سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب ذِكْرِ الْفِتَنِ وَدَلاَئِلِهَا
باب: فتنوں کا ذکر اور ان کے دلائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 4240
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ:" قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا فَمَا تَرَكَ شَيْئًا يَكُونُ فِي مَقَامِهِ ذَلِكَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ إِلَّا حَدَّثَهُ حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ قَدْ عَلِمَهُ أَصْحَابُهُ هَؤُلَاءِ وَإِنَّهُ لَيَكُونُ مِنْهُ الشَّيْءُ فَأَذْكُرُهُ كَمَا يَذْكُرُ الرَّجُلُ وَجْهَ الرَّجُلِ إِذَا غَابَ عَنْهُ ثُمَّ إِذَا رَآهُ عَرَفَهُ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، پھر اس مقام پر آپ نے قیامت تک پیش آنے والی کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جسے بیان نہ فرما دیا ہو، تو جو اسے یاد رکھ سکا اس نے یاد رکھا اور جو بھول گیا وہ بھول گیا، اور وہ آپ کے ان اصحاب کو معلوم ہے، اور جب ان میں سے کوئی چیز ظہور پذیر ہو جاتی ہے تو مجھے یاد آ جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی فرمایا تھا، جیسے کوئی کسی کے غائب ہو جانے پر اس کے چہرہ کو یاد رکھتا ہے اور دیکھتے ہی اسے پہچان لیتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4240]
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں (خطبہ دینے کے لیے) کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس مقام پر قیامت تک جو ہونے والا تھا سب بیان کیا اور اس میں سے کچھ نہ چھوڑا۔ یاد رکھنے والے نے اسے یاد رکھا اور بھولنے والے نے اسے بھلا دیا۔ یقیناً میرے ان ساتھیوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ) کو وہ یاد ہو گا اور جب ان واقعات میں سے کوئی پیش آتا ہے تو مجھے وہ سب یاد آ جاتا ہے جیسے کسی کو کسی کے چلے جانے کے بعد اس کا چہرہ یاد رہتا ہے، پھر مدت بعد جب اسے دیکھتا ہے تو اسے پہچان لیتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4240]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ القدر 4 (6604)، صحیح مسلم/ الفتن 6 (2891)، (تحفة الأشراف: 3340)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/383، 385، 389، 401) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6604) صحيح مسلم (2891)
حدیث نمبر: 4241
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ أَرْبَعُ فِتَنٍ فِي آخِرِهَا الْفَنَاءُ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں چار (بڑے بڑے) فتنے ہوں گے ان کا آخری فناء (قیامت) ہو گا ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4241]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت میں چار فتنے ہوں گے اور ان کے بعد دنیا فنا ہو جائے گی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4241]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9639) (ضعیف)»
وضاحت: ۱؎: نعیم بن حماد کی فتن اور طبرانی کی معجم کبیر کی عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث میں ہے کہ پہلے فتنہ میں خون حلال ہو گا، دوسرے میں خون اور مال، تیسرے میں خون (جان) مال اور شرمگاہ، اور چوتھے میں خروج دجال۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
فيه’’ رجل ‘‘ مجهول (عون المعبود 152/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 151
إسناده ضعيف
فيه’’ رجل ‘‘ مجهول (عون المعبود 152/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 151
حدیث نمبر: 4242
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عُتْبَةَ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ الْعَنْسِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ:" كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ فَذَكَرَ الْفِتَنَ فَأَكْثَرَ فِي ذِكْرِهَا حَتَّى ذَكَرَ فِتْنَةَ الْأَحْلَاسِ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا فِتْنَةُ الْأَحْلَاسِ؟ قَالَ: هِيَ هَرَبٌ وَحَرْبٌ، ثُمَّ فِتْنَةُ السَّرَّاءِ دَخَنُهَا مِنْ تَحْتِ قَدَمَيْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يَزْعُمُ أَنَّهُ مِنِّي وَلَيْسَ مِنِّي وَإِنَّمَا أَوْلِيَائِي الْمُتَّقُونَ ثُمَّ يَصْطَلِحُ النَّاسُ عَلَى رَجُلٍ كَوَرِكٍ عَلَى ضِلَعٍ ثُمَّ فِتْنَةُ الدُّهَيْمَاءِ لَا تَدَعُ أَحَدًا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا لَطَمَتْهُ لَطْمَةً فَإِذَا قِيلَ: انْقَضَتْ تَمَادَتْ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا حَتَّى يَصِيرَ النَّاسُ إِلَى فُسْطَاطَيْنِ فُسْطَاطِ إِيمَانٍ لَا نِفَاقَ فِيهِ وَفُسْطَاطِ نِفَاقٍ لَا إِيمَانَ فِيهِ فَإِذَا كَانَ ذَاكُمْ فَانْتَظِرُوا الدَّجَّالَ مِنْ يَوْمِهِ أَوْ مِنْ غَدِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے آپ نے فتنوں کے تذکرہ میں بہت سے فتنوں کا تذکرہ کیا یہاں تک کہ فتنہ احلاس کا بھی ذکر فرمایا تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فتنہ احلاس کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ایسی نفرت و عداوت اور قتل و غارت گری ہے کہ انسان ایک دوسرے سے بھاگے گا، اور باہم برسر پیکار رہے گا، پھر اس کے بعد فتنہ سراء ہے جس کا فساد میرے اہل بیت کے ایک شخص کے پیروں کے نیچے سے رونما ہو گا، وہ گمان کرے گا کہ وہ مجھ سے ہے حالانکہ وہ مجھ سے نہ ہو گا، میرے اولیاء تو وہی ہیں جو متقی ہوں، پھر لوگ ایک شخص پر اتفاق کر لیں گے جیسے سرین ایک پسلی پر (یعنی ایسے شخص پر اتفاق ہو گا جس میں استقامت نہ ہو گی جیسے سرین پہلو کی ہڈی پر سیدھی نہیں ہوتی)، پھر «دھیماء» (اندھیرے) کا فتنہ ہو گا جو اس امت کے ہر فرد کو پہنچ کر رہے گا، جب کہا جائے گا کہ فساد ختم ہو گیا تو وہ اور بھڑک اٹھے گا جس میں صبح کو آدمی مومن ہو گا، اور شام کو کافر ہو جائے گا، یہاں تک کہ لوگ دو خیموں میں بٹ جائیں گے، ایک خیمہ اہل ایمان کا ہو گا جس میں کوئی منافق نہ ہو گا، اور ایک خیمہ اہل نفاق کا جس میں کوئی ایماندار نہ ہو گا، تو جب ایسا فتنہ رونما ہو تو اسی روز، یا اس کے دو سرے روز سے دجال کا انتظار کرنے لگ جاؤ“۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4242]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں اور آزمائشوں کا ذکر فرمایا اور بہت تفصیل سے بیان کیا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «فِتْنَةُ الْأَحْلَاسِ» ”احلاس کے فتنے“ کا بھی ذکر کیا۔ تو کہنے والے نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! احلاس کا فتنہ کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھاگم بھاگ اور غارت گری! پھر «فِتْنَةُ السَّرَّاءِ» ”وسعت و فراخی (مال و زر) کا فتنہ“ آئے گا جس کا ظہور میرے اہل بیت کے ایک فرد کے پاؤں تلے سے ہو گا۔ اس کا دعویٰ ہو گا کہ وہ مجھ سے ہے حالانکہ وہ مجھ سے نہیں ہو گا۔ بلاشبہ میرے ولی اور دوست صرف متقی لوگ ہیں۔ پھر لوگ ایک آدمی پر صلح کر لیں گے جیسے کہ «كَوَرِكٍ عَلَى ضِلَعٍ» ”سرین ہو پسلی پر!“ (یعنی نامعقول اور نااہل ہو گا جس طرح کہ سرین ایک پسلی پر نہیں ٹک سکتی) پھر ایک فتنہ اٹھے گا «فِتْنَةُ الدُّهَيْمَاءِ» ”گھٹا ٹوپ اندھیرا!“ اس امت میں سے کوئی نہیں بچے گا مگر اسے اس کا طمانچہ پڑ کر رہے گا۔ پس جب سمجھا جائے گا کہ یہ فتنہ ختم ہو گیا وہ اور بڑھ جائے گا۔ آدمی صبح کرے گا تو مومن ہو گا اور شام ہو گی تو کافر ہو جائے گا حتیٰ کہ لوگ دو خیموں (فریقوں) میں تقسیم ہو جائیں گے۔ ایک خیمہ ایمان کا، جس میں کوئی نفاق نہیں ہو گا، اور دوسرا نفاق کا جس میں کوئی ایمان نہ ہو گا، اور جب یہ احوال ہوں تو دجال کا انتظار کرنا، آج آیا کہ کل۔“ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4242]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 7368)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/133) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (5398، 5403)
مشكوة المصابيح (5398، 5403)
حدیث نمبر: 4243
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ فَرُّوخَ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَخْبَرَنِي ابْنٌ لِقَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ" وَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَنَسِيَ أَصْحَابِي أَمْ تَنَاسَوْا وَاللَّهِ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَائِدِ فِتْنَةٍ إِلَى أَنْ تَنْقَضِيَ الدُّنْيَا يَبْلُغُ مَنْ مَعَهُ ثَلَاثَ مِائَةٍ فَصَاعِدًا إِلَّا قَدْ سَمَّاهُ لَنَا بِاسْمِهِ وَاسْمِ أَبِيهِ وَاسْمِ قَبِيلَتِهِ".
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں قسم اللہ کی میں نہیں جانتا کہ میرے اصحاب بھول گئے ہیں؟ یا ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ بھول گئے ہیں، قسم اللہ کی ایسا نہیں ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت تک ہونے والے کسی ایسے فتنہ کے سردار کا ذکر چھوڑ دیا ہو جس کے ساتھ تین سویا اس سے زیادہ افراد ہوں، اور اس کا اور اس کے باپ اور اس کے قبیلہ کا نام لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتا نہ دیا ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4243]
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھی حقیقتاً بھول گئے ہیں یا بھولے بنے ہوئے ہیں۔ اللہ کی قسم! دنیا ختم ہونے تک آنے والے فتنوں کے قائدین جن کے ساتھ تین سو یا اس سے زیادہ لوگ ہوں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو نہیں چھوڑا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نام، ان کے باپوں کے نام اور ان کے قبیلوں تک کے نام بتا دیے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4243]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3379) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (5393، 5398)
عبد الله بن فروخ أبو عمر حسن الحديث وثقه الجمھور وإسحاق بن قبيصة صدوق
مشكوة المصابيح (5393، 5398)
عبد الله بن فروخ أبو عمر حسن الحديث وثقه الجمھور وإسحاق بن قبيصة صدوق
حدیث نمبر: 4244
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ سُبَيْعِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: أَتَيْتُ الْكُوفَةَ فِي زَمَنِ فُتِحَتْ تُسْتَرُ أَجْلُبُ مِنْهَا بِغَالًا، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا صَدْعٌ مِنَ الرِّجَالِ وَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ تَعْرِفُ إِذَا رَأَيْتَهُ أَنَّهُ مِنْ رِجَالِ أَهْلِ الْحِجَازِ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَتَجَهَّمَنِي الْقَوْمُ، وَقَالُوا: أَمَا تَعْرِفُ هَذَا؟ هَذَا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: إِنَّ النَّاسَ كَانُوا يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ، فَأَحْدَقَهُ الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقَالَ: إِنِّي قَدْ أَرَى الَّذِي تُنْكِرُونَ، إِنِّي قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ هَذَا الْخَيْرَ الَّذِي أَعْطَانَا اللَّهُ أَيَكُونُ بَعْدَهُ شَرٌّ كَمَا كَانَ قَبْلَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: فَمَا الْعِصْمَةُ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: السَّيْفُ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ مَاذَا يَكُونُ، قَالَ: إِنْ كَانَ لِلَّهِ خَلِيفَةٌ فِي الْأَرْضِ، فَضَرَبَ ظَهْرَكَ وَأَخَذَ مَالَكَ فَأَطِعْهُ وَإِلَّا فَمُتْ وَأَنْتَ عَاضٌّ بِجِذْلِ شَجَرَةٍ، قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ثُمَّ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ مَعَهُ نَهْرٌ وَنَارٌ فَمَنْ وَقَعَ فِي نَارِهِ وَجَبَ أَجْرُهُ وَحُطَّ وِزْرُهُ، وَمَنْ وَقَعَ فِي نَهْرِهِ وَجَبَ وِزْرُهُ وَحُطَّ أَجْرُهُ، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ثُمَّ هِيَ قِيَامُ السَّاعَةِ".
سبیع بن خالد کہتے ہیں کہ تستر فتح کئے جانے کے وقت میں کوفہ آیا، وہاں سے میں خچر لا رہا تھا، میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ چند درمیانہ قد و قامت کے لوگ ہیں، اور ایک اور شخص بیٹھا ہے جسے دیکھ کر ہی تم پہچان لیتے کہ یہ اہل حجاز میں کا ہے، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ تو لوگ میرے ساتھ ترش روئی سے پیش آئے، اور کہنے لگے: کیا تم انہیں نہیں جانتے؟ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ہیں، پھر حذیفہ نے کہا: لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق پوچھتے تھے، اور میں آپ سے شر کے بارے میں پوچھا کرتا تھا، تو لوگ انہیں غور سے دیکھنے لگے، انہوں نے کہا: جس پر تمہیں تعجب ہو رہا ہے وہ میں سمجھ رہا ہوں، پھر وہ کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیے کہ اس خیر کے بعد جسے اللہ نے ہمیں عطا کیا ہے کیا شر بھی ہو گا جیسے پہلے تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ میں نے عرض کیا: پھر اس سے بچاؤ کی کیا صورت ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تلوار“ ۱؎ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر اس کے بعد کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ کی طرف سے کوئی خلیفہ (حاکم) زمین پر ہو پھر وہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے لگائے، اور تمہارا مال لوٹ لے جب بھی تم اس کی اطاعت کرو ورنہ تم درخت کی جڑ چبا چبا کر مر جاؤ ۲؎“ میں نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر دجال ظاہر ہو گا، اس کے ساتھ نہر بھی ہو گی اور آگ بھی جو اس کی آگ میں داخل ہو گیا تو اس کا اجر ثابت ہو گیا، اور اس کے گناہ معاف ہو گئے، اور جو اس کی (اطاعت کر کے) نہر میں داخل ہو گیا تو اس کا گناہ واجب ہو گیا، اور اس کا اجر ختم ہو گیا“ میں نے عرض کیا: پھر کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر قیامت قائم ہو گی“۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4244]
سبیع بن خالد نے بیان کیا کہ جس زمانے میں (خوزستان میں) تستر کا علاقہ فتح ہوا، میں کوفہ آیا۔ میں یہاں سے خچر حاصل کرنا چاہتا تھا۔ میں مسجد میں چلا گیا تو میں نے وہاں چند آدمی دیکھے جن کی قامت و جسامت متوسط قسم کی تھی، اور (ساتھ ہی) ایک اور آدمی بھی بیٹھا ہوا تھا، جسے دیکھ کر آپ کہہ سکتے تھے کہ یہ حجازی آدمی ہے۔ میں نے پوچھا کہ ”یہ کون ہے؟“ تو لوگوں نے ناپسندیدگی کے سے انداز میں دیکھا اور کہا: ”کیا تم انہیں نہیں جانتے ہو؟ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ہیں۔“ پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”دیگر صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق پوچھا کرتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شر کے متعلق سوال کیا کرتا تھا (کہ کہیں اس میں ملوث نہ ہو جاؤں)“ تو ان لوگوں نے ان کو غور سے دیکھا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں خوب سمجھتا ہوں جو تمہیں برا لگتا ہے۔“ میں نے عرض کیا تھا: ”اے اللہ کے رسول! یہ خیر جو اللہ نے ہمیں عنایت فرمائی ہے کیا اس کے بعد شر ہو گا جیسے کہ اس سے پہلے تھا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے عرض کیا: ”تو اس سے بچاؤ کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تلوار۔“ قتیبہ نے اپنی روایت میں کہا: میں (حذیفہ رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا: ”کیا تلوار سے کوئی فائدہ ہو گا؟“ فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے عرض کیا کہ ”کیا؟“ فرمایا: ”صلح ہو گی جس میں (بباطن) خیانت ہو گی، دھوکا ہو گا۔“ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اس کے بعد کیا ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر زمین میں اللہ کا کوئی خلیفہ ہو اور وہ تمہاری کمر پر مارے اور تمہارا مال چھین لے تب بھی اس کی اطاعت کرنا، ورنہ اس حال میں مر جانا کہ تم (جنگل میں) کسی درخت کی جڑ چبا کر گزارہ کرنے والے ہو۔“ میں نے عرض کیا: ”پھر کیا ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال آئے گا، اس کے پاس نہر ہو گی اور آگ، جو اس کی آگ میں پڑا اس کا اجر ثابت ہوا اور اس کے گناہ ختم ہوئے اور جو اس کی نہر میں پڑا اس کے گناہ ثابت ہوئے اور اجر ضائع ہو گئے۔“ میں نے عرض کیا: ”پھر کیا ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر قیامت آ جائے گی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4244]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3332)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المناقب 25 (3606)، صحیح مسلم/الإمارة 13 (1847)، سنن ابن ماجہ/الفتن 13 (2981)، مسند احمد (5/386، 403، 404، 406) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ایسے فتنہ پردازوں کو قتل کر دینا ہی اس کا علاج ہو گا۔
۲؎: یعنی ایسے بے دینوں کی صحبت چھوڑ کر جنگل میں رہنا منظور کر لو اور فقر وفاقہ میں زندگی گزار کر اس دنیا سے رخصت ہو جاؤ۔
۲؎: یعنی ایسے بے دینوں کی صحبت چھوڑ کر جنگل میں رہنا منظور کر لو اور فقر وفاقہ میں زندگی گزار کر اس دنیا سے رخصت ہو جاؤ۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (5396)
قتادة تابعه الثقة حميد بن ھلال عند النسائي في الكبريٰ (7979، نسخة أخريٰ 8032) وغيره
مشكوة المصابيح (5396)
قتادة تابعه الثقة حميد بن ھلال عند النسائي في الكبريٰ (7979، نسخة أخريٰ 8032) وغيره
حدیث نمبر: 4245
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ خَالِدٍ الْيَشْكُرِيِّ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: قُلْتُ بَعْدَ السَّيْفِ، قَالَ: بَقِيَّةٌ عَلَى أَقْذَاءٍ وَهُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَكَانَ قَتَادَةُ يَضَعُهُ عَلَى الرِّدَّةِ الَّتِي فِي زَمَنِ أَبِي بَكْرٍ عَلَى أَقْذَاءٍ يَقُولُ قَذًى وَهُدْنَةٌ يَقُولُ: صُلْحٌ عَلَى دَخَنٍ عَلَى ضَغَائِنَ.
خالد بن خالد یشکری سے یہی حدیث مروی ہے اس میں یہ ہے کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا: پھر تلوار کے بعد کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باقی لوگ رہیں گے مگر دلوں میں ان کے فساد ہو گا، اور ظاہر میں صلح ہو گی“ پھر آگے انہوں نے پوری حدیث ذکر کی۔ راوی کہتے ہیں: قتادہ اسے (تلوار کو) اس فتنہ ارتداد پر محمول کرتے تھے جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ہوا، اور «اقذاء» کی تفسیر «قذی» سے یعنی غبار اور گندگی سے جو آنکھ یا پینے کی چیز میں پڑ جاتی ہے، اور «ھدنہ» کی تفسیر صلح سے «دخن» کی تفسیر دلوں کے فساد اور کینوں سے کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4245]
خالد بن خالد یشکری نے یہ حدیث روایت کی، اس میں ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تلوار کے بعد (کیا ہو گا؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ لوگ باقی بچیں گے جن کے دلوں میں فساد ہو گا۔ بظاہر صلح کریں گے مگر باطن میں دھوکا ہو گا۔“ پھر حدیث بیان کی۔ کہا کہ جناب قتادہ رضی اللہ عنہ اس حدیث کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں پیش آنے والے فتنہ ارتداد پر محمول کیا کرتے تھے۔ «قَذَاء» «قَذِي» کی جمع ہے، اس تنکے کو کہتے ہیں جو آنکھ میں پڑ جاتا ہے۔ «هُدْنَة» کا معنی ”صلح“ اور «دَخَن» کا معنی ”سینے کا بغض، جلن اور کڑھن“ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4245]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3307) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
قتادة تابعه الثقة حميد بن ھلال عند النسائي في الكبريٰ (7979، نسخة أخريٰ 8032) وغيره
قتادة تابعه الثقة حميد بن ھلال عند النسائي في الكبريٰ (7979، نسخة أخريٰ 8032) وغيره
حدیث نمبر: 4246
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ، قَالَ: أَتَيْنَا الْيَشْكُرِيَّ فِي رَهْطٍ مِنْ بَنِي لَيْثٍ، فَقَالَ: مِنَ الْقَوْمُ؟ قُلْنَا: بَنُو لَيْثٍ أَتَيْنَاكَ نَسْأَلُكَ عَنْ حَدِيثِ حُذَيْفَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: فِتْنَةٌ وَشَرٌّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ بَعْدَ هَذَا الشَّرِّ خَيْرٌ؟ قَالَ: يَا حُذَيْفَةُ تَعَلَّمْ كِتَابَ اللَّهِ وَاتَّبِعْ مَا فِيهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ بَعْدَ هَذَا الشَّرِّ خَيْرٌ؟ قَالَ: هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ وَجَمَاعَةٌ عَلَى أَقْذَاءٍ فِيهَا أَوْ فِيهِمْ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الْهُدْنَةُ عَلَى الدَّخَنِ مَا هِيَ؟ قَالَ: لَا تَرْجِعُ قُلُوبُ أَقْوَامٍ عَلَى الَّذِي كَانَتْ عَلَيْهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: فِتْنَةٌ عَمْيَاءُ صَمَّاءُ عَلَيْهَا دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ النَّارِ فَإِنْ تَمُتْ يَا حُذَيْفَةُ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جِذْلٍ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَتَّبِعَ أَحَدًا مِنْهُمْ.
نصر بن عاصم لیثی کہتے ہیں کہ ہم بنی لیث کے کچھ لوگوں کے ساتھ یشکری کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا: تم کون لوگ ہو؟ ہم نے کہا: ہم بنی لیث کے لوگ ہیں ہم آپ کے پاس حذیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث پوچھنے آئے ہیں؟ تو انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اس میں ہے: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس خیر کے بعد شر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فتنہ اور شر ہو گا“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شر کے بعد پھر خیر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حذیفہ! اللہ کی کتاب کو پڑھو اور جو کچھ اس میں ہے اس کی پیروی کرو“ آپ نے یہ تین بار فرمایا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس شر کے بعد پھر خیر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «هدنة على الدخن» ہو گا اور جماعت ہو گی جس کے دلوں میں کینہ و فساد ہو گا“ میں نے عرض کیا: «هدنة على الدخن» کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کے دل اس حالت پر نہیں واپس آئیں گے جس پر پہلے تھے ۱؎“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک ایسا اندھا اور بہرا فتنہ ہو گا (اور اس کے قائد) جہنم کے دروازوں پر بلانے والے ہوں گے، تو اے حذیفہ! تمہارا جنگل میں درخت کی جڑ چبا چبا کر مر جانا بہتر ہو گا اس بات سے کہ تم ان میں کسی کی پیروی کرو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4246]
نصر بن عاصم لیثی نے بیان کیا کہ ہم بنو لیث کے چند لوگ خالد بن خالد یشکری کے ہاں گئے۔ انہوں نے پوچھا: ”آپ کون لوگ ہیں؟“ ہم نے بتایا کہ: ”بنو لیث سے ہیں۔ ہم آپ کی خدمت میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث معلوم کرنے کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔“ تو انہوں نے وہ حدیث بیان کی، کہا کہ: ”ہم (بنو لیث کے لوگ) سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ واپس لوٹے۔ جبکہ کوفہ میں جانور (خچر وغیرہ) مہنگے تھے۔ تو میں اور میرے ساتھی نے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے اجازت چاہی تو انہوں نے ہمیں اجازت دے دی۔ تو میں نے اپنے ساتھی (نصر بن عاصم) سے کہا کہ: ”میں مسجد جاتا ہوں اور جب منڈی شروع ہو گی، میں تمہارے پاس آ جاؤں گا۔““ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ وہاں ایک حلقہ لگا ہوا ہے، گویا ان کے سر کٹے ہوئے (ہمہ تن گوش) ہیں، ایک آدمی کی بات بڑے غور سے سن رہے ہیں۔ میں بھی ان میں جا کھڑا ہوا تو ایک آدمی میرے پہلو میں آ کھڑا ہوا۔ میں نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ اس نے کہا: ”کیا تم بصرہ کے ہو؟“ میں نے کہا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: ”میں جان گیا ہوں، اگر تم کوفہ کے ہوتے تو اس شخص کے بارے میں نہ پوچھتے۔“ چنانچہ میں اس گفتگو کرنے والے کے قریب ہو گیا (اور وہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے) تو میں نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کر رہے تھے کہ: ”لوگ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں پوچھتے تھے اور میں شر کے بارے میں سوال کرتا تھا۔ اور مجھے یقین تھا کہ میں خیر سے محروم نہیں رہوں گا۔“ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا اس خیر کے بعد شر ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حذیفہ! اللہ کی کتاب سیکھ (اور پڑھا کر) اور جو اس میں ہے اس کی پیروی کر۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین بار فرمایا۔ کہتے ہیں کہ میں نے پھر دریافت کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا اس خیر کے بعد شر ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حذیفہ! اللہ کی کتاب سیکھ (اور پڑھا کر) اور جو اس میں ہے اس کی اتباع کر۔“ اور حدیث بیان کی، اس میں ہے، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا اس خیر کے بعد شر ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فتنہ ہو گا اور فساد ہو گا۔“ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! کیا اس شر کے بعد خیر ہو گی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حذیفہ! اللہ کی کتاب سیکھو اور جو اس میں ہے اس کی اتباع کرتے رہو۔“ تین بار فرمایا۔ کہتے ہیں: ”اے اللہ کے رسول! کیا اس شر کے بعد خیر ہو گی؟“ فرمایا: ”صلح ہو گی خیانت والی۔ اتفاق و اجتماع ہو گا مگر کدورت والا۔“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! «الْهُدْنَةُ عَلَى الدَّخَنِ» سے کیا مراد ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کے دل پہلے کی سی کیفیت پر واپس نہیں آئیں گے۔“ کہتے ہیں، میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا اس خیر کے بعد شر ہو گا؟“ فرمایا: ”فتنہ ہو گا اندھا اور بہرا۔ اور اس کے قائد دوزخ کے دروازوں کی طرف دعوت دینے والے ہوں گے۔ تو اے حذیفہ! اگر تم اس حال میں مر جاؤ کہ تم کسی درخت کی جڑ کو چبانے والے ہو تو یہ کیفیت تمہارے لیے اس سے بہتر ہو گی کہ ان میں سے کسی کی اتباع کرو۔““ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4246]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (4245)، (تحفة الأشراف: 3307) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی لوگوں کے دل پہلے کی طرح صاف نہیں ہوں گے ان کے دلوں میں بغض و کینہ باقی رہے گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (5395)
سبيع بن خالد اليشكري البصري وثقه العجلي المعتدل وابن حبان وغيرھما فھو ثقة
مشكوة المصابيح (5395)
سبيع بن خالد اليشكري البصري وثقه العجلي المعتدل وابن حبان وغيرھما فھو ثقة
حدیث نمبر: 4247
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، عَنْ صَخْرِ بْنِ بَدْرِ الْعِجْلِيِّ، عَنْ سُبَيْعِ بْنِ خَالِدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَإِنْ لَمْ تَجِدْ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةً فَاهْرُبْ حَتَّى تَمُوتَ فَإِنْ تَمُتْ وَأَنْتَ عَاضٌّ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ، قَالَ: قُلْتُ: فَمَا يَكُونُ بَعْدَ ذَلِكَ؟ قَالَ: لَوْ أَنَّ رَجُلًا نَتَجَ فَرَسًا لَمْ تُنْتَجْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ.
اس سند سے بھی حذیفہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے اس میں ہے کہ ان دنوں میں اگر مسلمانوں کا کوئی خلیفہ (حاکم) تمہیں نہ ملے تو بھاگ کر (جنگل میں) چلے جاؤ یہاں تک کہ وہیں مر جاؤ، اگر تم درخت کی جڑ چبا چبا کر مر جاؤ (تو بہتر ہے ایسے بے دینوں میں رہنے سے) اس روایت کے آخر میں یہ ہے کہ میں نے کہا: پھر اس کے بعد کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی کی گھوڑی بچہ جننا چاہتی ہو تو وہ نہ جن سکے گی یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4247]
سبیع بن خالد نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم ان ایام میں کوئی خلیفہ نہ پاؤ تو بھاگ جانا حتیٰ کہ مر جاؤ۔ اور اگر تمہاری موت اس حال میں آئے کہ تم کسی درخت کی جڑ چبانے والے ہوئے (تو یہ بہتر ہو گا)۔“ کہتے ہیں، ”میں نے عرض کیا: اس کے بعد کیا ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی نے چاہا کہ اس کی گھوڑی بچہ جنے، تو وہ بچہ نہیں جن پائے گی کہ قیامت آ جائے گی۔“ (یعنی بہت جلد ایسا ہو گا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4247]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4244، (تحفة الأشراف: 3332) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کے بعد قیامت بہت قریب ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (5396)
صخر بن بدر تابعه نصر بن عاصم، انظر الحديث السابق (4246)
مشكوة المصابيح (5396)
صخر بن بدر تابعه نصر بن عاصم، انظر الحديث السابق (4246)
حدیث نمبر: 4248
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا رَقَبَةَ الْآخَرِ، قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي، قُلْتُ: هَذَا ابْنُ عَمِّكَ مُعَاوِيَةُ يَأْمُرُنَا أَنْ نَفْعَلَ وَنَفْعَلَ، قَالَ: أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کسی امام سے بیعت کی، اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا، اور اس سے عہد و اقرار کیا تو اسے چاہیئے کہ جہاں تک ہو سکے وہ اس کی اطاعت کرے، اور اگر کوئی دوسرا امام بن کر اس سے جھگڑنے آئے تو اس دوسرے کی گردن مار دے“۔ عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں اسے میرے دونوں کانوں نے سنا ہے، اور میرے دل نے یاد رکھا ہے، میں نے کہا: یہ آپ کے چچا کے لڑکے معاویہ رضی اللہ عنہ ہم سے تاکیداً کہتے ہیں کہ ہم یہ یہ کریں تو انہوں نے کہا: ان کی اطاعت ان چیزوں میں کرو جس میں اللہ کی اطاعت ہو، اور جس میں اللہ کی نافرمانی ہو اس میں ان کا کہنا نہ مانو۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4248]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کسی امام کی بیعت کی ہو اور اپنے ہاتھ کا مال اور دل کا پھل (اپنا قول و قرار) اس کو دے دیا ہو تو پھر ہمت بھر اس کی اطاعت کرے۔ اگر کوئی دوسرا (امیر بن کر) آئے اور اس سے جھگڑا کرے تو اس دوسرے کی گردن مار دو۔“ (عبدالرحمٰن کہتے ہیں) میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کیا بھلا یہ حدیث آپ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”(کیوں نہیں) اسے میرے کانوں نے سنا اور دل نے یاد رکھا ہے۔“ میں نے کہا: ”یہ آپ کے چچا زاد معاویہ رضی اللہ عنہ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ یوں کریں اور یوں کریں؟“ انہوں نے کہا: ”اللہ کی اطاعت میں اس کی اطاعت کرو اور اللہ کی معصیت میں اس کی نافرمانی کرو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4248]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ الإمارہ 10 (1844)، سنن النسائی/البیعة 25 (4196)، سنن ابن ماجہ/الفتن 9 (3956)، (تحفة الأشراف: 8881)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/161، 191، 193) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1844)
حدیث نمبر: 4249
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ أَفْلَحَ مَنْ كَفَّ يَدَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خرابی اور بربادی ہے عربوں کے لیے اس شر سے جو قریب آ چکا ہے، اس میں وہی شخص فلاح یاب رہے گا جو اپنا ہاتھ روکے رکھے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4249]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہلاکت ہے عربوں کے لیے، اس شر سے جو قریب آیا چاہتا ہے، کامیاب ہے وہ جس نے اپنا ہاتھ روکے رکھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4249]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12410)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الفتن 1 (2880)، سنن ابن ماجہ/ الفتن 9 (3953)، مسند احمد (2/390، 391، 441، 536، 541) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح ق زينب دون قوله أفلح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش مدلس وعنعن
وللحديث شواھد معنوية عندالحاكم (4/ 439) وغيره،غير قوله : ’’أفلح من كف يده ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 151
إسناده ضعيف
الأعمش مدلس وعنعن
وللحديث شواھد معنوية عندالحاكم (4/ 439) وغيره،غير قوله : ’’أفلح من كف يده ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 151