سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب الاِسْتِثْنَاءِ فِي الْيَمِينِ
باب: قسم میں استثناء یعنی «إن شاء الله» کہہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3262
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَمُسَدَّدٌ، وَهَذَا حَدِيثُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ فَاسْتَثْنَى، فَإِنْ شَاءَ رَجَعَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ غَيْرَ حِنْثٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قسم کھائی اور ان شاءاللہ کہا تو وہ چاہے قسم کو پورا کرے چاہے نہ پورا کرے وہ حانث (قسم توڑنے والا) نہ ہو گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3262]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قسم کھائی اور «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ کہا، تو چاہے وہ اپنی قسم کو پورا کرے یا نہ کرے، قسم نہیں ٹوٹے گی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3262]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 7517) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه الترمذي (1531 وسنده صحيح) والنسائي (3824 وسنده صحيح) وابن ماجه (2105 وسنده صحيح)
أخرجه الترمذي (1531 وسنده صحيح) والنسائي (3824 وسنده صحيح) وابن ماجه (2105 وسنده صحيح)
12. باب مَا جَاءَ فِي يَمِينِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا كَانَتْ
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کیسی ہوتی تھی؟
حدیث نمبر: 3263
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" أَكْثَرُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْلِفُ، بِهَذِهِ الْيَمِينِ: لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اس طرح قسم کھاتے تھے: «لا، ومقلب القلوب» ”نہیں! قسم ہے دلوں کے پھیرنے والے کی“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3263]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر قسمیں اس طرح کی ہوتی تھیں: «لَا، وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ» ”نہیں، قسم ہے اس ذات کی جو دلوں کا پھیرنے والا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3263]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8503)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/القدر 14 (6617)، والأیمان 3 (6628)، والتوحید 11 (7391)، سنن الترمذی/الأیمان 12 (1540)، سنن النسائی/الأیمان 1 (3793)، سنن ابن ماجہ/ الکفارات (2092) مسند احمد (2/26، 67، 68، 127) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6617)
حدیث نمبر: 3264
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ شُمَيْخٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اجْتَهَدَ فِي الْيَمِينِ، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زور دے کر قسم کھاتے تو فرماتے: «والذي نفس أبي القاسم بيده» ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں ابوالقاسم کی جان ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3264]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بہت تاکیدی قسم کھاتے تو یوں کہا کرتے تھے: «وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ» ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں ابوالقاسم کی جان ہے!“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3264]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4086)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/6، 66) (ضعیف)» (اس کے راوی عکرمہ صدوق ہیں، لیکن غلطی کرتے ہیں، اور عاصم بن شمیخ کی صرف عجلی نے توثیق کی ہے، عجلی توثیق رواة میں متساہل ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عكرمة بن عمار عنعن
و أما عاصم بن شميخ فھو حسن الحديث
وثقه الإمام العجلي المعتدل و ابن حبان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 119
إسناده ضعيف
عكرمة بن عمار عنعن
و أما عاصم بن شميخ فھو حسن الحديث
وثقه الإمام العجلي المعتدل و ابن حبان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 119
حدیث نمبر: 3265
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ:" كَانَتْ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا حَلَفَ، يَقُولُ: لَا، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قسم کھاتے تو فرماتے: «لا، وأستغفر الله» ”نہیں، قسم ہے میں اللہ سے بخشش اور مغفرت کا طلب گار ہوں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3265]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قسم کھاتے تو یوں کہا کرتے: «لَا، وَأَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ» ”نہیں! اور میں اللہ سے بخشش چاہتا ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3265]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الکفارات 1 (2093)، (تحفة الأشراف: 14802)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/288) (ضعیف)» (اس کے راوی ہلال مدنی لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2093)
ھلال بن أبي ھلال المدني مجهول الحال
انظر التحرير (7351) وثقه ابن حبان وحده وقال الذھبي : ’’ لا يعرف‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 119
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2093)
ھلال بن أبي ھلال المدني مجهول الحال
انظر التحرير (7351) وثقه ابن حبان وحده وقال الذھبي : ’’ لا يعرف‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 119
حدیث نمبر: 3266
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَيَّاشٍ السَّمَعِيُّ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ دَلْهَمِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَاجِبِ بْنِ عَامِرِ بْنِ الْمُنْتَفِقِ الْعُقَيْلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ لَقِيط بْنِ عَامِرٍ، قَالَ دَلْهَمٌ، وَحَدَّثَنِيهِ أَيْضًا الْأَسْوَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطٍ، أَنَّ لَقِيطَ بْنَ عَامِرٍ خَرَجَ وَافِدًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَقِيطٌ: فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ حَدِيثًا فِيهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَمْرُ إِلَهِكَ".
عاصم بن لقیط کہتے ہیں کہ لقیط بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک وفد لے کر گئے، لقیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پھر راوی نے حدیث ذکر کی، اس میں ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے تمہارے معبود کی“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3266]
عاصم بن لقیط کہتے ہیں کہ سیدنا لقیط بن عامر رضی اللہ عنہ ایک وفد لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ لقیط کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس سلسلے میں حدیث ذکر کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لَعَمْرُ إِلٰهِكَ» ”تیرے الہ کی بقا کی قسم۔“” [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3266]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11177)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/12) (ضعیف)» (اس کے راوی اسود اور ان کے والد عبد اللہ دونوں لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
انظر النھاية في الفتن والملاحم بتحقيقي (532، النسخة الأخريٰ 564)
انظر النھاية في الفتن والملاحم بتحقيقي (532، النسخة الأخريٰ 564)
13. باب فِي الْقَسَمِ هَلْ يَكُونُ يَمِينًا
باب: کیا لفظ قسم بھی «يمين» (حلف) میں داخل ہے۔
حدیث نمبر: 3267
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ أَبَا بَكْرٍ أَقْسَمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُقْسِمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم دلائی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”قسم مت دلاؤ“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3267]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم مت دو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3267]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ التعبیر 11 (7000)، 47 (7046)، صحیح مسلم/ الرؤیا 3 (2269)، سنن ابن ماجہ/ التعبیر 10 (3918)، (تحفة الأشراف: 5838)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/219) دی/ النذور 8 (2389)، ویأتی ہذا الحدیث فی السنة (4633) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7046) صحيح مسلم (2269)
حدیث نمبر: 3268
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ ابْنُ يَحْيَى: كَتَبْتُهُ مِنْ كِتَابِهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ،عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ،" أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أَرَى اللَّيْلَةَ، فَذَكَرَ رُؤْيَا، فَعَبَّرَهَا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصَبْتَ بَعْضًا، وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا، فَقَالَ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ لَتُحَدِّثَنِّي مَا الَّذِي أَخْطَأْتُ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُقْسِمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کر رہے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا کہ میں نے رات خواب دیکھا ہے، پھر اس نے اپنا خواب بیان کیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی تعبیر بتائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کچھ تعبیر درست بیان کی ہے اور کچھ میں تم غلطی کر گئے ہو“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم ہے آپ پر اے اللہ کے رسول! میرے باپ آپ پر قربان ہوں آپ ہمیں ضرور بتائیں میں نے کیا غلطی کی ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”قسم مت دلاؤ“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3268]
جناب ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا: ”بے شک میں نے آج رات خواب دیکھا ہے،“ اور پھر اس نے اپنا خواب بیان کیا۔ اور پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی تعبیر کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کچھ میں درست کہا ہے اور کچھ میں خطا کی ہے۔“ تو انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں آپ کو قسم دیتا ہوں، میرا باپ آپ پر فدا ہو! آپ مجھے ضرور بتائیے کہ میں نے کیا غلطی کی ہے؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”قسم مت دو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3268]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الرؤیا 9 (2293)، سنن ابن ماجہ/الرؤیا 10 (3918)، (تحفة الأشراف: 2293، 1375)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التعبیر 47 (7046)، صحیح مسلم/الرؤیا 3 (2269)، سنن الدارمی/الرؤیا 13 (2202) ویأتی ہذا الحدیث فی السنة (4632) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7000) صحيح مسلم (2269)
حدیث نمبر: 3269
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ،عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، لَمْ يَذْكُرِ الْقَسَمَ زَادَ فِيهِ، وَلَمْ يُخْبِرْهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں انہوں نے قسم کا ذکر نہیں کیا ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (تعبیر کی غلطی) نہیں بتائی ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3269]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی، مگر اس میں قسم کا ذکر نہیں ہے اور اس میں مزید یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”انہیں وضاحت نہیں کی“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3269]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5838) (ضعیف)» (یہ سند سلیمان بن کثیر کی وجہ سے ضعیف ہے، وہ زہری سے روایت میں ضعیف ہیں لیکن پچھلی سند سے یہ حدیث صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: ممکن ہے تعبیر کی غلطی نہ بتانے میں کوئی مصلحت رہی ہو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2269)
14. باب فِيمَنْ حَلَفَ عَلَى الطَّعَامِ لاَ يَأْكُلُهُ
باب: کسی چیز کے نہ کھانے کی قسم کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3270
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، أَوْ عَنْ أَبِي السَّلِيلِ عَنْهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ:" نَزَلَ بِنَا أَضْيَافٌ لَنَا، قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَتَحَدَّثُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَ:" لَا أَرْجِعَنَّ إِلَيْكَ حَتَّى تَفْرُغَ مِنْ ضِيَافَةِ هَؤُلَاءِ، وَمِنْ قِرَاهُمْ، فَأَتَاهُمْ بِقِرَاهُمْ، فَقَالُوا: لَا نَطْعَمُهُ حَتَّى يَأْتِيَ أَبُو بَكْرٍ، فَجَاءَ، فَقَالَ: مَا فَعَلَ أَضْيَافُكُمْ، أَفَرَغْتُمْ مِنْ قِرَاهُمْ؟، قَالُوا: لَا، قُلْتُ: قَدْ أَتَيْتُهُمْ بِقِرَاهُمْ فَأَبَوْا، وَقَالُوا: وَاللَّهِ لَا نَطْعَمُهُ حَتَّى يَجِيءَ، فَقَالُوا: صَدَقَ، قَدْ أَتَانَا بِهِ، فَأَبَيْنَا حَتَّى تَجِيءَ، قَالَ: فَمَا مَنَعَكُمْ؟، قَالُوا: مَكَانَكَ، قَالَ: وَاللَّهِ لَا أَطْعَمُهُ اللَّيْلَةَ، قَالَ: فَقَالُوا: وَنَحْنُ وَاللَّهِ لَا نَطْعَمُهُ حَتَّى تَطْعَمَهُ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ فِي الشَّرِّ كَاللَّيْلَةِ قَطُّ، قَالَ: قَرِّبُوا طَعَامَكُمْ، قَالَ: فَقَرَّبَ طَعَامَهُمْ، فَقَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، فَطَعِمَ وَطَعِمُوا، فَأُخْبِرْتُ أَنَّهُ أَصْبَحَ، فَغَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي صَنَعَ، وَصَنَعُوا، قَالَ: بَلْ أَنْتَ أَبَرُّهُمْ وَأَصْدَقُهُمْ".
عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں ہمارے کچھ مہمان آئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر بات چیت کیا کرتے تھے (جاتے وقت) کہہ گئے کہ میں واپس نہیں آ سکوں گا یہاں تک کہ تم اپنے مہمانوں کو کھلا پلا کر فارغ ہو جاؤ (یعنی میں دیر سے آ سکوں گا تم انہیں کھانا وغیرہ کھلا دینا) تو وہ (عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ) ان کا کھانا لے کر آئے تو مہمان کہنے لگے: ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آئے بغیر نہیں کھائیں گے، پھر وہ آئے تو پوچھا: کیا ہوا تمہارے مہمانوں کا؟ تم کھانا کھلا کر فارغ ہو گئے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: میں ان کا کھانا لے کر ان کے پاس آیا مگر انہوں نے انکار کیا اور کہا: قسم اللہ کی جب تک وہ (ابوبکر) نہیں آ جائیں گے ہم نہیں کھائیں گے، تو ان لوگوں نے کہا: یہ سچ کہہ رہے ہیں، یہ ہمارے پاس کھانا لے کر آئے تھے، لیکن ہم نے ہی انکار کر دیا کہ جب تک آپ نہیں آ جاتے ہیں ہم نہیں کھائیں گے، آپ نے کہا: کس چیز نے تمہیں کھانے سے روکا؟ انہوں نے کہا: آپ کے نہ ہونے نے، انہوں نے کہا: قسم اللہ کی میں تو آج رات کھانا نہیں کھاؤں گا، مہمانوں نے کہا: جب تک آپ نہیں کھائیں گے ہم بھی نہیں کھائیں گے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: آج جیسی بری رات میں نے کبھی نہ دیکھی، پھر کہا: کھانا لاؤ تو ان کا کھانا لا کر لگا دیا گیا تو انہوں نے «بسم الله» کہہ کر کھانا شروع کر دیا، مہمان بھی کھانے لگے۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے اطلاع دی گئی کہ صبح اٹھ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، اور جو کچھ انہوں نے اور مہمانوں نے کیا تھا اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان لوگوں سے زیادہ قسم کو پورا کرنے والے اور صادق ہو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3270]
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں کچھ مہمان آ گئے، جبکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گفتگو میں مشغول ہو جایا کرتے تھے، تو انہوں نے کہا: ”میرے آنے تک تم ان کی ضیافت اور خدمت سے فارغ ہو جانا۔“ چنانچہ میں ان کے پاس ان کی ضیافت لے کر آیا تو انہوں نے کہا: ”ہم نہیں کھائیں گے حتیٰ کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ آ جائیں۔“ چنانچہ وہ (دیر سے) آئے اور پوچھا: ”تمہارے مہمانوں کا کیا ہوا، کیا تم ان کی مہمانداری سے فارغ ہو چکے ہو؟“ گھر والوں نے کہا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کیا کہ میں ان کے پاس ان کی ضیافت لے گیا تھا مگر انہوں نے انکار کر دیا اور کہا: ”اللہ کی قسم! ہم نہیں کھائیں گے حتیٰ کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ آ جائیں۔“ ان مہمانوں نے بھی تصدیق کی کہ یہ ہمارے پاس ضیافت لایا تھا مگر ہم نے انکار کر دیا حتیٰ کہ آپ آ جائیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”تمہیں (میرے بغیر) کھانے سے کیا مانع رہا؟“ انہوں نے کہا: ”آپ کے باعث (آپ کی عدم موجودگی)۔“ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”قسم اللہ کی! میں آج رات یہ نہیں کھاؤں گا۔“ تو انہوں نے کہا: ”اور ہم بھی اللہ کی قسم! نہیں کھائیں گے حتیٰ کہ آپ کھائیں گے۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”آج جیسی بری رات میں نے نہیں دیکھی۔“ اور فرمایا: ”کھانا لاؤ۔“ چنانچہ ان کا کھانا پیش کیا گیا تو کہا: «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے۔“ اور کھانے لگے اور مہمانوں نے بھی کھایا۔ (عبدالرحمن کہتے ہیں) مجھے بتایا گیا کہ صبح کے وقت وہ (ابوبکر رضی اللہ عنہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گوش گزار کیا جو کچھ انہوں (ابوبکر رضی اللہ عنہ) نے کیا اور مہمانوں نے کیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان سے بڑھ کر صالح ہو اور سچے بھی (کہ مہمانوں کے اکرام میں ان کی قسم کے مطابق کھانا کھا لیا)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3270]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/مواقیت الصلاة 41 (602)، المناقب 25 (3581)، الأدب 87 (6140)، صحیح مسلم/الأشربة 32 (2057)، (تحفة الأشراف: 9688)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/197، 198) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح ق إلا أن قوله فأخبرت... ليس عند خ وهو مدرج
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6140) صحيح مسلم (2057)
حدیث نمبر: 3271
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، نَحْوَهُ زَادَ،عَنْ سَالِمٍ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ: وَلَمْ يَبْلُغْنِي كَفَّارَةٌ.
اس سند سے بھی عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث اسی طرح مروی ہے اور اس میں مزید یہ ہے کہ سالم نے اپنی حدیث میں کہا کہ مجھے یہ معلوم نہ ہو سکا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس قسم کا کفارہ دیا ہو (کیونکہ یہ قسم لغو ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3271]
ابوعثمان نے سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مذکورہ بالا حدیث کی مانند روایت کی اور ابن مثنی نے سالم کی اس حدیث میں مزید کہا: ”مجھے یہ بات نہیں پہنچی کہ (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے) کفارہ بھی دیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3271]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9688) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2057)