🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب فِي كَرَاهِيَةِ الْحَلِفِ بِالآبَاءِ
باب: باپ دادا کی قسم کھانا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3252
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ نَافِعِ بْنِ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي فِي حَدِيثِ قِصَّةِ الْأَعْرَابِيِّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْلَحَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ".
مالک بن ابی عامر کہتے ہیں کہ طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے سنا (یعنی اعرابی کے واقعہ میں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس کے باپ کی، وہ کامیاب ہو گیا اگر وہ سچا ہے، قسم ہے اس کے باپ کی وہ جنت میں داخل ہو گیا اگر وہ سچا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3252]
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے بدوی کے واقعہ والی حدیث میں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کامیاب ہوا، قسم اس کے باپ کی! اگر سچا (ثابت قدم) رہا۔ جنت میں داخل ہوا، قسم اس کے باپ کی! اگر یہ سچا (ثابت قدم) رہا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3252]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الإیمان 34 (46)، والصوم 1 (1891)، والشھادات 26 (2678)، والحیل 3 (6956)، صحیح مسلم/الإیمان 2، (11)، سنن النسائی/الصلاة 4 (459)، الصوم 1 (2092)، (تحفة الأشراف: 5009)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة 25 (94) (وهو قطعة من حديث تقدم في أول الصلاة برقم (391) وليس فيه ’’وأبيه‘‘ (اس حدیث میں یہ ٹکڑا ’’أفلح وأبيه إن صدق‘‘ شاذ ہے)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: شاذ وهو قطعة من حديث تقدم في أول الصلاة ليس فيه وأبيه
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
رواه البخاري (903) ومسلم (847) مختصرًا، وانظر الحديث السابق (392)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. باب فِي كَرَاهِيَةِ الْحَلِفِ بِالأَمَانَةِ
باب: امانت کی قسم کھانے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3253
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ الطَّائِيُّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ بِالْأَمَانَةِ، فَلَيْسَ مِنَّا".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو امانت کی قسم کھائے وہ ہم میں سے نہیں ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3253]
جناب (سلیمان بن بریدہ) ابن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے امانت کی قسم کھائی، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3253]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2005)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/352) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کیونکہ قسم اللہ کے اسماء و صفات کی کھانی چاہئے، اور امانت اس کے اسماء و صفات میں سے نہیں ہے بلکہ اس کے اوامر میں سے ایک امر ہے، اس لیے امانت کی قسم کھانا جائز کام ہو گا، اور اس میں کفارہ نہ ہوگا، امام ابوحنیفہ کے نزدیک امانت کی قسم صحیح ہے، اور اس میں کفارہ واجب ہو گا، کیونکہ امین اللہ کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3420)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. باب لَغْوِ الْيَمِينِ
باب: یمین لغو کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3254
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الشَّامِيُّ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي الصَّائِغَ، عَنْ عَطَاءٍ فِي اللَّغْوِ فِي الْيَمِينِ، قَالَ:قَالَتْ عَائِشَةُ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" هُوَ كَلَامُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ، كَلَّا وَاللَّهِ، وَبَلَى وَاللَّهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَانَ إِبْرَاهِيمُ الصَّائِغُ رَجُلًا صَالِحًا، قَتَلَهُ أَبُو مُسْلِمٍ بِعَرَنْدَسَ، قَالَ: وَكَانَ إِذَا رَفَعَ الْمِطْرَقَةَ فَسَمِعَ النِّدَاءَ سَيَّبَهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغِ، مَوْقُوفًا عَلَى عَائِشَةَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَمَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، وَكُلُّهُمْ عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ مَوْقُوفًا.
عطاء سے یمین لغو کے بارے میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یمین لغو یہ ہے کہ آدمی اپنے گھر میں (تکیہ کلام کے طور پر) «كلا والله وبلى والله» (ہرگز نہیں قسم اللہ کی، ہاں قسم اللہ کی) کہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابراہیم صائغ ایک نیک آدمی تھے، ابومسلم نے عرندس میں انہیں قتل کر دیا تھا، ابراہیم صائغ کا حال یہ تھا کہ اگر وہ ہتھوڑا اوپر اٹھائے ہوتے اور اذان کی آواز آ جاتی تو (مارنے سے پہلے) اسے چھوڑ دیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو داود بن ابوالفرات نے ابراہیم صائغ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوفاً روایت کیا ہے اور اسے اسی طرح زہری، عبدالملک بن ابی سلیمان اور مالک بن مغول نے روایت کیا ہے اور ان سب نے عطاء سے انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3254]
جناب عطاء رضی اللہ عنہ سے لغو قسم کے بارے میں مروی ہے، انہوں نے کہا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد وہ قسم ہے جو آدمی اپنے گھر میں «كَلَّا وَاللَّهِ وَبَلَى وَاللَّهِ» ”نہیں، اللہ کی قسم! اور ہاں، اللہ کی قسم!“ وغیرہ بولتا رہتا ہے۔“ (اس کا تکیہ کلام ہوتا ہے اور قسم کا قصد نہیں ہوتا۔) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابراہیم صائغ ایک صالح آدمی تھے۔ ان کو ابومسلم نے مقام عرندس میں قتل کر دیا تھا۔ اور ان کا یہ معمول تھا کہ اگر ہتھوڑا اٹھایا ہوا ہوتا اور اذان سن لیتے تو وہیں چھوڑ دیتے تھے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”اس حدیث کو داود بن ابی فرات نے بواسطہ ابراہیم صائغ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوف روایت کیا ہے اور ایسے ہی زہری، عبدالملک بن ابی سلیمان اور مالک بن مغول نے بواسطہ عطاء، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے موقوف روایت کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3254]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17375) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یمین لغو ایسے قسمیہ الفاظ کو کہا جاتا ہے جو دوران گفتگو لوگوں کی زبان سے بلا قصد و ارادہ جاری ہو جاتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه ابن حبان (1187 وسنده حسن) ورواه البخاري (6663 موقوفًا)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. باب الْمَعَارِيضِ فِي الْيَمِينِ
باب: قسم کھانے میں توریہ کرنا یعنی اصل بات چھپا کر دوسری بات ظاہر کرنا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3255
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَمِينُكَ عَلَى مَا يُصَدِّقُكَ عَلَيْهَا صَاحِبُكَ". قَالَ مُسَدَّدٌ: قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هُمَا وَاحِدٌ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، وَعَبَّادُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری قسم کا اعتبار اسی چیز پر ہو گا جس پر تمہارا ساتھی تمہاری تصدیق کرے“۔ مسدد کی روایت میں: «أخبرني عبد الله بن أبي صالح» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عباد بن ابی صالح اور عبداللہ بن ابی صالح دونوں ایک ہی ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3255]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری قسم اسی بات پر ہے جس پر تیرا ساتھی تجھ سے تصدیق کرا رہا ہے۔“ جناب مسدد رحمہ اللہ نے اس سند میں ( «عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ» کے بجائے) «أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي صَالِحٍ» کہا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ دونوں عبداللہ بن ابی صالح اور عباد بن ابی صالح ایک ہی شخصیت ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3255]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الأیمان 4 (1653)، سنن الترمذی/الأحکام 19 (1354)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 14 (2120)، (تحفة الأشراف: 12826)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/228)، سنن الدارمی/النذور 11 (2394) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1653)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3256
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ جَدَّتِهِ، عَنْ أَبِيهَا سُوَيْدِ بْنِ حَنْظَلَةَ، قَالَ:" خَرَجْنَا نُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَنَا وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ، فَأَخَذَهُ عَدُوٌّ لَهُ، فَتَحَرَّجَ الْقَوْمُ أَنْ يَحْلِفُوا، وَحَلَفْتُ أَنَّهُ أَخِي، فَخَلَّى سَبِيلَهُ، فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّ الْقَوْمَ تَحَرَّجُوا أَنْ يَحْلِفُوا، وَحَلَفْتُ أَنَّهُ أَخِي، قَالَ: صَدَقْتَ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ".
سوید بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نکلے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے کا ارادہ کر رہے تھے، اور ہمارے ساتھ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہیں ان کے ایک دشمن نے پکڑ لیا تو اور ساتھیوں نے انہیں جھوٹی قسم کھا کر چھڑا لینے کو برا سمجھا (لیکن) میں نے قسم کھا لی کہ وہ میرا بھائی ہے تو اس نے انہیں آنے دیا، پھر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ اور لوگوں نے تو قسم کھانے میں حرج و قباحت سمجھی، اور میں نے قسم کھا لی کہ یہ میرے بھائی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے سچ کہا، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3256]
سیدنا سوید بن حنظلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی نیت سے روانہ ہوئے اور ہمارے ساتھ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ان کے ایک دشمن نے ان کو پکڑ لیا، تو قوم کے لوگ قسم کھانے سے ہچکچاتے رہے، مگر میں نے قسم کھا لی کہ ”یہ میرا بھائی ہے۔“ تو اس نے اسے چھوڑ دیا۔ پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ قوم کے لوگوں نے قسم کھانے میں حرج سمجھا تھا، مگر میں نے قسم کھائی کہ ”یہ میرا بھائی ہے“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے سچ کہا، مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3256]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الکفارات 14 (2119)، (تحفة الأشراف: 4809)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/79) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه ابن ماجه (2119 وسنده حسن) جدة إبراھيم بن عبد الأعلٰي وثقھا الحاكم والذهبي

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. باب مَا جَاءَ فِي الْحَلِفِ بِالْبَرَاءَةِ وَبِمِلَّةٍ غَيْرِ الإِسْلاَمِ
باب: اسلام سے براءت اور اسلام کے سوا کسی اور مذہب میں چلے جانے کی قسم کھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3257
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو قِلَابَةَ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاكِ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ غَيْرِ مِلَّةِ الْإِسْلَامِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَيْسَ عَلَى رَجُلٍ نَذْرٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُهُ".
ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ملت اسلام کے سوا کسی اور ملت میں ہونے کی جھوٹی قسم کھائے تو وہ ویسے ہی ہو جائے گا جیسا اس نے کہا ہے، اور جو شخص اپنے آپ کو کسی چیز سے ہلاک کر ڈالے (یعنی خودکشی کر لے) تو قیامت میں اس کو اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا، اور اس آدمی کی نذر نہیں مانی جائے گی جو کسی ایسی چیز کی نذر مانے جو اس کے اختیار میں نہ ہو ۲؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3257]
سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حدیبیہ میں) درخت کے نیچے بیعت کی تھی، بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ملتِ اسلام کے سوا کسی اور ملت میں ہو جانے کی قسم کھائی خواہ وہ جھوٹا ہی کیوں نہ ہو، تو وہ اسی طرح ہے جیسا کہ اس نے کہا، اور جس نے جس چیز سے اپنے آپ کو قتل کیا اسے قیامت کے دن اسی سے عذاب دیا جائے گا، اور جو چیز انسان کی اپنی ملکیت میں نہ ہو، اس کی نذر بھی نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3257]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الجنائز 83 (1363)، الأدب 44 (6047)، 73 (6105)، الایمان 7 (6652)، صحیح مسلم/الإیمان 47 (110)، سنن الترمذی/الأیمان 15 (1543)، سنن النسائی/الأیمان 6 (3801)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 3 (2098)، (تحفة الأشراف: 2062، 2063)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/33، 34) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بیعت سے مراد بیعت رضوان ہے، جو صلح حدیببہ کے موقع پر لی گئی۔
۲؎: مثلا یوں کہتے ہیں کہ اگر میں یہ کروں تو یہودی ہو جاؤں، مثلاً دوسرے کے غلام یا لونڈی کو آزاد کرنے کی نذر مانے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4171) صحيح مسلم (110)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3258
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ، فَقَالَ: إِنِّي بَرِيءٌ مِنَ الْإِسْلَامِ، فَإِنْ كَانَ كَاذِبًا، فَهُوَ كَمَا قَالَ، وَإِنْ كَانَ صَادِقًا، فَلَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْإِسْلَامِ سَالِمًا".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قسم کھائے اور کہے میں اسلام سے بری ہوں (اگر میں نے فلاں کام کیا) اب اگر وہ جھوٹا ہے تو اس نے جیسا ہونے کو کہا ہے ویسا ہی ہو جائے گا، اور اگر سچا ہے تو بھی وہ اسلام میں سلامتی سے ہرگز واپس نہ آ سکے گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3258]
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قسم کھائی کہ میں اسلام سے بری ہوں، تو اگر وہ جھوٹا ہوا تو وہ وہی ہوا جو اس نے کہا اور اگر سچا بھی ہوا تو اسلام کی طرف صحیح سالم نہیں لوٹے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3258]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الأیمان 7 (3803)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 3 (2100)، (تحفة الأشراف: 1959)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/355، 356) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3421)
أخرجه النسائي (3803 وسنده حسن) وابن ماجه (2100 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. باب الرَّجُلِ يَحْلِفُ أَنْ لاَ يَتَأَدَّمَ
باب: سالن نہ کھانے کی قسم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3259
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ تَمْرَةً عَلَى كِسْرَةٍ، فَقَالَ: هَذِهِ إِدَامُ هَذِهِ".
یوسف بن عبداللہ بن سلام کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے روٹی کے ٹکڑے پر کھجور رکھا اور کہا یہ اس کا سالن ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3259]
سیدنا یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور روٹی کے ٹکڑے پر رکھی اور فرمایا ”یہ اس کا سالن ہے۔“” [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3259]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11854)ویأتی ہذا الحدیث فی الأطعمة (3830) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی یحییٰ بن العلاء ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: اس روایت سے معلوم ہوا کہ جس نے سالن نہ کھانے کی قسم کھائی ہو اگر وہ روٹی کے ساتھ کھجور کھائے تو وہ حانث شمار ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف جدًا
يحيي بن العلاء : متروك،متھم بالكذب وقال الحافظ في التقريب (7618) : ’’ رمي بالوضع‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 119

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3260
اس سند سے بھی یوسف بن عبداللہ بن سلام سے اسی کے مثل مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3260]
یزید اعور نے سیدنا یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے اس کے مثل روایت کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3260]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11854) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی یزیدا لا عور مجہول ہیں)
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي في الشمائل (183) والحديث الآتي (3830)
يزيد بن أبي أمية الأعور : مجهول (تقريب التهذيب: 7690)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 119

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. باب الاِسْتِثْنَاءِ فِي الْيَمِينِ
باب: قسم میں استثناء یعنی «إن شاء الله» کہہ دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3261
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَقَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقَدِ اسْتَثْنَى".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی کام پر قسم کھائی پھر ان شاءاللہ کہا تو اس نے استثناء کر لیا ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3261]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ”جس نے قسم کھائی اور پھر «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ کہہ دیا تو اس نے استثناء کر لیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3261]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأیمان 7 (1531)، سنن النسائی/الأیمان 18 (3824)، 39 (3859)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 6 (2106)، (تحفة الأشراف: 7517)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/6، 10، 48، 49، 68، 126، 127، 153)، دی/ النذور 7 (2388) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کیونکہ اب وہ اپنی قسم میں جھوٹا نہ ہو گا اس لئے کہ اس کی قسم اللہ کی مشیت و مرضی پر معلق ہو گئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3424)
أخرجه النسائي (3860 وسنده حسن) سفيان بن عيينة صرح بالسماع عند الحميدي بتحقيقي (691 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں