🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب فِي النَّهْىِ عَنِ السَّعْىِ، فِي الْفِتْنَةِ
باب: فتنہ و فساد پھیلانا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4260
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ سَمُرَةَ، قَالَ:" كُنْتُ آخِذًا بِيَدِ ابْنِ عُمَرَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ إِذْ أَتَى عَلَى رَأْسٍ مَنْصُوبٍ فَقَالَ: شَقِيَ قَاتِلُ هَذَا فَلَمَّا مَضَى، قَالَ: وَمَا أُرَى هَذَا إِلَّا قَدْ شَقِيَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ مَشَى إِلَى رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي لِيَقْتُلَهُ فَلْيَقُلْ هَكَذَا فَالْقَاتِلُ فِي النَّارِ وَالْمَقْتُولُ فِي الْجَنَّةِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد:رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَوْنٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُمَيْر أَو سُمَيْرَةٍ، وَرَوَاهُ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَوْنٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُمَيْرَةَ |, قَالَ أَبُو دَاوُد:قَالَ لِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ يَعْنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، وَقَالَ: هُوَ فِي كِتَابِي ابْنُ سَبَرَةَ، وَقَالُوا سَمُرَةَ، وَقَالُوا سُمَيْرَةَ، هَذَا كَلَامُ أَبِي الْوَلِيدِ.
عبدالرحمٰن بن سمرہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ کے راستوں میں سے ایک راستہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑے چل رہا تھا کہ وہ اچانک ایک لٹکے ہوئے سر کے پاس آئے اور کہنے لگے: بدبخت ہے جس نے اسے قتل کیا، پھر جب کچھ اور آگے بڑھے تو کہا: میں تو اسے بدبخت ہی سمجھ رہا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص میری امت میں سے کسی شخص کی طرف چلا تاکہ وہ اسے (ناحق) قتل کرے، پھر وہ اسے قتل کر دے تو قتل کرنے والا جہنم میں ہو گا، اور جسے قتل کیا گیا ہے وہ جنت میں ہو گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4260]
عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑے مدینہ کے ایک راستے پر چل رہا تھا کہ اچانک ایک سر دیکھا جو کسی چیز پر لٹکایا گیا تھا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اس کا قاتل بڑا بدبخت ہے۔ جب آگے بڑھ گئے تو بولے: میرا خیال ہے کہ یہ بڑا بدبخت ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جو آدمی میری امت کے کسی آدمی کو قتل کرنے کے لیے چلے تو اسے اسی طرح کرنا چاہیے یعنی اپنی گردن بڑھا دے۔ قاتل دوزخ میں ہے اور مقتول جنت میں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں اس روایت کو ثوری نے بواسطہ عون، عبدالرحمن بن سمیر یا عبدالرحمن بن سمیرہ سے روایت کیا ہے اور لیث بن ابی سلیم نے بواسطہ عون، عبدالرحمن بن سمیرہ سے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں مجھے حسن بن علی نے بیان کیا کہ ابوولید نے یہ حدیث ابوعوانہ سے روایت کی اور کہا کہ: میری کتاب میں (راوی کا نام) ابن سبرہ درج ہے جبکہ دوسرے راوی سمرہ اور کئی سمیرہ کہتے ہیں اور یہ کلام ابوولید کا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4260]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 7295)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/96، 100) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن سميرة : مجهول (التحرير : 3889) وثقه ابن حبان وحده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 151

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4261
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ الْمُشَعَّثِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ: كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ يَكُونُ الْبَيْتُ فِيهِ بِالْوَصِيفِ يَعْنِي الْقَبْرَ، قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، أَوْ قَالَ: مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ، قَالَ: عَلَيْكَ بِالصَّبْرِ، أَوْ قَالَ تَصْبِرُ، ثُمَّ قَالَ لِي: يَا أَبَا ذَرٍّ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: كَيْفَ أَنْتَ إِذَا رَأَيْتَ أَحْجَارَ الزَّيْتِ قَدْ غَرِقَتْ بِالدَّمِ، قُلْتُ: مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ، قَالَ: عَلَيْكَ بِمَنْ أَنْتَ مِنْهُ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا آخُذُ سَيْفِي وَأَضَعُهُ عَلَى عَاتِقِي، قَالَ: شَارَكْتَ الْقَوْمَ إِذَنْ، قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: تَلْزَمُ بَيْتَكَ، قُلْتُ: فَإِنْ دُخِلَ عَلَيَّ بَيْتِي، قَالَ: فَإِنْ خَشِيتَ أَنْ يَبْهَرَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ فَأَلْقِ ثَوْبَكَ عَلَى وَجْهِكَ يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ يَذْكُرِ الْمُشَعَّثَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر! میں نے عرض کیا: تعمیل حکم کے لیے حاضر ہوں، اللہ کے رسول! پھر انہوں نے حدیث ذکر کی اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر! اس دن تمہارا کیا حال ہو گا؟ جب مدینہ میں اتنی موتیں ہوں گی کہ گھر یعنی قبر ایک غلام کے بدلہ میں ملے گا؟ ۱؎ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول کو خوب معلوم ہے، یا کہا: اللہ اور اس کے رسول میرے لیے ایسے موقع پر کیا پسند فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: صبر کو لازم پکڑنا یا فرمایا: صبر کرنا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابوذر! میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ارشاد فرمائیں تعمیل حکم کے لیے حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا حال ہو گا جب تم احجار الزیت ۲؎ کو خون میں ڈوبا ہوا دیکھو گے میں نے عرض کیا: جو اللہ اور اس کے رسول میرے لیے پسند فرمائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس جگہ کو لازم پکڑنا جہاں کے تم ہو ۳؎، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی تلوار لے کر اسے اپنے کندھے پر نہ رکھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو تم ان کے شریک بن جاؤ گے میں نے عرض کیا: پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھر کو لازم پکڑنا میں نے عرض کیا: اگر کوئی میرے گھر میں گھس آئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تلواروں کی چمک تمہاری نگاہیں خیرہ کر دے گی تو تم اپنا کپڑا اپنے چہرے پر ڈال لینا (اور قتل ہو جانا) وہ تمہارا اور اپنا دونوں کا گناہ سمیٹ لے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4261]
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! میں نے جواب میں کہا: میں حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! حاضر ہوں۔ اور حدیث بیان کی۔ اس میں ہے: تیرا کیا حال ہو گا جب لوگ مریں گے اور گھر ایک غلام کی قیمت میں ملے گا؟ مراد ہے قبر۔ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ یا کہا: جو اللہ اور اس کا رسول میرے لیے پسند فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبر کرنا۔ پھر مجھ سے فرمایا: اے ابوذر! میں نے کہا: میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا کیا حال ہو گا جب یہ مقام احجارِ زیت خون میں ڈوب جائے گا؟ میں نے کہا: جو اللہ اور اس کا رسول میرے لیے پسند فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہیں چلے جانا جہاں کے تم ہو۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنی تلوار لے کر اپنے کندھے پر نہ رکھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو تو انہی لوگوں میں شریک ہو جائے گا۔ میں نے عرض کیا: آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ فرمایا: اپنے گھر میں پڑے رہنا۔ میں نے کہا: اگر کوئی میرے گھر میں گھس آئے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تجھے اندیشہ ہو کہ تلوار کی چمک سے تم سہم جاؤ گے تو اپنے چہرے پر کپڑا ڈال لینا، وہ تمہارے اور اپنے گناہ سمیٹ لے گا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت میں حماد بن زید کے علاوہ اور کسی نے مشعث بن طریف کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4261]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الفتن 10 (3958)، (تحفة الأشراف: 11947)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/149، 163)، وأعادہ المؤلف فی الحدود (4409) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی ایک قبر کی جگہ کے لئے ایک غلام دینا پڑے گا یا ایک قبر کھودنے کے لئے ایک غلام کی قیمت ادا کرنی پڑے گی یا گھر اتنے خالی ہو جائیں گے کہ ہر ہر غلام کو ایک ایک گھر مل جائے گا۔
۲؎: مدینہ میں ایک جگہ کا نام ہے۔
۳؎: یعنی اپنے گھر میں بیٹھے رہنا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5397)
أخرجه ابن ماجه (3958 وسنده حسن) المشعث بن طريف حسن الحديث وثقه ابن حبان وقال صالح بن جزرة: ’’ومشعث جليل، لا يعرف في قضاة خراسان أجل منه‘‘

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4262
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي، قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: كُونُوا أَحْلَاسَ بُيُوتِكُمْ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے سامنے فتنے ہوں گے اندھیری رات کی گھڑیوں کی طرح ۱؎ ان میں صبح کو آدمی مومن رہے گا اور شام کو کافر، اور شام کو مومن رہے گا اور صبح کو کافر، اس میں بیٹھا ہوا کھڑے شخص سے بہتر ہو گا، اور کھڑا چلنے والے سے بہتر ہو گا، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا، لوگوں نے عرض کیا: تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے گھر کا ٹاٹ بن جانا ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4262]
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے آگے گھٹا ٹوپ اندھیری رات کی مانند فتنے ہیں۔ آدمی ان میں صبح کو مومن، شام کو کافر اور شام کو مومن اور صبح کو کافر ہو گا، بیٹھا ہوا ان میں کھڑے ہونے والے کی نسبت بہتر ہو گا اور کھڑا ہوا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: تو آپ ہمیں کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے گھروں کے ٹاٹ بن جانا۔ (یعنی ان میں کسی طرح سے کوئی حصہ نہ لینا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4262]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظرحدیث رقم: (4259)، (تحفة الأشراف: 9149)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/408) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی ہر فتنہ پہلے فتنہ سے زیادہ بڑا ہو گا جیسے اندھیری رات کی ہر گھڑی پہلی سے زیادہ تاریک ہوتی ہے۔
۲؎: یعنی گھر میں پڑے رہنا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (5399)
وله شاھد انظر الحديث السابق (4259)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4263
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: ايْمُ اللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنَ إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنِ إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنِ جُنِّبَ الْفِتَنَ وَلَمَنِ ابْتُلِيَ، فَصَبَرَ فَوَاهًا".
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قسم اللہ کی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: نیک بخت وہ ہے جو فتنوں سے دور رہا، نیک بخت وہ ہے جو فتنوں سے دور رہا، اور جو اس میں پھنس گیا پھر اس نے صبر کیا تو پھر اس کا کیا کہنا۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4263]
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: بلاشبہ انتہائی خوش بخت ہے وہ انسان جو فتنوں سے بچا رہا، بڑا خوش بخت ہے وہ انسان جو فتنوں سے بچا رہا، بڑا خوش بخت ہے وہ انسان جو فتنوں سے بچا رہا، اور جو ان میں مبتلا کیا گیا پھر اس نے صبر کیا، تو اس کا کیا کہنا۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4263]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11542) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (5405)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب فِي كَفِّ اللِّسَانِ
باب: فتنے میں زبان کو قابو میں رکھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4264
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ خَالِدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" سَتَكُونُ فِتْنَةٌ صَمَّاءُ بَكْمَاءُ عَمْيَاءُ مَنْ أَشْرَفَ لَهَا اسْتَشْرَفَتْ لَهُ وَإِشْرَافُ اللِّسَانِ فِيهَا كَوُقُوعِ السَّيْفِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایک بہرا گونگا اور اندھا فتنہ ہو گا ۱؎ جو اس میں جھانکے گا اسے وہ اپنی لپیٹ میں لے لے گا، اور زبان چلانا اس میں ایسے ہو گا جیسے تلوار چلانا۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4264]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب فتنہ ہو گا بہرا، گونگا اور اندھا۔ جس نے اس میں جھانکا، فتنہ اس کی طرف مائل ہو گا۔ اور اس میں زبان چلانا ایسے ہو گا جیسے کہ تلوار چلانا۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4264]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13944) (ضعیف)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: فتنہ کے بہرے ہونے سے مراد یہ ہے کہ آدمی حق بات سننے والا نہیں ہو گا، اور اس کے گونگے ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس میں حق بات بولنے والا کوئی نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن البيلماني : ضعيف (تق: 3819)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 151

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4265
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ رَجُل يُقَالُ لَهُ: زِيَادٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ تَسْتَنْظِفُ الْعَرَبَ قَتْلَاهَا فِي النَّارِ اللِّسَانُ فِيهَا أَشَدُّ مِنْ وَقْعِ السَّيْفِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ الْأَعْجَمِ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایک ایسا فتنہ ہو گا جو پورے عرب کو گھیر لے گا جو اس میں مارے جائیں گے جہنم میں جائیں گے، اس میں زبان کا چلانا تلوار چلانے سے بھی زیادہ سخت ہو گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4265]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب فتنہ برپا ہو گا جو سب عربوں کو ہلاک کر ڈالے گا، اس کے مقتول جہنم میں جائیں گے۔ اس میں زبان سے بولنا تلوار چلانے سے بھی سخت ہو گا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اس روایت کو ثوری نے بواسطہ لیث، طاؤس سے اور اس نے اعجم سے روایت کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4265]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الفتن 16 (2178)، سنن ابن ماجہ/الفتن 21 (3967)، (تحفة الأشراف: 8631)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/211، 212) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2178) ابن ماجه (3967)
زياد سيمين كوش : مجهول الحال لم أجد من وثقه غير ابن حبان،وقالوا في التحرير (2081): ’’ ضعيف يعتبر به في المتابعات والشواهد حسب‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 151

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4266
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ، قَالَ زِيَادٌ: سِيمِينُ كُوشَ.
‏‏‏‏ عبداللہ بن عبدالقدوس نے «عن رجل يقال له زياد» کے بجائے «زیاد سیمین کوش» کہا ہے جس کے معنی سفید کان والا کے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4266]
محمد بن عیسیٰ بن طباع نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عبدالقدوس نے زیاد کے تعارف میں اسے «زِيَادُ سِيمِينُ كُوشٍ» کہا: یعنی چاندی کے کانوں والا۔ (کانوں کی سفیدی کی وجہ سے یہ نام رکھا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4266]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 8631)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. باب مَا يُرَخَّصُ فِيهِ مِنَ الْبَدَاوَةِ فِي الْفِتْنَةِ
باب: فتنہ کے دنوں میں آبادی سے باہر دور چلے جانے کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4267
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرُ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمًا يَتَّبِعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ مسلمان کا بہتر مال بکریاں ہوں، جنہیں لے کر وہ پہاڑ کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات پر پھرتا اور اپنا دین لے کر وہ فساد اور فتنوں سے بھاگتا ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4267]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسا ہوگا کہ مسلمان کا بہترین مال اس کی بکریاں ہوں گی جن کا پیچھا کرتے ہوئے وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کی جگہوں میں پھرتا رہے گا، اپنے دین کی حفاظت میں فتنوں سے بھاگنا چاہتا ہوگا۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4267]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الإیمان 12 (19)، بدء الخلق 15 (3300)، المناقب 25 (3600)، الرقاق 34 (6495)، سنن النسائی/الإیمان 30 (5039)، سنن ابن ماجہ/الفتن 13 (3980)، (تحفة الأشراف: 4103)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستئذان 6 (16)، مسند احمد (3/6، 30، 43، 57) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (19)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. باب فِي النَّهْىِ عَنِ الْقِتَالِ، فِي الْفِتْنَةِ
باب: فتنہ و فساد کے دنوں میں لڑائی کرنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4268
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَيُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: خَرَجْتُ وَأَنَا أُرِيدُ يَعْنِي فِي الْقِتَالِ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرَةَ، فَقَالَ: ارْجِعْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟ قَالَ: إِنَّهُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ".
احنف بن قیس کہتے ہیں کہ میں لڑائی کے ارادہ سے نکلا (تاکہ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف لڑوں) تو مجھے (راستہ میں) ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مل گئے، انہوں نے کہا: تم لوٹ جاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جب دو مسلمان اپنی تلوار لے کر ایک دوسرے کو مارنے اٹھیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قاتل (کا جہنم میں جانا) تو سمجھ میں آتا ہے لیکن کا حال ایسا کیوں ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4268]
احنف بن قیس کہتے ہیں کہ میں نکلنا چاہتا تھا کہ (معرکہ جمل میں) قتال میں حصہ لوں کہ مجھے سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مل گئے، تو انہوں نے کہا: واپس لوٹ جاؤ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوتے ہیں تو قاتل اور مقتول (دونوں) جہنمی بن جاتے ہیں۔کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو قاتل ہوا مگر مقتول کا کیا قصور ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنے کا ارادہ کر رکھا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4268]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الإیمان 22، (31)، والدیات 2 (6875)، والفتن 10 (7082)، صحیح مسلم/الفتن 4 (2888)، سنن النسائی/المحاربة 25 (4127)، (تحفة الأشراف: 11655)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/43، 47، 51) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (31) صحيح مسلم (2888)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4269
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الْحَسَنِ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ مُخْتَصَرًا.
اس سند سے بھی حسن سے اسی مفہوم کی حدیث مختصراً مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4269]
ایوب نے حسن سے اپنی سند سے بالاختصار مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی بیان کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: محمد بن متوکل کا ایک اور بھائی تھا حسین، لیکن وہ ضعیف ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4269]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11655)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2888)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں