🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. باب فِي قَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلاَبِيبِهِنَّ ‏}‏
باب: آیت کریمہ: «يدنين عليهن من جلابيبهن» کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4100
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا" أَنَّهَا ذَكَرَتْ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ، فَأَثْنَتْ عَلَيْهِنَّ، وَقَالَتْ: لَهُنَّ مَعْرُوفًا، وَقَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ سُورَةُ النُّورِ عَمِدْنَ إِلَى حُجُورٍ أَوْ حُجُوزٍ شَكَّ أَبُو كَامِلٍ، فَشَقَقْنَهُنَّ فَاتَّخَذْنَهُ خُمُرًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے انصار کی عورتوں کا ذکر کیا تو ان کی تعریف کی اور ان کا ذکر اچھے انداز میں کیا اور کہا کہ جب سورۃ النور نازل ہوئی تو وہ پردوں یا تہ بندوں کی طرف بڑھیں اور انہیں پھاڑ کر اوڑھنی اور دوپٹہ بنا لیا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4100]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انصار کی عورتوں کا ذکر کیا، ان کی تعریف کی اور ان کے اچھے اعمال بیان کیے اور کہا: جب سورۃ النور نازل ہوئی تو ان عورتوں نے پردوں کے کپڑے یا مردوں کی چادریں لیں۔ ابوکامل کو لفظ «حُجُور» یا «حُجُوز» میں شک ہوا ہے۔ اور انہیں پھاڑ کر اپنے لیے پردے کی چادریں بنا لیا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4100]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17848)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر القرآن (النور) 12 (4758، 4759)، مسند احمد (6/188) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
إبراهيم بن المھاجر حسن الحديث علي الراجح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4101
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَدُ ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:" لَمَّا نَزَلَتْ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ خَرَجَ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِهِنَّ الْغِرْبَانَ مِنَ الْأَكْسِيَةِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب آیت کریمہ «يدنين عليهن من جلابيبهن» وہ اپنے اوپر چادر لٹکا لیا کریں (سورۃ الاحزاب: ۵۹) نازل ہوئی تو انصار کی عورتیں نکلتیں تو سیاہ چادروں کی وجہ سے ایسا لگتا گویا ان کے سروں پر کوئے بیٹھے ہوئے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4101]
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب عورتوں کے متعلق یہ حکم نازل ہوا: ﴿يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ﴾ [سورة الأحزاب: 59] وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں۔ تو انصاری عورتیں جب باہر نکلتیں تو ایسے لگتا کہ ان کے سروں پر کوئے بیٹھے ہوں، ان سیاہ چادروں کی وجہ سے جو وہ اپنے سروں پر لینے لگی تھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4101]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18281) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. باب فِي قَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ ‏}‏
باب: آیت کریمہ: «وليضربن بخمرهن على جيوبهن» کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4102
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ. ح وحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ وَابْنُ السَّرْحِ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ:أَخْبَرَنِي قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَافِرِيُّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ:" يَرْحَمُ اللَّهُ نِسَاءَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلَ لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ سورة النور آية 31 شَقَقْنَ أَكْنَفَ"، قَالَ ابْنُ صَالِحٍ: أَكْثَفَ مُرُوطِهِنَّ، فَاخْتَمَرْنَ بِهَا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ابتدائے اسلام میں ہجرت کرنے والی عورتوں پر رحم فرمائے جب اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ «وليضربن بخمرهن على جيوبهن» اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں (سورۃ النور: ۳۱) نازل فرمائی تو انہوں نے اپنے پردوں کو پھاڑ کر اپنی اوڑھنیاں اور دوپٹے بنا ڈالے۔ ابن صالح نے «أكنف» کے بجائے «أكثف» کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4102]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ سابق مہاجر خواتین پر رحم فرمائے، جب اللہ کا یہ حکم ﴿وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ﴾ [سورة النور: 31] نازل ہوا تو انہوں نے اون کی موٹی موٹی چادریں پھاڑ کر اپنی اوڑھنیاں بنا لیں۔ ابن صالح نے ( «أَكْنَفَ» کے بجائے) «أَكْثَفَ» کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4102]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر رقم حدیث: (4100)، (تحفة الأشراف: 16567، 16577) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
رواه البخاري (4758) من طريق آخر

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4103
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، قَالَ: رَأَيْتُ فِي كِتَابِ خَالِي عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ.
ابن سرح کہتے ہیں میں نے اپنے ماموں کی کتاب میں «عقيل عن ابن شهاب» کے طریق سے اسی مفہوم کی روایت دیکھی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4103]
ابن شہاب نے یہ روایت اپنی سند سے مذکورہ بالا کے ہم معنی روایت کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4103]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم:(4100)، (تحفة الأشراف: 16567، 16577) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4102)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
33. باب فِيمَا تُبْدِي الْمَرْأَةُ مِنْ زِينَتِهَا
باب: عورت اپنی زینت اور سنگار میں سے کس قدر ظاہر کر سکتی ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4104
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْطَاكِيُّ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ يَعْقُوبُ بْنُ دُرَيْكٍ: عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهَا ثِيَابٌ رِقَاقٌ، فَأَعْرَضَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" يَا أَسْمَاءُ إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا بَلَغَتِ الْمَحِيضَ لَمْ تَصْلُحْ أَنْ يُرَى مِنْهَا إِلَّا هَذَا وَهَذَا، وَأَشَارَ إِلَى وَجْهِهِ وَكَفَّيْهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا مُرْسَلٌ خَالِدُ بْنُ دُرَيْكٍ لَمْ يُدْرِكْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، وہ باریک کپڑا پہنے ہوئے تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا اور فرمایا: اسماء! جب عورت بالغ ہو جائے تو درست نہیں کہ اس کی کوئی چیز نظر آئے سوائے اس کے اور اس کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرہ اور ہتھیلیوں کی جانب اشارہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت مرسل ہے خالد بن دریک نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو نہیں پایا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4104]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ (ان کی بہن) اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آئیں اور انہوں نے باریک کپڑے پہنے ہوئے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اپنا منہ موڑ لیا اور فرمایا: اے اسماء! بچی جب جوان ہو جائے تو جائز نہیں کہ اس سے کچھ نظر آئے سوائے اس کے اور اس کے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے اور ہاتھوں کی طرف اشارہ فرمایا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت مرسل ہے، خالد بن دریک نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نہیں پایا اور سعید بن بشیر قوی نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4104]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابو داود، (تحفة الأشراف: 16062) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الوليد بن مسلم عنعن وسعيدبن بشير : ضعيف (تقدم : 2580) حدّث عن قتادة بمناكير،انظرتهذيب التهذيب(10/4) وقتادة عنعن وابن دريك عن عائشة منقطع انظر تحفة الأشراف (11/ 392 قبل حديث 16062)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 146

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. باب فِي الْعَبْدِ يَنْظُرُ إِلَى شَعْرِ مَوْلاَتِهِ
باب: غلام کا مالکن کے بال دیکھنا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4105
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ مَوْهَبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ:" أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِجَامَةِ فَأَمَرَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا، قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ، قَالَ: كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ أَوْ غُلَامًا لَمْ يَحْتَلِمْ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سینگی لگوانے کی اجازت مانگی تو آپ نے ابوطیبہ کو انہیں سینگی لگانے کا حکم دیا۔ ابوالزبیر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابوطیبہ ان کے رضاعی بھائی تھے یا نابالغ بچے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4105]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سینگی لگوانے کی اجازت چاہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطیبہ کو فرمایا: اسے سینگی لگائے۔ راوی نے کہا: میرا خیال ہے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ ان کا رضاعی بھائی تھا یا نابالغ لڑکا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4105]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/السلام 26 (2206)، سنن ابن ماجہ/الطب 20 (3480)، (تحفة الأشراف: 2909)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/350) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2206)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4106
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو جُمَيْعٍ سَالِمُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ:" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى فَاطِمَةَ بِعَبْدٍ كَانَ قَدْ وَهَبَهُ لَهَا، قَالَ: وَعَلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ثَوْبٌ إِذَا قَنَّعَتْ بِهِ رَأْسَهَا لَمْ يَبْلُغْ رِجْلَيْهَا، وَإِذَا غَطَّتْ بِهِ رِجْلَيْهَا لَمْ يَبْلُغْ رَأْسَهَا، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَلْقَى قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكِ بَأْسٌ إِنَّمَا هُوَ أَبُوكِ وَغُلَامُكِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک غلام لے کر آئے جس کو آپ نے انہیں ہبہ کیا تھا، اس وقت فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک ایسا کپڑا پہنے تھیں کہ جب اس سے سر ڈھانکتیں تو پاؤں کھل جاتا اور جب پاؤں ڈھانکتیں تو سر کھل جاتا، فاطمہ رضی اللہ عنہا جن صورت حال سے دو چار تھیں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا: تم پر کوئی مضائقہ نہیں، یہاں صرف تمہارے والد ہیں یا تمہارا غلام ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4106]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے ایک غلام لائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہبہ کیا تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر ایسا کپڑا تھا کہ وہ اگر اسے سر پر لپیٹتی تو ان کے پاؤں تک نہ پہنچتا تھا، اور اگر پاؤں کو چھپاتیں تو سر پر نہ رہتا تھا۔ پس جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس الجھن کو دیکھا تو فرمایا: تمہارے لیے کوئی حرج کی بات نہیں، تمہارے سامنے صرف تمہارے والد ہیں اور تمہارا غلام۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4106]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 399) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3120)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. باب فِي قَوْلِهِ ‏{‏ غَيْرِ أُولِي الإِرْبَةِ ‏}‏
باب: آیت کریمہ: «غير أولي الإربة» کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4107
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِي، وَهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثٌ فَكَانُوا يَعُدُّونَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ يَنْعَتُ امْرَأَةً، فَقَالَ:" إِنَّهَا إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أَرَى هَذَا يَعْلَمُ مَا هَاهُنَا، لَا يَدْخُلَنَّ عَلَيْكُنَّ هَذَا فَحَجَبُوهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے پاس ایک مخنث (ہجڑا) آتا جاتا تھا اسے لوگ اس صنف میں شمار کرتے تھے جنہیں عورتوں کی خواہش نہیں ہوتی تو ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے وہ مخنث آپ کی ایک بیوی کے پاس تھا، اور ایک عورت کی تعریف کر رہا تھا کہ جب وہ آتی ہے تو اس کے پیٹ میں چار سلوٹیں پڑی ہوتی ہیں اور جب پیٹھ پھیر کر جاتی ہے تو آٹھ سلوٹیں پڑ جاتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! میں سمجھتا ہوں کہ یہ عورتوں کی باتیں جانتا ہے، اب یہ تمہارے پاس ہرگز نہ آیا کرے، تو وہ سب اس سے پردہ کرنے لگیں۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4107]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک ہیجڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے گھروں میں آتا جاتا تھا اور لوگ اس کے بارے میں سمجھتے تھے کہ اس میں عورتوں کی طرف کوئی میلان نہیں اور یہ ﴿غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ﴾ [سورة النور: 31] میں سے ہے۔ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور ایک عورت کی تعریف میں یوں کہہ رہا تھا: وہ جب سامنے سے آتی ہے تو اس کے پیٹ پر چار بل پڑتے ہیں اور جب کمر پھیر کر جاتی ہے تو آٹھ سے واپس ہوتی ہے۔ (یعنی پہلوؤں کی طرف سے چار چار بل نظر آتے ہیں جو اس کے فربہ اندام اور خوبصورت ہونے کی علامت ہیں) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں سمجھتا تھا کہ یہ بھی ان عورتوں کی مخفی باتیں جانتا ہے، آئندہ یہ تمہارے ہاں ہرگز نہ آیا کرے۔ چنانچہ اسے روک دیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4107]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/السلام 13 (2181)، (تحفة الأشراف: 16634، 17247)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (9237)، مسند احمد (6/152) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2181)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4108
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِمَعْنَاهُ.
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی مفہوم کی (حدیث) مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4108]
زہری رحمہ اللہ نے عروہ رحمہ اللہ سے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس حدیث کے ہم معنی روایت کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4108]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 16634) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2181)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4109
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ زَادَ وَأَخْرَجَهُ، فَكَانَ بِالْبَيْدَاءِ يَدْخُلُ كُلَّ جُمْعَةٍ يَسْتَطْعِمُ.
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نکال دیا، اور وہ بیداء میں رہنے لگا، ہر جمعہ کو وہ کھانا مانگنے آیا کرتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4109]
ابن شہاب (ابن شہاب زہری) عروہ سے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث روایت کی، اس میں مزید یہ ہے کہ: اور اسے (مدینہ طیبہ سے) نکال دیا، چنانچہ وہ مقام بیداء میں رہتا تھا اور ہر جمعہ آتا اور کھانے پینے کی چیزیں مانگ کر لے جایا کرتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4109]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: 4107، (تحفة الأشراف: 16741) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4107)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں