سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب فِي بَيَانِ مَوَاضِعِ قَسْمِ الْخُمُسِ وَسَهْمِ ذِي الْقُرْبَى
باب: خمس کے مصارف اور قرابت داروں کو حصہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2988
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي الْجُرَيرِيَّ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ، عَنْ ابْنِ أَعْبُدَ، قَالَ: قَالَ لِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَلَا أُحَدِّثُكَ عَنِّي وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ مِنْ أَحَبِّ أَهْلِهِ إِلَيْهِ؟ قُلْتُ: بَلَى قَالَ: إِنَّهَا جَرَّتْ بِالرَّحَى حَتَّى أَثَّرَ فِي يَدِهَا، وَاسْتَقَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّى أَثَّرَ فِي نَحْرِهَا وَكَنَسَتَ الْبَيْتَ حَتَّى اغْبَرَّتْ ثِيَابُهَا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدَمٌ، فَقُلْتُ: لَوْ أَتَيْتِ أَبَاكِ فَسَأَلْتِيهِ خَادِمًا، فَأَتَتْهُ فَوَجَدَتْ عِنْدَهُ حُدَّاثًا فَرَجَعَتْ فَأَتَاهَا مِنَ الْغَدِ فَقَالَ: مَا كَانَ حَاجَتُكِ؟ فَسَكَتَتْ، فَقُلْتُ أَنَا أُحَدِّثُكَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ جَرَّتْ بِالرَّحَى حَتَّى أَثَّرَتْ فِي يَدِهَا وَحَمَلَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّى أَثَّرَتْ فِي نَحْرِهَا فَلَمَّا أَنْ جَاءَكَ الْخَدَمُ أَمَرْتُهَا أَنْ تَأْتِيَكَ فَتَسْتَخْدِمَكَ خَادِمًا يَقِيهَا حَرَّ مَا هِيَ فِيهِ، قَالَ:" اتَّقِي اللَّهَ يَا فَاطِمَةُ وَأَدِّي فَرِيضَةَ رَبِّكِ وَاعْمَلِي عَمَلَ أَهْلِكِ، فَإِذَا أَخَذْتِ مَضْجَعَكِ، فَسَبِّحِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَاحْمَدِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبِّرِي أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ فَتِلْكَ مِائَةٌ فَهِيَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ خَادِمٍ"، قَالَتْ: رَضِيتُ عَنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَعَنْ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابن اعبد کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا میں تمہیں اپنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی جو آپ کو اپنے تمام کنبے والوں میں سب سے زیادہ محبوب اور پیاری تھیں کے متعلق نہ بتاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے، آپ نے کہا: فاطمہ رضی اللہ عنہا نے چکی پیسی یہاں تک کہ ان کے ہاتھوں میں نشان پڑ گئے، اور پانی بھربھر کر مشک لاتیں جس سے ان کے سینے میں درد ہونے لگا اور گھر میں جھاڑو دیتیں جس سے ان کے کپڑے خاک آلود ہو جاتے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ غلام اور لونڈیاں آئیں تو میں نے ان سے کہا: اچھا ہوتا کہ تم اپنے ابا جان کے پاس جاتی، اور ان سے اپنے لیے ایک خادمہ مانگ لیتی، چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو دیکھا کہ وہاں کچھ لوگ آپ سے گفتگو کر رہے ہیں تو لوٹ آئیں، دوسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے آئے اور پوچھا: ”تم کس ضرورت سے آئی تھیں؟“، وہ چپ رہیں تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں آپ کو بتاتا ہوں، چکی پیستے پیستے ان کے ہاتھ میں نشان (گٹھا) پڑ گیا، مشک ڈھوتے ڈھوتے سینے میں درد رہنے لگا اب آپ کے پاس خادم آئے ہیں تو میں نے ان سے کہا کہ وہ آپ کے پاس جائیں، اور آپ سے ایک خادم مانگ کر لائیں، جس کے ذریعہ اس شدت و تکلیف سے انہیں نجات ملے جس سے وہ دو چار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فاطمہ! اللہ سے ڈرو اور اپنے رب کے فرائض ادا کرتی رہو، اور اپنے گھر کے کام کیا کرو، اور جب سونے چلو تو (۳۳) بار سبحان اللہ، (۳۳) بار الحمدللہ، اور (۳۴) بار اللہ اکبر کہہ لیا کرو، یہ کل سو ہوئے یہ تمہارے لیے خادمہ سے بہتر ہیں ۱؎“۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خوش ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2988]
ابن اعبد سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: ”کیا میں تمہیں اپنی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا دختر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ بتاؤں؟ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اہل میں سب سے زیادہ پیار تھا۔“ میں نے کہا: ”ہاں بتائیے۔“ تو انہوں نے کہا: ”سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا چکی چلاتی تھیں حتیٰ کہ ہاتھوں پر نشان پڑ گئے، پانی کی مشک بھر کر لاتی تھیں حتیٰ کہ ان کے سینے پر نشان پڑ گئے، گھر میں جھاڑو دیتیں تو کپڑے خراب ہو جاتے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لونڈیاں اور غلام آئے۔ میں نے ان سے کہا: اگر آپ اپنے والد کے پاس جا کر کسی خادم کے متعلق کہیں (تو آپ کو سہولت مل جائے گی۔) چنانچہ وہ آئیں اور دیکھا کہ کئی باتیں کرنے والے آپ کے پاس بیٹھے ہیں، اس پر آپ واپس آ گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگلے دن ان کے پاس آئے اور دریافت فرمایا: ”کیا کام تھا؟“ تو وہ خاموش رہیں۔ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں بتائے دیتا ہوں۔ یہ چکی چلاتی ہیں تو ان کے ہاتھوں پر نشان پڑ گئے ہیں۔ پانی کی مشک اٹھا کر لاتی ہیں تو اس سے سینے پر نشان پڑ گئے ہیں۔ اور اب آپ کے پاس لونڈیاں غلام آئے ہیں تو میں نے ان سے کہا کہ آپ کی خدمت میں جائیں اور کوئی خادم طلب کر لیں جس سے انہیں ان کاموں کی مشقت میں آسانی ہو جائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فاطمہ! اللہ سے ڈرو، اپنے رب کا فریضہ ادا کرو اور اپنے گھر والوں کا کام کاج کیا کرو۔ اور رات کو جب سونے لگو تو تینتیس بار «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“، تینتیس بار «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد للہ“ اور چونتیس بار «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہہ لیا کرو، یہ سو بار ہوا۔ اور یہ عمل تمہارے لیے خادم سے بڑھ کر ہے۔“ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”میں اللہ عزوجل سے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے (بہ دل و جان) راضی ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2988]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود بہذا الیساق: (اتقي اللّٰہ یا فاطمة، وأدي فریضة ربک، واعملي عمل أہلک)، وأما البقیة من الحدیث فقد رواہ کل من:صحیح البخاری/فرض الخمس 6 (3113)، فضائل الصحابة 9 (3705)، النفقات 6 (5361)، الدعوات 11 (6318)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 19 (2727)، سنن الترمذی/الدعوات 24 (3408)، (تحفة الأشراف: 10245)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/96)، ویأتی ہذا الحدیث فی الأدب (5062) (ضعیف)» (مذکورہ جملے کے اضافہ کے ساتھ ضعیف ہے کیونکہ اس سے راوی ابوالورد لین الحدیث ہیں اور ابن اعبد مجہول ہیں، بقیہ حصہ توصحیحین میں ہے)
وضاحت: ۱؎: شاید اسی میں مصلحت رہی ہوکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل واولاد کو دنیا میں تکلیف وتنگ دستی رہے، تاکہ یہ چیز آخرت میں ان کے لئے بلندی درجات کا سبب بنے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث الآتي (5063)
علي بن عبد : مجهول (تق : 4689)
وأصل الحديث في الصحيحين بدون ھذه القصة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 108
إسناده ضعيف
انظر الحديث الآتي (5063)
علي بن عبد : مجهول (تق : 4689)
وأصل الحديث في الصحيحين بدون ھذه القصة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 108
حدیث نمبر: 2989
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ،عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: وَلَمْ يُخْدِمْهَا.
علی بن حسین سے بھی یہی واقعہ مروی ہے اس میں یہ ہے کہ اس میں یہ ہے کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خادم نہیں دیا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2989]
امام زہری رحمہ اللہ نے بواسطہ علی بن حسین رحمہ اللہ یہ قصہ بیان کیا ہے اور کہا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کوئی خادم نہیں دیا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2989]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (ضعیف)» (علی بن حسین زیدالعابدین نے اپنے نانا علی کو نہیں پایا ہے لیکن واقعہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل،علي بن حسين بن علي بن أبي طالب من التابعين،والزهري مدلس
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 108
إسناده ضعيف
السند مرسل،علي بن حسين بن علي بن أبي طالب من التابعين،والزهري مدلس
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 108
حدیث نمبر: 2990
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْقُرَشِيُّ، قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي ابْنَ عِيسَى: كُنَّا نَقُولُ إِنَّه مِنَ الأَبْدَالِ قَبْلَ أَنْ نَسْمَعَ أَنَّ الأَبْدَالَ مِنَ الْمَوَالِي، قَالَ: حَدَّثَنِي الدَّخِيلُ بْنُ إِيَاسِ بْنِ نُوحِ بْنِ مُجَّاعَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ سِرَاجِ بْنِ مُجَّاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ مُجَّاعَةَ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطْلُبُ دِيَةَ أَخِيهِ قَتَلَتْهُ بَنُو سَدُوسٍ مِنْ بَنِي ذُهْلٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كُنْتُ جَاعِلًا لِمُشْرِكٍ دِيَةً جَعَلْتُ لِأَخِيكَ، وَلَكِنْ سَأُعْطِيكَ مِنْهُ عُقْبَى"، فَكَتَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِائَةٍ مِنَ الإِبِلِ مِنْ أَوَّلِ خُمُسٍ يَخْرُجُ مِنْ مُشْرِكِي بَنِي ذُهْلٍ فَأَخَذَ طَائِفَةً مِنْهَا وَأَسْلَمَتْ بَنُو ذُهْلٍ فَطَلَبَهَا بَعْدُ مُجَّاعَةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، وَأَتَاهُ بِكِتَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَتَبَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ بِاثْنَيْ عَشَرَ أَلْفَ صَاعٍ مِنْ صَدَقَةِ الْيَمَامَةِ أَرْبَعَةِ آلَافٍ بُرًّا وَأَرْبَعَةِ آلَافٍ شَعِيرًا وَأَرْبَعَةِ آلَافٍ تَمْرًا، وَكَانَ فِي كِتَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُجَّاعَةَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ لِمُجَّاعَةَ بْنِ مَرَارَةَ مِنْ بَنِي سُلْمَى إِنِّي أَعْطَيْتُهُ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ مِنْ أَوَّلِ خُمُسٍ يَخْرُجُ مِنْ مُشْرِكِي بَنِي ذُهْلٍ عُقْبَةً مِنْ أَخِيهِ.
مجاعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بھائی کی دیت مانگنے آئے جسے بنو ذہل میں سے بنی سدوس نے قتل کر ڈالا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں کسی مشرک کی دیت دلاتا تو تمہارے بھائی کی دیت دلاتا، لیکن میں اس کا بدلہ تمہیں دلائے دیتا ہوں“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ذہل کے مشرکین سے پہلے پہل حاصل ہونے والے خمس میں سے سو اونٹ اسے دینے کے لیے لکھ دیا۔ مجاعہ رضی اللہ عنہ کو ان اونٹوں میں سے کچھ اونٹ بنو ذہل کے مسلمان ہو جانے کے بعد ملے، اور مجاعہ رضی اللہ عنہ نے اپنے باقی اونٹوں کو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ان کے خلیفہ ہونے کے بعد طلب کئے اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب (تحریر) دکھائی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجاعہ رضی اللہ عنہ کے یمامہ کے صدقے میں سے بارہ ہزار صاع دینے کے لیے لکھ دیا، چار ہزار صاع گیہوں کے، چار ہزار صاع جو کے اور چار ہزار صاع کھجور کے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاعہ کو جو کتاب (تحریر) لکھ کر دی تھی اس کا مضمون یہ تھا: ”شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے، یہ کتاب محمد نبی کی جانب سے مجاعہ بن مرارہ کے لیے ہے جو بنو سلمی میں سے ہیں، میں نے اسے بنی ذہل کے مشرکوں سے حاصل ہونے والے پہلے خمس میں سے سو اونٹ اس کے مقتول بھائی کے عوض میں دیا ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2990]
مجاعہ (بن مرارہ حنفی یمامی رضی اللہ عنہ، مجاعہ کی میم پر پیش اور جیم مشدد ہے) سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے رجوع کیا اور ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریر پیش کر دی۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے یمامہ کے صدقہ سے بارہ ہزار صاع لکھ دیے؛ چار ہزار صاع گندم، چار ہزار صاع جو اور چار ہزار صاع کھجور۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ تحریر جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاعہ کو لکھ کر دی تھی اس کا مضمون یہ تھا: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”یہ تحریر محمد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے بنو سلمی کے مجاعہ بن مرارہ کے لیے لکھی گئی ہے کہ میں نے اسے اس کے (مقتول) بھائی کے عوض میں ایک سو اونٹ عطا کیے ہیں، جو کہ بنو ذہل کے مشرکین سے حاصل ہونے والے پہلے خمس میں سے ادا کر دیے جائیں گے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2990]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11212) (ضعیف الإسناد)» (اس کے راوی دخیل مجہول الحال، اور ہلال لین الحدیث ہیں)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مشرک کی کوئی دیت نہیں، البتہ جو مشرک ذمی ہو یعنی اسلامی حکومت کا باشندہ ہو، اور اس سے جزیہ لیا جاتا ہو تو اس کو اگر کوئی کافر مار ڈالے تو اس پر قصاص ہوگا، یا دیت ہو گی، اور جو مسلمان مار ڈالے تو دیت دینی ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
دخيل مستور (تقريب التهذيب: 1822)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 108
إسناده ضعيف
دخيل مستور (تقريب التهذيب: 1822)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 108
21. باب مَا جَاءَ فِي سَهْمِ الصَّفِيِّ
باب: خمس سے پہلے صفی یعنی جس مال کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے منتخب کر لیتے تھے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2991
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمٌ يُدْعَى الصَّفِيَّ إِنْ شَاءَ عَبْدًا وَإِنْ شَاءَ أَمَةً وَإِنْ شَاءَ فَرَسًا يَخْتَارُهُ قَبْلَ الْخُمُسِ.
عامر شعبی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حصہ تھا، جس کو «صفي» کہا جاتا تھا آپ اگر کوئی غلام، لونڈی یا کوئی گھوڑا لینا چاہتے تو مال غنیمت میں سے خمس سے پہلے لے لیتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2991]
عامر شعبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا غنیمت میں ایک خاص حصہ ہوا کرتا تھا جسے «صَفِيٌّ» کہا جاتا تھا۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) چاہتے تو غلام لے لیتے یا لونڈی یا گھوڑا (اور یہ) خمس نکالنے سے پہلے لے سکتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2991]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الفيء 1 (4150)، (تحفة الأشراف: 18868) (ضعیف الإسناد)» (عامر تابعی ہیں، اس لئے یہ روایت مرسل ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (4150)
السند صحيح إلي الشعبي لكنه مرسل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 108
إسناده ضعيف
نسائي (4150)
السند صحيح إلي الشعبي لكنه مرسل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 108
حدیث نمبر: 2992
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، وَأَزْهَرُ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ سَهْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفِيِّ، قَالَ:" كَانَ يُضْرَبُ لَهُ بِسَهْمٍ مَعَ الْمُسْلِمِينَ وَإِنْ لَمْ يَشْهَدْ وَالصَّفِيُّ يُؤْخَذُ لَهُ رَأْسٌ مِنَ الْخُمُسِ قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ".
ابن عون کہتے ہیں میں نے محمد (محمد ابن سیرین) سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے اور «صفي» کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی حصہ لگایا جاتا تھا اگرچہ آپ لڑائی میں شریک نہ ہوتے اور سب سے پہلے خمس میں سے ۱؎ صفی آپ کے لیے لیا جاتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2992]
ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے اور «صَفِيّ» کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم خواہ کسی جہاد میں شریک نہ بھی ہوتے آپ کا حصہ نکالا جاتا تھا اور خمس میں سے سب سے پہلے آپ کے لیے کوئی خاص چیز نکال لی جاتی تھی اور اسے «صَفِيّ» کہا جاتا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2992]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19295) (ضعیف الإسناد)» (یہ بھی مرسل ہے، محمد بن سیر ین تابعی ہیں)
وضاحت: ۱؎: یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ «صفي» خمس میں سے ہوتا تھا اور اس سے پہلے شعبی والی روایت دلالت کرتی ہے کہ «صفي» خمس سے پہلے پورے مال غنیمت میں سے ہوتا تھا دونوں میں تطبیق کے لئے تاویل یہ کی جاتی ہے کہ «قبل الخمس» سے مراد «قبل أن يقسم الخمس» ہے یعنی صفی خمس میں سے ہوتا تھا لیکن خمس کی تقسیم سے پہلے اسے نکالا جاتا تھا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل،محمد بن سير ين من التابعين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 108
إسناده ضعيف
السند مرسل،محمد بن سير ين من التابعين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 108
حدیث نمبر: 2993
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا كَانَ لَهُ سَهْمٌ صَافٍ يَأْخُذُهُ مِنْ حَيْثُ شَاءَهُ فَكَانَتْ صَفِيَّةُ مِنْ ذَلِكَ السَّهْمِ، وَكَانَ إِذَا لَمْ يَغْزُ بِنَفْسِهِ ضُرِبَ لَهُ بِسَهْمِهِ وَلَمْ يُخَيَّرْ.
قتادہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خود لڑائی میں شریک ہوتے تو ایک حصہ چھانٹ کر جہاں سے چاہتے لے لیتے، ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا (جو جنگ خیبر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملیں) اسی حصے میں سے آئیں اور جب آپ لڑائی میں شریک نہ ہوتے تو ایک حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لگایا جاتا اور اس میں آپ کو انتخاب کا اختیار نہ ہوتا کہ جو چاہیں چھانٹ کر لے لیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2993]
جناب قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا (ام المؤمنین) اسی حصے میں سے تھیں، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود شریک نہ ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ رکھا جاتا تھا، مگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے منتخب نہ کرایا جاتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2993]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19214) (ضعیف الإسناد)» (قتادہ تابعی ہیں، اس لئے یہ روایت بھی مرسل ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة عنعن وھو من التابعين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 109
إسناده ضعيف
قتادة عنعن وھو من التابعين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 109
حدیث نمبر: 2994
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَتْ صَفِيَّةُ مِنَ الصَّفِيِّ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں صفیہ رضی اللہ عنہا «صفي» میں سے تھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2994]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ”سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا (ام المؤمنین) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصہ «صَفِيّ» میں آئی تھیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2994]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16918) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الثوري عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 109
إسناده ضعيف
الثوري عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 109
حدیث نمبر: 2995
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَدِمْنَا خَيْبَرَ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ تَعَالَى الْحِصْنَ ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا وَكَانَتْ عَرُوسًا فَاصْطَفَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ فَخَرَجَ بِهَا حَتَّى بَلَغْنَا سُدَّ الصَّهْبَاءِ حَلَّتْ فَبَنَى بِهَا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم خیبر آئے (یعنی غزوہ کے موقع پر) تو جب اللہ تعالیٰ نے قلعہ فتح کرا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے حسن و جمال کا ذکر کیا گیا، ان کا شوہر مارا گیا تھا، وہ دلہن تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لیے منتخب فرما لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ساتھ لے کر روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم سد صہباء ۱؎ پہنچے، وہاں وہ حلال ہوئیں (یعنی حیض سے فارغ ہوئیں اور ان کی عدت پوری ہو گئی) تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ شب زفاف منائی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2995]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”ہم خیبر آئے، جب اللہ تعالیٰ نے قلعہ فتح کرا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صفیہ رضی اللہ عنہا بنت حیی کے حسن و جمال کا تذکرہ ہوا، ان کا شوہر قتل ہو گیا تھا جبکہ وہ ابھی دلہن تھیں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (ان کے صدمے کے ازالے اور معاشرے میں اونچا مقام دینے کے لیے) اپنے لیے منتخب فرما لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں لے کر روانہ ہوئے حتیٰ کہ جب ہم «سَدُّ الصَّهْبَاء» کے مقام پر پہنچے تو وہ حلال (حیض سے پاک) ہو گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ شب زفاف گزاری۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2995]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 111 (2235)، الجہاد 74 (2893)، المغازی 39 (4211)، الأطعمة 28 (5425)، الدعوات 36 (6363)، وانظر حدیث رقم (2054)، (تحفة الأشراف: 1117) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: خیبر میں ایک مقام کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2235)
حدیث نمبر: 2996
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، ثُمَّ صَارَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا پہلے دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آ گئی تھیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آئیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2996]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو پہلے دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے چنا تھا، مگر بعد میں (ان کے پورے حالات گوش گزار کیے جانے کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آ گئیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2996]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/ النکاح 42 (1957)، (تحفة الأشراف: 1018)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/280) وانظر حدیث رقم (2054) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی جگہ دحیہ رضی اللہ عنہ کو دوسری لونڈی دے دی، اور ام المومنین صفیہ رضی اللہ عنہا کو اپنے لئے منتخب کر لیا، صفیہ قریظہ اور نضیر کے سردار کی بیٹی تھیں، اس لئے ان کا ایک عام صحابی کے پاس رہنا مناسب نہ تھا، کیونکہ اس سے دوسروں کو رشک ہوتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه ابن ماجه (1957 وسنده صحيح)
أخرجه ابن ماجه (1957 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 2997
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: وَقَعَ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ،فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تَصْنَعُهَا وَتُهَيِّئُهَا، قَالَ حَمَّادٌ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَتَعْتَدُّ فِي بَيْتِهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں ایک خوبصورت لونڈی آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سات غلام دے کر خرید لیا اور انہیں ام سلیم رضی اللہ عنہا کے حوالے کر دیا کہ انہیں بنا سنوار دیں۔ حماد کہتے ہیں: میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو ام سلیم رضی اللہ عنہا کے حوالے کر دیا کہ وہ وہاں عدت گزار کر پاک و صاف ہو لیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2997]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ: ”سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں ایک بہت ہی خوبصورت لونڈی آئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سات غلام دے کر خرید لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ام سلیم رضی اللہ عنہا کے حوالے کیا تاکہ اسے بنائیں سنواریں اور بطور دلہن تیار کریں۔“ حماد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اور میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں عدت پوری کر لے“ اور یہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا تھیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2997]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، وانظر حدیث رقم (2054) (تحفة الأشراف: 377، 390) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح م لكن قوله وأحسبه فيه نظر لأنه بنى بها في سد الصهباء
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح