سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب فِي تَعْظِيمِ قَتْلِ الْمُؤْمِنِ
باب: مومن کا قتل بڑا گناہ ہے۔
حدیث نمبر: 4270
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دِهْقَانَ، قَالَ: كُنَّا فِي غَزْوَةِ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ بِذُلُقْيَةَ، فَأَقْبَلَ رَجُلُ مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ مِنْ أَشْرَافِهِمْ وَخِيَارِهِمْ يَعْرِفُونَ ذَلِكَ لَهُ يُقَالُ لَهُ: هَانِئُ بْنُ كُلْثُومِ بْنِ شَرِيكٍ الْكِنَانِيُّ، فَسَلَّمَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زَكَرِيَّا وَكَانَ يَعْرِفُ لَهُ حَقَّهُ قَالَ لَنَا خَالِدٌ، فَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زَكَرِيَّا، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ، تَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" كُلُّ ذَنْبٍ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَغْفِرَهُ إِلَّا مَنْ مَاتَ مُشْرِكًا أَوْ مُؤْمِنٌ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا، فَقَالَ هَانِئُ بْنُ كُلْثُومٍ، سَمِعْتُ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ يُحَدِّثُ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا فَاعْتَبَطَ بِقَتْلِهِ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا، قَالَ لَنَا خَالِدٌ، ثُمَّ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي زَكَرِيَّا، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ مُعْنِقًا صَالِحًا مَا لَمْ يُصِبْ دَمًا حَرَامًا فَإِذَا أَصَابَ دَمًا حَرَامًا بَلَّحَ"، وَحَدَّثَ هَانِئُ بْنُ كُلْثُومٍ , عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ سَوَاءً.
خالد بن دہقان کہتے ہیں کہ جنگ قسطنطنیہ میں ہم ذلقیہ ۱؎ میں تھے، اتنے میں فلسطین کے اشراف و عمائدین میں سے ایک شخص آیا، اس کی اس حیثیت کو لوگ جانتے تھے، اسے ہانی بن کلثوم بن شریک کنانی کہا جاتا تھا، اس نے آ کر عبداللہ بن ابی زکریا کو سلام کیا، وہ ان کے مقام و مرتبہ سے واقف تھا، ہم سے خالد نے کہا: تو ہم سے عبداللہ بن زکریا نے حدیث بیان کی عبداللہ بن زکریا نے کہا میں نے ام الدرداء رضی اللہ عنہا سے سنا ہے وہ کہہ رہی تھیں کہ میں نے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، وہ کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: ”ہر گناہ کو اللہ بخش سکتا ہے سوائے اس کے جو مشرک ہو کر مرے یا مومن ہو کر کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر دے“، تو ہانی بن کلثوم نے کہا: میں نے محمود بن ربیع کو بیان کرتے سنا وہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے، اور عبادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے تھے کہ آپ نے فرمایا: ”جو کسی مومن کو ناحق قتل کرے، پھر اس پر خوش بھی ہو، تو اللہ اس کا کوئی عمل قبول نہ فرمائے گا نہ نفل اور نہ فرض“۔ خالد نے ہم سے کہا: پھر ابن ابی زکریا نے مجھ سے بیان کیا وہ ام الدرداء سے روایت کر رہے تھے، اور وہ ابوالدرداء سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برابر مومن ہلکا پھلکا اور صالح رہتا ہے، جب تک وہ ناحق خون نہ کرے، اور جب وہ ناحق کسی کو قتل کر دیتا ہے تو تھک جاتا اور عاجز ہو جاتا ہے“۔ ہانی بن کلثوم نے بیان کیا، وہ محمود بن ربیع سے، محمود عبادہ بن صامت سے، عبادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، اسی کے ہم مثل روایت کر رہے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4270]
خالد بن دہقان نے بیان کیا کہ ہم لوگ غزوہ قسطنطینیہ میں ذلقیہ مقام پر تھے کہ اہل فلسطین کا ایک بڑا رئیس آیا جسے وہ لوگ پہچانتے تھے اور اس کا نام ہانی بن کلثوم بن شریک کنانی تھا۔ اس نے عبداللہ بن ابی زکریا کو سلام کہا اور وہ ان کا مقام و مرتبہ پہچانتا تھا۔ خالد نے بیان کیا: پھر ہمیں عبداللہ بن ابو زکریا نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ”میں نے ام درداء رضی اللہ عنہا سے سنا وہ کہتی تھیں کہ میں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”ہر گناہ امید ہے کہ اللہ اسے معاف فرما دے گا، مگر وہ جو شرک کی حالت میں مر گیا یا جس نے جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کیا ہو۔““ تو ہانی بن کلثوم نے کہا: ”میں نے محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مومن کو قتل کیا اور بلاوجہ ظلم سے قتل کیا تو اللہ اس کا کوئی عمل قبول نہیں کرے گا نفل نہ فرض۔““ خالد نے ہمیں کہا: پھر ابن ابو زکریا نے مجھے بواسطہ ام درداء رضی اللہ عنہا، ابودرداء رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن ہمیشہ بڑا ہلکا پھلکا اور اچھے اعمال کی توفیق میں رہتا ہے جب تک کہ کسی حرام خون کا مرتکب نہ ہو، جب وہ اس کا مرتکب ہو جاتا ہے تو اس توفیق سے محروم ہو جاتا ہے۔“ اور ہانی بن کلثوم نے بواسطہ محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ، سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بالکل اسی کے مثل روایت کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4270]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5105، 5112، 10989، 10990) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «ذُلُقْیَۃَ» : ذال اور لام کے ضمہ، قاف کے سکون اور یاء کے فتحہ کے ساتھ روم کے ایک شہر کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3467، 3468)
مشكوة المصابيح (3467، 3468)
حدیث نمبر: 4271
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُبِارَكٍ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ أَوْ غَيْرُهُ، قَال: قَالَ خَالِدُ بْنُ دِهْقَانَ، سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ يَحْيَى الْغَسَّانِيّ عَنْ، قَوْلِهِ: اعْتَبَطَ بِقَتْلِهِ، قَالَ: الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي الْفِتْنَةِ فَيَقْتُلُ أَحَدُهُمْ فَيَرَى أَنَّهُ عَلَى هُدًى لَا يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ يَعْنِي مِنْ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: فَاعْتَبَطَ يَصُبُّ دَمَهُ صَبًّا.
خالد بن دہقان کہتے ہیں میں نے یحییٰ بن یحییٰ غسانی سے قول نبوی «اعتبط بقتلہ» کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے کہا: اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو ایک دوسرے کو فتنے میں یہ سمجھ کر قتل کرتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں، پھر وہ اللہ سے توبہ و استغفار نہیں کرتے یعنی اس (قتل) سے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «اعتبط» اعتبط کے معنی (ناحق) خون بہانے کے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4271]
خالد بن دہقان رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے یحییٰ بن یحییٰ غسانی رحمہ اللہ سے «اعْتَبَطَ بِقَتْلِهِ» کا مفہوم پوچھا تو انہوں نے کہا: ”جو لوگ فتنے میں قتال کرتے ہیں اور ان میں سے ایک کسی کو قتل کر دیتا ہے اور پھر سمجھتا ہے کہ وہ حق اور ہدایت پر تھا اور اس عمل پر اللہ سے استغفار نہیں کرتا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں، اور مزید کہا کہ «فَاعْتَبَطَ» کا مفہوم ہے کہ ”خون بہاتا ہے، خوب بہانا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4271]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19544) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4270)
انظر الحديث السابق (4270)
حدیث نمبر: 4272
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُجَالِدِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فِي هَذَا الْمَكَانِ يَقُولُ: أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ:" وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا سورة النساء آية 93 بَعْدَ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ سورة الفرقان آية 68 بِسِتَّةِ أَشْهُرٍ".
خارجہ بن زید کہتے ہیں کہ میں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اسی جگہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ آیت کریمہ «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم خالدا فيها» ”اور جو کوئی کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قصداً قتل کر ڈالے تو اس کی سزا جہنم ہے ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا“ (النساء: ۹۳) (سورۃ الفرقان کی آیت) «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق» ”اور جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ نے حرام کر دیا ہے بجز حق کے قتل نہیں کرتے“ (الفرقان: ۶۸) کے چھ مہینے کے بعد نازل ہوئی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4272]
خارجہ بن زید کہتے ہیں کہ ”میں نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اس جگہ سنا تھا، وہ کہتے تھے کہ ”سورۃ النساء کی یہ آیت کریمہ ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا﴾ [سورة النساء: 93] سورۃ الفرقان کی آیت ﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ﴾ [سورة الفرقان: 68] سے چھ ماہ بعد نازل ہوئی ہے۔““ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4272]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/المحاربة 2 (4011)، (تحفة الأشراف: 3706) (منکر)»
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (4013 وسنده حسن) حماد ھو ابن سلمة وعبد الرحمن ھو القرشي المدني
أخرجه النسائي (4013 وسنده حسن) حماد ھو ابن سلمة وعبد الرحمن ھو القرشي المدني
حدیث نمبر: 4273
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَوْ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ:" لَمَّا نَزَلَتِ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ سورة الفرقان آية 68 قَالَ مُشْرِكُو أَهْلِ مَكَّةَ: قَدْ قَتَلْنَا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ وَدَعَوْنَا مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَأَتَيْنَا الْفَوَاحِشَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ إِلا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ سورة الفرقان آية 70 فَهَذِهِ لِأُولَئِكَ، قَالَ: وَأَمَّا الَّتِي فِي النِّسَاءِ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ سورة النساء آية 93 الْآيَةَ، قَالَ الرَّجُلُ: إِذَا عَرَفَ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ ثُمَّ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ لَا تَوْبَةَ لَهُ، فَذَكَرْتُ هَذَا لِمُجَاهِدٍ فَقَالَ: إِلَّا مَنْ نَدِمَ".
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو آپ نے کہا: جب سورۃ الفرقان کی آیت «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق» نازل ہوئی تو اہل مکہ کے مشرک کہنے لگے: ہم نے بہت سی ایسی جانیں قتل کی ہیں جنہیں اللہ نے حرام کیا ہے اور ہم نے اللہ کے علاوہ دوسرے معبودوں کو پکارا ہے، اور برے کام کئے ہیں تو اللہ نے «إلا من تاب وآمن وعمل عملا صالحا فأولئك يبدل الله سيئاتهم حسنات» ”سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان لائیں اور نیک کام کریں تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے“ (الفرقان: ۷۰) نازل فرمائی تو یہ ان لوگوں کے لیے ہے۔ انہوں نے مزید کہا: اور سورۃ نساء کی آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم» الآیۃ، ایسے وقت کے لیے ہے جب آدمی مسلمان ہو جائے اور شرعی احکام کو جان لے پھر جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کر دے تو ایسے شخص کی سزا جہنم ہو گی، اور اس کی توبہ بھی قبول نہ ہو گی۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں نے ابن عباس کے اس قول کو مجاہد سے بیان کیا تو انہوں نے اس میں یہ اضافہ کیا سوائے اس شخص کے جو شرمندہ ہو (یعنی دل سے توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہو گی)۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4273]
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے کہا: جب سورۃ الفرقان کی آیت ﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ﴾ [سورة الفرقان: 68] نازل ہوئی تو مکہ کے مشرکین نے کہا: ”(اب ہمارے ایمان لانے کا کیا فائدہ) ہم نے ناحق جانیں قتل کی ہیں، اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کو پکارا ہے اور بدکاریوں کا ارتکاب بھی کیا ہے۔“ تب اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نازل کیا: ﴿إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ﴾ [سورة الفرقان: 70] ”یہ آیتیں انہی مشرکین کے حق میں ہیں۔“ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے) کہا: ”لیکن سورۃ النساء کی آیت ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ﴾ [سورة النساء: 93] ایسے (مسلمان) شخص کے لیے ہے جو اسلامی احکام جانتا ہے پھر کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرتا ہے تو اس کی سزا جہنم ہے اور اس کی توبہ بھی قبول نہیں۔“ سعید رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی) اس بات کا مجاہد رحمہ اللہ سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: ”مگر جو شخص نادم ہو جائے۔ (تو اس کی توبہ قبول ہو گی۔ ان شاء اللہ)“ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4273]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/مناقب الأنصار 29 (3855)، التفسیر 16 (4590)، تفسیر سورة الفرقان 2 (4764)، صحیح مسلم/التفسیر ح 16 (3023)، سنن النسائی/المحاربة 2 (4007)، (تحفة الأشراف: 5624) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3855) صحيح مسلم (3023)
حدیث نمبر: 4274
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي يَعْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ فِي وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ سورة الفرقان آية 68 أَهْلِ الشِّرْكِ، قَالَ: وَنَزَلَ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ سورة الزمر آية 53.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی قصہ میں مروی ہے کہ «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر» سے مراد اہل شرک ہیں اور آیت کریمہ «يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله» ”اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو جاؤ“ (الزمر: ۵۳) نازل ہوئی۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4274]
سعید بن جبیر نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سورہ الفرقان کی آیت ﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ﴾ [سورة الفرقان: 68] کی تفسیر میں بیان کیا کہ ”یہ مشرکین کے بارے میں ہے، نیز یہ بھی نازل ہوا: ﴿يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ﴾ [سورة الزمر: 53] ”اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ۔“” [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4274]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ التفسیر (زمر) 1 (4880)، صحیح مسلم/ الإیمان 54 (122)، سنن النسائی/ المحاربة 2 (4009)، (تحفة الأشراف: 5652) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4810) صحيح مسلم (122)
حدیث نمبر: 4275
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا، قَالَ: مَا نَسَخَهَا شَيْءٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ «ومن يقتل مؤمنا متعمدا» (کا حکم باقی ہے) اسے کسی اور آیت نے منسوخ نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4275]
سعید بن جبیر، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ سورۃ النساء کی آیت ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا﴾ [سورة النساء: 93] ”اور جو کوئی کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے۔“ ”کو کسی آیت نے منسوخ نہیں کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4275]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ التفسیر (سورة النساء) صحیح البخاری/ التفسیر 16 (4590)، وتفسیر سورة الفرقان 2 (4763)، صحیح مسلم/ التفسیر 16 (3023)، سنن النسائی/ المحاربة 2 (4005)، (تحفة الأشراف: 5621) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4763، 4810) صحيح مسلم (122)
حدیث نمبر: 4276
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ فِي قَوْلِهِ:" وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ سورة النساء آية 93، قَالَ: هِيَ جَزَاؤُهُ فَإِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنْهُ فَعَلَ".
ابومجلز سے اللہ تعالیٰ کے قول «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم» کے متعلق مروی ہے کہ ایسے شخص کا بدلہ تو یہی ہے لیکن اگر اللہ اسے معاف کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4276]
جناب ابومجلز سے مروی ہے کہ ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ﴾ [سورة النساء: 93] ”قاتلِ عمد کی سزا یہی ہے کہ ہمیشہ جہنم میں رہے۔ اور اگر اللہ اسے معاف کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4276]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19527) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سليمان التيمي مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 152
إسناده ضعيف
سليمان التيمي مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 152
7. باب مَا يُرْجَى فِي الْقَتْلِ
باب: فتنہ میں قتل ہونے پر مغفرت کی امید رکھے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4277
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ:" كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ فِتْنَةً فَعَظَّمَ أَمْرَهَا فَقُلْنَا، أَوْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَئِنْ أَدْرَكَتْنَا هَذِهِ لَتُهْلِكَنَّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَلَّا إِنَّ بِحَسْبِكُمُ الْقَتْلُ" قَالَ: سَعِيدٌ فَرَأَيْتُ إِخْوَانِي قُتِلُوا.
سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے آپ نے ایک فتنہ اور اس کی ہولناکی کا ذکر کیا تو ہم نے یا لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر اس فتنہ نے ہم کو پا لیا تو ہم کو تو تباہ کر ڈالے گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہرگز نہیں، بس تمہارا قتل ہو جانا ہی کافی ہو گا“۔ سعید کہتے ہیں: میں نے اپنے بھائیوں کو (جمل و صفین میں) قتل ہوتے دیکھ لیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4277]
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنے کے ہونے کا ذکر فرمایا اور اس کی ہیبت ناکی بیان کی۔ ہم نے عرض کیا یا لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اگر یہ ہمیں پہنچ گیا تو ہلاک کر ڈالے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہرگز نہیں۔ اس میں تمہیں قتل ہو جانا ہی کافی ہو گا۔“ سعید کہتے ہیں: ”پھر میں نے اپنے بھائیوں کو دیکھا کہ قتل ہو گئے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4277]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4469) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4278
حَدَثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمَّتِي هَذِهِ أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ لَيْسَ عَلَيْهَا عَذَابٌ فِي الْآخِرَةِ، عَذَابُهَا فِي الدُّنْيَا الْفِتَنُ وَالزَّلَازِلُ وَالْقَتْلُ".
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری اس امت پر اللہ کی رحمت ہے آخرت میں اسے عذاب (دائمی) نہیں ہو گا اور دنیا میں اس کا عذاب: فتنوں، زلزلوں اور قتل کی شکل میں ہو گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4278]
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری اس امت پر اللہ کی رحمت ہے، آخرت میں اس پر عذاب نہیں، اس کا عذاب دنیا میں فتنوں، زلزلوں اور قتل کی صورت میں ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4278]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 9092)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/410، 418) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (5374)
أخرجه أحمد (4/410) وصححه الحاكم (4/444)
مشكوة المصابيح (5374)
أخرجه أحمد (4/410) وصححه الحاكم (4/444)