🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب فِي صَفَايَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَمْوَالِ
باب: مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے جو مال منتخب کیا اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2968
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهِبٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ،عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكَ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ"، إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام مِنْهَا شَيْئًا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے (کسی کو) ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، وہ ان سے اپنی میراث مانگ رہی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ترکہ میں سے جسے اللہ نے آپ کو مدینہ اور فدک میں اور خیبر کے خمس کے باقی ماندہ میں سے عطا کیا تھا، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہے، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل اولاد اس مال سے صرف کھا سکتی ہے (یعنی کھانے کے بمقدار لے سکتی ہے)، اور میں قسم اللہ کی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صدقہ کی جو صورت حال تھی اس میں ذرا بھی تبدیلی نہ کروں گا، میں اس مال میں وہی کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے، حاصل یہ کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس مال میں سے (بطور وراثت) کچھ دینے سے انکار کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2968]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ دختر رسول سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاں کہلا بھیجا کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ورثے سے حصہ دیا جائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بطور فے مدینہ منورہ، فدک اور خیبر کے خمس کا بقیہ چھوڑ گئے ہیں، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے، البتہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا خرچہ (حسب سابق) اس مال سے پورا کیا جائے گا۔ اور اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ کو اس حالت سے، جس پر آپ اسے اپنی زندگی میں چھوڑ گئے ہیں، تبدیل نہیں کر سکتا، میں اس میں اس طرح عمل کروں گا جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے رہے ہیں۔ الغرض سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس میں سے کچھ دینے سے انکار کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2968]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الخمس 1 (3092)، وفضائل الصحابة 12 (3711)، والمغازي 14 (4035)، 38 (4241)، والفرائض3 (6725)، صحیح مسلم/الجھاد 16 (1759)، سنن النسائی/الفيء (4146)، (تحفة الأشراف: 6630)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/4، 6، 9، 10، 6/145، 262) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4240، 4241) صحيح مسلم (1759)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2969
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: وَفَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام حِينَئِذٍ تَطْلُبُ صَدَقَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكَ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ"، وَإِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ فِي هَذَا الْمَالِ يَعْنِي مَالَ اللَّهِ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَزِيدُوا عَلَى الْمَأْكَلِ.
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے یہی حدیث روایت کی ہے، اس میں یہ ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اس وقت (اپنے والد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس صدقے کی طلب گار تھیں جو مدینہ اور فدک میں تھا اور جو خیبر کے خمس میں سے بچ رہا تھا، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہے، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد اس مال میں سے (یعنی اللہ کے مال میں سے) صرف اپنے کھانے کی مقدار لے گی اس مال میں خوراکی کے سوا ان کا کوئی حق نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2969]
عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں یہ حدیث بیان کی، اس روایت میں عروہ کہتے ہیں کہ: ان دنوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد) سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس صدقے کا مطالبہ کیا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ، فدک اور خیبر کے خمس کا بقیہ چھوڑ گئے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تھا: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ بھی چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسی مال میں سے کھائیں گے۔ یعنی اللہ کے مال میں سے اور انہیں حق نہیں کہ کھانے پینے کے اخراجات سے زیادہ لیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2969]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6630) (صحیح)» ‏‏‏‏ (لیکن  «مال اللہ»  کا لفظ صحیح نہیں اور یہ مؤلف کے سوا کسی اور کے یہاں بھی نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون قوله يعني مال الله
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3711، 3712)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2970
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَخْبَرَتْهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ فِيهِ: فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَيْهَا ذَلِكَ، وَقَالَ: لَسْتُ تَارِكًا شَيْئًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِ إِلَّا عَمِلْتُ بِهِ، إِنِّي أَخْشَى إِنْ تَرَكْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ أَنْ أَزِيغَ فَأَمَّا صَدَقَتُهُ بِالْمَدِينَةِ فَدَفَعَهَا عُمَرُ إِلَى عَلِيٍّ، وَعَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَغَلَبَهُ عَلِيٌّ عَلَيْهَا وَأَمَّا خَيْبَرُ وَفَدَكُ فَأَمْسَكَهُمَا عُمَرُ وَقَالَ: هُمَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتَا لِحُقُوقِهِ الَّتِي تَعْرُوهُ وَنَوَائِبِهِ وَأَمْرُهُمَا إِلَى مَنْ وَلِيَ الأَمْرَ، قَالَ: فَهُمَا عَلَى ذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ.
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے اس میں یہ ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کے دینے سے انکار کیا اور کہا: میں کوئی ایسی چیز چھوڑ نہیں سکتا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے رہے ہوں، میں بھی وہی کروں گا، میں ڈرتا ہوں کہ آپ کے کسی حکم کو چھوڑ کر گمراہ نہ ہو جاؤں۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کے مدینہ کے صدقے کو علی اور عباس رضی اللہ عنہما کی تحویل میں دے دیا، علی رضی اللہ عنہ اس پر غالب اور قابض رہے، رہا خیبر اور فدک تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو روکے رکھا اور کہا کہ یہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ صدقے ہیں جو آپ کی پیش آمدہ ضروریات اور مشکلات و حوادث، مجاہدین کی تیاری، اسلحہ کی خریداری اور مسافروں کی خبرگیری وغیرہ امور) میں کام آتے تھے ان کا اختیار اس کو رہے گا جو والی (یعنی خلیفہ) ہو۔ راوی کہتے ہیں: تو وہ دونوں آج تک ایسے ہی رہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2970]
جناب عروہ نے مجھے خبر دی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں یہ حدیث بیان کی۔ عروہ نے اس روایت میں بیان کیا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کچھ دینے سے) انکار کر دیا اور کہا: جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے رہے ہیں، میں اس میں سے کچھ ترک نہیں کروں گا، اگر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے میں سے کچھ بھی ترک کر دیا، تو مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں گمراہ نہ ہو جاؤں۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ صدقہ جو مدینے میں تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی تولیت میں دے دیا، بعد ازاں اس معاملے میں علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ پر غالب آ گئے تھے۔ خیبر اور فدک کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی نگرانی میں رکھا اور کہا: یہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ صدقہ ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتفاقی حقوق و اخراجات کے لیے تھے، ان کی تولیت خلیفہ وقت کے ہاتھ میں ہو گی۔ چنانچہ وہ آج تک اسی طرح ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2970]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (2968)، (تحفة الأشراف: 6630) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3092) صحيح مسلم (1759)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2971
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، فِي قَوْلِهِ: فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلا رِكَابٍ سورة الحشر آية 6، قَالَ: صَالَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ فَدَكَ وَقُرًى قَدْ سَمَّاهَا لَا أَحْفَظُهَا وَهُوَ مُحَاصِرٌ قَوْمًا آخَرِينَ، فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ بِالصُّلْحِ قَالَ: فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلا رِكَابٍ سورة الحشر آية 6، يَقُولُ: بِغَيْرِ قِتَالٍ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَكَانَتْ بَنُو النَّضِيرِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِصًا لَمْ يَفْتَحُوهَا عَنْوَةً افْتَتَحُوهَا عَلَى صُلْحٍ، فَقَسَمَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ لَمْ يُعْطِ الْأَنْصَارَ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا رَجُلَيْنِ كَانَتْ بِهِمَا حَاجَةٌ.
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ اللہ نے جو فرمایا ہے: «فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب» یعنی تم نے ان مالوں کے واسطے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے یعنی بغیر جنگ کے حاصل ہوئے (سورۃ الحشر: ۶) تو ان کا قصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل فدک اور کچھ دوسرے گاؤں والوں سے جن کے نام زہری نے تو لیے لیکن راوی کو یاد نہیں رہا صلح کی، اس وقت آپ ایک اور قوم کا محاصرہ کئے ہوئے تھے، اور ان لوگوں نے آپ کے پاس بطور صلح مال بھیجا تھا، اس مال کے تعلق سے اللہ نے فرمایا: «فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب» یعنی بغیر لڑائی کے یہ مال ہاتھ آیا (اور اللہ نے اپنے رسول کو دیا)۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں بنو نضیر کے مال بھی خالص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھے، لوگوں نے اسے زور و زبردستی سے (یعنی لڑائی کر کے) فتح نہیں کیا تھا۔ صلح کے ذریعہ فتح کیا تھا، تو آپ نے اسے مہاجرین میں تقسیم کر دیا، اس میں سے انصار کو کچھ نہ دیا، سوائے دو آدمیوں کے جو ضرورت مند تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2971]
امام زہری رحمہ اللہ نے آیت کریمہ: ﴿فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ﴾ [سورة الحشر: 6] ان پر تم نے کوئی گھوڑے یا اونٹ نہیں دوڑائے۔ کی تفسیر میں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل فدک اور کئی بستیوں والوں کے ساتھ مصالحت فرمائی تھی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری بستیوں کا محاصرہ کیے ہوئے تھے، تو ان لوگوں نے اس اثنا میں صلح کا پیغام بھیجا تھا اور یہ اسی سلسلے کا بیان ہے کہ ﴿فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ﴾ [سورة الحشر: 6] یعنی بغیر کسی جنگ و جدال کے یہ حاصل ہوئی تھی۔ امام زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: بنو نضیر کے اموال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص تھے (کیونکہ) وہ بطور صلح کے فتح ہوئے تھے، اس کو قوت کے زور پر حاصل نہیں کیا گیا تھا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مہاجرین میں تقسیم فرما دیا اور سوائے دو کے کسی انصاری کو ان میں سے کچھ نہیں دیا، یہ دو افراد بھی ضرورت مند تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2971]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19379) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل،الزهري مدلس
وھو من صغار التابعين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 107

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2972
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: جَمَعَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بَنِي مَرْوَانَ حِينَ اسْتُخْلِفَ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ فَدَكُ فَكَانَ يُنْفِقُ مِنْهَا وَيَعُودُ مِنْهَا عَلَى صَغِيرِ بَنِي هَاشِمٍ وَيُزَوِّجُ مِنْهَا أَيِّمَهُمْ، وَإِنَّ فَاطِمَةَ سَأَلَتْهُ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهَا فَأَبَى فَكَانَتْ كَذَلِكَ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ، فَلَمَّا أَنْ وُلِّيَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَمِلَ فِيهَا بِمَا عَمِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَيَاتِهِ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ، فَلَمَّا أَنْ وُلِّيَ عُمَرُ عَمِلَ فِيهَا بِمِثْلِ مَا عَمِلَا حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ، ثُمَّ أَقْطَعَهَا مَرْوَانُ، ثُمَّ صَارَتْ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ عُمَرُ: يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَرَأَيْتُ أَمْرًا مَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام لَيْسَ لِي بِحَقٍّ وَأَنَا أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ رَدَدْتُهَا عَلَى مَا كَانَتْ يَعْنِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلِيَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْخِلَافَةَ وَغَلَّتُهُ أَرْبَعُونَ أَلْفَ دِينَارٍ، وَتُوُفِّيَ وَغَلَّتُهُ أَرْبَعُ مِائَةِ دِينَارٍ وَلَوْ بَقِيَ لَكَانَ أَقَلَّ.
مغیرہ کہتے ہیں عمر بن عبدالعزیز جب خلیفہ ہوئے تو انہوں نے مروان بن حکم کے بیٹوں کو اکٹھا کیا پھر ارشاد فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فدک تھا، آپ اس کی آمدنی سے (اہل و عیال، فقراء و مساکین پر) خرچ کرتے تھے، اس سے بنو ہاشم کے چھوٹے بچوں پر احسان فرماتے تھے، ان کی بیوہ عورتوں کے نکاح پر خرچ کرتے تھے، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فدک مانگا تو آپ نے انہیں دینے سے انکار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تک ایسا ہی رہا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتقال فرما گئے، پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے ویسے ہی عمل کیا جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں کیا تھا، یہاں تک کہ وہ بھی انتقال فرما گئے، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ بھی انتقال فرما گئے، پھر مروان نے اسے اپنی جاگیر بنا لیا، پھر وہ عمر بن عبدالعزیز کے قبضہ و تصرف میں آیا، عمر بن عبدالعزیز کہتے ہیں: تو میں نے اس معاملے پر غور و فکر کیا، میں نے اسے ایک ایسا معاملہ جانا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فاطمہ علیہا السلام کو دینے سے منع کر دیا تو پھر ہمیں کہاں سے یہ حق پہنچتا ہے کہ ہم اسے اپنی ملکیت میں رکھیں؟ تو سن لو، میں تم سب کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ اسے میں نے پھر اس کی اپنی اسی حالت پر لوٹا دیا ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھا (یعنی میں نے پھر وقف کر دیا ہے)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمر بن عبدالعزیزخلیفہ مقرر ہوئے تو اس وقت ان کی آمدنی چالیس ہزار دینار تھی، اور انتقال کیا تو (گھٹ کر) چار سو دینار ہو گئی تھی، اور اگر وہ اور زندہ رہتے تو اور بھی کم ہو جاتی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2972]
جناب مغیرہ (مغیرہ بن حکیم صنعانی) سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ جب خلیفہ بنے تو انہوں نے بنو مروان کو جمع کیا اور کہا: اراضی فدک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھیں، آپ اسی کی آمدنی سے اپنے اخراجات پورے کیا کرتے تھے، بنو ہاشم کے چھوٹے بچوں پر اسی کے ذریعے سے احسان فرماتے اور بیواؤں کی شادی کراتے تھے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اس کا مطالبہ کیا کہ یہ اسے دے دیا جائے، تو آپ نے انکار کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حین حیات یہ معاملہ ایسے ہی رہا حتیٰ کہ ان کی وفات ہو گئی۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو اس میں وہ وہی کچھ کرتے رہے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہوتا تھا حتیٰ کہ اپنی راہ چلے گئے (وفات پا گئے)۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو اس میں وہی کیا جو وہ دونوں کرتے رہے تھے حتیٰ کہ وہ (بھی) اپنی راہ چلے گئے (ان کی بھی وفات ہو گئی)۔ پھر یہ زمین مروان نے اپنے لیے خاص کر لی، پھر عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے قبضے میں آ گئی۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا: میں نے سوچا ہے کہ جو چیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی صاحبزادی) سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دی ہے، تو مجھے بھی اس پر کوئی حق حاصل نہیں ہے اور میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے یہ اراضی اسی حال پر واپس کر دی ہیں جیسے کہ تھیں۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ خلیفہ بنے تو ان کی آمدنی چالیس ہزار دینار تھی اور جب وہ فوت ہوئے تو چار سو دینار رہ گئی تھی، اگر وہ حیات رہتے تو اور بھی کم ہو جاتی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2972]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19147) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی مغیرة بن مقسم مدلس اور کثیر الارسال ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند منقطع ومغيرة بن مقسم مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 107

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2973
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَىأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَطْلُبُ مِيرَاثَهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَطْعَمَ نَبِيًّا طُعْمَةً فَهِيَ لِلَّذِي يَقُومُ مِنْ بَعْدِهِ".
ابوطفیل کہتے ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکہ سے اپنی میراث مانگنے آئیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اللہ عزوجل جب کسی نبی کو کوئی معاش دیتا ہے تو وہ اس کے بعد اس کے قائم مقام (خلیفہ) کو ملتا ہے، (یعنی اس کے وارثوں کو نہیں ملتا) ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2973]
سیدنا ابوالطفیل (عامر بن واثلہ لیثی رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ورثے کا مطالبہ لے کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اللہ تعالیٰ جب اپنے نبی کو کوئی رزق عنایت فرما دیتا ہے، تو اس کا سرپرست وہی ہوتا ہے جو اس کے بعد (بطور خلیفہ) آئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2973]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 6599)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/4، 6، 9) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی دنیا میں لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجا جاتا ہے، دنیا کا مال حاصل کرنے کے لئے نہیں، اس لئے جو مال دولت اس کو اس کی زندگی میں مل جائے، وہ بھی اس کی وفات کے بعد صدقہ ہو گا، تاکہ لوگوں کو یہ گمان نہ ہو کہ یہ اپنے وارثوں کے لئے جمع کرنے میں مصروف تھا۔ قرآن مجید میں جو زکریا علیہ السلام کا قول منقول ہے «يرثني ويرث من آل يعقوب» (سورۃ مریم: ۶) اور جو یہ فرمایا گیا ہے  «وورث سليمان» (سورۃ النمل: ۱۳) تو اس سے مراد علم اور نبوت کی وراثت ہے، نہ کہ دنیا کے مال کی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2974
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمُؤْنَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: مُؤْنَةُ عَامِلِي يَعْنِي أَكَرَةَ الْأَرْضِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے ورثاء میری میراث سے جو میں چھوڑ کر مروں ایک دینار بھی تقسیم نہ کریں گے، اپنی بیویوں کے نفقے اور اپنے عامل کے خرچے کے بعد جو کچھ میں چھوڑوں وہ صدقہ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں:   «مؤنة عاملي» میں «عاملي» سے مراد کاشتکار، زمین جوتنے، بونے والے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2974]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا ورثہ دیناروں کی صورت میں تقسیم نہیں ہو گا۔ جو کچھ بھی چھوڑ جاؤں تو وہ زوجات کے اخراجات اور عمال کی محنت کے بعد سب صدقہ ہو گا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «مَؤُونَةُ عَامِلِي» کے معنی ہیں وہ افراد جو زمین پر محنت مزدوری کریں۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2974]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوصایا 32 (3096)، فرض الخمس 3 (2776)، الفرائض 3 (6729)، صحیح مسلم/الجھاد 16 (1760)، (تحفة الأشراف: 13805)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ الکلام 12 (28)، مسند احمد (2/376) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3096) صحيح مسلم (1760)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2975
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ: سَمِعْت حَدِيثًا مِن رَجُلٍ فَأَعْجَبَنِي، فَقُلْتُ: اكْتُبْهُ لِي فَأَتَى بِهِ مَكْتُوبًا مُذَبَّرًا، دَخَلَ الْعَبَّاسُ، وَعَلِيٌّ عَلَى عُمَرَ، وَعِنْدَهُ طَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَسَعْدٌ، وَهُمَا يَخْتَصِمَانِ فَقَالَ عُمَرُ: لِطَلْحَةَ، وَ الزُّبَيْرِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعْدٍ: أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُلُّ مَالِ النَّبِيِّ صَدَقَةٌ إِلَّا مَا أَطْعَمَهُ أَهْلَهُ وَكَسَاهُمْ إِنَّا لَا نُورَثُ؟" قَالُوا: بَلَى قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ مِنْ مَالِهِ عَلَى أَهْلِهِ وَيَتَصَدَّقُ بِفَضْلِهِ ثُمَّ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَلِيَهَا أَبُو بَكْرٍ سَنَتَيْنِ فَكَانَ يَصْنَعُ الَّذِي كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ شَيْئًا مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ.
ابوالبختری کہتے ہیں میں نے ایک شخص سے ایک حدیث سنی وہ مجھے انوکھی سی لگی، میں نے اس سے کہا: ذرا اسے مجھے لکھ کر دو، تو وہ صاف صاف لکھ کر لایا: علی اور عباس رضی اللہ عنہما عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے اور ان کے پاس طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن اور سعد رضی اللہ عنہم (پہلے سے) بیٹھے تھے، یہ دونوں (یعنی عباس اور علی رضی اللہ عنہما) جھگڑنے لگے، عمر رضی اللہ عنہ نے طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن اور سعد رضی اللہ عنہم سے کہا: کیا تم لوگوں کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: نبی کا سارا مال صدقہ ہے سوائے اس کے جسے انہوں نے اپنے اہل کو کھلا دیا یا پہنا دیا ہو، ہم لوگوں کا کوئی وارث نہیں ہوتا، لوگوں نے کہا: کیوں نہیں (ہم یہ بات جانتے ہیں آپ نے ایسا ہی فرمایا ہے) اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مال میں سے اپنے اہل پر صرف کرتے تھے اور جو کچھ بچ رہتا وہ صدقہ کر دیتے تھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے آپ کے بعد اس مال کے متولی ابوبکر رضی اللہ عنہ دو سال تک رہے، وہ ویسے ہی کرتے رہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے، پھر راوی نے مالک بن اوس کی حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2975]
ابوالبختری کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی سے حدیث سنی جو مجھے پسند آئی، میں نے کہا کہ یہ مجھے لکھ دو، تو اس نے یہ مجھے صاف صاف لکھ دی کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جبکہ طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن اور سعد رضی اللہ عنہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور ان دونوں کا آپس میں جھگڑا تھا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن اور سعد رضی اللہ عنہم سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نبی کا سب مال صدقہ ہوتا ہے، سوائے اس کے جو وہ اپنے گھر والوں کو کھلا دیں یا پہنا دیں۔ ہم لوگ اپنا کوئی وارث نہیں بناتے؟ان سب نے کہا: ہاں۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں پر خرچ کرتے اور بقیہ صدقہ کر دیا کرتے تھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ دو سال تک اس جائیداد کے متولی رہے اور وہی کچھ کرتے رہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے۔ پھر (ابوالبختری) نے مالک بن اوس کی حدیث سے کچھ بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2975]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3649، 3952) (صحیح)» ‏‏‏‏ (شواہد و متابعات پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ایک مجہول راوی ہے جو پتہ نہیں صحابی ہے یاتابعی؟)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الرجل مجھول وحديث البخاري (7305) ومسلم (1757) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 108

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2976
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَدْنَ أَنْ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَيَسْأَلْنَهُ ثُمُنَهُنَّ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ لَهُنَّ عَائِشَةُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو امہات المؤمنین نے ارادہ کیا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث سے اپنا آٹھواں حصہ طلب کریں، تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سب سے کہا (کیا تمہیں یاد نہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہے، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2976]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جب وفات ہو گئی تو ازواجِ محترمات نے ارادہ کیا کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجیں تاکہ وہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت سے آٹھواں حصہ عنایت فرما دیں، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما نہیں گئے: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ بھی چھوڑ جائیں، وہ صدقہ ہوتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2976]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/المغازي 14 (4034)، الفرائض 3 (6730)، صحیح مسلم/الجہاد 16 (1758)، موطا امام مالک/ الکلام 12 (27)، (تحفة الأشراف: 16592)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/5، 262) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4034) صحيح مسلم (1758)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2977
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ،حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ قُلْتُ: أَلَا تَتَّقِينَ اللَّهَ أَلَمْ تَسْمَعْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ"، وَإِنَّمَا هَذَا الْمَالُ لِآلِ مُحَمَّدٍ لِنَائِبَتِهِمْ وَلِضَيْفِهِمْ فَإِذَا مِتُّ فَهُوَ إِلَى مَنْ وَلِيِّ الأَمْرِ مِنْ بَعْدِي.
اس سند سے بھی ابن شہاب زہری سے یہی حدیث اسی طریق سے مروی ہے، اس میں ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے (دیگر امہات المؤمنین سے) کہا: تم اللہ سے ڈرتی نہیں، کیا تم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہے، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے، اور یہ مال آل محمد کی ضروریات اور ان کے مہمانوں کے لیے ہے، اور جب میرا انتقال ہو جائے گا تو یہ مال اس شخص کی نگرانی و تحویل میں رہے گا جو میرے بعد معاملہ کا والی ہو گا (مسلمانوں کا خلیفہ ہو گا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2977]
جناب ابن شہاب (زہری) نے اپنی سند سے مذکورہ بالا حدیث کی مانند روایت کیا، اس میں ہے، میں نے کہا: کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتی ہو؟ کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے اور یہ مال آلِ محمد کا ہے جو ان کے حوادثات اور مصیبت زدہ افراد کے اخراجات اور ان کے مہمانوں کے لیے ہے، جب میں فوت ہو جاؤں تو اس کا سرپرست وہی ہو گا جو میرے بعد خلیفہ ہو گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2977]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16407)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الشمائل (402)، مسند احمد (6/145) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
رواه الترمذي في الشمائل (402 بتحقيقي)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں