🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب فِي قَوْلِهِ ‏{‏ غَيْرِ أُولِي الإِرْبَةِ ‏}‏
باب: آیت کریمہ: «غير أولي الإربة» کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4110
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ إِذَنْ يَمُوتُ مِنَ الْجُوعِ، فَأَذِنَ لَهُ أَنْ يَدْخُلَ فِي كُلِّ جُمْعَةٍ مَرَّتَيْنِ فَيَسْأَلُ، ثُمَّ يَرْجِعُ.
اوزاعی سے اس واقعہ کے سلسلہ میں مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! تب تو وہ بھوک سے مر جائے گا تو آپ نے اسے ہفتہ میں دو بار آنے کی اجازت دے دی، وہ آتا اور کھانا مانگ کر لے جاتا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4110]
جناب اوزاعی رحمہ اللہ نے اس قصے میں بیان کیا کہ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! (اگر اسے گھروں سے روک دیا گیا تو) یہ بھوک سے مر جائے گا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دی کہ ہر ہفتے دو بار آ جایا کرے، لوگوں سے سوال کرے اور لوٹ جایا کرے۔ اگر کسی آدمی کی باقاعدہ کفالت کا اہتمام نہ ہو تو اسے مانگ کر گزارہ کرنے کی اجازت ہے، مگر فحاشی پھیلانے کی نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4110]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم:(4107)، (تحفة الأشراف: 16518) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4107)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
36. باب فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ ‏}‏
باب: آیت کریمہ: «وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن» کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4111
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ سورة النور آية 31 الْآيَةَ، فَنُسِخَ وَاسْتَثْنَى مِنْ ذَلِكَ وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللَّاتِي لا يَرْجُونَ نِكَاحًا سورة النور آية 60الْآيَةَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آیت کریمہ «وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن» مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں (سورۃ النور: ۳۱) کے حکم سے «والقواعد من النساء اللاتي لا يرجون نكاحا» بڑی بوڑھی عورتیں جنہیں نکاح کی امید نہ رہی ہو (سورۃ النور: ۶۰) کو منسوخ و مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4111]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے آیت کریمہ ﴿وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ﴾ [سورة النور: 31] کی تفسیر میں فرمایا: (یہ عام الحکم تھا۔ پھر بڑی عمر کی بوڑھی عورتوں کے حق میں) اسے منسوخ کر کے انہیں اس حکم سے مستثنیٰ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا يَرْجُونَ نِكَاحًا﴾ [سورة النور: 60] یعنی بڑی عمر کی بوڑھی عورتیں جنہیں اب نکاح کی خواہش نہ ہو۔ (ان پر پردے کے احکام کی پابندی نہیں ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4111]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6266) (حسن الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4112
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَبْهَانُ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ مَيْمُونَةُ، فَأَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ أُمِرْنَا بِالْحِجَابِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْتَجِبَا مِنْهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسَ أَعْمَى لَا يُبْصِرُنَا وَلَا يَعْرِفُنَا؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ؟"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا لِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً أَلَا تَرَى إِلَى اعْتِدَادِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، قَدْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ: اعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، آپ کے پاس ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں کہ اتنے میں ابن ام مکتوم آئے، یہ واقعہ پردہ کا حکم نازل ہو چکنے کے بعد کا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں ان سے پردہ کرو تو ہم نے کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ نابینا نہیں ہیں؟ نہ تو وہ ہم کو دیکھ سکتے ہیں، نہ پہچان سکتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اندھی ہو؟ کیا تم انہیں نہیں دیکھتی ہو؟۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے لیے خاص تھا، کیا تمہارے سامنے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے پاس فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے عدت گزارنے کا واقعہ نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا: تم ابن ام مکتوم کے پاس عدت گزارو کیونکہ وہ نابینا ہیں اپنے کپڑے تم ان کے پاس اتار سکتی ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4112]
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھی جبکہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بھی وہیں تھیں کہ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آ گئے۔ اور یہ ان دنوں کی بات ہے جبکہ ہمیں پردے کے احکام دے دیے گئے تھے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے پردہ کرو۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ نابینا نہیں ہے، ہمیں دیکھتا نہیں اور پہچانتا بھی نہیں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو کیا تم بھی اندھی ہو، تم اسے نہیں دیکھتی ہو؟! امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حکم ازواجِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھا۔ جبکہ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت گزارنے کا کہا گیا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا تھا: ابن ام مکتوم کے ہاں عدت گزارو، وہ نابینا آدمی ہے، تم اس کے ہاں اپنے کپڑے اتار سکو گی۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4112]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأدب 29 (2778)، (تحفة الأشراف: 18222)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/296) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں نبہان مولی ام سلمہ مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3116)
أخرجه الترمذي (2778 وسنده حسن) نبھان مولٰي أم سلمة: وثقه الذھبي في الكاشف و الترمذي و ابن حبان و الحاكم بتصحيح حديثه فحديثه لا ينزل عن درجة الحسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4113
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمَيْمُونِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا زَوَّجَ أَحَدُكُمْ عَبْدَهُ أَمَتَهُ، فَلَا يَنْظُرْ إِلَى عَوْرَتِهَا".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے غلام کی اپنی لونڈی سے شادی کر دے تو پھر اس کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4113]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی اپنے غلام کی اپنی باندی سے شادی کر دے تو اب اس باندی کے ستر کی طرف نہ دیکھے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4113]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8742) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث الآتي (4114)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4114
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ سَوَّارٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا زَوَّجَ أَحَدُكُمْ خَادِمَهُ عَبْدَهُ أَوْ أَجِيرَهُ، فَلَا يَنْظُرْ إِلَى مَا دُونَ السُّرَّةِ وَفَوْقَ الرُّكْبَةِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَصَوَابُهُ سَوَّارُ بْنُ دَاوُدَ الْمُزَنِيُّ الصَّيْرَفِيُّ وَهِمَ فِيهِ وَكِيعٌ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی لونڈی کی اپنے غلام یا مزدور سے شادی کر دے تو پھر وہ اس کے اس حصہ کو نہ دیکھے جو ناف کے نیچے اور گھٹنے کے اوپر ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: صحیح سوار بن داود مزنی صیرفی ہے وکیع کو ان کے نام میں وہم ہوا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4114]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی اپنی خادمہ کی اپنے غلام یا نوکر سے شادی کر دے تو اب اس خادمہ کی ناف سے لے کر گھٹنے سے اوپر تک کے حصہ کو مت دیکھے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سند میں راوی (داود بن سوار) کا صحیح نام سوار بن داود مزنی صیرفی ہے، اس میں وکیع کو وہم ہوا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4114]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8718)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/187) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3111)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. باب فِي الاِخْتِمَارِ
باب: عورت سر پر اوڑھنی (دوپٹہ) کیسے اوڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4115
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ وَهْبٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ:" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ تَخْتَمِرُ، فَقَالَ: لَيَّةً لَا لَيَّتَيْنِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: مَعْنَى قَوْلِهِ لَيَّةً لَا لَيَّتَيْنِ يَقُولُ: لَا تَعْتَمُّ مِثْلَ الرَّجُلِ لَا تُكَرِّرُهُ طَاقًا أَوْ طَاقَيْنِ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور وہ اوڑھنی اوڑھے ہوئے تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس ایک ہی پیچ رکھو دو پیچ نہ کرو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «لية لا ليتين» کا مطلب یہ ہے کہ مرد کی طرح پگڑی نہ باندھو کہ اس کے ایک یا دو پیچ کو دہرا کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4115]
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں آئے اور وہ سر پر اوڑھنی لپیٹ رہی تھیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک بل دو، دو نہیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کا مفہوم یہ ہے کہ اوڑھنی کو اس طرح مت لپیٹے کہ مردوں کی پگڑی محسوس ہو۔ کپڑے کو دو بل مت دے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4115]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 18223)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/293، 294، 296، 297، 307) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حبيب عنعن وشيخه وهب مولي أبي أحمد : مجهول (تقريب التهذيب: 7486)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 146

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. باب فِي لُبْسِ الْقَبَاطِيِّ لِلنِّسَاءِ
باب: عورتوں کے باریک کپڑا پہننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4116
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ: أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ دِحْيَةَ بْنِ خَلِيفَةَ الْكَلْبِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبَاطِيَّ فَأَعْطَانِي مِنْهَا قُبْطِيَّةً، فَقَالَ:" اصْدَعْهَا صَدْعَيْنِ، فَاقْطَعْ أَحَدَهُمَا قَمِيصًا وَأَعْطِ الْآخَرَ امْرَأَتَكَ تَخْتَمِرُ بِهِ، فَلَمَّا أَدْبَرَ، قَالَ: وَأْمُرِ امْرَأَتَكَ أَنْ تَجْعَلَ تَحْتَهُ ثَوْبًا لَا يَصِفُهَا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، فَقَالَ: عَبَّاسُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ.
دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ سفید اور باریک مصری کپڑے لائے گئے تو ان میں سے آپ نے مجھے بھی ایک باریک کپڑا دیا، اور فرمایا: اس کو پھاڑ کر دو ٹکڑے کر لو ان میں ایک کا کرتہ بنا لو اور دوسرا ٹکڑا اپنی بیوی کو دے دو وہ اس کی اوڑھنی بنا لے پھر جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی بیوی سے کہو اس کے نیچے ایک اور کپڑا کر لے تاکہ اس کا بدن ظاہر نہ ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4116]
سیدنا دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مصر کے سفید باریک کپڑے لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک کپڑا مجھے بھی عنایت فرمایا اور کہا: اس کے دو ٹکڑے کر لو، ایک کی تم قمیص بنا لو اور دوسرا اپنی اہلیہ کو دے دو، وہ اس کو اپنی اوڑھنی بنا لے۔ پھر جب میں نے پشت پھیری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی بیوی کو کہنا کہ اس کے نیچے کوئی اور کپڑا لگا لے کہ اس کے جسم کو ظاہر نہ کرے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو یحییٰ بن ایوب نے روایت کیا تو (موسیٰ بن جبیر کے استاذ کا نام) عباس بن عبیداللہ بن عباس بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4116]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3538) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (4366)
وللحديث شواھد عند الحاكم (4/187 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. باب فِي قَدْرِ الذَّيْلِ
باب: عورت کے دامن لٹکانے کی مقدار کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4117
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ ذَكَرَ الْإِزَارَ:" فَالْمَرْأَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: تُرْخِي شِبْرًا، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: إِذًا يَنْكَشِفُ عَنْهَا، قَالَ: فَذِرَاعًا لَا تَزِيدُ عَلَيْهِ".
صفیہ بنت ابی عبید خبر دیتی ہیں کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس وقت آپ نے تہبند کا ذکر کیا عرض کیا: اللہ کے رسول! اور عورت (کتنا دامن لٹکائے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک بالشت لٹکائے ام سلمہ نے کہا: تب تو ستر کھل جا یا کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ ایک ہاتھ لٹکائے اس سے زیادہ نہ بڑھائے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4117]
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تہبند کا ذکر کیا تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عورت کے متعلق پوچھا کہ وہ اسے کس قدر لمبا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک بالشت لٹکا لے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس سے تو اس کے پاؤں ننگے ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک ہاتھ لٹکا لے اور اس سے زیادہ نہ کرے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4117]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الزینة من المجتبی 51 (5340)، (تحفة الأشراف: 18282)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس 9 (1731)، سنن ابن ماجہ/اللباس 13 (3580)، موطا امام مالک/اللباس 6 (13)، مسند احمد (6/293، 296، 309، 315)، سنن الدارمی/الاستئذان 16 (2686) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4334)
رواه النسائي (5340 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4118
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ إِسْحَاق، وَأَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ.
اس سند سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4118]
نافع نے سلیمان بن یسار سے، انہوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ روایت ابن اسحاق اور ایوب بن موسیٰ نے بواسطہ نافع، سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4118]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/ الزینة من المجتبی 51 (5341)، سنن ابن ماجہ/ اللباس 13 (3580)، سنن النسائی/ اللباس 13 (3580)، (تحفة الأشراف: 18159، 18282)، وانظر ما قبلہ (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
انظر الحديث السابق (4117)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4119
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنِي زَيْدٌ الْعَمِّيُّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فِي الذَّيْلِ شِبْرًا ثُمَّ اسْتَزَدْنَهُ فَزَادَهُنَّ شِبْرًا فَكُنَّ يُرْسِلْنَ إِلَيْنَا فَنَذْرَعُ لَهُنَّ ذِرَاعًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امہات المؤمنین (رضی اللہ عنہن) کو ایک بالشت دامن لٹکانے کی رخصت دی، تو انہوں نے اس سے زیادہ کی خواہش ظاہر کی تو آپ نے انہیں مزید ایک بالشت کی رخصت دے دی چنانچہ امہات المؤمنین ہمارے پاس کپڑے بھیجتیں تو ہم انہیں ایک ہاتھ ناپ دیا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4119]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امہات المؤمنین کو اجازت دی کہ اپنی چادروں کے پلو ایک بالشت لمبے رکھا کریں۔ پھر انہوں نے مزید لمبے کرنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور بالشت بڑھانے کا فرمایا۔ چنانچہ وہ ہمیں اس کا کہتیں تو ہم ان کے لیے ان چادروں کے پلو ایک ایک ہاتھ لمبے رکھتے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4119]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/ اللباس 13 (3581)، (تحفة الأشراف: 6661)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس 9 (1731)، مسند احمد (2/18، 90) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (3581)
زيد العمي : ضعيف (تق : 2131) وقال الھيثمي : وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 10 / 110)
والحديث السابق (الأصل : 4117) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 146

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں