سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. باب فِي اتِّخَاذِ السُّتُورِ
باب: رنگین اور نقش و نگار والے پردے لٹکانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4150
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْأَسَدِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: وَكَانَ سِتْرًا مَوْشِيًّا.
فضیل سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ وہ ایک منقش پردہ تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4150]
ابن فضیل نے اپنے والد سے یہ حدیث بیان کی تو کہا: ”پردہ نقش دار تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4150]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 8252) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2613)
46. باب فِي الصَّلِيبِ فِي الثَّوْبِ
باب: کپڑے میں صلیب کی صورت بنی ہو تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4151
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حِطَّانَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ لَا يَتْرُكُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا فِيهِ تَصْلِيبٌ إِلَّا قَضَبَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کسی ایسی چیز کو جس میں صلیب کی تصویر بنی ہوتی بغیر کاٹے یا توڑے نہیں چھوڑتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4151]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”گھر میں کوئی بھی چیز دیکھتے جس پر صلیب کا نشان ہوتا تو اسے کاٹ ڈالتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4151]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس90 (5952)، (تحفة الأشراف: 17424)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/52، 237، 252) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5952)
47. باب فِي الصُّوَرِ
باب: تصویروں کا بیان۔
حدیث نمبر: 4152
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ وَلَا جُنُبٌ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر، کتا، یا جنبی (ناپاک شخص) ہو“۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4152]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس گھر میں تصویر یا کتا یا جنبی ہو، اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4152]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (227)، (تحفة الأشراف: 10291) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه ابن ماجه (3650 وسنده حسن) والنسائي (262 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (227)
أخرجه ابن ماجه (3650 وسنده حسن) والنسائي (262 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (227)
حدیث نمبر: 4153
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ سُهَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تِمْثَالٌ، وَقَالَ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ نَسْأَلْهَا عَنْ ذَلِكَ، فَانْطَلَقْنَا، فَقُلْنَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ، حَدَّثَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَذَا وَكَذَا فَهَلْ سَمِعْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ ذَلِكَ؟ قَالَتْ: لَا، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكُمْ بِمَا رَأَيْتُهُ فَعَلَ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ وَكُنْتُ أَتَحَيَّنُ قُفُولَهُ، فَأَخَذْتُ نَمَطًا كَانَ لَنَا فَسَتَرْتُهُ عَلَى الْعَرَضِ، فَلَمَّا جَاءَ اسْتَقْبَلْتُهُ فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَعَزَّكَ وَأَكْرَمَكَ، فَنَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ فَرَأَى النَّمَطَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا وَرَأَيْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ فَأَتَى النَّمَطَ حَتَّى هَتَكَهُ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْنَا فِيمَا رَزَقَنَا أَنْ نَكْسُوَ الْحِجَارَةَ وَاللَّبِنَ، قَالَتْ: فَقَطَعْتُهُ وَجَعَلْتُهُ وِسَادَتَيْنِ وَحَشَوْتُهُمَا لِيفًا فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ".
ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا مجسمہ ہو“۔ زید بن خالد نے جو اس حدیث کے راوی ہیں سعید بن یسار سے کہا: میرے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلو ہم ان سے اس بارے میں پوچھیں گے چنانچہ ہم گئے اور جا کر پوچھا: ام المؤمنین! ابوطلحہ نے ہم سے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایسا ایسا فرمایا ہے تو کیا آپ نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ آپ نے کہا: نہیں، لیکن میں نے جو کچھ آپ کو کرتے دیکھا ہے وہ میں تم سے بیان کرتی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوہ میں نکلے، میں آپ کی واپسی کی منتظر تھی، میں نے ایک پردہ لیا جو میرے پاس تھا اور اسے دروازے کی پڑی لکڑی پر لٹکا دیا، پھر جب آئے تو میں نے آپ کا استقبال کیا اور کہا: سلامتی ہو آپ پر اے اللہ کے رسول! اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، شکر ہے اس اللہ کا جس نے آپ کو عزت بخشی اور اپنے فضل و کرم سے نوازا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر پر نظر ڈالی، تو آپ کی نگاہ پردے پر گئی تو آپ نے میرے سلام کا کوئی جواب نہیں دیا، میں نے آپ کے چہرہ پر ناگواری دیکھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پردے کے پاس آئے اور اسے اتار دیا اور فرمایا: ”اللہ نے ہمیں یہ حکم نہیں دیا ہے کہ ہم اس کی عطا کی ہوئی چیزوں میں سے پتھر اور اینٹ کو کپڑے پہنائیں“ پھر میں نے کاٹ کر اس کے دو تکیے بنا لیے، اور ان میں کھجور کی چھال کا بھراؤ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اس کام پر کوئی نکیر نہیں فرمائی۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4153]
سیدنا ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس گھر میں کتا ہو یا بت وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔“ زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”چلو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس بارے میں پوچھتے ہیں۔“ چنانچہ ہم چل دیے۔ ہم نے کہا: ”اے ام المؤمنین! ابوطلحہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں یوں بیان کرتے ہیں۔ کیا آپ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بیان کرتے سنا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں۔ لیکن میں تمہیں وہ بتاتی ہوں جو میں نے انہیں کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک سفر میں تشریف لے گئے۔ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی کا انتظار تھا۔ میں نے اپنا ایک حاشیہ دار پردہ لیا اور اسے شہتیر کے ساتھ لٹکا دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے استقبال کیا اور عرض کیا «اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ» ”اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں“، ”حمد اس اللہ کی جس نے آپ کو عزت اور اکرام سے نوازا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر پر نظر ڈالی تو وہ حاشیہ دار پردہ دیکھا اور مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناگواری محسوس ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس حاشیہ دار پردے کی طرف آئے اور اسے اتار پھینکا، پھر فرمایا: ”بے شک اللہ نے ہمیں ہمارے رزق میں یہ حکم نہیں دیا کہ اینٹوں اور پتھروں کو کپڑے پہناتے پھریں۔“ کہتی ہیں: ”چنانچہ میں نے اس کو پھاڑ کر دو تکیے بنا لیے اور ان میں کھجور کی چھال بھر دی، تو اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ نہیں کہا۔““ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4153]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/بدء الخلق 7 (3225)، 17 (3322)، المغازي 12 (4002)، اللباس 88 (5949)، 92 (5958)، صحیح مسلم/اللباس 26 (2106)، سنن الترمذی/الأدب 44 (2804)، سنن النسائی/الصید والذبائح 11 (4287)، الزینة من المجتبی 57 (5349)، سنن ابن ماجہ/اللباس 44 (3649)، (تحفة الأشراف: 16089، 3779)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستئذان 3 (6)، مسند احمد (4/28، 29، 30) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2106)
حدیث نمبر: 4154
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلِهِ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أُمَّهْ إِنَّ هَذَا حَدَّثَنِي، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَقَالَ فِيهِ سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي النَّجَّارِ.
اس سند سے بھی سہیل سے اسی طرح مروی ہے اس میں «فقلنا يا أم المؤمنين إن أبا طلحة حدثنا عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم » کے بجائے «فقلت يا أمه إن هذا حدثني أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال» ہے نیز اس میں «سعيد بن يسار الأنصاري» کے بجائے «سعيد بن يسار مولى بني النجار» ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4154]
جریر نے سہیل سے اپنی سند سے اسی مذکورہ حدیث کی مثل روایت کیا، اس میں ہے کہ زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میری اماں جان! (ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ) نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی ہے۔“ اس روایت کی سند میں سعید بن یسار رحمہ اللہ کے متعلق ہے کہ یہ بنو نجار کے غلام تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4154]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 16089) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4153)
انظر الحديث السابق (4153)
حدیث نمبر: 4155
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ"، قَالَ بُسْرٌ: ثُمَّ اشْتَكَى زَيْدٌ، فَعُدْنَاهُ فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ فِيهِ صُورَةٌ فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ رَبِيبِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَمْ يُخْبِرْنَا زَيْدٌ عَنِ الصُّوَرِ يَوْمَ الْأَوَّلِ؟ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: أَلَمْ تَسْمَعْهُ حِينَ قَالَ إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ.
زید بن خالد رضی اللہ عنہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے ہیں جس میں تصویر ہو“۔ بسر جو حدیث کے راوی ہیں کہتے ہیں: پھر زید بن خالد بیمار ہوئے تو ہم ان کی عیادت کرنے کے لیے گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے دروازے پر ایک پردہ لٹک رہا ہے جس میں تصویر ہے تو میں نے ام المؤمنین میمونہ کے ربیب (پروردہ) عبیداللہ خولانی سے کہا: کیا زید نے ہمیں تصویر کی ممانعت کے سلسلہ میں اس سے پہلے حدیث نہیں سنائی تھی (پھر یہ کیا ہوا؟) تو عبیداللہ نے کہا: کیا آپ نے ان سے نہیں سنا تھا انہوں نے یہ بھی تو کہا تھا ”سوائے اس نقش و نگار کے جو کپڑے پر ہو“۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4155]
سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ہو۔“ جناب بسر بن سعید نے کہا: ”پھر ایسے ہوا کہ (اس حدیث کے راوی یعنی ہمارے شیخ) زید بن خالد بیمار ہو گئے اور ہم ان کی عیادت کو گئے تو دیکھا کہ ان کے دروازے پر پردہ ہے اور اس میں تصویر تھی۔ میں نے عبیداللہ خولانی سے کہا، جو کہ ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پروردہ تھے: ”بھلا زید نے گزشتہ دن تصویروں کے متعلق حدیث بیان نہیں کی تھی؟“ تو عبیداللہ نے کہا: ”تو کیا تم نے سنا نہیں تھا جبکہ انہوں نے کہا تھا: ”الا یہ کہ کسی کپڑے پر کوئی نقش و نگار ہو۔“““ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4155]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (4153)، (تحفة الأشراف: 3775) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5958) صحيح مسلم (2106)
حدیث نمبر: 4156
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنَّ إِسْمَاعِيل بْنَ عَبْدِ الْكَرِيمِ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ عَقِيلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ،عَنْ جَابِرٍ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ زَمَنَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ أَنْ يَأْتِيَ الْكَعْبَةَ، فَيَمْحُوَ كُلَّ صُورَةٍ فِيهَا فَلَمْ يَدْخُلْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مُحِيَتْ كُلَّ صُورَةٍ فِيهَا".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے وقت جب آپ بطحاء میں تھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ کعبہ میں جائیں اور جتنی تصویریں ہوں سب کو مٹا ڈالیں، آپ اس وقت تک کعبہ کے اندر تشریف نہیں لے گئے جب تک سبھی تصویریں مٹا نہ دی گئیں۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4156]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فتح مکہ کے موقع پر حکم دیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود وادی بطحاء میں ٹھہرے ہوئے تھے، کہ ”کعبہ میں جائیں اور اس میں موجود سب تصویروں کو مٹا ڈالیں۔“ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان تصویروں کے مٹا دیے جانے تک اس میں داخل نہیں ہوئے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4156]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3137)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/335، 336، 383، 385، 396) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أصله عند الترمذي (1749 وسنده صحيح) بلفظ آخر
أصله عند الترمذي (1749 وسنده صحيح) بلفظ آخر
حدیث نمبر: 4157
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ السَّبَّاقِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِي اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جَرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ بِسَاطٍ لَنَا فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً فَنَضَحَ بِهِ مَكَانَهُ فَلَمَّا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ: إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ فَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَأْمُرُ بِقَتْلِ كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ وَيَتْرُكُ كَلْبَ الْحَائِطِ الْكَبِيرِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام نے آج رات مجھ سے ملنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ مجھ سے نہیں ملے“ پھر آپ کو خیال آیا کہ ہماری چارپائی کے نیچے کتے کا پلا ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ نکالا گیا، پھر اپنے ہاتھ میں پانی لے کر آپ نے وہاں چھڑکاؤ کیا تو جبرائیل آپ سے ملے اور کہنے لگے: ”ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو“ پھر صبح ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا یہاں تک کہ آپ چھوٹے باغوں کے کتوں کو بھی مار ڈالنے کا حکم دے رہے تھے صرف آپ بڑے باغوں کے کتوں کو چھوڑ رہے تھے (کیونکہ بغیر کتوں کے ان کی دیکھ ریکھ دشوار ہوتی ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4157]
ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تحقیق جبرائیل علیہ السلام نے آج رات مجھ سے ملاقات کا وعدہ کیا تھا، مگر ملاقات کو نہ آئے۔“ مجھے خیال آیا کہ ہماری چارپائی کے نیچے کتے کا پلا موجود ہے (کہیں یہی مانع نہ ہوا ہو) تو اس کے نکالنے کا حکم دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی لیا اور اپنے ہاتھ سے اس جگہ چھڑک دیا۔ پھر جبرائیل علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا: ”بیشک ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتا ہو یا تصویر ہو۔“ پھر صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مارنے کا حکم دیا، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چھوٹے باغوں کے کتوں کو بھی مارنے کا حکم دیتے تھے، البتہ بڑے باغوں کے کتوں کو چھوڑ دیتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4157]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 26 (2105)، سنن النسائی/الصید 9 (2481)، 11 (4288)، (تحفة الأشراف: 18068)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/330) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2105)
حدیث نمبر: 4158
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ لِي: أَتَيْتُكَ الْبَارِحَةَ فَلَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَكُونَ دَخَلْتُ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ عَلَى الْبَابِ تَمَاثِيلُ وَكَانَ فِي الْبَيْتِ قِرَامُ سِتْرٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ وَكَانَ فِي الْبَيْتِ كَلْبٌ، فَمُرْ بِرَأْسِ التِّمْثَالِ الَّذِي فِي الْبَيْتِ يُقْطَعُ فَيَصِيرُ كَهَيْئَةِ الشَّجَرَةِ، وَمُرْ بِالسِّتْرِ فَلْيُقْطَعْ فَلْيُجْعَلْ مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ مَنْبُوذَتَيْنِ تُوطَآَنِ وَمُرْ بِالْكَلْبِ فَلْيُخْرَجْ فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا الْكَلْبُ لِحَسَنٍ أَوْ حُسَيْنٍ كَانَ تَحْتَ نَضَدٍ لَهُمْ فَأُمِرَ بِهِ فَأُخْرِجَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَالنَّضَدُ شَيْءٌ تُوضَعُ عَلَيْهِ الثِّيَابُ شَبَهُ السَّرِيرِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل علیہ السلام نے آ کر کہا: میں کل رات آپ کے پاس آیا تھا لیکن اندر نہ آنے کی وجہ صرف وہ تصویریں رہیں جو آپ کے دروازے پر تھیں اور آپ کے گھر میں (دروازے پر) ایک منقش پردہ تھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں، اور گھر میں کتا بھی تھا تو آپ کہہ دیں کہ گھر میں جو تصویریں ہوں ان کا سر کاٹ دیں تاکہ وہ درخت کی شکل کی ہو جائیں، اور پردے کو پھاڑ کر اس کے دو غالیچے بنا لیں تاکہ وہ بچھا کر پیروں سے روندے جائیں اور حکم دیں کہ کتے کو باہر نکال دیا جائے“، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا، اسی دوران حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کا کتا ان کے تخت کے نیچے بیٹھا نظر آیا، آپ نے حکم دیا تو وہ بھی باہر نکال دیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «نضد» چارپائی کی شکل کی ایک چیز ہے جس پر کپڑے رکھے جاتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4158]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے کہا: ”میں گزشتہ رات آپ کے ہاں آیا تھا مگر اندر آنے سے میرے لیے یہ امر مانع تھا کہ (آپ کے گھر کے) دروازے پر تصویریں تھیں اور گھر میں تصویروں والا پردہ تھا اور کتا بھی تھا، چنانچہ آپ گھر میں تصویر کے متعلق حکم دیجیے کہ اس کا سر کاٹ دیا جائے اور وہ درخت کی مانند ہو جائے اور پردے کے متعلق حکم فرمائیں کہ اسے کاٹ کر دو تکیے بنا لیے جائیں جو پھینکے جائیں اور پاؤں سے روندے جائیں اور کتے کے متعلق فرمائیے کہ اسے نکال باہر کیا جائے۔““ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا۔ یہ حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کا کتا تھا جو ان کے تخت کے نیچے تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اسے نکال باہر کیا گیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «النَّضَدُ» سے مراد وہ شے ہے جس پر کپڑے رکھے جاتے ہیں اور وہ چارپائی کے مشابہ ہوتی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4158]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأدب 44 (2806)، سنن النسائی/الزینة من المجتبی 60 (5367)، (تحفة الأشراف: 14345)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/305، 308، 478) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (4501)
أخرجه الترمذي (2806 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (4501)
أخرجه الترمذي (2806 وسنده صحيح)