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَقَالَ لِي:"يَا عَائِشَةُ ارْفُقِي فَإِنَّ الرِّفْقَ لَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا زَانَهُ وَلَا نُزِعَ مِنْ شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا شَانَهُ".
شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحراء و بیابان (میں زندگی گزارنے) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان ٹیلوں پر جایا کرتے تھے، آپ نے ایک بار صحراء میں جانے کا ارادہ کیا تو میرے پاس صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ بھیجا جس پر سواری نہیں ہوئی تھی، اور مجھ سے فرمایا: عائشہ! اس کے ساتھ نرمی کرنا کیونکہ جس چیز میں بھی نرمی ہوتی ہے وہ اسے عمدہ اور خوبصورت بنا دیتی ہے، اور جس چیز سے بھی نرمی چھین لی جائے تو وہ اسے عیب دار کر دیتی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2478]
مقدام بن شریح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ بستی اور دیہات میں سکونت اختیار کرنا کیسا ہے؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کبھی کبھار) ان ٹیلوں اور میدانوں کی طرف چلے جایا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار باہر جانے کا ارادہ فرمایا اور میری طرف صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک جوان اونٹنی بھیجی (کہ سواری کے دوران میں اس پر کچھ سختی کرنی پڑی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! نرم خوئی سے کام لو، نرمی جس چیز میں بھی آ جائے وہ مزین ہو جاتی ہے اور جس سے نکال لی جائے، وہ عیب دار ہو جاتی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2478]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، ویأتی ہذا الحدیث في الأدب (4808)، (تحفة الأشراف: 16150)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البر والصلة 23 (2594)، مسند احمد (6/58، 222) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس میں سے صرف قول رسول صلی اللہ علیہ وسلم صحیح ہے اور اتنا ہی صحیح مسلم میں ہے، ٹیلوں پرجانے کا واقعہ صحیح نہیں ہے، اور یہ مؤلف کا تفرد ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح م دون جملة التلاع
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
شريك القاضي تابعه شعبة عند مسلم (2594)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب فِي الْهِجْرَةِ هَلِ انْقَطَعَتْ
باب: کیا ہجرت ختم ہو گئی؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2479
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ حَتَّى تَنْقَطِعَ التَّوْبَةُ، وَلَا تَنْقَطِعُ التَّوْبَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا".
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ہجرت ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ توبہ کا سلسلہ ختم ہو جائے، اور توبہ ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ سورج پچھم سے نکل آئے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2479]
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ہجرت ختم نہیں ہو سکتی، حتیٰ کہ توبہ منقطع ہو جائے، اور توبہ اس وقت تک منقطع نہیں ہوگی، حتیٰ کہ سورج مغرب سے طلوع ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2479]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11459)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/99)، دي / السیر 70 (2555) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس لئے اگر ممکن ہو تو دارلکفر سے دارالاسلام کی طرف، اور دارالمعاصی سے دارالصلاح کی طرف ہجرت ہمیشہ بہتر ہے، ورنہ فی زمانہ کوئی بھی ملک دوسرے ملک کے شہری کو اپنے یہاں منتقل ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (2346)
وللحديث شاھد عند أحمد (1/192) والطحاوي في مشكل الآثار (3/259)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2480
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَوْمَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَكَّةَ لَا هِجْرَةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح (مکہ) کے دن فرمایا: اب (مکہ فتح ہو جانے کے بعد مکہ سے) ہجرت نہیں (کیونکہ مکہ خود دارالاسلام ہو گیا) لیکن جہاد اور (ہجرت کی) نیت باقی ہے، جب تمہیں جہاد کے لیے نکلنے کو کہا جائے تو نکل پڑو۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2480]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز فرمایا: (اب) ہجرت نہیں ہے، لیکن جہاد اور نیت باقی ہے، جب تمہیں جہاد کے لیے دعوت دی جائے تو نکل کھڑے ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2480]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (2018)، (تحفة الأشراف: 5748) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2018)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2481
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو وَعِنْدَهُ الْقَوْمُ حَتَّى جَلَسَ عِنْدَهُ، فَقَالَ أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ".
عامر شعبی کہتے ہیں کہ ایک آدمی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، ان کے پاس کچھ لوگ بیٹھے تھے یہاں تک کہ وہ بھی آ کر آپ کے پاس بیٹھ گیا اور کہنے لگا: مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ رہیں، اور مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کردہ چیزوں کو چھوڑ دے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2481]
عامر (شعبی) نے کہا: ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جب کہ ان کے پاس اور کچھ لوگ بھی موجود تھے، وہ بھی ان کے پاس بیٹھ گیا اور کہا: مجھے کوئی ایسی بات بتائیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں اور مہاجر وہ ہے جو اللہ کے منع کیے ہوئے کاموں سے باز رہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2481]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الإیمان 4 (10)، (تحفة الأشراف: 8834)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإیمان 9 (40)، مسند احمد (2/160، 163، 192، 193، 205، 212، 224)، سنن الدارمی/الرقاق 8 (2785) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (10)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب فِي سُكْنَى الشَّامِ
باب: شام میں رہنے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2482
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" سَتَكُونُ هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَةٍ فَخِيَارُ أَهْلِ الأَرْضِ أَلْزَمُهُمْ مُهَاجَرَ إِبْرَاهِيمَ وَيَبْقَى فِي الأَرْضِ شِرَارُ أَهْلِهَا تَلْفِظُهُمْ أَرْضُوهُمْ تَقْذَرُهُمْ نَفْسُ اللَّهِ وَتَحْشُرُهُمُ النَّارُ مَعَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: عنقریب ہجرت کے بعد ہجرت ہو گی تو زمین والوں میں بہتر وہ لوگ ہوں گے جو ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت گاہ (شام) کو لازم پکڑیں گے، اور زمین میں ان کے بدترین لوگ رہ جائیں گے، ان کی سر زمین انہیں باہر پھینک دے گی ۱؎ اور اللہ کی ذات ان سے گھن کرے گی اور آگ انہیں بندروں اور سوروں کے ساتھ اکٹھا کرے گی ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2482]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ہجرت کے بعد ہجرت ہوتی رہے گی، زمین کے باسیوں میں سب سے بہتر وہ لوگ ہوں گے جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے دارِ ہجرت کو اختیار کیے ہوں گے، اور (قرب قیامت کے وقت) برے لوگ ہی رہ جائیں گے، ان کی زمینیں انہیں نکال باہر پھینکیں گی، اللہ عزوجل بھی انہیں برا جانے گا اور آگ ان لوگوں کو بندروں اور خنزیروں کے ساتھ جمع کرے گی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2482]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8828)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/209، 198) (حسن)» ‏‏‏‏ (لیکن دوسرے طریق اور شاہد سے تقویت پا کر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة: 3203، وتراجع الالبانی: 4)
وضاحت: ۱؎: یعنی وہ ایک ملک سے دوسرے ملک بھاگتے پھریں گے۔
۲؎: اس سے قیامت کے دن والا حشر مراد نہیں ہے نیز یہاں آگ سے مراد فتنے کی آگ ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (6275)
وللحديث شاھد عند الحاكم (4/510، 511 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2483
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي بَحِيرٌ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي ابْنَ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي قُتَيْلَةَ، عَنْ ابْنِ حَوَالَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَيَصِيرُ الْأَمْرُ إِلَى أَنْ تَكُونُوا جُنُودًا مُجَنَّدَةً جُنْدٌ بِالشَّامِ وَجُنْدٌ بِالْيَمَنِ وَجُنْدٌ بِالْعِرَاقِ"، قَالَ ابْنُ حَوَالَةَ: خِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ فَقَالَ:" عَلَيْكَ بِالشَّامِ فَإِنَّهَا خِيرَةُ اللَّهِ مِنْ أَرْضِهِ يَجْتَبِي إِلَيْهَا خِيرَتَهُ مِنْ عِبَادِهِ فَأَمَّا إِنْ أَبَيْتُمْ فَعَلَيْكُمْ بِيَمَنِكُمْ وَاسْقُوا مِنْ غُدُرِكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ تَوَكَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ".
عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ تم الگ الگ ٹکڑیوں میں بٹ جاؤ گے، ایک ٹکڑی شام میں، ایک یمن میں اور ایک عراق میں۔ ابن حوالہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیے اگر میں وہ زمانہ پاؤں تو کس ٹکڑی میں رہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے اوپر شام کو لازم کر لو، کیونکہ شام کا ملک اللہ کی بہترین سر زمین ہے، اللہ اس ملک میں اپنے نیک بندوں کو جمع کرے گا، اگر شام میں نہ رہنا چاہو تو اپنے یمن کو لازم پکڑنا اور اپنے تالابوں سے پانی پلانا، کیونکہ اللہ نے مجھ سے شام اور اس کے باشندوں کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2483]
سیدنا عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حالات اس طرح ہو جائیں گے کہ تم لوگ مختلف گروہوں اور لشکروں میں جمع ہو جاؤ گے، ایک لشکر شام میں ہو گا، ایک یمن میں اور ایک عراق میں۔ ابن حوالہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے لیے منتخب فرما دیجیے، اگر یہ حالات پاؤں، تو کہاں سکونت اختیار کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شام کو اختیار کر لینا، بلاشبہ یہ علاقہ اللہ عز و جل کا پسندیدہ ہے، اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ بندوں کو یہیں جمع فرما دے گا، لیکن اگر تم لوگ اس سے انکار کرو، تو پھر اپنے یمن کو اختیار کرنا اور اپنے تالابوں کا پانی پینا، بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے شام اور اہل شام کے متعلق (فتنوں سے حفاظت کی) ضمانت دی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2483]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10852)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/110) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: شام فتنوں سے محفوظ رہے گا اور وہاں کے رہنے والوں کو اللہ فتنہ کے ذریعہ ہلاک نہیں کرے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (6276)
رواية بقية بن الوليد الحمصي عن بحير بن سعد محمولة علي السماع، سواء صرح أو لم يصرح، انظر الفتح المبين (117/4 ص 136)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. باب فِي دَوَامِ الْجِهَادِ
باب: جہاد کے ہمیشہ رہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2484
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ حَتَّى يُقَاتِلَ آخِرُهُمُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ ۱؎ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا اور ان لوگوں پر غالب رہے گا جو ان سے دشمنی کریں گے یہاں تک کہ ان کے آخری لوگ مسیح الدجال سے قتال کریں گے ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2484]
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کے لیے قتال کرتا رہے گا اور وہ اپنے مقابل آنے والوں پر غالب رہیں گے حتیٰ کہ ان کا آخری گروہ مسیح دجال سے لڑائی کرے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2484]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10852)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/429، 433، 437) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: امام بخاری کہتے ہیں: اس سے مراد اہل علم ہیں، اور امام احمد بن حنبل کہتے ہیں: اس سے مراد اگر اہل الحدیث نہیں ہیں تو میں نہیں جانتا کہ کون لوگ ہیں۔
۲؎: اس سے مراد امام مہدی اور عیسیٰ ہیں، اور ان دونوں کے متبعین ہیں عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اترنے کے بعد دجال کو قتل کریں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3819)
قتادة تابعه أبو العلاء يزيد بن عبد الله بن الشخير عند أحمد (4/434)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. باب فِي ثَوَابِ الْجِهَادِ
باب: جہاد کے ثواب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2485
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْمَلُ إِيمَانًا، قَالَ:" رَجُلٌ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، وَرَجُلٌ يَعْبُدُ اللَّهَ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ قَدْ كُفِيَ النَّاسُ شَرَّهُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا مومن سب سے زیادہ کامل ایمان والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص جو اللہ کے راستے میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرے، نیز وہ شخص جو کسی پہاڑ کی گھاٹی ۱؎ میں اللہ کی عبادت کرتا ہو، اور لوگ اس کے شر سے محفوظ ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2485]
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ مومنوں میں سے کون سا آدمی کامل ایمان والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال سے جہاد کرتا ہو، اور وہ آدمی جو پہاڑ کی کسی گھاٹی میں اللہ کی عبادت میں مشغول ہو اور لوگوں کو اس کی برائی نہ پہنچتی ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2485]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الجھاد 2 (2786)، والرقاق 34 (6494)، صحیح مسلم/الإمارة 34 (1888)، سنن الترمذی/فضائل الجھاد 24 (1660)، سنن النسائی/الجھاد 7 (3107)، سنن ابن ماجہ/الفتن 13 (3978)، (تحفة الأشراف: 4151)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/16، 37، 56، 88) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ شرط نہیں ہے، اسے بطور مثال ذکر کیا گیا ہے کیونکہ عموماً گھاٹیوں میں تنہائی ہوتی ہے، اس سے گوشہ نشینی کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کیونکہ آدمی بے کار باتوں اور لغو چیزوں سے محفوظ رہتا ہے لیکن یہ فتنہ کے زمانہ کے ساتھ خاص ہے، اور فتنہ نہ ہونے کی صورت میں جمہور کے نزدیک عام لوگوں سے اختلاط اور میل جول ہی زیادہ بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2886) صحيح مسلم (1888)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. باب فِي النَّهْىِ عَنِ السِّيَاحَةِ
باب: سیاحت کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2486
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ أَبُو الْجَمَاهِرِ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِي السِّيَاحَةِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ سِيَاحَةَ أُمَّتِي الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے سیاحت کی اجازت دے دیجئیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کی سیاحت اللہ کے راہ میں جہاد کرنا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2486]
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور اجازت مانگی کہ مجھے سیاحت کی اجازت مرحمت فرمائیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ میری امت کی سیاحت جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2486]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4901) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (724)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں