🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب ذِكْرِ الْفِتَنِ وَدَلاَئِلِهَا
باب: فتنوں کا ذکر اور ان کے دلائل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4250
قَالَ أَبُو دَاوُد: حُدِّثْتُ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُوشِكُ الْمُسْلِمُونَ أَنْ يُحَاصَرُوا إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى يَكُونَ أَبْعَدَ مَسَالِحِهِمْ سَلَاحِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ مسلمان مدینہ ہی میں محصور کر دئیے جائیں یہاں تک کہ ان کی عملداری صرف مقام سلاح تک رہ جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4250]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب مسلمانوں کو مدینہ میں محصور کر لیا جائے گا اور ان کی عمل داری زیادہ سے زیادہ (خیبر کے قریب) مقام «سِلَاح» تک ہو گی۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4250]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7818) وأعادہ المؤلف فی الملاحم (4299) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (5427)
أخرجه الطبراني في الصغير (2/113 ح873) والأوسط (6/286 ح6432) وسندھما صحيح وصححه الحاكم (4/511 ح8560 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4251
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عنبسة، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: وَسَلَاحِ قَرِيبٌ مِنْ خَيْبَرَ.
ابن شہاب زہری کہتے ہیں اور سلاح خیبر کے قریب ایک جگہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4251]
زہری رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ «سِلَاح» خیبر کے قریب ایک مقام کا نام ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4251]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4252
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ زَوَى لِي الْأَرْضَ، أَوْ قَالَ: إِنَّ رَبِّي زَوَى لِي الْأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَإِنَّ مُلْكَ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا وَأُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي أَنْ لَا يُهْلِكَهَا بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ وَلَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ؟ وَإِنَّ رَبِّي قَالَ لِي: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءً فَإِنَّهُ لَا يُرَدُّ وَلَا أُهْلِكُهُمْ بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ وَلَا أُسَلِّطُ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ فَيَسْتَبِيحَ بَيْضَتَهُمْ وَلَوِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ مِنْ بَيْنِ أَقْطَارِهَا، أَوْ قَالَ: بِأَقْطَارِهَا حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْضًا، وَحَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يَسْبِي بَعْضًا، وَإِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ وَإِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي بِالْمُشْرِكِينَ وَحَتَّى تَعْبُدَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي الْأَوْثَانَ وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ"، قَالَ ابْنُ عِيسَى: ظَاهِرِينَ ثُمَّ اتَّفَقَا لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ.
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین سمیٹ دی یا فرمایا: میرے لیے میرے رب نے زمین سمیٹ دی، تو میں نے مشرق و مغرب کی ساری جگہیں دیکھ لیں، یقیناً میری امت کی حکمرانی وہاں تک پہنچ کر رہے گی جہاں تک زمین میرے لیے سمیٹی گئی، مجھے سرخ و سفید دونوں خزانے دئیے گئے، میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری امت کو کسی عام قحط سے ہلاک نہ کرے، ان پر ان کے علاوہ باہر سے کوئی ایسا دشمن مسلط نہ کرے جو انہیں جڑ سے مٹا دے، اور ان کا نام باقی نہ رہنے پائے، تو میرے رب نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب میں کوئی فیصلہ کر لیتا ہوں تو وہ بدلتا نہیں میں تیری امت کے لوگوں کو عام قحط سے ہلاک نہیں کروں گا، اور نہ ہی ان پر کوئی ایسا دشمن مسلط کروں گا جو ان میں سے نہ ہو، اور ان کو جڑ سے مٹا دے گو ساری زمین کے کافر مل کر ان پر حملہ کریں، البتہ ایسا ہو گا کہ تیری امت کے لوگ خود آپس میں ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے، انہیں قید کریں گے، اور میں اپنی امت پر گمراہ کر دینے والے ائمہ سے ڈرتا ہوں، اور جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو پھر وہ اس سے قیامت تک نہیں اٹھائی جائے گی، اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ میری امت کے کچھ لوگ مشرکین سے مل نہ جائیں اور کچھ بتوں کو نہ پوجنے لگ جائیں، اور عنقریب میری امت میں تیس (۳۰) کذاب پیدا ہوں گے، ان میں ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا (ابن عیسیٰ کی روایت میں ہے) وہ غالب رہے گا، ان کا مخالف ان کو ضرر نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4252]
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو لپیٹا اور میں نے اس کی مشرقوں اور مغربوں کو دیکھا اور بلاشبہ میری امت کی عمل داری وہاں تک پہنچے گی جہاں تک اسے میرے لیے لپیٹا گیا ہے، اور مجھے سرخ و سفید (سونا چاندی) دو خزانے دیے گئے ہیں۔ اور میں نے اپنے رب تعالیٰ سے سوال کیا ہے کہ میری امت کو عام قحط سے ہلاک نہ فرمائے اور ان پر ان کے اپنے اندر کے علاوہ باہر سے کوئی دشمن مسلط نہ ہو جو انہیں ہلاک کر کے رکھ دے۔ تو میرے رب نے مجھے فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جب کوئی فیصلہ کرتا ہوں تو اسے رد نہیں کیا جاتا۔ میں (تیری امت کے) ان لوگوں کو عام قحط سے ہلاک نہیں کروں گا اور ان کے اپنے اندر کے علاوہ باہر سے کوئی دشمن مسلط نہیں کروں گا جو انہیں ہلاک کر کے رکھ دے اگرچہ سب ملکوں والے ان پر چڑھ دوڑیں (تو انہیں ہلاک نہیں کر سکیں گے) البتہ یہ آپس میں ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور ایک دوسرے کو قید کریں گے۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) مجھے اپنی امت پر گمراہ اماموں کا خوف ہے۔ اور جب ان میں ایک بار تلوار پڑ گئی تو قیامت تک اٹھائی نہیں جائے گی۔ اور اس وقت تک قیامت نہیں آئے گی جب تک کہ میری امت کے کچھ قبائل مشرکوں کے ساتھ نہ مل جائیں اور کچھ قبیلے بتوں کی عبادت نہ کرنے لگیں۔ اور عنقریب میری امت میں کذاب اور جھوٹے لوگ ظاہر ہوں گے، ان کی تعداد تیس ہو گی، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ ہو گا کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ میں «خَاتَمُ النَّبِيِّينَ» خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا۔ ابن عیسیٰ نے کہا: حق پر غالب رہے گا۔ ان کا کوئی مخالف ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا حتیٰ کہ اللہ کا فیصلہ آ جائے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4252]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الإمارة 53 (1920)، والفتن 5 (2889)، سنن الترمذی/الفتن 14 (2176)، سنن ابن ماجہ/الفتن 9 (3952)، (تحفة الأشراف: 2100)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/278، 284) سنن الدارمی/المقدمة 22 (205) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2889)
مشكوة المصابيح (5394، 5406)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4253
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ ابْنُ عَوْفٍ، وَقَرَأْتُ فِي أَصْلِ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنِي ضَمْضَمٌ، عَنْ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ يَعْنِي الْأَشْعَرِيَّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ أَجَارَكُمْ مِنْ ثَلَاثِ خِلَالٍ: أَنْ لَا يَدْعُوَ عَلَيْكُمْ نَبِيُّكُمْ فَتَهْلَكُوا جَمِيعًا، وَأَنْ لَا يَظْهَرَ أَهْلُ الْبَاطِلِ عَلَى أَهْلِ الْحَقِّ، وَأَنْ لَا تَجْتَمِعُوا عَلَى ضَلَالَةٍ".
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے تمہیں تین آفتوں سے بچا لیا ہے: ایک یہ کہ تمہارا نبی تم پر ایسی بدعا نہیں کرے گا کہ تم سب ہلاک ہو جاؤ، دوسری یہ کہ اہل باطل اہل حق پر غالب نہیں آئیں گے، تیسری یہ کہ تم سب گمراہی پر متفق نہیں ہو گے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4253]
سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں تین باتوں سے امان دی ہے: تمہارا نبی تم پر بد دعا نہیں کرے گا کہ تم سب ہلاک ہو جاؤ اور یہ کہ اہل باطل اہل حق پر غالب نہیں آ سکیں گے (یعنی کلی اور مجموعی طور پر) اور یہ کہ تم لوگ گمراہی پر جمع نہیں ہو گے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4253]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12155) (ضعیف) حدیث کا آخری جملہ (وأن لا تجتمعوا الخ) صحیح ہے» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف لكن الجملة الثالثة صحيحة
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال أبو حاتم الرازي :’’ شريح بن عبيد عن أبي مالك الأشعري : مرسل ‘‘ (المراسيل ص90ت:327)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 151

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4254
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ نَاجِيَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" تَدُورُ رَحَى الْإِسْلَامِ لِخَمْسٍ وَثَلَاثِينَ أَوْ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ أَوْ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ فَإِنْ يَهْلَكُوا فَسَبِيلُ مَنْ هَلَكَ وَإِنْ يَقُمْ لَهُمْ دِينُهُمْ يَقُمْ لَهُمْ سَبْعِينَ عَامًا، قَالَ: قُلْتُ: أَمِمَّا بَقِيَ أَوْ مِمَّا مَضَى، قَالَ: مِمَّا مَضَى"، قَالَ أَبُو دَاوُد: مَنْ قَالَ خِرَاشٍ فَقَدْ أَخْطَأَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام کی چکی پینتیس یا چھتیس یا سینتیس سال تک گردش میں رہے گی، پھر اگر وہ ہلاک ہوئے تو ان کی راہ وہی ہو گی جو ان لوگوں کی راہ رہی جو ہلاک ہوئے اور اگر ان کا دین قائم رہا تو ستر سال تک قائم رہے گا میں نے عرض کیا: کیا اس زمانہ سے جو باقی ہے یا اس سے جو گزر گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس زمانہ سے جو گزر گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4254]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام کی چکی پینتیس، چھتیس یا سینتیس تک چلے گی۔ پھر اگر ہلاک ہوئے تو ہلاک ہونے والوں کی یہی راہ ہو گی اور اگر ان کا دین قائم رہا تو ستر سال تک قائم رہے گا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: کیا یہ ستر سال مزید ہوں گے یا سابقہ مدت بھی اس میں شامل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گزشتہ مدت کے ساتھ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: (ربعی بن حراش «حَا» بغیر نقطے کے ہے) جس نے خراش «خَا» نقطے کے ساتھ کہا اس نے غلطی کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4254]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 9189)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/390، 393، 395) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5407)
سفيان صرح بالسماع عند أحمد (1/393) وتابعه شيبان بن عبد الرحمن (4/521، 3/114)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4255
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيَنْقُصُ الْعِلْمُ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيُلْقَى الشُّحُّ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَّةُ هُوَ؟ قَالَ: الْقَتْلُ الْقَتْلُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمانہ سمٹ جائے گا، علم کم ہو جائے گا، فتنے رونما ہوں گے، لوگوں پر بخیلی ڈال دی جائے گی، اور «هرج» کثرت سے ہو گا آپ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل، قتل۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4255]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وقت قریب آ جائے گا (یا سکڑ جائے گا)، علم کم ہو جائے گا، فتنے اٹھ کھڑے ہوں گے، بخیلی ڈال دی جائے گی اور «الْهَرْجُ» بڑھ جائے گا۔ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! «الْهَرْجُ» کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل ہی قتل۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4255]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/العلم 24 (85)، والفتنة 25 (7061)، صحیح مسلم/الزکاة 18 (157)، (تحفة الأشراف: 12282)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الفتن 25 (4045)، 26 (4051)، مسند احمد (2/233، 417، 525) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (157 بعد ح2672)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب فِي النَّهْىِ عَنِ السَّعْىِ، فِي الْفِتْنَةِ
باب: فتنہ و فساد پھیلانا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4256
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ يَكُونُ الْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرًا مِنَ الْجَالِسِ، وَالْجَالِسُ خَيْرًا مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ خَيْرًا مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي خَيْرًا مِنَ السَّاعِي، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ، قَالَ: فَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: فَلْيَعْمِدْ إِلَى سَيْفِهِ فَلْيَضْرِبْ بِحَدِّهِ عَلَى حَرَّةٍ، ثُمَّ لِيَنْجُ مَا اسْتَطَاعَ النَّجَاءَ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایک ایسا فتنہ رونما ہو گا کہ اس میں لیٹا ہوا شخص بیٹھے ہوئے سے بہتر ہو گا، بیٹھا کھڑے سے بہتر ہو گا، کھڑا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت کے لیے آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس اونٹ ہو وہ اپنے اونٹ سے جا ملے، جس کے پاس بکری ہو وہ اپنی بکری سے جا ملے، اور جس کے پاس زمین ہو تو وہ اپنی زمین ہی میں جا بیٹھے عرض کیا: جس کے پاس اس میں سے کچھ نہ ہو وہ کیا کرے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس اس میں سے کچھ نہ ہو تو اسے چاہیئے کہ اپنی تلوار لے کر اس کی دھار ایک پتھر سے مار کر کند کر دے (اسے لڑنے کے لائق نہ رہنے دے) پھر چاہیئے کہ جتنی جلد ممکن ہو سکے وہ (فتنوں سے) گلو خلاصی حاصل کرے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4256]
جناب مسلم بن ابی بکرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب فتنہ ہو گا، اس میں لیٹا ہوا آدمی بیٹھنے والے سے بہتر ہو گا، اور بیٹھا ہوا کھڑے ہوئے کی نسبت بہتر ہو گا، اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا۔ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں میں چلا جائے، اور جس کی بکریاں ہوں وہ اپنی بکریوں میں چلا جائے، اور جس کی کھیتی ہو وہ اپنی زمین میں چلا جائے۔ کہا: جس کے پاس ان میں سے کچھ نہ ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی تلوار لے اور اس کی دھار کو پتھر پر مارے (اسے کند کر دے) اور پھر جہاں تک ہو سکے (فتنے میں شریک ہونے سے) بچنے کی کوشش کرے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4256]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الفتن 3 (2887)، (تحفة الأشراف: 11702)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/39، 48) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2887)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4257
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُفَضِّلٌ، عَنْ عَيَّاشٍ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَشْجَعِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي وَبَسَطَ يَدَهُ لِيَقْتُلَنِي؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُنْ كَابْنَيْ آدَمَ وَتَلَا يَزِيدُ لَئِنْ بَسَطْتَ إِلَيَّ يَدَكَ سورة المائدة آية 28 الْآيَةَ.
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اس حدیث میں کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! (اس فتنہ و فساد کے زمانہ میں) اگر کوئی میرے گھر میں گھس آئے، اور اپنا ہاتھ مجھے قتل کرنے کے لیے بڑھائے تو میں کیا کروں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم آدم کے نیک بیٹے (ہابیل) کی طرح ہو جاؤ، پھر یزید نے یہ آیت پڑھی «لئن بسطت إلى يدك» ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4257]
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث میں بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! فرمائیے کہ اگر کوئی فتنہ پرور میرے گھر میں داخل ہو جائے اور مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھائے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سیدنا آدم علیہ السلام کے (اس) بیٹے کی مانند ہو جانا۔ یزید بن خالد نے یہ آیت پڑھی: ﴿لَئِن بَسَطتَ إِلَيَّ يَدَكَ﴾ [سورة المائدة: 28] اگر تو نے میرے قتل کے لیے ہاتھ بڑھایا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ تیری طرف نہیں بڑھاؤں گا، بیشک میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4257]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3848)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الفتن 29 (2194) (صحیح)» ‏‏‏‏ (متابعات اور شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی حسین لین الحدیث ہیں)
وضاحت: ۱؎: اگر تو مجھے قتل کرنے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھائے (سورۃ المائدۃ: ۲۸)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث الآتي (4259)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4258
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ رَاشِدٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ وَابِصَةَ الْأَسَدِيُّ، عَنْ أَبِيهِ وَابِصَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: فَذَكَرَ بَعْضَ حَدِيثِ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَتْلَاهَا كُلُّهُمْ فِي النَّارِ، قَالَ فِيهِ: قُلْتُ: مَتَى ذَلِكَ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ؟ قَالَ: تِلْكَ أَيَّامُ الْهَرْجِ حَيْثُ لَا يَأْمَنُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ، قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ الزَّمَانُ؟ قَالَ: تَكُفُّ لِسَانَكَ وَيَدَكَ وَتَكُونُ حِلْسًا مِنْ أَحْلَاسِ بَيْتِكَ، فَلَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ طَارَ قَلْبِي مَطَارَهُ فَرَكِبْتُ حَتَّى أَتَيْتُ دِمَشْقَ، فَلَقِيتُ خُرَيْمَ بْنَ فَاتِكٍ فَحَدَّثْتُهُ، فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَسَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا حَدَّثَنِيهِ ابْنُ مَسْعُودٍ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا پھر انہوں نے ابی بکرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کی بعض باتیں ذکر کیں اس میں یہ اضافہ ہے: اس فتنہ میں جو لوگ قتل کئے جائیں گے وہ جہنم میں جائیں گے اور اس میں مزید یہ ہے کہ میں نے پوچھا: ابن مسعود! یہ فتنہ کب ہو گا؟ کہا: یہ وہ زمانہ ہو گا جب قتل شروع ہو چکا ہو گا، اس طرح سے کہ آدمی اپنے ساتھی سے بھی مامون نہ رہے گا، میں نے عرض کیا: اگر میں یہ زمانہ پاؤں تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: تم اپنی زبان اور ہاتھ روکے رکھنا، اور اپنے گھر کے کمبلوں میں کا ایک کمبل بن جانا ۱؎، پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ قتل کئے گئے تو میرے دل میں یکایک خیال گزرا کہ شاید یہ وہی فتنہ ہو جس کا ذکر ابن مسعود نے کیا تھا، چنانچہ میں سواری پر بیٹھا اور دمشق آ گیا، وہاں خریم بن فاتک سے ملا اور ان سے بیان کیا تو انہوں نے اس اللہ کی قسم کھا کر کہا جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں کہ اسے انہوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے جیسے ابن مسعود نے اسے مجھ سے بیان کیا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4258]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، تو ابوبکرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث کا کچھ حصہ بیان کیا۔ فرمایا: اس کے مقتولین سبھی آگ میں جائیں گے۔ اس روایت میں ہے، وابصہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے ابن مسعود! یہ کب ہو گا؟ انہوں نے فرمایا: یہ ہرج (قتل اور فتنوں) کے دن ہوں گے، جب کوئی آدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے سے بھی امن میں نہ ہو گا۔ میں نے کہا: آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں اگر میری زندگی میں یہ دن آ گئے تو؟ تو انہوں نے کہا: اپنی زبان بند اور اپنے ہاتھ کو روکے رکھنا اور اپنے گھر کی کوئی چٹائی بن جانا۔ پھر جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ قتل ہوئے تو میرے دل میں اچانک خیال آیا (کہیں یہ وہی فتنہ نہ ہو) تو میں سوار ہوا حتیٰ کہ دمشق پہنچا اور جناب خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ سے ملا۔ میں نے ان کو سب بتایا، تو انہوں نے اللہ کی قسم کھائی جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ اس نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سنا ہے جیسے کہ مجھے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4258]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3527)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/448، 449) (ضعف الإسناد)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اپنے گھر میں پڑے رہنا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
القاسم بن غزوان لم يوثقه غير ابن حبان فھو مجهول الحال كما في التحرير (5480)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 151

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4259
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ، عَنْ هُزَيْلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي، فَكَسِّرُوا قِسِيَّكُمْ وَقَطِّعُوا أَوْتَارَكُمْ وَاضْرِبُوا سُيُوفَكُمْ بِالْحِجَارَةِ، فَإِنْ دُخِلَ يَعْنِي عَلَى أَحَدٍ مِنْكُمْ فَلْيَكُنْ كَخَيْرِ ابْنَيْ آدَمَ".
ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے کچھ فتنے ہیں جیسے تاریک رات کی گھڑیاں (کہ ہر گھڑی پہلی سے زیادہ تاریک ہوتی ہے) ان فتنوں میں صبح کو آدمی مومن رہے گا، اور شام کو کافر ہو جائے گا، اور شام کو مومن رہے گا، اور صبح کو کافر ہو جائے گا، اس میں بیٹھا شخص کھڑے شخص سے بہتر ہو گا، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا، تو تم ایسے فتنے کے وقت میں اپنی کمانیں توڑ دینا، ان کے تانت کاٹ ڈالنا، اور اپنی تلواروں کی دھار کو پتھروں سے مار کر ختم کر دینا ۱؎، پھر اگر اس پر بھی کوئی تم میں سے کسی پر چڑھ آئے، تو اسے چاہیئے کہ وہ آدم کے نیک بیٹے (ہابیل) کے مانند ہو جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4259]
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک قیامت سے پہلے فتنے ہوں گے اتنے سیاہ کالے جیسے اندھیری رات (یعنی حق اور باطل گڈ مڈ ہو جائے گا)، آدمی صبح کو مومن ہو گا اور شام کو کافر، شام کو مومن ہو گا اور صبح کو کافر، اس میں بیٹھا ہوا کھڑے ہونے والے کی نسبت بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا، سو اپنی کمانوں کو توڑ دینا اور تانتوں کو کاٹ پھینکنا اور اپنی تلواروں کو پتھروں پر مارنا (اور کند کر لینا)، اگر کوئی تم پر چڑھ آئے تو سیدنا آدم علیہ السلام کے بہتر بیٹے کی مانند ہو جانا۔ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4259]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الفتن 33 (2204)، سنن ابن ماجہ/الفتن 10 (3961)، (تحفة الأشراف: 9032)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/408، 416) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی ان فتنوں سے بالکل کنارہ کش رہنا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5399)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں